غزوة أحد (شوال ۳ھ)
قریش کے لیے مدینہ پر چڑھائی کے کئی محرکات جمع ہوچکے تھے ، تجارتی راستوں کی بندش تبھی کھولی جاسکتی تھی جب مسلمانوں کو نہتا کیاجاتا۔ بدر کے مقتولین کا انتظام بھی مدینہ پر حملہ کرکے ہی لیا جاسکتا تھا، عرب میں اپنی سابقہ آن بان بحال کرنے کا بھی اب ان کے خیال میں اور کوئی طریقہ نہ تھا لہذا ایک فیصلہ کن جنگ ناگزیر ہوچکی تھی۔
قریش نے اپنا سارا تجارتی نفع خرچ کرکے ایک زبردست لشکر تیار کیا ، جس میں ان کے حلیف قبیلے اور "احابیش" کے جنگجو بھی شامل تھے۔ تین ہزار کے اس لشکر میں دو سو گھڑ سوار اور سات سوزره پوش سپاہی تھے ۔ پندرہ مرثیہ خواں عورتیں بھی تھیں جو بدر کے مقتولین کے نوحے پڑھ پڑھ کر فوج کو جوش دلاتی تھیں۔ اس لشکر کے پابہ رکاب ہوتے ہی حضور ﷺ کے چچا حضرت عباس نے بنو غِفار کے ایک تیز رفتار سوار کو اطلاعی رقعہ دے کر مدینہ بھیج دیا۔ چنانچہ لشکر کے پہنچنے سے کئی دن قبل رسول اللہ ﷺ کو یلغار کی اطلاع مل گئی۔
چونکہ مدینہ کے جنوب میں لاوے کی کثرت ہے جہاں لڑنا دشوار ہے لہٰذا لشکرِ قریش مدینہ کے گرد چکر کاٹ کرشمال میں پہنچ گیا اور یہاں کوہِ اُحد کے مغرب میں "زَغابہ" میں خیمہ زن ہوا۔ یہ شوال سن ۳ھ کے پہلے عشرے کا واقعہ ہے۔ قریش جنگِ بدر کا پورا پورا بدلہ لینا چاہتے تھے، فتح کے بعد وہ اسی سمت سے مدینہ میں گھس سکتے تھے؛ کیوں کہ باقی دو اطراف سے مدینہ جھلسی ہوئی پہاڑیوں اور ایک جانب سے باغات کی دیواروں میں گھرا ہوا تھا۔
ادھر نبیٔ اکرم ﷺ مدینہ منورہ میں صحابہ کرام سے جنگ کے بارے میں مشورہ کر رہے تھے، چونکہ اتنی بڑی فوج سے دوبدو مقابلے میں خاصے جانی نقصان کا اندیشہ تھا اس لیے رائے یہ تھی کہ شہر میں رہ کر محصوارانہ جنگ کی جائے۔ عبداللہ بن اُبی بزدلی کی وجہ سے آمنے سامنے کی جنگ سے گھبرا رہا تھا، اس نے ہاں میں ہاں ملائی مگر نوجوان شمشیرزنی کے جوہر دکھانے کے لیے بے چین تھے۔ انہوں نے باہر نکل کر لڑنے پر اصرار کیا ، ان میں سے بہوت سوں کوجنگِ بدر میں شرکت نہ کرسکنے کا رنج تھا اور شہادت کی اُمنگ ان کے دلوں میں مچل رہی تھی۔
ان کا جوش و خروش دیکھ کر ہی نبیٔ اکرم ﷺ خاموشی سے گھر تشریف لے گئے اور پھر زرہ پہن کر ہتھیار باندھے مجمعے میں تشریف لائے۔ یہ کھلے میدان میں جا کر لڑنےکا عملی اشارہ تھا۔ صحابہ اب فکرمند ہوئے اور انہوں نے اپنی رائے سے دستبردار ہوتے ہوئے عرض کیا : ” آپ پسند فرمائیں تو اندر ہی رہ کر لڑائی کی جائے۔“
مگر آپ ﷺ نے فرمایا: ” جب نبی ہتھیار پہن لے تو اسے زیب نہیں دیتا کہ لڑے بغیر انہیں اتار دے ۔ یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ جب ایک حکمتِ عملی طے ہوجائے تو اس میں بار بار رد و بدل کرنا مناسب نہیں ہوتا۔
غزوہِ احد کی سمت پیش قدمی اور منافقوں کی اسلام دشمنی:
نبیٔ اکرم ﷺ نے جمعہ کی نماز پڑھا کر لشکر مرتب کیا اور سہ پہر کے وقت شہر کے اندرونی محلوں اور کوچوں سے گزرتے ہوئے شمالی سمت کو روانہ ہوئے جدھر قریش پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے ۔ یہ ضروری تھا کہ انہیں چوکنا کیے بغیر مناسب مقام تک پہنچ جاتا ، اس لیے رسول اللہ ﷺ کسی نئے راستے سے نکلنا چاہتے تھے۔ شہر کے کنارے بنو حارثہ کے محلے میں پہنچ کر آپ نے فرمایا:
"کوئی ہے جو ہمیں ایسے راستے سے دشمن کے قریب پہنچا دے کہ ہمیں ان کے سامنے سے نہ گزرنا پڑے ۔"
اس محلے کے ایک صحابی ابو خَیثمہؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں اس خدمت کے لیے حاضر ہوں ۔"
وہ اسلامی فوج کو باغات کے اندرونی راستوں سے گزار کر آبادی سے باہر لے گئے ۔ منافقوں نے اس موقع پر اپنی اسلام دشمنی کا پورا پورا مظاہرہ کیا لشکر کوایک منافق مِربع بن قیظی کے باغ سے گزرنا پڑا تو اس نے واویلا شروع کردیا میں اپنے باغ سے گزرنے کی اجازت نہیں دے سکتا، تاہم موقع ایسا نازک تھا کہ کسی کی حیلہ بازی کو خاطر میں لاکر ریاست کے دفاع کو خطرے میں نہیں ڈالا جاسکتا تھا۔ چنانچہ مسلمان اس کا احتجاج نظر انداز کرکے وہیں سے گزرے۔
اس نازک ترین وقت میں عبد اللہ بن ابی منافق نے جنگ میں شرکت کرنے سے اچانک انکار کردیا۔ اس نے بہانہ یہ بنایا کہ اسکی رائے شہر میں محصورانہ جنگ کی تھی ، اس پر عمل کیوں نہیں کیا گیا۔ جب وہ یہ کہہ کر واپس ہوا کہ ہم کیوں بے فائدہ اپنی جانیں گنوائیں ۔ تو کم و بیش تین سو افراد اس کے ساتھ ہی لوٹ گئے ۔ یہ اس حقیقت کا کھلا ثبوت تھا کہ مدینہ میں منافقوں کی تعداد سینکڑوں میں تھی جو اسلام کی جڑیں کاٹنے پرتلے تھے۔ صورتِ حال ایسی تھی کہ ان غداروں کو روکنے کی کوشش کرنا ، ایک نئی جنگ مول لینے کے مترادف تھا، اس لیے حضور ﷺ نے خاموشی اختیار کی۔
لشکر کا ایک تہائی حصہ کم ہوگیا تھا ، اب لگ بھگ سات سو افراد رہ گئے تھے، اگر منافقین شروع سے لشکر کے ساتھ نہ چلتے تو اتنا حوصلہ شکنی نہ ہوتی مگر اب ان کے اچانک چلے جانے سے اسلامی فوج کو سخت دھچکا لگا۔ مگر اللہ کی رحمت اور حضور ﷺ جیسے بے مثال قائد کی رہنمائی شاملِ حال تھی،اس لیے مسلمان ہمت نہ ہارے۔
دفائی حکمت عملی :
درحقیقت مدینہ کو پہلے کبھی اتنی سنگین صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا، جنگِ بدر مدینہ سے۰ ۷ میل (۱۱۲ کلومیٹر) دور ہوئی تھی لہذا شہر خطرے کی زد سے دور تھا مگر اب طبلِ جنگ مدینہ کے دروازے پر بج رہا تھا۔ عددی لحاظ سے بھی صورتحال غزوہ بدر سے زیادہ نازک تھی، جب کفار تین گنا تھے اور اب چار گنا سے بھی زیادہ؛ کیوں کہ عبداللہ بن اُبی کے جانے کے بعد اسلامی فوج سات سو کے لگ بھگ رہ گئی تھی جبکہ قریش کے تین ہزار جوان شہر سے صرف تین میل دور پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے۔ اگر انہیں ڈر نہ ہوتا کہ اندر مسلح مسلمان خاصی تعداد میں ہیں تو شاید وہ شہر میں گھنے سے گریز نہ کرتے مگر اب ان کی حکمت عملی یہ تھی کہ پہلے کھلے میدان میں لڑکر مسلمانوں کی مسلح افرادی طاقت کا صفایا کر دیا جائے۔
لڑائی میں کامیابی کے امکانات بظاہر کم تھے مگر حضور اقدس ﷺ ایمان ، عزیمت ، توکل اور شجاعت کی انتہا پر تھے اور دفاع کی ہر ممکنہ تدبیر پر غور کر رہے تھے۔ دوسری طرف قریش مدینہ کے باہر پڑاؤ ڈال کر بے فکر ہوگئے تھے، انہوں نے مدینہ سے باہر نکنے والے راستوں کی ناکہ بندی کی بالکل ضرورت محسوس نہیں کی تھی ، اسی طرح انہوں نے کسی موزوں میدانِ جنگ کی تلاش بھی اہم نہیں سمجھی ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان کی غفلت سے فائدہ اٹھایا اور قریش کے پڑاؤ کو اپنے بائیں ہاتھ پرچھوڑتے ہوئے شہر سے اتنا باہر نکل آئے کہ کوہِ احد کے دامن میں پہنچ گئے۔ بظاہر یہ ایک خطرناک اقدام بھی تھا، کیوں کہ اب قریش تھوڑی ہی مستعدی دکھا کر لشکرِ اسلام اور مدینہ کے درمیان حائل ہوسکتے تھے لیکن رسول الله ﷺ کو یقین تھا کہ جنگ کا فیصلہ ہونے سے پہلے قریش مدینہ میں داخل ہونے کی جرأت نہیں کریں گے؟ کیوں کہ اس صورت میں لشکرِ اسلام انہیں پشت سے گھیر سکتا تھا۔
رسول اللہ ﷺ اپنی عددی کمی کو پیش نظر رکھتے ہوئے محسوس کر رہے تھے کہ کسی عام میدان میں جنگ جیتنا مشکل ہے، اس لیے آپ کو ایسے خاص مقام کی تلاش تھی جہاں اپنی قوت کو محفوظ رکھتے ہوئے دشمن پر جارحانہ حملہ کیا جاسکے۔ یہ تب ہی ہو سکتا تھا جب پشت اور دائیں بائیں سے گھر نے کا خطرہ نہ ہوتا اور ایسا اُحد پہاڑ کے دامن ہی میں ممکن تھا۔ یہ مدینہ کا سب سے بلند پہاڑ ہے جو شہر سے پونے پانچ کلو میٹر شمال میں واقع ہے، یہ جنوب مشرق سے شمال مشرق کو اس طرح پھیلا ہوا ہے کہ لمبائی پانچ میل (۸ کلومیٹر) اور چوڑائی دو میل ( سوا تین کلومیٹر ) تک چلی گئی ہے۔
اس موقع پر حضور ﷺ نے فوج کا ازسرِنو جائزہ لیا۔ عبداللہ بن عمر، اسامہ بن زید، زید بن ارقم ، براء بن عازب زید بن ثابت اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہم صرف چودہ چودہ سال کے تھے مگر جہاد کے شوق میں ساتھ ساتھ چلے آئے تھے۔ آپ ﷺ نے ان کو واپس فرمادیا۔ البتہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو جو پندرہ سال کے تھے ، اس لیے قبول کرلیا کہ اچھے تیرانداز تھے۔ آپ ﷺ نے انہیں تیرانداز دست میں شامل فرما دیا۔ اسی طرح سمرہ بن جندبؓ کو بھی جو پندرہ سال کے تھے قبول فرمالیا،اس لیے کہ نہوں نے کُشتی میں رافع بن خدیجؓ کو پچھاڑ کر دکھا دیا تھا۔
هفته ۱۵ شوال ۳ھ (۳۰ مارچ ۶۲۵ء) کو علی الصباح حضور ﷺ نے صف بندی اور مورچہ بندی اس طرح مکمل کرلی تھی کہ احد پہاڑ پشت پرتھا اور مدینہ منورہ بائیں ہاتھ پر۔

