Saneha-e-Raji Aur Bir-e-Mauna: Tableegh-e-Deen Ke Liye Sahaba Ki Azeem Qurbanian

 چند گہرے زخم

        قریش غزوۂ اُحد میں فتح کے باوجود خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں کرسکے تھے، پھر واپس آکر انہوں نے صلح کے اثرات کو پائیدار بنانے کی طرف بھی کوئی توجہ نہیں دی۔ یہاں تک کہ وہ شام کو جانے والے قافلوں کی حفاظت کا بھی کوئی مؤثر بندوبست نہ کرسکے ۔ دو سال تک ان کو مدینہ کے خلاف جنگ کی ہمت نہ ہوئی ۔ البتہ انہوں نے اسلام کے خلاف گھناؤنی سازشیں ضرور کیں اوران کے حلیف یا زیرِ اثر قبائل نے مسلمانوں کو چند بہت کاری زخم لگائے۔


سانحۂ رجیع

        صفر۴ ہجری میں دو بدو قبائل : عَضل اور قارہ کے نمائندے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام کی تعلیم و تبلیغ کے لیے چند معلم طلب کیے۔ حضور  حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصم بن ثابتؓ کو امیر مقرر کرکے دس صحابہ کی جماعت کو اس علاقے کی طرف روانہ کردیا۔ یہ مہم واقعۂ ربیع کہلاتی ہے۔ جب یہ حضرات اس علاقے میں "رجیع" نامی چشمے پر پہنچے تو بنو لِحیان نے عضل اور قارہ کے تقریبًا ایک سو تیر اندازوں سمیت ان حضرات کو گھیرلیا اور کہا:

        اپنے آپ کو ہمارے حوالے کردو ۔ ہمارا وعدہ ہے کہ تم میں سے کسی کو قتل نہیں کریں گے۔"

        عاصم بن ثابتؓ نے یہ سن کر ساتھیوں سے کہا "بھائیو! میں کسی کافر کی ضمانت پر یقین نہیں کرتا۔ الہی ! ہمارے حال کی خبر اپنے نبی کو پہنچادے۔ یہ کہہ کر وہ سات صحابہ سمیت لڑتے ہوئے شہید ہوگئے ۔ کفار نے لاش کی بے حرمتی کرنا چاہی مگر اللہ نے شہد کی مکھیوں کا ایک غول بھیج دیا جس نے ان کی نعش کو گھیر لیا اور کفاراسے چھو نہ سکے۔ کفار نے صبح ہونے کا انتظار کیا مگررات کوزوردار بارش ہوئی جبکہ وہ بارش کا موسم نہ تھا۔ نعش سیلاب میں بہہ گئی۔ شہید نے عہد کیا تھا کہ وہ کسی مشرک کو اپنا بدن چھونے نہ دیں گے۔ اللہ نے اپنی قدرت سے ان کے عہد کی لاج رکھی۔"

        خبیب ، عبداللہ بن طارق اور زید بن دَثِنہ رضی اللہ عنہم باقی رہ گئے تھے ۔ کفار نے ان سے جان کے تحفظ کا وعدہ کیا۔ انہوں نے خود کو ان کے سپرد کردیا۔ مگر کفار نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے انہیں قیدی بناکر مکہ میں بیچ دیا ۔ قریشی رؤساء نے انہیں خرید لیا تاکہ انہیں اپنے ان رشتہ داروں کے خون کے انتقام میں جو بدر میں مارے گئے تھے قتل کردیں-

اعلی اسلامی اخلاق کی ایک مثال:

        قریش رؤساء ان سب کو موت کے گھاٹ اتارنے کے لیے اشہرِ حرم گزر نے کا انتظار کرتے رہے۔ خبیبؓ نے جنگِ بدر میں حارث بن عامرؓ کو قتل کیا تھا۔ مقتول کے بیٹوں نے انہیں خرید لیا اور پیروں میں زنجیریں ڈال کر ایک مکان میں قید کردیا۔ اس دوران بعض اوقات انہیں تازہ انگور کھاتے دیکھا گیا جبکہ مکہ میں اس وقت یہ پھل قطعًا نہیں تھا۔ یہ اللہ کی غیبی نصرت اور صحابی کی کرامت تھی۔ آخرماہِ محرم گزرنے پر اشہرحُرم ختم ہوگئے اور انہیں قتل کی تیاری کرلی گئی۔

         خبیبؓ نے قتل سے پہلے بالوں کی صفائی کے لیے اُسترا مانگا جو دے دیا گیا۔ اتنے میں اچانک گھر کا ایک چھوٹا بچہ ان کے پاس چلا گیا۔ انہوں نے اسے گود میں بٹھا لیا۔ گھر والے سہم گئے کہ قیدی کے ہاتھ میں اُسترا ہے اور بچہ اس کی گود میں ہے۔ خبیبؓ نے انہیں گھبرایا ہوا دیکھ کر کہا: "کیا تمہیں ڈر ہے کہ میں اسے قتل کروں گا؟ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔“

         خبیبؓ کے پاس جان بچانے کا یہ آخری موقع تھا کہ اس بچے کو یرغمال بنا کر فرار ہوجاتے مگر انہوں نے اپنی جان کے لیے ایک بچے کو آڑ بنانا گری ہوئی حرکت سمجھا اور اعلیٰ اسلامی اخلاق پر کوئی حرف نہ آنے دیا۔ کفار انہیں پکڑ کر حدودِ حرم سے باہر لے گئے ۔ انہوں نے شہادت سے قبل دورکعت نماز کی خواہش ظاہر کی۔ دو مختصر رکعتیں اداء کیں اور پھر کہا:

         ” اگر یہ خوف نہ ہوتا کہ تم کہوگے موت سے خائف ہے، تو میں لمبی نماز پڑھتا"۔

        قتل ہوتے وقت انہوں نے یہ تاریخی اشعار پڑھے:

وَلَسْتُ أَبَالِي حِينَ اُقْتَلُ مُسْلِمًا
 عَلَى أَيِ شِقِ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِي

         جب میں مسلمان ہوکر قتل ہورہا ہوں
 تو مجھے پروا نہیں کہ اللہ کی خاطر میں کس کروٹ پر گرتا ہوں۔

وَذَاكَ فِي ذَاتِ الْإِلَهِ وَإِنْ يَّشَا
يُبارِكْ عَلَى أَوْصَالِ شِلوِِ مُمَزَّعى

 یہ اللہ کی ذات کے لیے ہے اور وہ چاہے تو ایک پارہ
 پارہ کی گئی لاش کے ٹکڑوں پر برکت نازل فرمادے۔

صحابہ رضی اللہ عنہم کی رسول اللہ سے محبت کی عجیب جھلک:

        زید بن دَثنہؓ کو قتل کرنے سے پہلے ابوسفیان نے آزمائش کے لیے پوچھا:

"زید کیا تمہیں یہ پسند ہے کہ محمد یہاں ہوتے اورتمہاری جگہ وہ قتل کردیے جاتے؟"

        زیدؓ نے جواب دیا "واللہ ہمیں تویہ بھی گوارا نہیں کہ انہیں اپنےگھر میں کانٹا بھی چھبے اورہم اپنے گھر میں آرام سے بیٹھیں۔" ابو سفیان نے کہا: "اللہ کی قسم! میں نے ایسی محبت کسی کی نہیں دیکھی جیسی محمد سے اسکے ساتھیوں کو ہے۔"اس کے بعد زید بن ربیعہؓ کو قتل کردیا گیا۔ یہ جمادی الاولی ۴ ہجری (مطابق صفر مکی) کا واقعہ ہے۔

سانحۂ بئرِ معونہ

        اسی زمانے میں نجد کے ایک غیرمسلم رئیس ابوبراء (عامر بن مالک) نے رسول اللہ  حضور صلی اللہ علیہ وسلم  سے کچھ مددگار طلب کیے جو اس کے مخالف قبائل کو رام کریں اور ان کو ریاستِ مدینہ کا پیغام سناکر حلیف بنائیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجد کی بدعہدی کا خدشہ ظاہرکیا مگر ابو براء نے ہرطرح اطمینان دلایا اورمکمل تحفظ کی ذمہ داری لی۔

        آخر جمادی الاولی ۴ ہجری میں رسول اللہ  
صلی اللہ علیہ وسلم نے ستر حافظ اور قاری صحابہ کو اس سمت بھیج دیا جوعبادت و ریاضت میں ممتاز تھے۔ ان میں منذر بن عمرو، حرام بن ملحان ، حارث بن الصمّہ اور عامربن فہیرہ رضی اللہ عنہم جیسے صحابہ شامل تھے مگر بئرِمعونہ کے مقام پرعامر بن طفیل نے انہیں روک لیا۔ حرام بن ملحانؓ نے عامر بن طفیل کو کہا:

        ہمیں تم سے کوئی سروکار نہیں ۔ ہم تو رسول اللہ 
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے ایک کام سے جارہے ہیں۔ کیا تم ہمیں تحفظ نہیں دوگے کہ ہم رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کا پیغام پہنچادیں۔“

        یہ کہہ کر حرام بن ملحانؓ نے رسول اللہ 
صلی اللہ علیہ وسلم  کا مکتوب اسے پیش کیا مگر اس بد بخت نے اسے دیکھا تک نہیں بلکہ اثنائے گفتگو میں اس کے اشارے پر ایک شخص نے پیچھے سے آکر حرام بن ملحانؓ کی پشت میں نیزہ گھونپ دیا۔ حرام بن ملحان کے منہ سے بے ساختہ نکلا:

"فُزتُ وَرَبِّ الْكَعْبَة.“ (رب کعبہ کی قسم ! میں کامیاب ہو گیا)۔

        ساتھ ہی انہوں نے بہتے ہوئے خون کو چہرے اور سر پر مل لیا۔ حرام بن ملحانؓ کو شہید کرکے عامربن طفیل نے عصّیہ ، رِعل اور ذکوان قبائل کے حمایتی جمع کر لیے اور باقی صحابہ کو بھی گھیر لیا۔ ان حضرات نے بھی شمشیریں سونت لیں اور نہایت دلیری کے ساتھ لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔

        جبار بن سلمی نے عامر بن فہیرہؓ کے سینے میں نیزہ گھونپ کر باہر نکالا تو عامربن فہیرہؓ نے دم توڑتے ہوئے  کہا:"فُزت واللہ" پھر ان کی نقش یک دم آسمان کی طرف بلند ہوتی چلی گئی، یہاں تک کہ نگاہوں سے اوجھل ہوگئی پھر دوبارہ اپنی جگہ پر آگئی۔ جبار بن سلمی کہتے ہیں کہ میں نے تفتیش شروع کی کہ آخر وہ کونسی کا میابی ہے جس پر وہ قتل ہوتے ہوئے بھی مسرور تھے ۔ آخر مسلمانوں نے بتایا کہ وہ کامیابی شہادت ہے۔ اس پر میں اسلام لے آیا۔

        بئرِمعونہ کے مقام پر صحابہ کے قتلِ عام کے دو صحابی: عمرو بن امیہؓ اور منذر بن محمدؓ اونٹ چرانے گئے ہوئے تھے ۔ انہوں نے دور آسمان پرمردار خور پرندے منڈلاتے دیکھے خطرہ محسوس کرکے اس طرف ڈور پڑے۔قریب پہنچے تو دیکھا کہ ساتھیوں کی لاشیں بھکڑی ہوئی ہیں اورگھڑ سوار ارد گرد کھڑے ہیں۔عمر بن امیہؓ  کہنے لگے، کیا ہم رسول اللہ کو جاکر خبر نہ کردیں؟

        مگر منذربن محمدؓ نے کہا: " جہاں یہ لوگ شہید ہوئے ہیں، میں اس جگہ کو چھوڑ کر نہیں جاسکتا۔"

        آخر یہ دونوں اسی حالت میں دشمن پر حملہ آور ہوئے ۔ منذرؓ شہید ہوگئے جبکہ عمرو بن امیہؓ زندہ گرفتار ہوگئے ۔ عامر بن طفیل کو معلوم ہوا کہ عمرو بن امیہؓ مضری ہیں تو یہ کہ کر "کہ میری والدہ کے ذمے ایک غلام آزاد کرنا تھا" انہیں آزاد کردیا۔ اس سانحے میں عمرو بن امیہؓ کے سوا دو افراد زندہ رہے ۔ ایک کعب بن زیدؓ شدید زخموں کے باوجود بچ گئے اور کفار انہیں مردہ سمجھ کر نعشوں میں چھوڑ گئے تھے ۔ بعد میں وہ وہاں سے نکل گئے اور اگلے سال غزوۂ خندق میں شہید ہوئے ۔ دوسرے ایک لنگڑے صحابی تھے جولڑائی سے قبل قریبی پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے تھے اور کفاران تک نہیں پہنچ سکے تھے۔ یہ واقعہ سانحۂ بئرمعونہ کے نام سے مشہور ہے۔

شہدائے بئرِمعونہ نے دم توڑنے سے قبل یہ دعا کی تھی:

        "أَلَا يَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا .... بِأَنَّا قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا . فَرَضِيَ عَنَّا وَ أَرْضَانَا"

        (ہماری جانب سے ہماری قوم کو بتا دو کہ ہم اپنے رب سے جاملے ۔ وہ ہم سے خوش ہوا، اور اس نے ہمیں خوش کردیا۔) حضرت جبرئیلؑ نے ان کے یہ الفاظ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  تک پہنچا دیے۔

        حضور 
صلی اللہ علیہ وسلم  اس سانحے پر نہایت غمگین ہوئے اور ایک ماہ تک قنوتِ نازلہ پڑھ کر ان ظالموں کے لیے بد دعا فرماتے رہے جنہوں نے عہد شکنی کرکے صحابہ کو بے دردی کے ساتھ شہید کیا۔ اس کے ساتھ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن امیہ ضمریؓ کو ایک ساتھی کے ساتھ خفیہ طور پر مکہ بھیجا تاکہ ابوسفیان کا کام تمام کردیا جائے مگر ابوسفیان کے مقدر میں اسلام کی دولت لکھی تھی۔ مکہ والے متنبہ ہوگئے،عمرو بن امیہؓ اور ان کے رفیق بمشکل بچ کر واپس آئے۔


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic