شہدائے احد
میدان احد میں شہداء کی لاشیں بکھری ہوئی تھیں، ان میں حضرت انس بن نضرؓ بھی تھے جن کو اسّی کے لگ بھگ زخم لگے تھے۔ لاش ناقابل شناخت ہوگئی تھی۔ ان کی بہن نے انگلیوں کے پوروں سے انہیں پہچانا۔ شہادت کی سعادت پانے والوں میں اُصیرِمؓ بھی تھے۔ وہ اسی دن اسلام لائے تھے اور سیدھے میدان کارزار میں پہنچ گئے تھے۔ میدان جنگ میں خوب داد شجاعت دی اور آخر شدید زخمی ہوکر گر پڑے۔ جنگ کے بعد جب مسلمان شہیدوں کی تجہیز و تکفین کرنے لگے تو لاشوں کے درمیان یہ دم توڑتے نظر آئے۔ کسی کو پتا نہ تھا کہ یہ مسلمان ہوگئے ہیں۔ پوچھا: تم یہاں کیسے؟ قومی حمیت کی وجہ سے آئے تھے یا اسلام کی خاطر؟“
بولے: اسلام کی خاطر ، ہاں میں اللہ اور رسول پر ایمان لاچکا ہوں ۔ یہ کہہ کر دم تو ڑ دیا۔
حضور ﷺ نے فرمایا: ” یہ جنتی ہیں ۔ یہ ایسے جنتی تھے جنہیں ایک نماز پڑھنے کی نوبت بھی نہیں آئی۔
عمرو بن الجموحؓ
شہداء میں حضرت عمرو بن الجموحؓ بھی تھے جو ایک پاؤں سے معذور تھے۔ ان کے چار کڑیل جوان بیٹے اس جنگ میں شریک ہونے جارہے تھے، تب انہوں نے بھی ساتھ نکلنے کی آرزو ظاہر کی تھی۔ لڑکوں نے بڑھاپے اور معذوری کا کہ کر منع کیا توحضور ﷺ کے پاس آکر عرض کرنے لگے " میرے لڑکے آپ کے ساتھ جہاد پر جانے سے روک رہے ہیں۔ اللہ کی قسم میں چاہتا ہوں کہ اپنے لنگڑے پاؤں سے جنت میں چلوں پھروں۔یہ جذبہ دیکھ کر حضور ﷺ نے شرکت کی اجازت دے دی تھی ۔ اب ان کی لاش بھی میدان جنگ میں پڑی تھی۔
حضرت حنظله غسیل الملائکہؓ
ان میں حضرت حںظلہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، جن کا باپ ابو عامر راہب اس جنگ میں مشرکین کے ساتھ تھا۔ عبداللہ بن ابی منافق کی بیٹی جمیلہ جو پختہ ایمان والی لڑکی تھی ، ان کے نکاح میں آئی تھی۔ گزشتہ رات ہی شادی ہوئی تھی۔ ابھی سہاگ رات کا غسل نہیں کیا تھا کہ مسلمانوں کی شکست کی خبر سنی ، سیدھے دوڑے آئے اور معرکے میں جان کی بازی لگا کر شہادت پائی۔ انہیں کفناتے ہوئے مسلمانوں کو ان کے جسم سے پانی کے قطرے ٹیکتے محسوس ہوئے۔ جب دلہن نے بتایا کہ وہ غسل کے بغیر نکل گئے تھےتو حضور ﷺ نے فرمایا: "اس لیے کہ انہیں فرشتوں نے غسل دیا"۔حضرت مصعب بن زبیرؓ کا ادھورا کفن :
اِن میں مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہ بھی تھے جو مکہ کے سب سے خوبصورت اور خوش لباس نوجوان تھے ۔ مگر آج ان کی تدفین اس حال میں ہورہی تھی کہ جسم ڈھانپنے کے لیے صرف ایک چھوٹی سی چادر ہی مل سکی تھی جس سے سر ڈھانکا جاتا تو پاؤں کھل جاتے ۔ پاؤں ڈھانپے جاتے تو سر کھل جاتا۔ایک شہید کے آخری کلمات :
حضور ﷺ کو ان افراد کی خاص طور پر فکر ہورہی تھی جن کی لاشیں نہیں مل سکی تھیں مگر وہ زندہ بچ جانے والوں میں بھی نظر نہیں آرہے تھے۔ آپ ﷺ نے سعد بن ربیع انصاریؓ کے بارے میں دریافت کیا کہ وہ کہاں ہیں ؟ بچ گئے یا شہید ہو گئے؟ محمد بن مسلمہؓ انہیں تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے ۔ سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ لاشوں کے درمیان پڑے آخری سانسیں لے رہے تھے۔ اس حالت میں بھی وہ حضور ﷺ کی سلامتی کے لیے مضطرب تھے۔ان کے آخری الفاظ یہ تھے:
حضورﷺ کو میرا سلام کہنا، عرض کرنا اللہ آپ کو ہراس جزا سے بہتر جزا دے جو کسی امتی کی طرف سے : اس کے نبی کوملی ہو۔ اور مسلمانوں کو بھی سلام کہہ کر یہ پیغام دینا کہ اگر حضور ﷺ کو تمہارے جیتے جی ذرا بھی گزند پہنچی تو اللہ کے ہاں تمہارا کوئی عذر قبول نہیں ہوگا۔“
یہ کہتے کہتے ان کی روح پرواز کرگئی۔
حضرت حمزہؓ کی لاش:
قریش کے بعض لوگوں نے لاشوں کی بے حرمتی کی تھی۔ ناک، کان اور دیگر اعضاء کاٹے تھے۔ حضرت حمزہؓ کا سینہ چیرا گیا تھا، چہرہ مسخ کردیا گیا تھا۔ حضور ﷺ کو چچا سے غیر معمول محبت تھی ، وہ آپ کے رضاعی بھائی اور قریبیدوست بھی تھے۔ ان کی لاش کا یہ حال دیکھ کر آپ ﷺ کو بے حد دکھ ہوا۔ فرمایا: " اس جیسا صدمہ پھر کبھی نہ پہنچے گا۔ اس دوران رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی حضرت صفیہؓ اس حادثہ کی خبر سن کر دوڑی آئیں۔ حضور ﷺ نے دیکھا تو فوراً ان کے صاحبزادے زبیرؓ کو کہا کہ انہیں روک لو۔ زبیرؓ نے آگے بڑھ کر انہیں کہا:
رسول الله ﷺ نہیں چاہتے کہ آپ لاش کو دیکھیں۔“
بولیں: اپنے بھائی کے لیے کفن کے دو کپڑے لائی ہوں، یہ لے لو۔
مسلمان ان دو کپڑوں میں حضرت حمزہؓ کو کفنانے لگے تو ایک انصاری کی نوچی گئی لاش نظر آگئی۔ صحابہ کو گوارا نہ ہوا کہ اسے بے کفن رہنے دیں۔ آخر ایک کپڑے میں حضرت حمزہؓ اور دوسرے میں اُن انصاری کو کفن دیا گیا۔
کون جیتا؟ کون ہارا؟
اس جنگ میں جانی نقصان مسلمانوں کا زیادہ ہوا تھا، اس لحاظ سے قریش کو فتح حاصل ہوئی تھی۔ مگر یہ فتح ادھوری تھی کیوں کہ مسلمانوں کی ریاست بھی باقی تھی اور قیادت بھی۔ مسلمان آخر تک میدانِ جنگ کے پاس مورچہ زن تھے، ان میں سے نہ تو کوئی قیدی بنا اور نہ ہی کسی نے ہتھیار ڈالے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ مسلمانوں نے جان پر کھیل کر اپنے آقا ومولا ﷺ کی حفاظت کی تھی اور قریش ایڑی چوٹی کا زور لگا کر بھی ان تک نہیں پہنچ سکے تھے۔ اپنے ان کمزور پہلوؤں کا مشرکینِ مکہ کو پورا احساس تھا۔غزوۂ حمراء الاسد
حضور ﷺ نے انکے اس حساسِ کمتری کو مزید پختہ کرنے اور مسلمانوں کی نفسیاتی برتری کو ثابت کرنے کے لیے اگلے ہی دن قریش کے لشر کا تعاقب کرنے کا فیصلہ فرمایا،اللہ کا حکم بھی یہی تھا، اس میں یہ حکمت بھی تھی کہ اگر قریش کوآگے چل کر مدینہ پر حملہ کرنے کا خیال آجائے تو مسلمانوں کی اس جرات کو دیکھ کر وہ اپنا ارادہ ترک دیں گے۔ایسا ہی ہوا۔ کافی آگے جاکر قریش کے فاتح سرداروں کو اپنی مہم کے نامکمل رہ جانے کا احساس ہوا تو وہ مدینہ میں گھس کرلوٹ مار کرنے کا منصوبہ بنانے لگے۔
لیکن اچانک انہیں پتا چلا کہ حضور ﷺ لشکر مرتب کرکے ان کے تعاقب میں آرہے ہیں، یہ سن کر وہ اتنے بدحواس ہوئے کہ سرپٹ مکہ کی طرف کوچ کردیا۔ حضور ﷺ نے پھر بھی حمراء الاسد تک تعاقب کیا ، وہاں تین دن ٹھہرے۔ جب قریش کے مکہ جانے کا اطمینان ہوگیا تب حضور ﷺ واپس ہوئے۔
اس تعاقب کو غزوہ حمراء الاسد کہا جاتا ہے، اس میں حضرت جابر بن عبداللہ کے سوا تمام لوگ وہی تھے جو غزوۂ احد میں شریک تھے، ان کی اکثریت زخمی اور تھکی ماندی تھی۔اس کے باوجود اس نئی مہم کےلیے خود کو پیش کردینا جاں نثاری، تابع داری اور قربانی کی حیرت انگیز مثال تھی۔
ام عمارہ کا جذبہ:
ام عمارہؓ کو جنگ میں بارہ زخم لگے تھے۔ بستر پر پڑی تھیں ۔ ابن قَمِۂ کے ہاتھوں ان کے کاندھے پر آنے والا زخم نہایت کاری تھا۔ اس دوران مدینہ کی گلیوں میں رسول اللہ ﷺ کے منادی نے پکارا:"الى حمراء الاسد"
ام عمارہؓ نے یہ صدا سنی تو اسی حالت میں جانے کے لیے بے تاب ہوگئیں۔ خود کو کپڑوں میں اچھی طرح لپیٹا اور اٹھنے لگیں۔ مگر زخم تازہ تھے۔ ان سے خون جاری ہوگیا۔ رات بھر ان کے زخموں کی مرہم پٹی ہوتی رہی۔

