وفود کی آمد
حضور اکرم ﷺ کے تبوک سے واپس تشریف لانے کے کچھ دنوں بعد مدینہ منورہ میں مختلف قبیلوں کے وفود کی آمد شروع ہوگئی۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے فتحِ مکہ سے اب تک تقریباً ایک سال کے عرصے میں اسلام کے بارے میں اچھی طرح غوروفکر کیا اور اس کے بعد دل کی گہرائیوں سے اسلام لانے کا فیصلہ کیا۔
ان وفود کی آمد سے اسلام کی دعوت بہت کم وقت میں دور دور تک پھیل گئی۔ حضور ﷺ وفود کا اکرام کرتے، مختلف قبائل کی خوبیوں کا لحاظ اور ان کے فضائل و مناقب کا اظہار فرماتے جس سے ان کی ہمت افزائی ہوتی۔ کوئی خاص کوتاہی دیکھتے تو تنبیہ بھی فرما دیتے۔ آپ ﷺ ان وفود کو بڑے اہتمام کے ساتھ اسلامی عقائد، ارکانِ دین اور شرعی احکام سکھاتے۔ چونکہ اس دور میں علم کے پیاسے صحابہ ہر آن درِ بارِ رسالت میں بکثرت موجود رہتے تھے، اس لیے یہ روایات بہت اچھی طرح محفوظ کرلی گئیں اور چونکہ یہ دورِ رسالت کا آخری زمانہ تھا، اس لیے اس دور میں محفوظ کیے گئے نئے احکام سابقہ احکام کے لیے ناسخ بھی مانے گئے۔
وفدِ طائف:
فتحِ مکہ اور غزوہٴ حنین کے بعد حضور ﷺ نے طائف کا محاصرہ کیا تھا مگر شہروالوں کی تیراندازی سے پریشان ہوکر صحابہ نے عرض کیا تھا:"یا رسول اللہ! بنوثقیف کے لیے بددعا فرمائیے کہ ان کی تیراندازی نے ہمیں جلا ڈالا۔"مگررحمتِ دوعالم ﷺ نے دعا فرمائی: "یا اللہ! ثقیف کو ہدایت عطا فرما۔" یہ دعا قبول ہوئی۔ غزوہٴ تبوک کے بعد سب سے پہلے طائف کا وفد آکر مشرف بہ اسلام ہوا۔ حضور ﷺ نے عثمان بن ابی العاصؓ کو ان کا امیر مقررکیا جو نوجوان تھے مگرعلم وفہم میں بہت نمایاں تھے۔طائف کا مشہور بت "لات" پورے عرب میں پوجا جاتا تھا۔ حضور اکرم ﷺ نے ابوسفیان بن حربؓ اور مغیرہ بن شعبہؓ کو بھیج کر یہ بت پاش پاش کرادیا۔
وفدِ بنو تمیم:
بنو تمیم کے لوگ حاضر ہوکر مشرف بہ اسلام ہوئے۔ حضور ﷺ نے ان کی تعریف فرماتے ہوئے کہا: "میری امت کے یہ لوگ دجال کے خلاف سب سے سخت ہوں گے۔"حضرت عائشہ صدیقہؓ کے پاس بنو تمیم کی ایک لونڈی تھی، آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اسے آزاد کردو، یہ نسلِ اسماعیلؑ سے ہے۔ بنو تمیم کی طرف سے زکوٰۃ پیش کی گئی تو فرمایا: "یہ میری قوم کی زکوٰۃ ہے۔"
بنوتمیم کے وفد میں صعصعہ بن ناجیہؓ بھی تھے۔ انہوں نے دین کے احکام اور قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد عرض کیا:"اللہ کے رسول! اسلام لانے سے پہلے میں نے جو نیکیاں کی ہیں، کیا ان کا اجر ملے گا؟ ''رسول اللہ ﷺ نے پوچھا:"تم نے کیا عمل کیا؟ "صعصعہ بن ناجیہؓ نے عرض کیا:
"زمانہ جاہلیت میں ایک بار میری دس ماہ کی حاملہ دو اونٹنیاں گم ہوگئیں۔ میں ایک اونٹ پرسوار ہوکر ان کی تلاش میں نکلا کہ کھلے صحرا میں ایک مکان دکھائی دیا جس کے باہر ایک بوڑھا کھڑا تھا۔ میں نے اس سے اپنی اونٹنیوں کا پوچھا تو اس نے کہا کہ وہ ہمیں ملی ہیں اور انہوں نے بچے جن دیے ہیں۔ اس دوران گھر سے کسی عورت کی آواز آئی، ولادت ہوئی ہوگئی۔ بوڑھے نے صدا لگائی: اگر لڑکا ہے تو قوم اس میں حصہ دار ہے، لڑکی ہے تو اسے دفن کر دیں گے۔ عورت نے کہا: لڑکی ہوئی ہے۔ میں نے بوڑھے سے پوچھا: یہ لڑکی کس کی ہے؟ اس نے کہا: میری بیٹی ہے۔ میں نے کہا: میں اسے خریدنا چاہتا ہوں۔ بوڑھے نے کہا: کیا قیمت دوگے؟ میں نے کہا: وہ دونوں اونٹنیاں اوران کے بچے۔ بوڑھے نے کہا: اپنا یہ اونٹ بھی دے دو۔ میں نے کہا: ٹھیک ہے مگر تمہارا ایک آدمی میرے ساتھ جائے،میں گھرپہنچ کر یہ اونٹ اس کے ہاتھ بھیج دوں گا۔ بوڑھا مان گیا۔ میں نے گھر پہنچ کر وہ اونٹ بھی بھیج دیا۔ اسی رات میں سوچنے لگا کہ اس طرح بچوں کی جان بچانا تو ایسی نیکی ہے جو عربوں میں اس سے پہلے کسی نے نہیں کی۔ پس جب اسلام کا ظہور ہوا تب تک میں ۳۶۰ بچیوں کی جانیں بچا چکا تھا۔ ہر ایک کے بدلے میں نے دس ماہ کی حاملہ دو اونٹنیاں اور ایک اونٹ دیا۔ تو کیا اس عمل کا مجھے اجر ملے گا؟"
حضور ﷺ نے فرمایا: "یہ نیکی کا ایک باب ہے جس کا اجر تمہیں ملے گا کیونکہ اللہ تمہیں اسلام سے نواز چکا ہے۔"
عدی بن حاتم کا قبولِ اسلام:
اسی سال حضرت علیؓ عرب کے مشہور سخی حاتم طائی کے قبیلے بنو طے کے علاقے میں جہاد کے لیے گئے۔ یہ لوگ رَکُوسی فرقے کے نصرانی تھے جن کے بعض عقائد صابیوں سے ملتے جلتے تھے۔ یہ "فلس" نامی ایک بت کو پوجتے تھے جسے حضرت علیؓ نے توڑدیا اور مقامی لوگوں میں سے بہت سوں کو قیدی بناکر مدینہ منورہ لے آئے۔ان میں حاتم طائی کی بیٹی "سَفّانہ" بھی تھیں۔ نبی اکرم ﷺ نے انہیں لباس، سواری اور سفرکے اخراجات دے کر بڑی عزت واحترام سے آزاد کردیا۔ وہ واپس اپنے علاقے میں آئیں تو اپنے بھائی عدی بن حاتم سے ملیں جو حضرت علیؓ کے حملے کے وقت فرار ہوگئے تھے۔ جب انہوں نے بہن کی زبانی حضور اکرم ﷺ کے بلند اخلاق کی گواہی سنی تو سیدھے مدینہ منورہ روانہ ہوگئے۔
نبی اکرم ﷺ پر ان کی پہلی نظر اس وقت پڑی جب آپ ﷺ مدینہ کی ایک گلی میں کھڑے کسی بڑھیا کی درخواست سن رہے تھے۔ بڑھیا بہت دیر تک اپنا مدعا بیان کرتی رہی اور حضوراکرم ﷺ سنتے رہے۔عدی بن حاتم نے یہ دیکھ کر دل میں کہا: "یہ شخص محض بادشاہ نہیں۔"
جب حضوراکرم ﷺ کی خدمت میں پہنچے تو شور ہوا:"عدی بن حاتم آگئے۔" آپ ﷺ نے انہیں دیکھ کر فرمایا: "عدی! اسلام لے آؤ، سلامت رہوگے۔"
یہ بولے:"میں تو پہلے ہی ایک دین کا پیروکار ہوں۔"
آپ ﷺ نے فرمایا:"میں تمہارے دین کو تم سے زیادہ جانتا ہوں۔"
یہ حیران ہوکر بولے:"بھلا وہ کیسے؟
فرمایا: "کیا تم رکوسی فرقے کے نہیں؟
"بولے: "جی ہاں!"
آپ ﷺ نے فرمایا: "کیا تم قوم سے چوتھائی مال وصول نہیں کرتے؟
بولے:"جی ہاں!"
آپ ﷺ نے فرمایا: "مگر یہ تمہارے دین میں جائز تو نہیں ہے!"
بولے:"جی ہاں!"
آپ ﷺ نے فرمایا:"عدی! تم کیوں فرار ہوئے تھے، کیا اس لیے کہ 'لا الہ الا اللہ' کہنا پڑجائے؟ تو بتاؤ کیا اللہ کے سوا کوئی اور عبادت کے لائق ہے بھی سہی؟ کیا تم اس لیے بھاگے پھرتے ہو کہ اللہ اکبر نہ کہنا پڑے۔ خود بتاؤ اللہ سے بڑا کون ہے؟"
پھرفرمایا: "عدی! میں جانتا ہوں تم اسلام لانے سے کیوں گریز کررہے ہو، صرف اس لیے کہ اس دین کے پیروکار کمزور لوگ ہیں۔ سنو عدی! تم حیرہ سے واقف ہو؟
"بولے: "نام ہی سنا ہے، دیکھا نہیں۔"
فرمایا: "اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، بات یہاں تک پہنچے گی کہ ایک مسافر عورت حیرہ سے چل کر بیت اللہ کا طواف کرے گی اور اسے کسی کی حفاظت درکار نہیں ہوگی۔"
عدی بن حاتم کے دل پر ایسا اثرہوا کہ فوراً اسلام قبول کرلیا۔ ان کی دعوت سے ان کی قوم بھی مسلمان ہوگئی۔
عبداللہ بن ابی کی موت:
ذی القعدہ ۹ ہجری میں اسلام کا بدترین دشمن اورمنافقین کا سردار عبداللہ بن ابی بیس دن بیمار رہ کر مرگیا۔ اس کی آخری خواہش تھی کہ حضور ﷺ اسے اپنے کرتے میں کفن دیں، اس کی نمازِ جنازہ پڑھائیں اوردعائے مغفرت فرمائیں۔ اس کے بیٹے عبداللہؓ (جو سچے مسلمان تھے) کی بھی یہی درخواست تھی، آپ ﷺ نے بیٹے کی لاج رکھتے ہوئے ایسا ہی کیا۔ مگرجب آپ ﷺ تدفین اور دعائے مغفرت سے فارغ ہوچکے تو اللہ کی طرف سے سورۃ التوبہ کی آیات نازل ہوئیں جن میں ایسے منافقوں کی نمازِ جنازہ پڑھانے اور ان کے لیے دعا کی ممانعت کردی گئی۔
قبائل کی لگاتار آمد:
اب اسلام قبول کرنے والے قبائل کا ایک تانتا بندھ چکا تھا۔ آئے دن کسی نہ کسی قبیلے کا وفد مسجدِ نبوی میں حاضر خدمت ہوتا، اسلام قبول کرتا اور دین کے احکام سیکھتا۔ اس لیے اس سال کو "عام الوفود" کہا جاتا ہے۔
بنواسد، بنو فزارہ، بنومُرہ، بنوکلاب، بنوبکاء، بنوکِنانہ، بنوسُلیم، بنوہلال بن عامر، بنوبکر بن وائل اور اَزد جیسے مشہور قبائل اسلام لائے۔ یمن، عمان اور بحرین سے قافلے آئے۔ یمن کے ملوکِ حِمیَر کا وفد بھی آیا۔ وائل بن حجر، جریر بن عبداللہ، اشعث بن قیس اور تمیم داریؓ جیسے شرفائے عرب نے انہی ایام میں اسلام قبول کیا۔ بنوسعد بن بکر کے سردار ضمام بن ثعلبہ بھی حاضر ہوکر مشرف بہ اسلام ہوئے اور پھراپنی قوم میں جاکر اس جوش وخروش کے ساتھ تبلیغ کی کہ ایک ہی دن میں پورے قبیلے نے کلمہ پڑھ لیا۔

