نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع میں صحابہ کی بے مثال سرفروشی
مگر افواہ غلط تھی، اس نازک ترین صورت حال میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میدان جنگ میں موجود تھے۔ قریش کے کئی جنگجو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کررہے تھے۔ ان کے ناپاک عزائم سے بچانے کے لیے چند صحابہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کواپنے حصار میں لے لیا تھا اور سیسہ پلائی دیار بن کرآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد کھڑے تھے، ان میں حضرت ابوبکر صدیق، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حارث بن الصِمہ اور چند انصاری رضی اللہ عنہم پیش پیش تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ سے پہلے حفاظتی تدبیر کے طور پر اپنی زرہ حضرت کعب بن مالکؓ سے بدل لی تھی، لہذا آپ کی پہچان مشکل ہوگئی تھی، پھر بھی مشرکین میں سے عتبہ بن ابی وقاص اس طرف آیا اور یکے بعد دیگرے کئی پتھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پھینکے، جن سے آپ کے دندان مبارک زخمی ہوگئے۔ اتنے میں ابن شہاب اور ابن قمیہ مشرکین کے ایک جتھے کے ساتھ تلوار کھینچ کر حملہ آور ہوئے۔ موقع پر موجو صحابہ کرام رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دیوار بن گئے ۔ اس کے باوجود ابن شہاب کے وار سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر زخم آگیا اور ابن قَمِۂَ کی تلوار آپ کے فولادی خود پر پڑی۔ اگرچہ سرمبارک محفوظ رہا مگر خود کی آہنی کڑیاں رخساروں میں کھب گئیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرنے والوں میں امّ عمارہؓ (نُسیبہ بنت کعب) بھی تھیں، وہ آپ کے دائیں بائیں تلوار اور تیر چلا رہی تھیں۔ ان کے ساتھ ہی ان کے خاوند زید بن عاصم اور دو بیٹے: حبیب اور عبداللہ بھی شیروں کی طرح مشرکین سے لڑ رہے تھے ۔ ام عمارہ ابن قَمِۂ سے الجھ گئیں ۔ اس نے ایسی تلوار ماری کہ ام عمارہؓ کے کندھے سے بوٹی اتر گئی۔ ام عمارہؓ نے زخم کی پروانہ نہ کرتے ہوئے جوابًا اس پر شمشیر کے کئی وار کیے مگر وہ بد بخت دو زرہیں پہنے ہوا تھا، اس لیے بچ گیا۔ ام عمارہؓ کو کئی زخم لگے مگر کفار انہیں راستے سے نہ ہٹا سکے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ام عمارہؓ کے پاس ڈھال نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو حکم دیا کہ وہ اپنی دھال انہیں دے دیں۔ ام عمارہؓ دھال لے کر زیادہ پامردی سے لڑنے لگیں۔
ام عمارہؓ اس دن کو یاد کرتے ہوئے فرماتی تھیں:
جب کوئی گھڑ سوار حملہ کرتا تو ام عمارہؓ ڈھال کے ذریعے بڑی مہارت سے بچاؤ کرتیں اور اس کی تلوار کچھ نہ بگاڑ پاتی۔ جب وہ واپس مڑتا تو ام عمارہؓ اس کے گھوڑے کے پاؤں پر وار کرتیں، گھوڑے اور گھڑ سوار کے گرتے ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم ام عمارہ کے بیٹے کو آواز دیتے : "عمارہ کے بیٹے ! اپنی ماں کی مدد کرو" دونوں ماں بیٹا مل کر دشمن کو نمٹا دیتے۔ اس دوران ایک حملہ آور نے ان کے بیٹے عبداللہ بن زید کا ہاتھ شدید زخمی کر دیا۔ ام عمارہؓ دوڑ کر آئیں، اپنے تھیلے سے مرہم پٹی کا سامان نکالا اور پٹی باندھ کر کہا: ” جا میرے بچے دشمن سے لڑ“
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا " ام عمارہ! کون ہے جو تم جیسی ہمت رکھتا ہو۔“
اتنے میں ایک کافر حملے کے لیے دوڑا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ام عمارہ یہی ہے تمہارے بچے کو زخمی کرنے والا ۔ام عمارہ نے آگے بڑھ کر اس کی پنڈلی پر ایسا وار کیا کہ وہ گر پڑا ۔ پھر بیٹے کے ساتھ مل کر اس کا کام تمام کردیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا تم نے اپنا بدلہ لے لیا۔ اللہ کا شکر ہے جس نے تمہاری آنکھیں ٹھنڈی کیں۔
مشرکین نے براہ راست حملے نا کام جاتے دیکھ کر تیر برسانے شروع کر دیے۔ یہ دیکھ کر ابودجانہ رضی اللہ عنہ تیزی سے لپکے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اندھے جھک گئے، مشرکین کے تیران کی پشت میں پیوست ہوتے گئے۔
منتشر مسلمانوں کی ہمت اور جنت کا شوق :
جو مسلمان وہاں سے دو مختلف ٹکڑیوں میں بکھرے ہوئے تھے انہیں ابھی تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کچھ پتا نہ تھا انہوں نے کچھ دیر میں اپنے حواس پر قابو پالیا اور ایک دوسرے کو ہمت دلانے لگے۔ ثابت بن دحداح علی المود حواس نے آواز لگائی : ”اے اے انصاریو! آؤ میری طرف آؤ۔ میں ہوں ثابت بن دَحداحؓ نے آواز لگائ: "اے انصاریو! آؤ میری طرف میں ہوں ثابت بن دحداح ۔ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوگئے ہیں تو کیا اللہ تعالی تو موجود ہے۔ تم اپنے دین کو بچانے کے لیے لڑو۔ کچھ انصاری ان کے گرد جمع ہوگئے ۔ انہوں نے قریش کے گھڑ سوار دستے کا سامنا کیا جس میں خالد بن ولید ، عکرمہ بن ابی جہل اور عمرو بن العاص جیسے شمشیر زن شامل تھے ۔ زوردار جھڑپ کے بعد ثابت بن دحداح اور ان کے تمام ساتھی شہید ہو گئے۔
انس بن نضرؓ نے مسلمانوں کو بکھرتا دیکھ کر کہا: بھائیو! حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تم زندہ رہ کرکیا کروگے آگے بڑھو اور جس مقصد کے لیے ہمارے آقا نے جان دی ہے، اس پر جان دے دو۔“
یہ کہہ کروہ کفار کی بھیڑ میں گھس گئے اور آخردم تک تلوار چلاتے رہے۔
کعب بن مالکؓ زخمی ہوچکے تھے، وہ فرماتے ہیں : میں نے دیکھا کہ زرہ میں ملبوس اور اسلحے سے لیس ایک لحیم شحیم کافرمسلمانوں پر بڑا بھاری پڑ رہا تھا اور چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا: ”انہیں باندھ باندھ کر مارو۔
اتنے میں ایک نقاب پوش مسلمان اس کے سامنے آگیا۔ دونوں آپس میں بھڑ گئے۔ مسلمان نے ایسی تلوار کھینچ کر ماری جو اس کے کاندھے سے ہوکر ران تک اُتر گئی۔ وہ کافر زرہ سمیت دو حصوں میں کٹ گیا۔
تب اس نقاب پوش نے اپنا چہرہ کھولتے ہوئے کہا: ” کعب! دیکھاناں!میں ہوں ابودجانہ"۔
حضرت علیؓ مسلمانوں کی لاشوں کو دیکھتے پھر رہے تھے، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نہ دکھائی دیے تو سوچنے لگے، یہ مکن نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میدان چھوڑ جائیں، مگر وہ شہداء میں بھی نہیں ہیں ، اس کا مطلب ہے کہ اللہ نے ہماری لغزش سے ناراض ہوکر انہیں آسمان پر اٹھا لیا ہے۔ اب یہی کرنا چاہیے کہ دشمنوں سے لڑتے ہوئے جان دے دوں ۔ یہ سوچ کر انہوں نے تلوار کی نیام توڑ دی اور شمشیر بکف ہوکرمشرکین پر جھپٹ پڑے، یہ حملہ اتنا زور کا تھا کہ کفار دور دور تک ہٹ گئے، تب حضرت علیؓ نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے نرغے میں ہیں۔
اتنے میں مشرکین کے ایک جتھے نے حملہ کیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پکار کر کہا: ” علی! انہیں روکو۔
حضرت علیؓ دشمن پر جھپٹ پڑے اور نہایت زوروشور سے تلوار چلا کر انہیں پسپا کردیا۔ اتنے میں ایک دوسرا گروہ حملہ آور ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھرحضرت علیؓ کو حکم دیا۔ انہوں نے ایک بار پھر انہیں مار بھگایا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پہچان اور صحابہ کی نا قابل بیان مسرت:
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جنگ کے دوران ایسا خود (ہیلمٹ) پہنا ہوا تھا جس سے صرف آنکھیں دکھائی دے رہی تھیں۔ ان آنکھو کی چمک اور رعنائی کو صحابہ خوب جانتے تھے مگر مشرکین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پہچان پارہے تھے۔ اِدھر سے حضرت کعب بن مالکؓ بھی پہنچ گئے جن کی زرہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنی ہوئی تھی، اپنی زرہ تو وہ پہچانتے ہی تھے، ساتھ ہی خود سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی چمکتی آنکھیں بھی دیکھیں تو بے ساختہ پکار اٹھے:
"اے مسلمانو! یہ ہمارے نبی زندہ سلامت ہیں۔“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فورا انہیں چپ رہنے کا اشارہ کیا۔

