ب سے شروع ہونے والے اشعار کا مجموعہ
بکھری سی زندگی تھی قرینے میں آگئی
آپؐ آئے تو بہار مدینے میں آگئی
گلشن کا ذکر کیا ہے گلابوں کی بات کیا
خوشبو مرے نبیؐ کے پسینے میں آگئی
(ذکی احمد)
بے کار ہوں، باکار ہوں معلوم نہیں
نادان ہوں ہشیار ہوں معلوم نہیں
تقدیر بھی حق جزائے اعمال بھی حق
مجبور ہوں مختار ہوں معلوم نہیں
(امجد حیدر آبادی)
بندہ مومن کا دل بیم وریا سے پاک ہے
قوتِ فرما روا کے سامنے بے باک ہے
(علامہ اقبال)
بناکر فقیروں کا ہم بھیس غالبؔ
تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں
(مرزا غالب)
بھکاری رشک مت کر قہقہوں پر اہل دولت کے
کہ اکثر ہونٹ ہنس دیتے ہیں، دل خنداں نہیں ہوتا
(عامر عثمانی)
بلندی پر پہونچنے کی ہوس بھی خوب ہوتی ہے
جنہیں اڑنا نہیں آتا وہ پر پھیلانے لگتے ہیں
(الطاف ضیاء)
باہم ذوقِ آگہی، ہائے رے پستیِ بشر
سارے جہاں کا جائزہ اپنے جہاں سے بے خبر
(جگر مراد آبادی)
بزدل تھا، مستحق تھا، مجھ کو سزا ملی
بخشا نہ اس نے ہاتھ اٹھانے کے باوجود
(نواز دیوبندی)
باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم
سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا
(علامہ اقبال)
بڑے شوق سے سن رہا تھا زمانہ
ہمیں سوگئے داستاں کہتے کہتے
بے ضمیری تمہیں جھنجھوڑ دے گی
با ضمیروں سے مل کے دیکھو تو
(نواز دیوبندی)
بے سوز و تپش، بے درد و خلش، ہے عمرِ ابد بھی لاحاصل
آغاز وہی ہے جینے کا، جب دل کو تڑپنا آتا ہو
(عامر عثمانی)
بس یہی سوچ کے احباب نہیں آتے ہیں
دوستی کے تجھے آداب نہیں آتے ہیں
میں بہت خوش ہوں کہ حقیقت سے ہے رشتہ میرا
ورنہ مری آنکھوں میں کبھی خواب نہیں آتے ہیں
(الطاف ضیاء)
بہت غرور ہے دریا کو اپنے ہونے پر
مری پیاس سے الجھے تو دھجیاں اڑجائیں
ہوائیں پاس کہاں آتی ہیں شرارت سے
سروں پہ ہاتھ نہ رکھے تو پگڑیاں اڑجائیں
(راحت اندوری)
بات چاہے بے سلیقہ ہو کلیمؔ
بات کہنے کا سلیقہ چاہئے
(کلیم عاجز)
بڑی مشکل سے نکلے گی کوئی صورت تعلق کی
تمہیں رونا نہیں آتا، ہمیں ہنسنا نہیں آتا
(نواز دیوبندی)
باطل کی طرف چھوڑ کے حق جاتے ہیں
شیطان صفت راہ پہ کب آتے ہیں
وہ لوگ جو بگڑے ہیں ازل کے مظہر
کھاتے ہیں تیرا، غیر کے گن گاتے ہیں
(مظہرمحی الدین مظہر حیدرآبادی)
بس کہ دشوار ہے ہرکام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
(مرزا غالب)
بیٹھ کر پاس بھی اللہ رے دلوں کی دوری
ہم کہاں بیٹھے ہوئے ہیں وہ کہاں بیٹھے ہیں
(کلیم عاجز)
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
(مرزا غالب)
بکنے بھی دو عاجزؔ کو جو بولے ہے بکے ہے
دیوانہ ہے، دیوانوں سے کیا بات کرو ہو
(کلیم عاجز)
باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہو
پھر پسر قابلِ میراثِ پدر کیوں کر ہو
(علامہ اقبال)
بڑے ناداں ہیں جو لوگ ڈرتے ہیں امیر اس سے
اجل تو نام ہے اک زندگی کے نگہباں کا
(امیر مینائی)
بادشاہت کو بھول جاؤ گے
ہم فقیروں سے مل کے دیکھو تو
(نواز)
براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے
ہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریں
(علامہ اقبال)
بس دھواں اگلتے ہیں روشنی نہیں دیتے
اب نئے چراغوں کو تربیت نہیں ملتی
(الطاف ضیاء)
بیٹھا ہوں میرؔ مرنے کو اپنے میں مستعد
پیدا نہ ہوں گے مجھ سے جاں باز میرے بعد
(میر تقی میر)
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی
(علامہ اقبال)
بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیں
جو ضربِ کلیمی نہیں رکھتا وہ ہنر کیا
(علامہ اقبال)
بڑی باریک ہیں واعظ کی باتیں
لرز جاتا ہے دل، آوازِ اذاں سے
(علامہ اقبال)
بے فائدہ الم نہیں، بے کار غم نہیں
توفیق دے خدا، تو یہ نعمت بھی کم نہیں
(جگر مراد آبادی)
بھول کو بزرگوں کی بھول ہی کہا جائے
ساتھ میں مگر ان کا احترام واجب ہے
(حفیظ)
بے عمل کو دنیا میں راحتیں نہیں ملتیں
دوستوں دعاؤں سے جنتیں نہیں ملتیں
(منظر)
بے وفا دور ہے احساں کریں عاقل جن پر
طنز کے تیر وہی آپ پہ کھینچے ہوں گے
(حضرت عاقل)
بے حجابی، کم لباسی حسن کی جلوہ گری
کم قیامت سے نہیں، یہ فتنہ جو گھر گھر آگیا
(مجیب قاسمی)
بے صبری کی جان ہمیشہ گھبراتی ہے
تسکین کسی طرح نہیں پاتی ہے
آسان ہوتی ہے صبر سے ہر مشکل
ہر قفل میں یہ کلید ٹھیک آتی ہے
(امجد حیدرآبادی)
بناوٹ ہو تو ایسی ہو کہ جس سے سادگی ٹپکے
زیادہ ہو تو اصلی حسن چھپ جاتا ہے زیورسے
(صفی اورنگ آبادی)
بے کسی میں کون کس کے ساتھ دیتا ہے صفیؔ
ملنے والے ہیں تماشے کے یہ میلے جائیں گے
(صفی اورنگ آبادی)

.jpeg)