Alif se shuru hone wale ash’aar ka majmua | Urdu Poetry starting with Alif

الف سے شروع ہونے والے اشعار کا مجموعہ


بسم اللہ الرحمن الرحیم


آگیا عین لڑائی میں اگر وقتِ نماز
قبلہ رو ہوکے زمیں بوس ہوئی قومِ حجاز
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز

(علامہ اقبالؒ)

اس سینہ میں کائنات رکھ لی میں نے
کیا ذکرِ صفات، ذات رکھ لی میں نے
ظالم سہی، جاہل سہی، نادان سہی
سب کچھ سہی تیری بات رکھ لی میں نے

(امجد حیدر آبادی)



اک نور کا پیکر تھے ہمارے آقاؐ
شفقت کا سمندر تھے ہمارے آقاؐ
محشر میں شفاعت بھی کریں گے وہ ضرور
دنیا میں بھی رہبر تھے ہمارے آقاؐ

(ذکی انجم)


اس بے حسی کو چھوڑ دے گھر سے نکل کے دیکھ
ان کے طریق ان کی شریعت پہ چل کے دیکھ
آجائیں گی مدد کو ابابیلیں آج بھی
سرکار کے غلام تو خود کو بدل کے دیکھ

(خالد زاہد)


اس ناز اس انداز سے تم ہائے چلو ہو
روز ایک غزل ہم سے کہلوائے چلو ہو
رکھنا ہے کہیں پاؤں تو رکھو ہو کہیں پاؤں
چلنا ذرا آیا ہے تو اترائے چلو ہو

(کلیم عاجز)


انداز وادا سے آئے دنیا تو لاکھ سنور کو سامنے آ
یہ جوشِ فقیر آزاد منش کب دھیان میں تجھ کو لاتا ہے

(جوش ملیح آبادی)


اتنا مایوس نہ ہو خلوتِ غم سے اپنی
تو کبھی خود کو بھی دیکھے گا تو ڈرجائے گا

(احمد فراز)


ابھی لگی تھی نہ ٹھوکر، سنبھل رہا تھا وہ
ڈھلان تھا ہی نہیں اور پھسل رہا تھا وہ
یہ کیسی آگ تھی، شعلہ تھا، راکھ تھی نہ دھواں
کہ برف پوش پہاڑوں میں جل رہا تھا تھا وہ

(ذکی انجم)



امیرو کچھ نہ دو طعنے تو مت دو ان فقیروں کو
ذرا سوچو اگر منظر بدل جائے تو کیا ہوگا

(نواز دیوبندی)


اتنے بھی ناسمجھ ہو تو بتادوں میں کیا ہوگا
ارے ناداں وہی ہوگا، جو منظورِ خدا ہوگا

(ابراہیم حسامی)


ان کے دیکھے سے آجاتی ہے منہ پہ رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

(مرزا غالب)


ایمان کی حفاظت کو ہم جان پہ کھیلیں گے
جو ظلم و ستم بھی ہو اس راہ میں جھیلیں گے
حرف آنے نہیں دیں گے آدابِ نبوتؐ پر
پڑ جائے ضرورت تو ہم سر بھی کٹا دیں گے

(طیب پاشاہ حیدرآبادی)


ادھر ہو بجلی، اُدھر ہو طوفاں، ہے بات سچی کہ ہوں مسلمان
سدا سلامت ہے میرا ایماں، ہے مجھ میں ہر دم جلال تیرا

(رحمن جامی)


اٹھاؤ پرچم، بڑھاؤ گھوڑے، لگاؤ نعرے، چلاؤ خنجر
کہ ہم فقیروں کی آہ و زاری کو، رہزنوں نے سنا نہیں ہے

(شورش کاشمیری)


آج بھی ہو جو براہیمؑ سا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا

(علامہ اقبالؒ)


اے جنت تجھ میں حور وقصور رہتے ہیں
میں نے مانا ضرور رہتے ہیں
مرے دل کا طواف کر جنت
مرے دل میں حضورؐ رہتے ہیں
اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں
فیضانِ محبت عام سہی، عرفانِ محبت عام نہیں

(جگر مراد آبادی)


ابھی سازِ غم میں ترانے بہت ہیں
ابھی زندگی میں فسانے بہت ہیں
درِ غیر پہ بھیک نہ مانگو فن کی
جب تمہارے ہی گھر میں خزانے بہت ہیں


آپس میں لڑاتے ہیں جدا کرتے ہیں
دانستہ خطاؤں پہ خطا کرتے ہیں
اس دور کے کیسے ہیں مسلمان مظہر
کھاتے ہیں حرام اور دعا کرتے ہیں

(مظہر محی الدین مظہر حیدرآبادی)


انجام اس کے ہاتھ ہے آغاز کرکے دیکھ
بھیگے ہوئے پروں سے ہی پرواز کر کے دیکھ

(نواز دیوبندی)


اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن

(علامہ اقبالؒ)


آگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیں
زندگی مثلِ بلالِ حبشیؓ رکھتے ہیں

(علامہ اقبالؒ)


اپنے ہٹ سے میں باز آنے سے رہا
دل کسی اور جگہ لگانے سے رہا
وہ در کھولیں کہ بند کریں امجد
میں تو کسی اور در پہ جانے سے رہا

(امجد حیدر آبادی)


انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں
یہ عاشق کون سی بستی کے یارب رہنے والے ہیں

(علامہ اقبالؒ)


امیدِ حور نے سب کچھ سکھا دیا ہے واعظ کو
یہ حضرت دیکھنے میں سیدھے سادھے، بھولے بھالے ہیں

(علامہ اقبالؒ)


اس مرتبہ یہ کام نیا کرکے آئے ہیں
ہم دشمنوں کے حق میں دعا کرکے آئے ہیں
ہم کو مٹا نہ پائے گی دنیا سے یہ کہو
انجام ہم سپردِ خدا کرکے آئے ہیں

(خالد زاہد)


اپنا ایمان ہے یہی ہم لوگ موت سے پہلے مر نہیں سکتے
ہم ہتھیلی پہ جان رکھتے ہیں، پھانسیوں سے ڈر نہیں سکتے

(ماجد دیوبندی)


اپنی مٹی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو
سنگِ مرمر پر چلوگے تو پھسل جاؤگے
اک شخص کے غرور پہ میری نگاہ تھی
ٹھوکر لگی اسے تو سنبھلنا پڑا مجھے

(الطاف ضیاء)




آہ یہ غافل، موت کا رازِ نہاں کچھ اور ہے
نقش کی ناپائیداری سے عیاں کچھ اور ہے

(علامہ اقبالؒ)


آدمی آتا ہے کام آدمی کے مشکل میں
آدمی کی یہی پہچان ہوتی ہے

(رحمن جامی)


ایسے بھی کچھ لوگ ہیں جن کی بنتی کوئی بات نہیں
مرنے کی توفیق نہیں جینے کی اوقات نہیں

(کلیم عاجز)


ابھی ہے ڈوبنے والوں پہ تبصرہ بے کار
چڑھی ہوئی یہ ندی پار کرکے دیکھتے ہیں

(نواز دیوبندی)


آج کیوں پروا نہیں اپنے اسیروں کی مجھے
کل تلک تیرا بھی دل مہر و وفا کا باب تھا

(مرزا غالب)


اس کی چشمِ کرم جو ہوجائے، مرے دشمن مفید بن جائیں
اے خدا میری قوم کے بچے، خالد ابن ولید بن جائیں

(ماجد دیوبندی)


اقبال کس کے عشق کا یہ فیضِ عام ہے؟
رومی فنا ہوا، حبشی کو دوام ہے

(علامہ اقبالؒ)


اس رہنما سے مانگ نہ اس رہنما سے مانگ
شورش جو مانگنا ہے وہ اپنے خدا سے مانگ

(شورش کاشمیری)


اے پرندے تجھ کو یہ بلندی راس آتی نہیں
اڑتے اڑتے ٹوٹ جائیں گے تیرے پر لوٹ جا

(الطاف ضیاء)


اے وطن صرف تیری آبرو رکھنے کے لئے
خون قسطوں میں کئی بار بہایا ہم نے

(طیب پاشاہ حیدرآبادی)


اللہ مرے رزق کی برکت نہ چلی جائے
دو روز سے گھر میں کوئی مہمان نہیں ہے

(ماجد دیوبندی)


اپنا لہو بھرکر لوگوں کو بانٹ گئے پیمانے لوگ
دنیا بھر کو یاد رہیں گے ہم جیسے دیوانے لوگ

(کلیم عاجز)


اٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

(علامہ اقبالؒ)


آندھیوں کو چیر کے نور آئے گا
تم ہو فرعون تو موسیٰ بھی ضرور آئے گا
اب بھی بہت غرور ہے اک ہاتھ پر اسے
ایک ہاتھ حادثے میں گنوانے کے باوجود

(نواز دیوبندی)


اس سرابِ رنگ و بو کو گلستاں سمجھا ہے تو
آہ اے ناداں قفس کو آشیاں سمجھا ہے تو

(علامہ اقبالؒ)


اہلِ جہاں کے دل ہیں پتھر، پتھر میں نرمی مت ڈھونڈھ
لاحاصل ہے ان بہروں کو، دل کی بات سنانا بھی

(عامر عثمانی)


ایسے انساں سے کیا غرض ہم کو،جو مرا زخم بھر نہیں سکتا
ہوگئے متحد اگر ہم لوگ کوئی ہم کو ختم کرنہیں سکتا

(ماجد دیوبندی)


آگ ہے، اولادِ ابراہیمؑ ہے، نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے

(علامہ اقبالؒ)


اثر کرے نہ کرے سن تو لے مری فریاد
نہیں ہے داد کا طالب یہ بندۂ آزاد

(علامہ اقبالؒ)


آنا ہے جو بزمِ جاناں میں، پندارِ خودی کو توڑ کے آ
اے ہوش و خرد کے دیوانے، یاں ہوش و خرد کا کام نہیں

(جگر مراد آبادی)


اے لا الہ کے وارث باقی نہیں ہے تجھ میں
گفتارِ دلبرانہ کردارِ قاہرانہ

(علامہ اقبالؒ)


اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

(علامہ اقبالؒ)


آئینِ جواں مردی، حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

(علامہ اقبالؒ)


اس زمانے میں بھی یہ ظرف ہمارا دیکھو
غم وہ رکھتے ہیں جو شرمندہ فریاد نہیں

(کلیم عاجز)


آگ مظلوم کے گھر میں جو لگائی ہوگی
کچھ نہ کچھ آنچ تو ظالم پہ بھی آئی ہوگی

(نواز علامہ)


اپنی مٹی کو ذرا منہ جو دکھلائی ہے
در بدر بھٹکنے کی سزا پائی ہے
بات سن لی مگر سن کے ہنسی آئی ہے
قطرہ کہتا ہے سمندر سے شناسائی ہے

(وسیم بریلوی)


انسان یہ سمجھیں کہ یہاں دفن خدا ہے
میں ایسے مزاروں کی زیارت نہیں کرتا

(قتیل شفائی)


اپنا زمانہ آپ بناتے ہیں اہل دل
ہم وہ نہیں کہ جن کو زمانہ بنا گیا
(جگر مراد آبادی)



اس بزم سے دل لے کر کیا آج اثر آیا
ظالم جسے سمجھے تھے مظلوم نظر آیا

(جگر مراد آبادی)


اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا
ترے سامنے زماں و مکاں اور بھی ہیں

(علامہ اقبال)


اس کی امیدیں قلیل، اس کے مقاصد جلیل
اس کی ادا دل فریب اس کی نگہ دل نواز
نرم دمِ گفتگو، گرم دمِ جستجو
رزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاک باز

(علامہ اقبال)


آپ جو کچھ کہیں بجا لیکن
آپ پر بھی ہیں چند الزامات

(جگر مراد آبادی)


اے وطن تیرے لئے خون دیا ہے ہم نے
کون کہتا ہے تجھے ہم نے سنوارا بھی نہیں

(رحمن جامی)


اک ایسی شان پیدا کر کہ باطل تھرتھرا اٹھے
نظر تلوار بن جائے نفس جھنکار ہوجائے

(جگر مراد آبادی)


اے اہل نظر ذوق نظر خوب ہے لیکن
جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا

(علامہ اقبال)


افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

(علامہ اقبال)



افق کی سرخ قبا سے سراغ ملتا ہے
ہمارا خون ستاروں میں جگمگائے گا
ہمارے بعد کہاں یہ وفا کے ہنگامے
کوئی کہاں سے ہمارا جواب لائے گا

(شورش کاشمیری)


اف میرے شہر کے امیروں نے
بھیک بھی چھین لی گداؤں سے

(نواز دیوبندی)


انقلاب لانا ہے بے حسوں کی بستی میں
بانٹ دوں گا آئینے پتھروں کی بستی میں

(واحد سحرائی)


اب تک وہی زمین ہے وہی آسمان ہے
دو چار دن میں وہ نہ رہے تم بدل گئے

(داغ دہلوی)


اب زمیں کا بدن نہ چھوڑیں گے
یعنی ہرگز کفن نہ چھوڑیں گے
اپنا ایمان ہے یہی ماجد
مرکے بھی ہم وطن نہ چھوڑیں گے

(ماجد دیوبندی)


الٹ جائیں گی تدبیریں، بدل جائیں گی تقدیریں
حقیقت ہے، نہیں میرے تخیل کی یہ خلاقی

(علامہ اقبال)


الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں دانا
غواص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے

(علامہ اقبال)


اس خانہ رنگی میں کوئی ہے کہ نہیں ہے
بات اپنی ہی اپنے دل نشیں ہے کہ نہیں ہے
جس بات کا کر رہے ہیں دعویٰ حضرت
خود آپ کو بھی اس کا یقیں ہے کہ نہیں ہے


اس اونچے آسمان کی عظمت زمیں سے ہے
سجدوں کا اعتبار یقیناً جبیں سے ہے
مٹی کے ہم چراغ ہیں یوں مت بجھا ہمیں
ناداں تیرے طاق کی رونق ہمیں سے ہے

(نواز دیوبندی)


آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کا ہے پل کی خبرنہیں

(بہادر شاہ ظفر)


آیا ہوں در پہ آقا بڑی آرزو سے چل کے
جلوا مجھے دکھا دو روضے سے اب نکل کے

(حضرت عاقل حسامی)


اندھیرے اچھے ہیں خیرات کے اجالوں سے
ہے بھوکے رہنا بھلا بھیک کے نوالوں سے

(نامعلوم)


اس نئے زمانے کے آدمی ادھورے ہیں
صورتیں تو ملتی ہیں سیرتیں نہیں ملتیں

(منظر بھوپالی)


ابھی رنگ جہاں بدلا نہیں ہے
طریق ایں و آں بدلا نہیں ہے
ہزاروں راستے بدل گئے ہیں
مزاج کارواں بدلا نہیں ہے


امن عالم کا بس اب سامان ہونا چاہئے
سب کا دستور العمل قرآن ہونا چاہئے
بس یہی دھن تجھ کو ہر آن ہونا چاہئے
حق کا جاری ہرجگہ فرمان ہونا چاہئے

(مجذوب)


انقلابِ وقت نے سکھلا دیا جینے کا فن
جب اتر کر آسماں سے میں زمیں پر آگیا

(خالد فریدی)


الہی رکھ مجھے تو خاک یا اہل معانی کا
کہ کھلتا ہے اسی صحبت سے نسخہ نکتہ دانی کا

(ولی دکنی)


اے قلبِ شکستہ کے ملنے والو
آرے کی طرح سروں پہ چلنے والو
پہلے تم اپنے پاؤں کی خیر مناؤ
اے شیشے کے ٹکڑوں کو کچلنے والو

(امجد حیدر آبادی)


اتنا نہ اپنے جامے سے باہر نکل کے چل
دنیا ہے چل چلاؤ کا رستہ سنبھل کے چل
کم ظرف پر غرور ذرا اپنا ظرف دیکھ
مانند جوش خم نہ زیادہ ابل کے چل

(بہادر شاہ ظفر)


اوروں کے بل پہ بل نہ کر اتنا نہ چل نکل
بل ہے تو بل کے بل پہ تو کچھ اپنے بل کے چل
پھر آنکھیں بھی تو دی ہیں کہ رکھ دیکھ کر قدم
کہتا ہے کون تجھ کو نہ چل چل سنبھل کے چل

(بہادر شاہ ظفر)


اے ظفر چاہئے انساں کو کہے ایسی بات
کہ کوئی برا بھی نہ کہے کوئی گر اچھا نہ کہے

(بہادر شاہ ظفر)


اٹھو اٹھو کہ زندگی ہی زندگی پہ بار ہے
بڑھو بڑھو کہ چار سو پکار ہی پکار ہے
زمین کو روندتے ہوئے صفوں کو چیرتے ہوئے
بڑھے چلو بڑھے چلو یہ وقت کی پکار ہے

(جگر مراد آبادی)


اللہ کو پکارو اگر کوئی کام ہے
غافل ہزار نام کا یہ ایک نام ہے

(صفی اورنگ آبادی)


اچھا بنوں یہ شوق اگر ہے تو اے صفی
کچھ روز اچھے لوگوں کے جوتیاں اٹھا

(صفی اورنگ آبادی)


آئے تھے مثل گلشن سیر کر چلے
سنبھال مالی باغ اپنا ہم تو اپنے گھر چلے
الہی بندے کا بھرم رکھ لے قیامت میں
نہ کھلوا دشمنوں کے سامنے گٹھری گناہوں کی

(صفی اورنگ آبادی)



اب کوئی اور تاج محل تعمیر نہیں ہوگا
ہر دور کی شہزادی ممتاز نہیں ہوتی
ڈھاتے ہیں مظالم جو اوروں پر کہہ دو انہیں جاکر
کہ اللہ کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوت

(نامعلوم)


اس چھوٹی سی جان کے لئے دو جہان مانگے گا
مجھے زمین تو آسمان مانگے گا
مجھے یقین ہے یہ ننھا سا رینگتا ہوا پرندہ
پر ملنے پر اونچی اڑان مانگے گا

(نامعلوم)

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic