غزوہٴ تبوک(۹ ہجری)
فتحِ مکہ کی مہم کے باعث مکہ اور اس کے مضافات مسخر ہوگئے تھے، پورا جزیرۃ العرب اسلام کے زیرِ سایہ آچکا تھا۔ صدیوں سے بکھرے ہوئے صحرائی قبائل اور شتربانوں کے گروہ اب ایک عظیم مقصد کے لیے ایک جھنڈے تلے جمع تھے۔
مشرق میں فارس کی حکومت اندرونی طور پر زبردست ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے کی وجہ سے اس وقت جزیرۃ العرب پر توجہ دینے کے قابل نہیں تھی مگر بازنطینی رومی مؤتہ کی جنگ کے بعد سے چوکنا تھے اور جزیرۃ العرب پر حملے کی پیش بندیاں کررہے تھے۔ شام کی سرحدوں پر آباد نصرانی عرب بھی انہیں پیغامات بھیج رہے تھے کہ مسلمانوں سے جلد از جلد نمٹ لیاجائے۔ قیصرِ روم نے یہ مہم شام میں اپنے ماتحت غسانی نصرانیوں کے سپرد کردی جو عرب ہونے کے ناتے صحرائی نشیب و فراز سے اچھی طرح واقف تھے۔ لخم و جُذام کے قبائل بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئے۔ سن ۹ ہجری کے وسط میں ان کی تیاری مکمل ہوگئیں اور چالیس ہزار سپاہیوں پر مشتمل رومیوں کی ہراول فوج پیش قدمی کرکے"بلقاء" تک پہنچ گئی۔
نبطیوں کے ذریعے جو شام سے زیتون کا تیل لا کر حجاز میں فروخت کرتے تھے، حضورﷺ کو یہ خبریں مل رہی تھیں اور آپ ﷺ اس بارے میں سخت متفکرتھے۔ مدینہ کے لوگ بھی سخت تشویش کا شکار تھے۔ انہیں ہرآن غسانیوں کے حملے کا دھڑکا لگا رہتا تھا۔
یہ سوال اپنی جگہ برقرارتھا کہ اتنے بڑے دشمن سے جنگ کیسے لڑیجائےگی؟ اگر دشمن کی آمد کا انتظار کیاجاتا تو یقینی بات تھی کہ جنگ سے پہلے ہی مدینہ کے شمال کے تمام علاقے دشمن کے قبضے میں آجاتے۔ پھراگرغزوہ خندق کی طرح مورچہ بندی کرکے جنگ کی بھی جاتی تب بھی یہ خطرہ بدستور تھا کہ حجاز میں داخل ہونے کے بعد دشمن چاروں طرف دور دور تک پھیل جاتا اور مدینہ پورے جزیرۃ العرب سے کٹ کر رہ جاتا۔
رسول اللہ ﷺ نے خاصی سوچ بچار اور مشورے کے بعد فیصلہ فرمایا کہ مسلمان خود شام کی سرحدوں کی طرف پیش قدمی کریں گے تاکہ دشمن پر نفسیاتی رعب طاری ہوجائے اور میدانِ جنگ اپنا علاقہ نہ بنے۔ اس حکم پر لبیک کہنا آسان نہ تھا۔ ایک توانتہائی گرمی کے دن تھے، دوسرے کھجوروں کے پکنے کا زمانہ تھا۔ مدینہ میں اکثر صحابہ کی معاش اسی باغبانی پر منحصر تھی، ایسے وقت میں باغوں کو چھوڑ کرجانا گویا فصل کو ضائع کرنے اور پورے سال کی آمدنی سے محروم ہونے کے مترادف تھا۔ ان سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک مدت سے قحط سالی چلی آرہی تھی اوراہلِ مدینہ کی مالی حالت خاصی کمزور تھی۔ اس کے باوجود روانگی کا فیصلہ اٹل تھا۔ مکہ سمیت عرب کے تمام قبائل کوحکم بھیج دیا گیا کہ وہ اپنی نفری روانہ کریں۔
حضور ﷺ اکثر لشکر کشی کا رخ ظاہر نہیں فرماتے تھے مگر اس بار سفر کی طوالت اور راستے کی دشواریوں کے پیشِ نظر آپ ﷺ نے واضح کردیا کہ شام کی طرف کوچ کرنا ہے۔ اس اظہار میں غالباً یہ حکمت تھی کہ اس طرح مدینہ میں موجود دشمن کے جاسوسوں کے ذریعے یہ خبر شام والوں تک پہنچ سکتی تھی جس سے وہ ہراساں ہوسکتے تھے۔
حضور ﷺ نے مسجدِ نبوی میں صحابہ کرام کو جمع کرکے انہیں جہاد کے لیے صدقہ و خیرات کرنے کی ترغیب دی۔ شمعِ رسالت کے پروانوں نے بڑھ چڑھ کر چندہ دیا۔ حضرت عاصم بن عدیؓ نے ۹۰ وسق کھجوروں کا ذخیرہ نذرکیا۔ حضرت عثمان بن عفانؓ نے سازوسامان سمیت تین سو اونٹ اور ایک ہزار اشرفیاں پیش کیں۔ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے سو اوقیہ چاندی اور حضرت عمر فاروقؓ نے دوسو اوقیہ چاندی کے علاوہ گھر کا آدھا سامان حاضر کردیا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے تو کمال ہی کردیا، گھر میں جو کچھ تھا سب ہی اللہ کے نام پر نثار کرڈالا۔ غریب، مسکین بھی پیچھے نہ رہے اور اپنی حیثیت کے مطابق صدقہ و خیرات کر گزرے۔
یہ سفر سواریوں کے بغیر طے کرنا بہت مشکل تھا، اس لیے لشکر کی تنظیم میں خیال رکھا گیا کہ ہرشخص کو سواری میسر آ جائے۔ چونکہ صحابہ کی بہت بڑی تعداد ساتھ چلنے پر تیار تھی، اس لیے سواریاں کم پڑگئیں۔ ایک ایک اونٹ پر باری باری دو دو، تین تین آدمیوں کی ترتیب بنائی گئی پھر بھی کچھ افراد کے لیے کوئی انتظام نہ ہوسکا اور وہ روتے ہوئے درِرسالت سے لوٹ گئے۔ البتہ منافقین کی حالت مختلف تھی۔ وہ خود بھی اس شدت کی گرمی میں سفر کرنے سے جی چرا رہے تھے اور دوسروں کو بھی روک رہے تھے۔
نبی اکرم ﷺ نے حضرت علیؓ کو مدینہ منورہ میں اپنا نائب بنایا تو منافقین باتیں بنانے لگے کہ حضور ﷺ ناراضی کی وجہ سے انہیں ساتھ نہیں لےجارہے۔ حضرت علیؓ نے یہ باتیں حضور ﷺ تک پہنچائیں اور عرض کیا: "آپ مجھے عورتوں اور بچوں کے ساتھ چھوڑے جارہے ہیں؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہو جو ہارونؑ کو موسیٰؑ سے تھی، مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا؟" حضرت علیؓ یہ سن کر مطمئن ہوگئے۔
اسلامی فوج تبوک کی طرف گامزن
جمعرات ۳ رجب ۹ھ کو حضور اکرم ﷺ تیس ہزار افراد کے ہمراہ مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے۔مدینہ منورہ اوراس کے مضافات مردوں سے تقریباً خالی ہوگئےتھے۔ صرف خواتین اور بچے پیچھے رہ گئے تھے۔ ان کے علاوہ کچھ وہ لوگ تھے جنہیں کوئی سخت عذر تھا اور وہ چاہنے کے باوجود آپ ﷺ کے ساتھ نہیں جاسکے تھے، البتہ منافقین پوری ڈھٹائی کے ساتھ اس موقع پر بھی ٹس سے مس نہ ہوئے اور گھروں میں دبکے رہے۔
حضرت ابوذر غفاریؓ سواری نہ ہونے کی وجہ سے روانہ نہیں ہوسکے تھے مگربعد میں جذبہ جہاد اتنا غالب آیا کہ سامانِ سفر کاندھے پر لاد کر پیدل ہی چل پڑے اورلشکرِاسلام سے جا ملے۔ حضرت ابوخیثمہ انصاریؓ اپنی باغ بانی میں مشغول ہوکر پیچھے رہ گئے تھے۔ ایک دن باغ میں اپنی بیویوں کے ساتھ بیٹھے تھے کہ اچانک خیال آگیا کہ حضور ﷺ اس وقت کتنی دشواری اورتکلیف برداشت کرکے جہاد کے سفرپرنکلے ہوئے ہیں اور میں یہاں آرام سے ٹھنڈی چھاؤں میں ہوں، ضمیر نے ایسا جھنجھوڑا کہ اس وقت لشکر کے پیچھے روانہ ہوگئے۔ عمیر بن وہبؓ بھی کئی دن کی تاخیر سے روانہ ہوئے، ابو خیثمہؓ سے ملے اور وہ ساتھ مل گئے اور راستہ طے کرتے چلے گئے۔
صرف دس افراد ایسے تھے جو کسی عذرکے بغیر پیچھے رہ گئے اوربعد میں بھی پا بہ رکاب نہ ہوسکے۔ان میں ابولُبابہ بن عبدالمُنذر، مُرارہ بن ربیع، ہلال بن اُمیہ اور کعب بن مالکؓ کے نام نمایاں ہیں۔
قومِ ثمود کے کھنڈرات سے گزرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی خشیت
اس کٹھن سفر میں بھی نبئ اکرم ﷺ کا گزر وادیِ حجر سے ہوا جہاں قومِ ثمود کے کھنڈرات تھے۔ ہزاروں برس پہلے یہاں حضرت صالح علیہ السلام نے توحید کی صدا بلند کی تھی اور قوم ان کی دعوت کا انکار کرکے عذابِ خداوندی کی حق دار بنی تھی۔ اللہ کی طرف سے مسلط کردہ زلزلے اور کڑک نے ان کا نام و نشان مٹا دیا، ہاں پہاڑوں میں تراشے ہوئے ان کے مکانات اور کھنڈرات زبانِ حال سے ان کی داستانِ عبرت سنا رہے تھے۔ حضور اکرم ﷺ کو خدشہ ہوا کہ کہیں مسلمان اس تباہ شدہ قوم کی عمارتوں کا جائزہ لینے نہ رک جائیں اور اسے تفریح اور تماشا بناکر اصل تاثر یعنی عبرت اور خوفِ خداوندی کو فراموش نہ کردیں اوراس بے حسی کی پاداش میں خود بھی اللہ کے عذاب کے حق دار نہ بن جائیں، اس لئے حضور ﷺ نے یہاں سے گزرتے ہوئے اپنے چہرہ مبارک کو کپڑے سے ڈھانپ لیا تاکہ کھنڈروں کے بھیانک منظر پر نگاہ بھی نہ پڑنے پائے۔ آپ ﷺ نے سواری کی رفتار بھی بڑھا دی اور ساتھ ہی صحابہ کرام کو تاکید کی:
"ان ظالم لوگوں کی آبادی سے گزرتے ہوئے، تمہیں اس ڈر سے رونا چاہیے کہ کہیں وہی عذاب تم پر نازل نہ ہو جائے۔"
قومِ ثمود کے کنویں سے گزر ہوا تو مسلمان وہاں سے پانی بھرنے لگے۔
حضور اکرم ﷺ کو علم ہوا تو فرمایا:
"اس پانی کو مت پینا، نہ ہی اس سے وضو کرنا۔"
حساس اور لطیف مزاج انسان کو عذاب زدہ مقامات پر ہزاروں سال بعد بھی ایک وحشت برستی محسوس ہوتی ہے۔ حضور ﷺ سے بڑھ کر ایسے اثرات کا احساس کس کو ہوسکتا تھا، اس لیے آپ نے اس پانی کواستعمال کرنا بھی مناسب نہ سمجھا کہ کہیں عذاب کی نحوست اس میں بھی سرایت نہ کرگئی ہو۔
تبوک میں قیام اور گرد و نواح کے علاقوں پر قبضہ
آخر کار یہ سفر مکمل ہوا اور مسلمان شام کی سرحدوں پر تبوک نامی چشمے تک پہنچ گئے۔حضور ﷺ نے اس چشمے کا پانی استعمال کرنے سے پہلے ہی منع کردیا تھا مگر دو افراد نے خیال نہ کیا اور پہلے پہنچ کرحکم کی خلاف ورزی کردی۔ جب اسلامی لشکر وہاں پہنچا تو چشمے میں برائے نام پانی تھا۔ حضور ﷺ نے خلاف ورزی کرنے والے دونوں مجاہدین کو سرزنش کی اور اس کے بعد اس پانی میں چہرہ اطہراور دستِ مبارک دھوئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے چشمے میں پانی ٹھاٹھیں مارنے لگا۔
اگرچہ یہاں اردگرد عرب نصرانی قبائل آباد تھے مگرمطلع بالکل صاف تھا۔ رومی لشکر کا دور دور تک کوئی پتا نہیں تھا، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ نبی اکرم ﷺ کی بنفسِ نفیس لشکرکشی نے ان پر رعب طاری کردیا ہے اور وہ مدینہ پر چڑھائی کا ارادہ ترک کرچکے ہیں۔ حضور ﷺ نے تبوک کے سرحدی مقام پر پورے بیس دن قیام فرمایا۔ اس دوران قیصر کی طرف سے کسی قسم کی جوابی کارروائی یا عسکری نقل وحرکت کی کوئی سن گن نہ ملی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے رومی مسلمانوں سے مرعوب ہوکر حملے کے خیال سے باز آگئے ہوں۔ اس صورت حال سے خود عرب نصرانی سرداروں کا رومی بادشاہت پر اعتماد ختم ہوگیا اور ان میں سے سب سے پہلے "اَیلہ" کے حاکم "یوحنّا" نے حاضر ہوکر ریاستِ مدینہ کی تابع داری قبول کی۔ پھر "جَرباء" اور "اَذرُح" کے عمائد نے بھی آ کر سرتسلیم خم کردیا۔ ان سب نے جزیہ دینے کی حامی بھرلی۔
یہاں سے حضورﷺ نے اپنے نامور شہسوارحضرت خالد بن ولیدؓ کو دومۃ الجندل کے نصرانی حاکم اُکَیدِر بن مالک کی گوشمالی کے لیے روانہ کیا؛کیونکہ دومۃ الجندل میں ایک مدت سے مسلمانوں کے قافلوں سے چھیڑ چھاڑ کی جارہی تھی۔حضرت خالد بن ولیدؓ نے اکیدرکو ایک چھاپہ مار کارروائی میں عین اس وقت گرفتار کرلیا جب وہ جنگل میں شکار کھیل رہا تھا۔آخر اکیدر نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر اطاعت کا عہد کیا۔
جزیے کی مشروعیت
اسی محاذ پر جزیہ شروع ہوا اور یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی:
"اور وہ اہلِ کتاب جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ یومِ آخرت پر اور جو اللہ اور اس کے رسول کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حرام نہیں سمجھتے، اور نہ دینِ حق کو اپنا دین مانتے ہیں ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ وہ خوار ہوکر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں۔"
حضرت عمرؓ کی طرف سے واپسی کا مشورہ
تبوک میں قیام کو خاصے دن گزرچکے تو نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام سے آگے پیش قدمی کے بارے میں مشورہ طلب کیا۔ حضرت عمر فاروقؓ نے عرض کیا: "اللہ کے رسول! رومیوں کی افواج بہت زیادہ ہیں۔ ہم ان کے قریب آکر انہیں خوفزدہ کرچکے ہیں۔ اس سال اتنا ہی کافی ہے کہ ہم انہیں مرعوب کرکے لوٹ جائیں۔ پھر آئندہ جو ہوگا دیکھ لیں گے۔ اللہ تعالیٰ راستے کھول دے گا۔"یہ رائے احتیاط اورحکمت پر مبنی تھی، حضور ﷺ نے اسے پسند فرمایا۔
قیصر کے سفیر کو دعوتِ اسلام
اس سے قبل آپ نے ہرقل کو تبوک سے ایک مراسلہ بھی بھیجا تھا۔ کچھ دنوں بعد ہرقل کی طرف سے عرب قبیلے تنوخ کا ایک شخص اس کا جواب لے کر حاضر ہوا۔ آپ نے مکتوب پڑھا جو مودبانہ اور ملاطفت آمیز باتوں پر مشتمل تھا۔
حضور ﷺ نے سفیر سے پوچھا:"کس قوم کے ہو؟"
سفیر نے جواب دیا:"بنو تنوخ کا۔"
آپ ﷺ نے اسے اسلام کی دعوت دیتے ہوئے کہا:"تمہیں ابراہیمؑ کے دین میں دلچسپی ہے؟"
اس نے عذر پیش کرتے ہوئے کہا:"میں ایک قوم کا ایلچی اور ایک مذہب کا پیروکار ہوں۔ اپنی قوم کے پاس واپس جائے بغیرکوئی فیصلہ نہیں کرسکتا۔"
حضور ﷺ ہنس دیے اور آیت تلاوت فرمائی:
اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَاءُ
(بے شک آپ جسے پسند کریں اسے ہدایت نہیں دے سکتے مگر اللہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے۔)
پھر فرمایا:"تم سفیر ہو۔ سفیر کا حق بنتا ہے۔ مگر ہم سفر میں ہیں۔ کچھ میسر ہوتا تو تمہیں انعام و اکرام سے نوازتے۔"حضرت عثمانؓ نے سنا تو فوراً ایک عمدہ پوشاک لادی۔ سفیر درِبارِ رسالت سے یہ خلعت لے کر رخصت ہوا۔
غزوہٴ تبوک سے واپسی اور مسجدِ ضرار کا انہدام
آخراسلامی لشکر شام کی سرحدوں پر اپنے پرچم گاڑ کر واپس ہوم۔اگرچہ منافقین کی اکثریت اس جہاد میں شامل نہ تھی مگر کچھ منافق شرانگیزیوں کے لیے ساتھ چل پڑے تھے، تاہم ان کے ہاتھ کچھ نہ آیا اور پھر سورۃ التوبہ کی آیات نے ان کی رسوائی میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اس سورہ کی متعدد آیات میں ان کی مکاریوں، سازشوں اور شرانگیزیوں کو کھول کھول کر بیان کردیا گیا۔ انہی دنوں منافقین نے مدینہ منورہ کے مضافات میں ایک مسجد تعمیر کی تھی جو دراصل مسلمانوں میں پھوٹ ڈلوانے اور ان کی جڑیں کاٹنے کے لیے ایک مرکز کی حیثیت رکھتی تھی۔
منافقین نے اس مرکز کو "سرکاری" حیثیت دینے کے لیے حضور ﷺ سے درخواست کی کہ آپ یہاں تشریف لا کر نماز ادا فرمائیں۔ آپ ﷺ نے وعدہ فرمالیا تھا کہ تبوک سے واپسی پر آکر وہاں نماز پڑھیں گے مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافقین کے عزائم اور اس نام نہاد مسجد کی حقیقت سے آگاہ کر دیا۔ وحی نازل ہوئی:
"اور کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے ایک مسجد (جیسی شکل) اس کام کے لیے بنائی ہے کہ (مسلمانوں کو) نقصان پہنچائیں، کافرانہ باتیں کریں، مسلمانوں میں پھوٹ ڈالیں اور اس شخص کو ایک اڈہ فراہم کریں جس نے اللہ اور اس کے رسول سےجنگ کی ہے اور یہ قسمیں ضرور کھائیں گے کہ بھلائی کے سوا ہماری کوئی اورنیت نہیں۔ لیکن اللہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ وہ قطعی جھوٹے ہیں۔(اے پیغمبر!) تم اس (نام نہاد مسجد) میں کبھی (نماز کے لیے) کھڑے مت ہونا۔"
یوں اللہ نے اس مسجد کو "مسجدِ ضرار" قرار دے کر اس کی حقیقت کھول دی۔ چنانچہ حضور ﷺ نے تبوک سے واپسی پر صحابہ کو بھیج کر اس نام نہاد مسجد کو نذرِآتش کرا دیا۔
مدینہ تشریف آوری - اُمّ کلثومؓ بنتِ رسول اللہ ﷺ کی وفات:
ماہِ رمضان میں حضور ﷺ تبوک سے مدینہ منورہ واپس تشریف لائے۔ ادھر آپ کی صاحبزادی اُمّ کلثومؓ کا انتقال ہوگیا تھا۔ اسماء بنتِ عمیسؓ اور اُمّ عطیہؓ نے حضور ﷺ کی پھوپھی صفیہؓ کے ساتھ مل کر غسل دیا۔ قبر کی کھدائی کے وقت بھی نبئ اکرم ﷺ نم آنکھوں کے ساتھ کنارے پر تشریف فرماتھے۔ آپ نے اپنے پیارے داماد(حضرت عثمانؓ) کی تنہائی کا دکھ بھی بخوبی محسوس کیا اور فرمایا: "میری تیسری بیٹی ہوتی تو وہ بھی عثمان کے نکاح میں دے دیتا۔"
چند مخلص صحابہ کی آزمائش حضرت ابولبابہؓ کی توبہ
غزوہٴ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے منافقوں نے حضور ﷺ کے سامنے غیرحاضری کے جھوٹے بہانے پیش کرکے اپنی عزت بچانے کی کوشش کی۔ البتہ ان حضرات نے جو کسی معقول عذر کے بغیر شرکت سے رہ گئے تھے،غلط بیانی نہ کی اور اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا۔ یہ دس افراد تھے۔ ان میں سے سات نے خود کو مسجدِ نبوی کے ان ستونوں سے باندھ لیا جہاں سے نبی اکرم ﷺ گزر کر محراب میں تشریف لاتے تھے۔ ان میں ابولبابہ بن عبدالمنذر انصاریؓ بھی شامل تھے۔ انہوں نے خود کو ستونوں سے باندھ کر قسم کھائی کہ اس وقت تک بندھے رہیں گے جب تک اللہ کی طرف سے توبہ قبول نہیں ہوجاتی۔
ساتویں دن ابولبابہؓ بے ہوش ہوگئے۔ ادھر اللہ کی طرف سے مغفرت کی بشارت آگئی۔ جب ابولبابہؓ کو یہ خوشخبری دی گئی تو وہ کہنے لگے:"اس وقت تک خود کو نہیں کھولوں گا جب تک رسول اللہ ﷺ خود نہ کھول دیں۔"آخر رسول اللہ ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے انہیں کھولا۔ ابولبابہؓ نے اس گناہ کے کفارے کے لیے اپنا سارا مال صدقہ کرنے کا عزم کیا، ان کے باقی چھ ساتھیوں نے بھی یہی ارادہ ظاہرکیا۔ تاہم رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "ایک تہائی کافی ہے۔"
کعب بن مالکؓ اور ان کے ساتھیوں کی توبہ:
غزوہٴ تبوک سے رہ جانے والے باقی تین افراد: کعب بن مالک، مُرارۃ بن ربیع، اور ہلال بن امیہؓ تھے جن کی آزمائش بہت طویل ہوئی۔ حضور ﷺ نے اللہ کے حکم کے تحت مسلمانوں کو ان سے سلام وکلام کرنے سے روک دیا، ان کے معاشرتی مقاطعے (Boycott) کا سلسلہ پچاس دن تک جاری رہا۔ ان تینوں حضرات میں سے مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہؓ تو رنج وغم اورگریہ و زاری کے سبب گھروں میں بند ہوکر رہ گئے جبکہ کعب بن مالکؓ جو نہایت مضبوط دل وارادے کے آدمی تھے، مسجدِ نبوی اور بازاروں میں آتے جاتے رہتے تھے، تاہم کوئی مسلمان ان سے سلام وکلام نہیں کرتا تھا۔ انہی دنوں بنو غسان کے نصرانی گورنر نے ایک نبطی تاجر کےذریعے انہیں یہ مکتوب بھیجا:
"مجھے معلوم ہوا ہے کہ تمہارے آقا نے تمہارے ساتھ براسلوک کیا ہے۔ اللہ تمہیں ذلت کی جگہ نہ رکھے۔تم ہمارے پاس آجاؤ، ہم تمہارا اعزازواکرام کریں گے۔"
کعب بن مالکؓ نے غیرتِ ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس مراسلے کو یہ کہہ کر تنور میں جھونک دیا:"یہ بھی ایک آزمائش ہے۔" یہ تینوں حضرات مسلسل توبہ و استغفار میں مشغول رہے۔ ان کی حالت پرصحابہ بھی غم زدہ تھے اور خود حضور ﷺ کو بھی اس کا بے حد رنج تھا۔ آخر پچاس دن مکمل ہونے پر نمازِ فجر کے بعد وحی نازل ہوئی:
وَّ عَلَی الثَّلٰثَةِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْاؕ حَتّٰۤی اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْهِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَ ضَاقَتْ عَلَیْهِمْ اَنْفُسُهُمْ وَ ظَنُّوْۤا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰهِ اِلَّاۤ اِلَیْهِؕ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ لِیَتُوْبُوْاؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔
''(اور ان تینوں پر بھی (اللہ نے رحمت کی نظر فرمائی ہے) جن کا فیصلہ ملتوی کردیا گیا تھا،یہاں تک کہ جب ان پر یہ زمین اپنی ساری وسعتوں کے باوجود تنگ ہوگئی،ان کی زندگیاں ان پر دوبھر ہوگئیں اورانہوں نے سمجھ لیا کہ اللہ (کی پکڑ سے) خود اسی کی پناہ میں آئے بغیر کہیں اور پناہ نہیں مل سکتی، تو پھر اللہ نے ان پر رحم فرمایا تاکہ وہ (آئندہ اللہ ہی کی طرف) رجوع کیاکریں، یقین جانو! اللہ بہت معاف کرنے والا بڑا مہربان ہے۔)
اس آیت میں ان تینوں حضرات کی توبہ قبول ہونے کی بشارت دے دی گئی۔ حضور ﷺ اور تمام صحابہ اس دن بے حد مسرور ہوئے۔ مسجدِ نبوی میں مسرت کی ایک لہر دوڑگئی۔ صحابہ کرامؓ دوڑ دوڑ کر ان تینوں کو مبارک باد دینے لگے۔ خود حضور انور ﷺ کا چہرہ مبارک خوشی سے چاند کی طرح تمتما رہا تھا۔ حضرت کعب بن مالکؓ رسول اللہ ﷺ کے قدموں میں بیٹھ گئے اورعرض کیا:"یا رسول اللہ! توبہ کی قبولیت آپ کی طرف سے ہے یا اللہ کی طرف سے؟"حضور ﷺ نے فرمایا: "اللہ کی طرف سے۔
حضرت کعب بن مالکؓ نے اجازت چاہی کہ اس کوتاہی کے کفارے میں اپنا تمام مال خیرات کردیں مگررسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"کچھ مال رکھ لو،تمہارے لیے بہترہوگا حضرت کعب بن مالکؓ نے عرض کیا:"مجھے اللہ نے سچ بولنے ہی کی وجہ سے نجات دی ہے۔میں اپنی توبہ کی قبولیت کے شکرانے میں عہد کرتا ہوں کہ کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا۔"پھرانہوں نے زندگی بھر اپنے عہد کو بخوبی نبھایا۔

