حضرت عثمان غنی رضی الله تعالی عنہ کے اقوالِ زریں
- میں اسلام قبول کرنے والا چوتھا شخص ہوں۔
- رسول الله ﷺ نے یکے بعد دیگرے اپنی دو صاجزادیوں کو میرے عقد میں دیا.
- میں کبھی گانے بجانے میں شریک نہیں ہوا ۔
- میں کبھی لہو و لعب میں مشغول نہیں ہوا۔
- میں نے کبھی کسی برائی اور بدی کی تمنا نہیں کی ۔
- رسول اللہ علیہ الصلوۃ والسلام سے بیعت کرنے کے بعد میں نے اپنا سیدھا ہاتھ کبھی اپنی شرم گاہ کو نہیں لگایا۔
- اسلام لانے کے بعد میں نے ہر جمعہ کو اللہ تعالے کے لیے ایک غلام آزاد کیا ،اگر اس وقت ممکن نہ ہوا تو بعد میں آزاد کیا۔
- میں زمانۂ جاہلیت یا عہد اسلام میں کبھی زنا کا مرتکب نہیں ہوا۔
- عہد جاہلیت اور زمانہ اسلام میں میں نے کبھی چوری نہیں کی۔
- سب سے بڑا خطا کار وہ ہے جو لوگوں کی برائیوں کو بیان کرتا پھرتا ہے۔
- زبان کی لغزش، قدموں کی لغزش سے زیادہ خطر ناک ہے۔
- حقیر سے حقیر پیشہ ہاتھ پھیلانے سے بدرجہا بہتر ہے۔
- حاجت مند غرباء کا تمہارے پاس آنا خدا تعالٰی کا انعام ہے۔
- جس نے دنیا کو جس قدر پہنچانا اسی قدر اس سے بے رغبت ہوا۔
- مت کسی سے امید رکھ مگر اپنے رب سے اور مت ڈرکسی سے مگر اپنے گناہ سے۔
- نعمت کا نامناسب جگہ خرچ کیا جانا نا شکری ہے ۔
- خاموشی غصے کا بہترین علاج ہے۔
- اگر آنکھیں روشن ہیں تو ہر روز روزِ حشر ہے ۔
- اے انسان اللہ تعالٰی نے تجھے اپنے لیے پیدا کیا ہے اور تو دوسروں کا ہونا چاہتا ہے۔
- بعض اوقات مجرم کو معاف کر دینا مجرم کو زیادہ خطر ناک بنا دیتا ہے۔
- تعجب ہے اس شخص پر جو خدا تعالیٰ کو حق جانتا ہے اور پھر غیروں کا ذکر کرتا ہے اور ان پر بھروسہ بھی کرتا ہے۔
- تلوار کا وار جسم کو زخمی کرتا ہے اور بری بات روح کو گھائل کرتی ہے۔
- دنیا جس کے لیے قید خانہ ہے۔ قبر اس کے لیے آرام دہ ہے۔
- تعجب ہے اس شخص پر جو موت کو حق جانتا ہے اور پھر ہنستا ہے۔
- گناہ کسی نہ کسی صورت سے دل کو بے قرار رکھتا ہے۔
- تعجب ہے اس شخص پر جو دوزخ پر ایمان رکھتا ہے مگر پھر بھی گناہ کرتا ہے اور شیطان کو دشمن سمجھتا ہے مگر پھر بھی اس کی اطاعت کرتا ہے۔
وہ علم ضائع
ہے جس پر عمل نہ کیا جائے۔
- تعجب ہے اس شخص پر جو حساب کو حق جانتا ہے اور پھر مال بھی جمع کرتا ہے۔
- ایسی بات مت کہو کہ جو مخاطب کی سمجھ سے باہر ہو۔
- ضائع ہے وہ لمبی عمر جس میں توشۂ آخرت نہ لیا جائے ۔
- اللہ تعالیٰ سے محبت رکھنے والے کو تنہائی محبوب ہوتی ہے۔
- ضائع ہے وہ مال جو نیک کاموں میں خرچ نہ کیا جائے۔
- لوگ تمہارے عیبوں کے جاسوس ہیں۔
- ہر وہ کام دنیا ہے جس سے آخرت مقصود نہ ہو۔
- لوگوں کو جس طرح چاہے آز مالے ، سانپ بچھوں سے کم نہ پائے گا۔

