احد پہاڑ کی طرف عقب نشینی اور صحابہ کی پروانہ وار قربانیاں
اب صحابه کرام حضور ﷺ کو اپنے حلقے میں لیے ہوئے اُحد پہاڑ کی طرف بڑھنے لگے۔ مشرکین قدرے پسپائی کے بعد ایک بار پھر تیزی سے پیچھے آئے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: " ہے کوئی جوان مرد ! جو انہیں بھگا دے، وہ جنت میں میرا ساتھی ہوگا ۔ حضرت طلحہؓ نے عرض کیا: ” میں حاضر ہوں۔آپ نے فرمایا: تم نہیں۔"
ابی بن خلف واصل جہنم ہوا:
حضور اکرم ﷺ اپنے جانثاروں کے ساتھ پہاڑ کی ایک گھائی کی طرف جارہے تھے کہ پیچھے سے اُبی بن خلف نیزہ تانے گھوڑا سرپٹ دوڑا کر آپ کی طرف آیا۔ اس شخص نے ہجرت سے قبل مکہ میں حضور ﷺ کو بہت ستایا تھا اور یہاں تک کہا تھا کہ میں تمہیں قتل کروں گا۔ حضور ﷺ نے جواب دیا تھا : ان شاء اللہ میں ہی تجھے قتل کروں گا۔“ آج یہی ابی بن خلف کہہ رہا تھا: "محمد کہاں ہیں ؟ محمد کہاں ہیں؟ اگر وہ بچ گئے تو سمجھو میں نہ بچوں گا۔“صحابہ کرام نے چاہا کہ اسے راستے میں روک لیں مگر حضور ﷺ نے فرمایا: ” آنے دو۔“
حضور ﷺ نے حارث بن الصمہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے نیزہ لیا اور خود اس کے مقابلے میں آئے ۔ اس سے پہلے کہ وہ آپ پر وار کرتا ، آپ ﷺ نے بڑی چابک دستی سے اس کے خود اور زرہ کے درمیان سے جھانکتی ہوئی گردن پر نیزہ دے مارا۔ حملہ آور کو بظاہر معمولی زخم سالگا مگر وہ گھوڑے سے گر پڑا، پھر نہایت بھیانک انداز میں بیل کی طرح چیختا ہوا واپس بھاگا۔ مشرکین نے اسے تسلی دی کہ یہ معمولی زخم ہے مگر وہ درد سے بے تاب ہوکر پکارتا تھا: "محمد نے کہا تھا ناں کہ میں اُبی کو قتل کروں گا۔ بخدا مجھے اتنی تکلیف ہے کہ سارے حجاز والوں کو تقسیم کی جائے تو وہ سب مرجائیں ۔آخر اُبی بن خلف اسی زخم سے واصلِ جہنم ہوگیا۔
اُحد پہاڑ پر مورچہ:
مشرکین کے پیادے اور سوار اب بھی حضور ﷺ کی تلاش میں ادھر کا رخ کر رہے تھے ۔ مگر اب آپ نرغے کے خطرے سے باہر نکل آئے تھے ؛ کیوں کہ اب آپ ﷺ قدرے بلندی پر تھے، کئی صحابہ کرام بھی آپ کے پاس جمع ہوچکے تھے۔ ان میں زخمی بھی تھے اور صحیح سالم بھی۔ ان میں ابوطلحہؓ بھی تھے جو زبردست تیرانداز تھے۔ انہوں نے اپنی ڈھال کھڑی کرکے حضور ﷺ کو اس کے پیچھے چھپا لیا اور حریف پر مسلسل تیر برسانے لگے ۔ حضور ﷺ ان کی تیر اندازی دیکھنے کے لیے بار بار سر مبارک اٹھا کر دیکھتے تھے کہ دشمنوں کو تیر لگا کہ نہیں ۔ ابو طلحہؓ بےقرار ہوکر کہتے اللہ کے نبی! میرے ماں باپ آپ پر قربان ۔ آپ مت جھانکیے ۔آپ سے پہلے میرا سینہ حاضر ہے۔سعد بن ابی وقاصؓ نے بھی ایسی زبردست تیراندازی کی کہ حضور ﷺ نے داد دی اور کہا:
"سعد! تیر چلا۔ میرے ماں باپ تجھ پر فدا۔
مشرکین کا ریلا ذرا تھما تونبی اکرم ﷺ اپنے جانثاروں کے ساتھ اُحد پہاڑ کی بلندی پر چڑھنے لگے۔ ان میں حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت ابودجانہ، حضرت طلحہ بن عبید اللہ حضرت زبیر بن عوام، حضرت حارث بین الصِمّہ رضی اللہ عنہم نمایاں تھے۔ مشرکین بھی تعاقب میں بڑھے۔
یہ سن کر حضرت عمر فاروقؓ اور چند مہاجرین پلٹے اور ہلہ بول کر کفار کو مار بھگایا۔
اب پہاڑ کی دشوار گزار چڑھائی شروع ہوچکی تھی ، آپ ﷺ زخمی تھے اور دوزرہیں پہنے ہوئے تھے، ان کے وزن کی وجہ سے ایک عمودی چٹان پر آپ خود نہ چڑھ سکے تو حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ فورًا جھک کر بیٹھ گئے،آپ ﷺ ان کی پشت پر پاؤں رکھ کر چٹان پر چڑھ گئے اورفرمایا: ” طلحہ نے اپنے لیے جنت واجب کر لی۔
زخمیوں کی دیکھ بھال ۔۔۔۔ سکینہ کا نزول:
بلندی پر آکر قریش کے حملے کا خطرہ نہیں رہا تھا، تاہم یہاں جمع ہونے والے مسلمان سب ہی بری طرح تھکے ماندے اور پیاسے تھے مگر ایسی حالت کے لیے پہلے سے انتظام کرلیا گیا تھا۔ یہاں خدمت کے لیے مسلمان خواتیں موجود تھیں۔ حضرت ابو طلحہ کی بیوی ام سلیم اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ پانی کے مشکیزے بھربھر کر کمر پر لادتیں اور لاکر مجاہدینِ اسلام کو پانی پلاتیں ۔ بچوں میں سے حضرت انس رضی اللہ عنہ جوصرف تیرہ سال کے تھے،حضور ﷺ کے خصوصی خادم کے طور پر یہاں موجود تھے۔ حضرت فاطمہؓ بھی وہیں تھیں نبی اکرم ﷺ کے چہرۂ انور سے خون مسلسل بہہ رہا تھا، حضرت علیؓ ڈھال میں پانی بھرکر لائے اور آپ کے زخموں کو صاف کیا مگر خون بند نہ ہوا حضرت فاطمہ نے یہ دیکھا تو چٹائی کے ایک ٹکڑے کو جلایا اور اس کی راکھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم پر لیپ دی۔ خون بند ہوگیا۔اس دوران تھکے ہارے مجاہدین پر یکایک اُونگھ طاری ہونے لگی جو ایسے نازک وقت میں ناممکن سی بات تھی ۔ مگر حالت یہ تھی کہ صحابہ کوشش کے باوجود بیدار نہ رہ سکے ۔ حضرت ابوطلحہؓ کے ہاتھ سے شمشیر بار بار گرجاتی تھی۔ چند گھڑیوں بعد یہ کیفیت ختم ہوئی تو مسلمان تازہ دم ہوچکے تھے اور اپنے اندر ایک نئی قوت محسوس کر رہے تھے۔
ابوسفیان سے مکالمہ:
جنگ کا ہنگامہ تھم چکا تھا، قریشی بھی حضور ﷺ کی تلاش سے مایوس ہو چکے تھے، تاہم جاتے جاتے ان کے سپہ سالار ابوسفیان نے پہاڑ کے پاس آکر فتح کے نعرے لگائے اور کہا:"لڑائی کا ڈول اوپر نیچے ہوتا رہتا ہے۔ آج کا دن یوم بدر کا بدلہ ہے۔ جیے ہبل“۔
رسول الله ﷺ کے حکم پر حضرت عمرؓ نے کھڑے ہوکر جواب دیا: ”اللہ ہے غالب و بالاتر“
ابوسفیان نے کہا: ہماری عُزّٰی ہے، تمہاری کوئی عزی نہیں۔
حضرت عمرؓ نے حضور ﷺ کے تلقین فرمانے پر جواب میں کہا:
ہمارا مولی ہے اللہ، تمہارا کوئی مولا نہیں۔
ابوسفیان نے پوچھا: قسم دیتا ہوں ، سچ سچ بتاؤ ہم نے محمد کو قتل کردیا ہے یا نہیں؟“
حضرت عمرؓ نے سختی سے جواب دیا: نہیں،اللہ کی قسم! وہ تو اس وقت تمہاری آواز سن رہے ہیں۔“
ابوسفیان نے جانے سے پہلے کہا: ” اگلے سال پھر بدر میں مقابلہ ہوگا۔“
جواب ملا: ٹھیک ہے۔ اگلے سال وہاں مقابلے کا وعدہ رہا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ جاسوسی کے لیے روانہ :
جب کفار کا لشکر واپس ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے حضر علیؓ کے زمے لگایا وہ ان کا تعاقب کریں اور دیکھیں وہ کیا کررہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اگر وہ اونٹوں پر سوار ہوں، گھوڑوں کو خالی ساتھ لے جارہے ہوں تو پھروہ سیدھے مکہ جائیں گے۔ لیکن وہ گھوڑوں پر سوار دکھائی دیں ان کا ارادہ مدینہ پر حملے کا ہوگا۔اللہ کی قسم! اگر ایسا ہوا تو میں خود ان کے مقابلے میں نکلوں گا۔“حضرت علیؓ قریش کے پیچھے گئے اور پھر واپس آکر بتایا:
"وہ اونٹوں پر سوارمکہ کی طرف جارہے تھے اورگھوڑے خالی ساتھ جارہے ہیں۔“
پورا اطمینان کرلینے کے بعد رسول اللہ ﷺ شہداء کی تجہیزوتکفین کی طرف متوجہ ہوئے۔

