Pay se shuru hone wale urdu ashaar ka majmua | Best Urdu Poetry starting with letter P

 

پ سے شروع ہونے والے اشعار کا مجموعہ


پیراہنِ کبر چاک ہو جاتا ہے
نفسِ سرکش ہلاک ہوجاتا ہے
مسلم کے لئے عجیب نعمت ہے نماز
سر خاک میں رکھ کے پاک ہو جاتا ہے
(امجد حیدر آبادی)


پہلے یہ طے کرو کہ وفادار کون ہے؟
پھر وقت خود بتائے گا غدار کون ہے؟
(ماجد دیوبندی)




پھر سر بھری ہواؤں نے گل کردیئے چراغ
ایسی ہوا چلا جو چراغوں کا ساتھ دے
(نواز دیوبندی)


پڑے ہوئے تھے ہزار پردے، کلیم دیکھو تو جب بھی غش تھے
ہم اس آنکھوں کے صدقے، جس نے وہ جلوہ بے حجاب دیکھا
(داغ دہلوی)


پوچھا نہ جائے گا جو وطن سے نکل گیا
بے کار ہے وہ دانت جو دہن سے نکل گیا
(امیر مینائی)


پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر
(علامہ اقبال)


پہلے حسنِ عمل، حسنِ یقیں پیدا کر
پھر اسی خاک سے فردوسِ بریں پیدا کر
(جگر مراد آبادی)


پاؤں سوچ کر رکھئے زندگی کے رستے میں
غم خموش ہیں ہر خوشی کے رستے میں
خار تو معاون ہیں زندگی میں پھولوں کی
آدمی رکاوٹ ہے آدمی کے رستے میں
(نواز دیوبندی)


پرواز ہے اور ذوقِ تمنائے روشنی
کیڑا ذرا سا اور تمنائے روشنی
(علامہ اقبال)


پتھروں کے شہر میں آ کر جو ہم رہنے لگے
اس لئے کچھ لوگ ہم کو سنگ دل کہنے لگے
(افضل منگلوری)


پھر نہ کرنا شکوہِ تشنہ لبی کا
آج میخانے کا میخانہ اٹھا لایا ہوں
پوشیدہ ہے کافر کی نظر سے ملک الموت
لیکن نہیں پوشیدہ مسلماں کی نظر سے
(علامہ اقبال)


پتھروں سے جسے بچایا تھا، اب وہی آئینہ مخالف ہے
منزلیں تو منتظر ہیں میری، کیا کروں رہنما مخالف ہے
(نواز دیوبندی)


پاک رکھ اپنی زباں تلمیذِ رحمانی ہے تو
ہو نہ جائے دیکھنا تیری صدا بے آبرو
(علامہ اقبال)


پھولوں سے محبت ہے تقاضائے محبت
کانٹوں سے الجھنا تو نہیں کام ہمارا
(کلیم عاجز)


پاہی لے گا منزل کو قافلہ ارادوں کا
حوصلے ہی کرتے ہیں رہبری مسافر کی
(نواز دیوبندی)


پینے کو تو سب پیتے ہیں جگر، میخانۂ فطرت میں لیکن
محرومِ نگاہِ ساقی ہے وہ رند جو درد آشام نہیں
(جگر مراد آبادی)


پتھر ابالتی رہی ایک ماں تمام رات
بچے فریب کھا کے چٹائی پہ سوگئے
(شکیل شفائی)


پتھر کی طرح تری ہراک بات لگے ہے
دل توڑ کے ناصح تجھے کیا بات لگے ہے
(کلیم عاجز)


پھولوں کو نازِ حسن اگر ہے تو ہو جگر
کانٹے بھی ہیں غرورِ گلستاں لئے ہوئے
(جگر مراد آبادی)


پروانے کو چراغ ہے بلبل کو پھول بس
صدیقؓ کے لئے ہے خدا کا رسولؐ بس
(علامہ اقبال)

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic