Ghazwa-e-Uhud: Abu Dujana (R.A) Ki Shujaat Aur Jeeti Hui Jung Ka Pansa Kaise Palta?

قریش کے لشکر کے نمایاں افراد

        دن کا اجالا پھیلتے ہی لشکرِ قریش مسلموں کی طرف بڑھنے گا ان کے دوماہر جرنیل خالدبن ولید دائیں بازو کے اور عکرمہ بن ابوجہل بائیں بازو کے سو سو گھڑ سواروں کی قیادت کر رہے تھے، خالد کی جنگی مہارت ضرب المثل تھی جبکہ عکرمہ اپنے باپ ابو جہل کے خون کا بدلہ لینے کے لیے بے تاب تھا۔ ان میں ابو عامر راہب نامی مشہور درویش بھی تھا جو مدینہ کا باشندہ تھا اور اسلام سے پہلے عبادت وریاضت کی وجہ سے مشہور تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی مدینہ تشریف آوری سے اس کی جعلی روحانیت کا بھرم کھلا تو وہ حسد اور انتقام کی آگ میں جلنے لگا، اس کا طیش اس وقت اور بڑھ گیا جب اس کے بیٹے حنظلہؓ نے بھی اسلام قبول کرلیا، تب ابو عامر اپنے چند چیلوں سمیت مکہ چلا گیا ۔ آج وہ انتقام کی آگ بجھا نے لشکرِ قریش میں شامل ہوکر آیا تھا۔ اس لشکر میں جُبیر بن مطعم کے غلام وحشی بن حرب کو بھی شامل کیا گیا تھا، جسے نیزہ پھینک کر مارنے میں ایسی مہارت تھی کہ کبھی نشانہ چوکتا نہ تھا۔ جبیر بن مطعم کو حضرت حمزہؓ پر جنہوں نے جنگِ بدر میں قریش کے سپہ سالار عتبہ کو موت کے گھاٹ اتارا تھا سخت غصہ تھا۔ جبیر بن مطعم نے وحشی سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ حمزہ کو قتل کر دے تو اسے آزاد کردیا جائے گا۔


قریش کی خواتین لشکر کے پیچھے دف بجا بجا کر یہ رزمیہ گیت گا رہی تھیں۔

إن تقبلوا نُعَانِق
وَنَفَرِشُ النّمارق
اگر تم پیش قدمی کروگے تو ہم تمہیں گلے سے لگالیں گی 
اور تمہارے لیے پھول دار بستر بچھا دیں گی۔“

أوْ تُدْبِرُوا نُفَارِقِ
 فراقَ غيرَ وامق
 تم پسپا ہوئے تو ہم تمہیں چھوڑ دیں گی
 کسی لگاؤ کے بغیر ہمیشہ کے لیے جدا ہو جائیں گی۔

مسلمانوں کی صف بندی کے عسکری پہلو:

        مسلمان سارے کے سارے پا پیادہ تھے، صرف دو افراد کے پاس گھوڑے تھے، دشمن کی فوج کے دو سو گھڑ سوار کھلے میدان میں آسانی سے پیادوں پر حاوی ہو سکتے تھے۔ اسی لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے وادی کے کشادہ حصے میں زیادہ آگے جاکر صفیں باندھنے سے احتراز کیا تاکہ ضرورت پڑنے پر مسلمان پیچھے ہٹ کر اپنے معسکر میں آسکیں ، جہاں پہاڑی دیوار تقریبا نیم دائرے کی شکل میں کھڑی تھی۔ اس تنگ جگہ میں دشمن کے گھڑ سوار گھوڑوں کو آزادی سے چکر نہیں دے سکتے تھے، جبکہ مسلمان پیادے تیزی سے رخ بدل بدل کر ان کو گھائل کرسکتے تھے۔

        اُحد پہاڑ کی طرف پشت کرکے صف بندی میں یہ حکمت بھی تھی کہ اس طرح مسلمانوں کا منہ مغرب کی طرف تھا،اب دشمن کے سپاہی سامنے سے مشرق رو ہو کر ہی حملہ آور ہوسکتے تھے اور ایسے میں سورج کی شعاعیں ان کی نگاہوں کو چندھیا کر انہیں ضرور پریشان کرتیں۔

        مسلمانوں کی پشت پر اتنی دشوار گزار ڈھلوان تھی کہ اس پر گھوڑا چڑھانا ممکن نہیں تھا ، ہاں شکست کی صورت میں پا پیادہ مسلمان اس ڈھلوان پر چڑھ سکتے تھے اور قریشی گھڑ سواروں پر تیر اندازی اور سنگ باری کرکے خود کو بچا سکتے تھے۔ اگر عقب سے کوئی حملہ ممکن تھا تو صرف اسی صورت میں جب قریش کا کوئی دستہ لمبا چکر کاٹ کر عقب میں آتا اور مسلمانوں کے بائیں بازو پر ٹوٹ پڑتا۔ اگرچہ ایسی کارروائی مشکل ضرور تھی مگر ناممکن نہیں ۔ حضور 
صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس خطرے کو بروقت بھانپتے ہوئے ایک انوکھا فیصلہ کیا۔ میدانِ جنگ میں لشکر اسلام کی بائیں طرف پہاڑ سے خاصہ دورہٹ کر ایک لمبا چپٹا ٹیلہ تھا اس کی پچھلی سمت معمولی بلندی تھی جس پر گھڑ سوار چڑھ سکتے تھے البتہ اگلا حصہ جومیدان کی طرف تھا خاصًا اونچا تھا رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نے حضرت عبد اللہ بن جبیرؓ کی کمان میں پچاس تیر اندازوں کا ایک دستہ اس ٹیلے پر مقرر کردیا تھا اور ہدایت دی کہ کسی حالت میں بھی اپنی جگہ مت چھوڑنا۔ یہ تیر انداز اس ٹیلے سے چاروں طرف دور دور تک دیکھ سکتے تھے، ان کے پیچھے کوہ احد تھا، بائیں ہاتھ پر مدینہ اور سامنے دشمن ۔ ان کی موجودگی میں دشمن مسلمانوں پر پیچھے سے حملے کے لیے ٹیلے کا چکر نہیں کاٹ سکتا تھا۔ اگر وہ مدینہ میں گھسنے کی کوشش کرتا تو تیر انداز عقب سے انہیں نشانہ بناتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کو فورا خبر دے کر ان کا تعاقب کرواتے ۔ اگر قریشی گھوم کر مسلمانوں کے عقب میں آتے تب بھی تیر اندازوں سے بھڑے بغیر آگے جانا ممکن نہ تھا۔

        جنگ شروع ہونے سے پہلے قریش کے سپہ سالار ابوسفیان نے آخری تنبیہ کے طور پر انصار کو پیغام بھیجا:

        تم ہمارے چچازاد کا ساتھ دینا چھوڑ دو، ہم واپس چلے جائیں گے ہمیں تم سے لڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔“

        انصار نے اس پیغام کا سخت جواب دے کر قاصد کولوٹادیا۔    

ابودجانہؓ کی دلیری اور انفرادی مقابلے:

        اب دونوں طرف کے لوگ عمومی حملے کے لیے تیار کھڑے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ضروری سمجھا کہ طاقتور دشمن پرابتدائی نفسیاتی دباؤڈالا جائے۔ ایسا بہادری اور سرفروشی کے غیر معمولی مظاہرے ہی سے ممکن تھا۔ اس لیے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے صحابہ کرام کے جذبات کو ابھارتے ہوئے اپی تلوار لہرائی اور فرمایا اسے کون لے گا؟“

        کئی جانثاروں نے اپنے ہاتھ بڑھائے ۔ رسول اللہ 
صلی اللہ علیہ وسلم  نے تلوار پیچھے کرلی اور فرمایا: ”اس کا حق ادا کرنے کی ضمانت پر کون لے گا؟

         انصار کے نامور شمشیرزن ابودجانہؓ کھڑے ہوئے اور پوچھا: ”حق سے کیا مراد ہے؟

         فرمایا اسے انتا چلاؤ کہ خون سے رنگین ہو جائے۔“

        انہوں نے عرض کیا " میں حق ادا کرنے کی ضمانت پر لیتا ہوں ۔"

        تلوار لیتے ہی انہوں نے سر پر سرخ پٹی باندھ لی ، میدان میں اترتے وقت یہ ان کی عادت تھی۔ یہ دیکھ کر سب نے بے اختیار کہا " ابودجانہ نے موت کی پٹی باندھ لی ۔"

        ابودجانہؓ  تلوار سونت کر دونوں صفوں کے درمیان اکڑتے ہوئے گھم رہے تھے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم  نے دیکھ کر فرمایا اللہ کو یہ چال صرف ایسے موقع پر پسند ہے۔"

        اس کے بعد دونوں طرف سے انفرادی مقابلے ہوئے ، مشرکین کا نامور پہلوان طلحہ بن ابی طلحہ اونٹ پر سوار نکلا، اِدھر سے زبیر بن عوام رضی الله عنہ پیدل نمودار ہوئے اور اچھل کر اس کے اونٹ پر چڑھ گئے ، ساتھ ہی اسے دھکیل کر زمین پر گرا دیا اور تلوار سے ذبح کر ڈالا پھر مقتول کا بھائی ابوسعد آیا او سعد بن ابی وقاصؓ کے ہاتھوں مارا گیا، یہ دیکھ کر مقتول کے دو بھتیجے مُسافِع اور جُلاس میدان میں نکلے، اِدھر سے عاصم بن ثابتؓ کمان سنبھال کر کھڑے ہوئے اور دونوں کو تیروں کانشانہ بنادیا۔

عام حملہ اور مسلمانوں کی برتری:

        اب دونوں طرف سے نعرے بلند ہوئے اور دونوں لشکر باہم ٹکرا گئے ۔ ابودجانہؓ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی شمشیر اس طرح چلائی کہ پرے کے پرے صاف کر دیے اور دشمن کی صفیں اُلٹتے ہوئے ان کی عورتوں تک جا پہنچے یہاں تک کہ ہند بنت عقبہ ان کی شمشیر کی زد میں آگئی۔ انہوں نے عورت ہونے کا لحاظ کرتے ہوئے چھوڑ دیا۔

        مہاجرین وانصار نے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر شمشیر زنی کے جوہر دکھائے ۔ حضرت حمزہؓ کے سامنے جو نکل آتا تلوار کا لقمہ بن جاتا ۔ اَرطاۃ بن عبد شُرحبیل اور سِباع بن عبد العُزّٰی جیسے سورما آنًا فانًا ان کے آگے ڈھیر ہوگئے۔ اُدھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے وار سے مشرکین کا علم بردار طلحہ بن عثمان زخمی ہوکر پرچم سمیت گر پڑا۔ قریش کے گھر اور پیادے مسلمانوں کی ایمانی طاقت اور جوش و جذبے کے سامنے نہ ٹھہرسکے اور میدان چھوڑ کر بھاگ نکلے۔ مسلمان انکا تعاقب کرتے ہوئے ان کی خیمہ گاہ تک پہنچ گئے اور مالِ غنیمت جمع کرنے لگے۔

        مشرکین کی عورتیں پائنچے چڑھائے وہاں سے بھاگ رہی تھیں۔ ٹیلے پر تعینات تیراندازوں نے یہ منظر دیکھا تو وہ یہی سمجھے کہ جنگ کا فیصلہ ہوگیا ہے، اس لیے وہ بھی مال غنیمت لینے نیچے اترنے لگے، ان کے امیر عبد اللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ نے انہیں روکنے کی بہت کوشش کی اور یاد دلایا کہ نبی اکرم 
صلی اللہ علیہ وسلم  نے ہرحال میں یہاں پہرہ دینے کی تاکید فرمائی ہے مگر جانے والے یہ سوچ کرکے کہ یہ حکم جنگ کی حالت میں تھا اور اب جنگ ختم ہو چکی ہے۔

پانسہ پلٹ گیا:

        اس طرح ٹیلے پر فقط چودہ پندرہ افراد باقی رہ گئے، مشرکین کے گھڑ سوار دستے کے سالار خالد بن ولید نے پسپائی کی حالت میں بھی ٹیلے کو خالی ہوتا دیکھ لیا اور اس کمزوری سے فائدہ اٹھانے میں دیر نہ لگائی۔ جلد ہی خالد کا گھڑ سوار دستہ ٹیلے کا چکر کاٹتے ہوئے مسلمانوں کے عقب میں آن پہنچا۔

        ٹیلے پر رہ جانے والے باقی ماندہ پہرے دار انہیں روکنے میں کامیاب نہ ہو سکے اور لڑتے لڑتے شہید ہوگئے ۔ اب خالد بن ولید نے مال غنیمت جمع کرتے ہوئے بے خبر مسلمانوں پر دھاوا بول دیا اور بہت سوں کو شہید کردیا۔ اُدھر سے بھاگتے ہوئے مشرکین بھی پلٹ آئے اور مسلمان دونوں طرف سے سخت نرغے کی کیفیت میں آنے لگے۔

        وحشی نے موقع پاکر حضرت حمزہؓ  پر بھالا پھینکا جو ان کی ناف کے پارہو گیا۔ ادھر لشکرِ اسلام کے پرچم بردار مصعب بن عمیرؓ  بھی شہید ہوگئے، پرچم کے زمین بوس ہوجانے سے مسلمانوں کی شیرازہ بندی مزید مشکل ہوگئی۔ ساتھ ہی یہ افواہ پھیل گئی کہ نبی اکرم 
صلی اللہ علیہ وسلم  شہید ہوگئے ہیں۔ یہ سن کر مسلمانوں پر بجلی گر پڑی ۔ رنج و اضطراب، بدنظمی اور افراتفری کی اس کیفیت میں درجنوں مسلمان شہید ہو گئے اور بہت سے ادھر ادھر نکل گئے۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic