صلح کی شرائط اور ان کا تجزیہ
صلح نامے کی اکثر شقیں بظاہر قریش کے حق میں تھیں۔ اور مسلمانوں کو ان سے زک پہنچے کا خدشہ تھا مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کی شرائط پر پوری گہرائی کے ساتھ غورکیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی غیرمعمولی بصیرت نے فیصلہ کیا کہ صلح نامے کی جن شرائط کو قریش اپنے لیے بہت زیادہ مفید سمجھ رہے ہیں، وہ حقیقت میں ان کے لیے اتنی مفید نہیں اور جو شرائط بظاہر مسلمانوں کے لیے ناقابل برداشت لگ رہی ہیں، وہ حقیقت کے اعتبار سے اسلام اور ریاست مدینہ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔ ہاں کچھ مسلمانوں کو انفرادی طور پر امتحان اور آزمائش کا سامنا کر پڑسکتا ہے مگر آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کو پوری امید تھی کہ مسلمان اسے جھیل لیں گے۔ اس لیے حضور صلی ﷺ نے فرمایا: " قریش مجھ سے کسی بھی ایسی چیز کا مطالبہ کریں جس میں وہ اللہ کی حرمتوں کا لحاظ رکھیں تو میں اسے قبول کرلوں گا ۔ چنانچہ بات چیت میں شقیں طے پاگئیں۔
پہلی شق
صلح نامے کی پہلی شق یہ تھی کہ دس سال تک جنگ بندی رہے گی ۔ اس شق کے ذریعے قریشِ مکہ پر مسلمانوں کے ممکنہ حملے کے خطرے کو دور کرنا چاہتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اگر حملہ ہوا تو کوئی بعید نہیں مسلمان غالب آجائیں۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرمالیا، کیوں کہ سرزمینِ عرب میں امن وامان کی فضا قائم ہونے سے اسلام کی تبلیغ کی راہیں کھل جاتیں اور لوگوں کو مدینے کا اسلامی معاشرہ قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا۔
دوسری شق
دوسری شق یہ تھی کہ مسلمان اس سال یونہی واپس چلے جائیں گے، اگلے سال آکر عمرہ کریں گے۔ اس طرح سے قریش یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ اب بھی غالب وہی ہیں ، انہی کی ناک اونچی ہے اور مسلمان مغلوب ہیں۔
یہ شق مسلمانوں کے لیے بڑی سخت تھی کیوں کہ وہ بیت اللہ کی زیارت کے لیے تڑپ رہے تھے اور قریش سے اس وقت کش مکش اسی موضوع پر چل رہی تھی۔ یہ شرط ماننا اعترافِ شکست کے مترادف تھا، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وقتی طور پر قریش کو برتری کا جھوٹا بھرم قائم رکھنے دیا؛ کیوں کہ آپ جانتے تھے اس طرح زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوجائیں گے اور قریش حقیقت میں اس طرح کوئی قوت حاصل نہیں کریں گے۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سال واپسی اور اگلے سال عمرہ کرنے کی شق قبول کرلی۔
مگر قریش کو خدشہ تھا کہ اگلے سال جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائیں گے وہ مکہ میں طویل قیام کریں یا اسلحے کے زور پر شہر کو قبضے میں لے لیں اور ایسا نہ ہوا تو یہ خطرہ بہرحال ہے کہ مکہ کے عاجز اور لاچار مسلمان اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ چلے جائیں گے۔ چنانچہ انہوں نے شق کے ساتھ کچھ ذیلی دفعات پر اصرار کیا جو یہ تھیں۔
(الف) اگلے سال عمرے کے موقع پرمکہ میں مسلمانوں کا قیام فقط تین دن رہے گا۔
(ب) مسلمان میان میں بند تلوار کے علاوہ کوئی اسلحہ ساتھ نہیں رکھیں گے۔
(ج) مسلمان کسی مکہ کے باشندے کو ساتھ نہیں لے جائیں گے۔
(د) اگرمسلمانوں میں سے کوئی مکہ میں رہنا چاہے تو اسے منع نہیں کریں گے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی قبول فرمالیا۔
تیسری شق
تیسری شق یہ تھی کہ اگر اہل مکہ کا کوئی فرد مسلمان ہوکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جاملا تو اسے واپس بھیج دیا جائے گا۔ اس طرح قریش اپنے نوجوانوں کے اسلام میں داخل ہونے کا راستہ بند کرنا چاہتے تھے تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےحامیوں میں اضافہ نہ ہو۔
یہ شق مسلمانوں کے لیے ناقابل برداشت تھی کہ وہ اپنے کسی ایسے مسلمان بھائی کو جوہجرت کرکے مدینہ آئے واپس قریش کے چنگل میں دے دیں۔ مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے طبعی طور پر سخت گراں محسوس کرتے ہوئے بھی یہ بات مان لی۔ صحابہ کرام کو اس پر غمگین دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نے انہیں تسلی دی کہ ایسے لوگوں کے لیے اللہ جلد ہی کوئی راستہ نکالے گا۔
آپ جانتے تھے اس شرط کی پیروی سے اسلام اور ریاستِ مدینہ کو کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ پھر اس شرط کی وجہ سے اگر قریش کے کچھ لوگوں کے اسلام لانے میں رکاوٹ پیدا ہوگی تو اس کے بدلے امن وامان کی وجہ سے درجنوں دیگر قبائل میں اسلام کی روشنی پھیلانے کے مواقع ملیں گے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ اس پہلو پر بھی تھی کہ عقیدہ کوئی ایسی چیز نہیں جو جبروتشدد سے تبدیل کردی جائے، وہ تو دل کا سودا ہے ، اس لیے جو لوگ دل سے ایمان لے آئیں گے قریش کی پکڑ دھکڑ ان کے ایمان کو بدل نہیں سکے گی۔ ہاں ان کو ذاتی طور پر اذیتوں کا سامنا کرنا پڑے گا مگر ان کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو امید تھی کہ وہ ان آزمائشوں سے سرخرو ہوکر نکلیں گے۔
چوتھی شق
چوتھی شق یہ تھی کہ اگر کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑ کر مکہ والوں سے آملا تو اسے واپس نہیں بھیجاجائے گا۔
اس شرط کے ذریعے قریش اپنےحامیوں میں اضافے کی راہ کھلی رکھنا چاہتے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سوچ کر اسے منظور فرمالیا کہ اگر کوئی بد بخت خود اسلام کا ساتھ چھوڑنا چاہے تو اس کا چلے جانا ہی بہتر ہوگا۔
پانچوی شق
پانچوی شق یہ تھی کہ فریقین ایک دوسرے کے خلاف خفیہ کاروائیوں اور خیانت سے اجتناب کریں گے۔
چھٹی شق
چھٹی شق یہ تھی کہ دیگر قبائل میں سے جو چاہے قریش کا حلیف بن کر اور جو چاہے مسلمانوں کا حلیف بن کر اس معاہدے میں شامل ہوسکتا ہے۔

