Islam Aur Jihad: Kya Islam Jabran Phelaya Gaya

کیا اسلام جبراً پھیلایا گیا؟


        مستشرقین اور اسی طرح سیکولرمؤرخین بڑی شدت سے یہ پروپیگنڈا کرتے آ رہے ہیں کہ حضورِ اکرم اوران کے جانثاروں نے لوگوں کو جبراً مسلمان بنایا اور اسلام دلو  کو فتح کرکے نہیں بلکہ تلوار کی زور سے پھیلایا گیا تھا۔



        اس مکروہ پروپیگنڈے کی تردید کے متعلق یہاں مولانا مفتی محمد شفیع صاحب کی مایہ ناز تصنیف "سیرت خاتم الانبیاء " سے وہ اقتباسات نقل کیے جا رہے ہیں۔ حضرت رحمۃ اللہ علیہ وحی سے ہجرت مدینہ تک کے حالات بیان کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں:

        "اس وقت تک جو ہزارہا انسان اسلام کے حلقہ بگوش بن کر ہر قسم کے مصائب کا نشانہ بننے پر راضی ہوئے ظاہر ہے کہ وہ کسی دنیوی طمع یا حکومت کے جبر یا تلوار کے ڈر سے مجبور نہیں ہوسکتے۔

        اس کھلی ہوئی بات کو دیکھتے ہوئے بھی کیا وہ لوگ خدا سے نہ شرمائیں گے جو اسلام کی حقانیت پر پردہ ڈالنے کے لئے کہا کرتے ہیں کہ اسلام زورِ شمشیر پھیلایا گیا، کیا وہ اس کا کوئی جواب دے سکتے ہیں کہ ان تلوار چلانے والوں کے پاس کس نے تلوار پہنچائی تھی جو نہ صرف مسلمان بنے بلکہ اسلام کی حمایت پر خود کو لٹانے اور اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالنے پر راضی ہوگئے؟ کیا وہ بتلا سکتے ہیں کہ ابوبکرصدیق، فاروق اعظم، عثمان غنی، علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہم جیسے لوگوں کو کس نے مسلمان بنایا تھا؟ اور ابوذر اوراُنیس رضی اللہ عنہما اور ان کے قبیلہ کو کس نے مجبور کیا تھا کہ وہ سب کے سب مسلمان ہوگئے؟ مصعب بن عمیر کو کس نے مجبور کیا تھا اور طفیل بن عمرودوسی اور ان کے قبیلہ پر کس نے تلوار چلائی اور قبیلہ بنی عبدالشہل کو کس نے دبایا تھا اور تمام انصار مدینہ پر کس نے زور دیا تھا؟

        انہوں نے فقط اسلام قبول نہیں کیا بلکہ آپ کو اپنے یہاں بلا کر تمام ذمہ داری اپنے سر لے لی اور اپنے جان ومال آپ پر قربان کئے۔ نہ یہ وہ اسلحہ ہی تھا جس کو کس نے مجبورکیا کہ ستر آدمیوں کی جماعت لے کر مدینہ کے راستے میں آپکی خدمت میں حاضرہوئے اور برضا و رغبت مسلمان ہوگئے۔ نجاشی بادشاہ پر کونسی تلوار چلی تھی کہ باوجود اپنی سلطنت وشوکت کے قبل از ہجرت مسلمان ہوگئے۔ ابو ہریرہ اور تمیم اور نعیم وغیرہ وغیرہ پر کس نے زور دیا تھا کہ ملک شام کے سفر کرکے آپ کی خدمت میں پہنچے اور آپ کی غلامی اختیار کرلی، اور اسی قسم کے بصدہا واقعات جن سے کتب تاریخ بھری ہوئی ہیں۔

        یہ ناقابلِ انکار مشاہدات ہیں جن کو دیکھ کر ہرانسان یہ یقین رکھے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اسلام اپنی اشاعت میں تلوار کا محتاج نہیں، اور نہ فرضیت جہاد کا یہ مقصد ہوسکتا ہے کہ لوگوں پر تلوار رکھ کر کہا جائے کہ مسلمان ہوجاؤ یا ان کو کسی جبر واکراہ سے اسلام میں داخل کیا جائے ، جہاد کے ساتھ ہی جزیہ کے احکام اور کفار کو اہل ذمہ بنا کر ان کے جان ومال کی حفاظت بالکل مسلمان کی طرح کرنے کے متعلق اسلامی قواعد خود اس کی شہادت ہیں کہ اسلام نے کبھی کفار کو اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا۔

        اس لئے ایک منصف مزاج انسان کا فرض ہے کہ ٹھنڈے دل سے اس پر غور کرے کہ اسلام میں فرضیت جہاد کس غرض اور کن فوائد کے لئے ہوئی اور اسے اس وقت یہ یقین کرنا پڑے گا کہ جس طرح وہ مذہب کامل نہیں سمجھا جاسکتا، جس نے لوگوں کا گلا گھونٹ کر بجبرواکراہ ان کو اپنے سلسلے میں داخل کیا ہو، اسی طرح وہ مذہب مکمل نہیں جس میں سیاست نہ ہو۔ وہ سیاست نہیں، جس کے ساتھ تلوار نہ ہو۔ وہ ڈاکٹر اپنے فن کا ماہر نہیں ہوسکتا جو صرف مرہم لگانا جانتا ہے مگر سڑے ہوئے فاسد شدہ اعضاء کا آپریشن کرنا نہیں جانتا۔

کوئی عرب کے ساتھ ہو یا ہو عجم کے ساتھ
کچھ بھی نہیں ہے، تیغ نہ ہو جب قلم کے ساتھ

        سمجھو اورخوب سمجھو کہ جب عالم کے جسم میں شرک کے زہریلے جراثیم پیدا ہوگئے اور وہ ایک مریض جسم کی طرح ہوگیا تو رحمت خداوندی نے اس کے لئے ایک مصلح اور مشفق طبیب (آپ ) کو بھیجا جس نے تریپن سال تک متواتر اس کے ہرعضو اور ہررگ وریشہ کی اصلاح کی فکر کی، جس سے قابل اصلاح اعضاء تندرست ہوگئے مگر بعض اعضاء جو بالکل سڑچکے تھے ان کی اصلاح کی کوئی صورت نہ رہی، بلکہ خطرہ ہوگیا کہ ان کی سُمیت تمام بدن میں سرایت کرجائے اس لئے حکیمانہ اصول کے موافق عین رحمت وحکمت کا اقتضاء یہی تھا کہ آپریشن کر کے ان اعضاء کو کاٹ دیا جائے، یہی جہاد کی حقیقت ہے اور یہی تمام جارحانہ اور مدافعانہ غزوات کا مقصد ہے۔

        یہی وجہ ہے کہ عین میدانِ کارزار گرم ہونے کے وقت بھی اسلام نے اپنے مقابل جماعت میں سے صرف انہی لوگوں کے قتل کی اجازت دی ہے جن کا مرض متعدی تھا، یعنی جو اسلام کے مٹانے کے منصوبے گانٹھتے اوربرسرِجنگ آتے تھے۔ اوران کے متعلقین،عورتیں، بچے اور بوڑھے اورمذہبی علماء جو لڑائی میں حصہ نہیں لیتے، اس وقت بھی مسلمانوں کی تلواروں سے مامون تھے، بلکہ وہ لوگ جو کسی دباؤ سے مجبور ہوکر مقابلے پر آئے ہوں وہ بھی مسلمانوں کے ہاتھ سے محفوظ تھے۔‘‘

        حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ اس بارے میں چند روایات پیش کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

        ’’الغرض مدافعانہ اور جارحانہ جہاد کا مقصد صرف مکارمِ اخلاق کی اشاعت اور اسلام کا تحفظ و تبلیغ، اسلام کے راستے میں جو رکاوٹیں ڈالی جاتی تھیں ان کا ہٹانا تھا۔ ان تمام واقعات پر نظر ڈالنے کے بعد جس طرح عام یورپی مورخین اور مارگولیس وغیرہ کا یہ خیال بالکل غلط اور افتراء رہ جاتا ہے کہ اسلامی جہاد کا مقصد لوگوں کو بجبر مسلمان کرنا اور لوٹ مار کرکے اپنا معاش مہیا کرنا تھا۔ اسی طرح اسلامی روایات اور تعاملِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جمع کرنے کے بعد اس میں بھی شک نہیں رہتا کہ اسلام میں جس طرح بغرض تحفظِ مدافعانہ جہاد کو فرض کیا گیا ہے، اسی طرح حفظِ ماتقدم اور موانعِ تبلیغ کو راستے سے ہٹانے کے لئے جارحانہ جہاد بھی قیامت تک کے لئے ضروری کیا گیا ہے اور جس طرح مدافعانہ جہاد کی غرض لوگوں کو بجبر مسلمان بنانا نہیں ہے اس طرح جارحانہ جہاد کا مقصد بھی کسی طرح یہ نہیں ہوسکتا۔ خصوصًا جب کہ اسلام کا وسیع دامن عین وقتِ جہاد میں بھی کفار کو اپنی پناہ میں لینے اور کفر پر قائم رہتے ہوئے ان کی جان و مال عزت و آبرو کی اسی طرح حفاظت کی جاتی ہے جس میں مدافعانہ انداز اور جارحانہ جہاد دونوں برابر ہیں، نیز دنیا میں حقیقی امن وامان قائم کرنا، ضعیفوں کو ظلم سے چھڑانا وغیرہ جو جہاد کے مقاصد ہیں ان میں بھی دونوں قسمیں یکساں ہیں۔ اس لئے کوئی وجہ نہیں ہے کہ اسلامی روایات کو مسخ کرکے جارحانہ جہاد کا انکار کیا جائے جیسا کہ ہمارے بعض آزاد خیال مورخین نے کہا ہے۔‘‘

کم سے کم جانی نقصان - زیادہ سے زیادہ فائدہ:

        سیرتِ طیبہ کے غزوات اور سرایا کو خونریزی اور نسل کشی سے تعبیر کرنے والوں کو اس حقیقت پر بھی غورکرنا چاہیے کہ حضور کے دور کی تمام لڑائیوں میں جانی نقصانات کا تخمینہ کیا تھا اور اس کے ثمرات کیا تھے؟

        محققین کے مطابق ان تمام جنگوں میں ۲۵۹ مسلمان شہید اور مخالفین کے ۷۵۹ افراد قتل ہوئے۔ یوں فریقین کے مقتولین کی مجموعی تعداد صرف ’’۱۰۱۸‘‘ بنتی ہے۔ اب ایک نظر جزیرۃ العرب کی وسعتوں کو دیکھیے اور دوسری طرف عرب قبیلوں کی جنگجوئی اور سخت مزاجی پر غور کیجیے تو ہرگز باور نہیں کیا جاسکتا کہ اتنا معمولی جانی نقصان اتنے وسیع رقبے پر آباد سینکڑوں بت پرست قبیلوں کو اپنا آبائی مذہب چھوڑنے پر آمادہ کرسکتا تھا؟

        اس کے ساتھ اگر اس ایمانی و اخلاقی انقلاب کا تصور کیا جائے جس نے چند سالوں کی اس کشمکش کے بعد عرب کے بکھرے ہوئے قبائل کو متحد کردیا اورایک جہالت زدہ معاشرے کو دنیا کی قیادت و سیادت کے مقام پر لا کھڑا کیا، تو اس عظیم الشان فائدے کے مقابلے میں بھلا ایک ہزار نفوس کے ضیاع کی کوئی حیثیت رہ جاتی ہے؟ 

        تاریخ اورحالاتِ حاضرہ سے آگاہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اکثر جنگوں میں ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ مارے جاتے ہیں، پھر ستم یہ کہ مقتولین میں سپاہیوں یا عام شہریوں کی بھی کوئی تفریق نہیں ہوتی۔ ان جنگوں کا دنیا کی تاریخ پر کوئی مثبت اثر مرتب نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود ان جنگی نقصانات کو دنیا کے انقلابات کا ایک لازمی حصہ سمجھ کر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔

        یورپ اورامریکہ میں جمہوریت کی خاطر جو کشت و خوں ہوا، وہ کسی سے مخفی نہیں۔ پھر پہلی اور دوسری عالمی جنگوں میں بلا مبالغہ کروڑوں انسان، چند خود غرض سیاست دانوں کی ہوسِ ملک گیری کی بھینٹ چڑھ گئے۔ اس قدر نقصانات کے باوجود دنیا میں کوئی صالح انقلاب نہیں آیا بلکہ سرمایہ داروں کی عالمگیریت مستحکم ہوئی اور غریب اقوام کا استحصال کئی گنا بڑھ گیا۔ اہلِ مغرب اپنے اس ماضی کے ساتھ کس منہ سے سیرتِ طیبہ پر انگشت نمائی کی جرات کرتے ہیں!! 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic