Wafat-e-Siddique-e-Akbar aur Hazrat Umar ki Khilafat: Hazrat Abu Bakr ki Seerat o Kirdar

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رحلت

        مگر اس سے پہلے کہ یرموک کا میدان دو قوموں کے درمیان ایک شدید جنگ کا نظارہ دیکھتا، مدینہ منورہ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا۔انہوں نے ۶۳ سال عمر پائی تھی۔ وہ کئی دنوں سے بیمار چلے آ رہے تھے۔ ایک سال پہلے وہ اور عرب کا مشہور طبیب حارث بن کَلَدَہ کھانا نوش کرنے ساتھ بیٹھے تھے، دستر خوان پر چاول تھے، حارث نے لقمہ نگلتے ہی کہا تھا: "خلیفہ رسول! کھانے سے ہاتھ کھینچ لیں، اس میں خاص قسم کا زہر ملا ہے، جس کا اثر ٹھیک ایک سال بعد ظاہر ہوتا ہے۔"


        تاریخ اس کی وضاحت نہیں کر پاتی کہ زہر کھلانے کی سازش کرنے والا کون تھا۔ علامہ ابن اثیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اس کھانے میں یہودیوں نے زہر ملادیا تھا۔" مگر یہ  پتا نہیں چلتا کہ یہودیوں نے کب اور کیسے خلیفہ المسلمین کے کھانے میں زہر ملایا؟ وہ اس سازش میں کیسے کامیاب ہوئے، سازش کرنے والا یہودی کون تھا؟ یہ سب سوالات تشنۂ تکمیل رہ جاتے ہیں، بہر کیف جو یہودی حضور صلی اللہ علیہ وسلم  تک کو زہر یلا لقمہ کھلانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں، وہ خلیفہ رسول کے لیے ایسا جال کیوں نہیں بچھا سکتے تھے۔

        زہر کے اثر سے حارث بن کَلَدَہ ایک سال بعد چل بسا اور ٹھیک اسی دن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی وفات پا گئے۔

جانشین کے تقرر کے لیے مشاورت:

        اپنی رحلت کا وقت قریب محسوس کر کے صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہما کو مشورے کے لیے بلایا کہ کسے جانشین مقرر کریں۔ آپ کے ذہن میں پہلے سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا نام تھا جو بلاشبہ اس منصب کے لیے سب سے زیادہ موزوں تھے۔ اس لیے پوچھا: "عمر کے بارے میں کیا رائے ہے؟"

        حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بولے:
        "ان کی فضیلت اور قابلیت میں تو کوئی شک نہیں ہے مگر ان کی طبیعت میں کچھ سختی ہے۔"

        حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "ان میں سختی اس لیے ہے کہ میں نرم ہوں، جب اُن پر خلافت کی ذمہ داری پڑے گی تو خود بخود نرم ہو جائیں گے۔ میں نے کئی بار یہ دیکھا ہے کہ جب میں کسی پر غصہ کرتا تو وہ مجھے اس سے راضی کراتے ہیں اور جب میں کسی معاملے میں نرمی کرتا تو وہ سخت مزاج نظر آتے ہیں۔"

        حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے بھی اس فیصلے پر اپنے تحفظات ظاہر کرتے ہوئے کہا:

        "آپ عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنانے جا رہے ہیں، جبکہ لوگوں سے معاملات میں ان کی سخت مزاجی کا آپ کو علم ہے۔"

        حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پورے اطمینان سے فرمایا:
        "ہاں، جب میں اللہ سے ملوں گا تو کہہ سکوں گا کہ میں تیرے بندوں پر بہترین انسان کو خلیفہ بنا کر آیا ہوں۔"

        ان حضرات سے گفتگو کے بعد آپ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو وصیت نامہ لکھنے کا حکم فرمایا۔ آپ نے ابھی اتنا ہی لکھوایا تھا کہ "ابوبکر بن ابی قحافہ کی طرف سے مسلمانوں کے لیے وصیت....." کہ آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا فیصلہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہی کے بارے میں ہے، وہ یہ سوچ کر پریشان ہو گئے کہ کہیں اس بے ہوشی میں خلیفہ کی وفات نہ ہو جائے اور وصیت نامہ ادھورا رہ جانے کی وجہ سے خلافت کا قضیہ متنازعہ بن جائے، چنانچہ انہوں نے یہ عبارت خود لکھ دی:

        "میں نے عمر کو تمہارے لیے خلیفہ مقرر کر دیا ہے۔ میں نے تمہاری خیر خواہی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔"

        چند لمحوں بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ہوش آگیا، پوچھا: "کیا لکھا؟"

        حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عبارت پڑھ کر سنائی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پہلے فرمایا: "اللہ اکبر!" پھر ان کی دانشمندی کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: "اللہ تمہیں تمام مسلمانوں کی طرف سے بہترین جزائے خیر دے۔"

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خصوصی وصیتیں:

        اس کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو بلوا کر انہیں کہا:

"میں تمہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے صحابہ کے لیے خلیفہ بنا کر جا رہا ہوں۔"

        پھر آپ نے انہیں خلافت کی ذمہ داریوں کی اہمیت کا احساس دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا:

        "اے عمر! اللہ کے کچھ حقوق رات کے ہیں اور کچھ دن کے۔ نہ رات کے حقوق وہ دن میں قبول کرتا ہے نہ دن کے رات میں۔ وہ نفل کو اس وقت تک قبول نہیں کرتا جب تک فرائض ادا نہ ہوں۔"

        چونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے رعب و ہیبت کی وجہ سے بعض صحابہ کرام کو یہ خوف تھا کہ وہ کہیں بے جا سختی نہ کر گزریں۔ اس لیے آپ نے انہیں اعتدال کا دامن تھامے رکھنے کی خصوصی وصیت کرتے ہوئے فرمایا:

        "عمر! کیا تم نے غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں سختی کے ساتھ نرمی کا اور عذاب کے ساتھ رحمت کا ذکر کیا ہے تاکہ بندے اُمید و رحمت میں رہیں اور عذاب سے لرزاں بھی، تاکہ نہ تو کسی کو اتنی خوش فہمی ہو کہ اللہ کے ہاں اپنے حق سے زیادہ کی خواہش کرے اور نہ ایسی مایوسی ہو کہ ہلاکت میں پڑ جائے۔"

        پھر اپنی دلی کیفیت  بیان کرتے ہوئے فرمایا:

        "اے عمر! کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے جہنمیوں کا ذکر ان کے برے اعمال کے ساتھ کیا ہے جسے پڑھ کر مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں میں ان میں سے نہ شمار ہوں، اور جنتیوں کا ذکر ان کے بہترین اعمال کے ساتھ کیا ہے، جسے پڑھ کر میں سوچتا ہوں بھلا میں ان میں سے کیسے ہوں پاؤں گا۔ عمر! اگر میری ان باتوں کو یاد رکھو گے تو نظر سے اوجھل دنیا تمہیں اس نظر آنے والی دنیا سے زیادہ محبوب رہے گی، اور تم یقیناً ایسا کر سکتے ہو۔"

        ان نصیحتوں اور وصیتوں کے بعد منگل، ۲۲ جمادی الآخرہ سن ۱۳ ہجری کو اُمّتِ مسلمہ کے اس غم خوار نے جس کے دل کی ہر دھڑکن اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم  کے دین کی سربلندی کے لیے وقف تھی، داعیِ اجل کو لبیک کہہ دیا اور اپنے محبوب حضورِ سرورِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم  کے پہلو میں دفن ہوئے۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شخصیت پر ایک نظر:

        حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اخلاق و کردار میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے اتنے قریب تھے کہ اُمّتِ مسلمہ کا کوئی فرد اس بارے میں ان کی ہمسری نہیں کر سکتا۔ آپؓ  نرم دل، مہربان، سخی اور سادہ مزاج تھے۔

 ابراہیم نخعیؒ فرماتے تھے:
            "حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ان کی نرمی اور رحم دلی کی بناء پر 'اَوَّاہ' (بہت آہ و زاری کرنے والا) کہا جاتا تھا۔"

        فطرتِ سلیمہ کا یہ عالم تھا کہ زمانۂ جاہلیت میں بھی کبھی بتوں کی عبادت کی نہ کبھی شراب کو ہاتھ لگایا۔ گرمی میں کثرت سے روزے رکھتے تھے جس کی وجہ سے جسم پر چربی کا نام و نشان تک نہ رہا تھا، بالکل نحیف ہو گئے تھے۔ آپ نہایت سخی تھے۔اسلام کے لیے خوب خرچ کرتے رہے۔ خلیفہ بنے تو تمام  پیسہ بیت المال میں جمع کردیا۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے کچھ مناقب:

        حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مقام کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے:

مَا لِأَحَدٍ عِنْدَنَا يَدٌ إِلَّا وَقَدْ كَافَيْنَاهُ مَا خَلَا أَبُو بَكْرٍ فَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا يَدً يُكَافِئُهُ اللَّهُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
(ہم نے ہر شخص کی بھلائیوں کا بدلہ ادا کر دیا ہے، سوائے ابوبکر کے،
ان کے ہم پر اتنے احسانات ہیں کہ ان کا بدلہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہی عطا کرے گا۔)


        نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بار پوچھا گیا: "آپ کو سب سے زیادہ کس سے محبت ہے؟" فرمایا: "عائشہ سے۔" پوچھا گیا: "مردوں میں سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟" فرمایا: "عائشہ کا باپ" (ابوبکر رضی اللہ عنہ)۔


نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے:


"لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا غَيْرَ رَبِّي لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا"
(اگر میں اللہ کے سوا کسی کو اپنا محبوب بناتا تو یقیناً ابوبکر کو محبوب بناتا۔)


        ایک بار فرمایا: "جس شخص نے سب سے زیادہ میرا ساتھ دیا اور میری خاطر اپنا مال سب سے زیادہ لگایا وہ ابوبکر ہیں۔اگر میں کسی شخص کو اپنا محبوب بناتا تو یقیناً ابوبکر کو محبوب بناتا۔مگر اسلامی اخوت (اپنی جگہ کافی)ہے۔"


        صحابہ کرام کی متفقہ رائے تھی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اُمّت میں افضل ترین ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم صحابہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کسی صحابی کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے برابر نہیں سمجھتے تھے۔

        حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ان کے صاحبزادے محمد بن حنفیہ نے پوچھا: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بہترین شخص کون ہے؟ انہوں نے بلا تردد فرمایا: "حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ"۔


        ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: "تم میرے رفیقِ غار اور حوضِ کوثر  پر مصاحب ہو۔"

        ایک بار حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کچھ تلخی ہو گئی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جلد ہی اس پر نادم ہو کر معذرت بھی کر لی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس واقعے پر اتنے دل فگار ہوئے کہ تاقیامت لوگوں کو تنبیہ کے لیے ایک عام  پیرایے میں خطاب فرمایا: "اللہ نے مجھے تم لوگوں کی طرف مبعوث کیا۔ تم لوگوں نے مجھے جھٹلایا اور ابوبکر نے میری تصدیق کی۔ اپنی جان اور مال کے ساتھ میری غم خواری کی۔ تو کیا تم میری خاطر میرے دوست کو بخش نہیں سکتے؟"


        حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے تھے:


        "ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمارے سردار ہیں، ہم سب سے افضل ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ چہیتے ہیں۔"


        ایک بار رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "جبرئیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے جنت کا وہ دروازہ دکھایا جس سے میری اُمّت کے لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔" حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:

        "یا رسول اللہ! کاش اس وقت میں آپ کے ساتھ ہوتا تو جنت کا دروازہ دیکھنا نصیب ہو جاتا۔"


        حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: "أَمَا إِنَّكَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي"
(ابوبکر! آگاہ رہو کہ میری اُمّت میں سے سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے شخص تم ہی ہو گے۔)


        حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب اسلام لائے تو بڑے مال دار تھے۔ چالیس ہزار درہم کے مالک تھے۔ مگر یہ ساری دولت اللہ کی راہ میں خرچ کر دی۔


اسی لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  فرمایا کرتے تھے:


"مَا نَفَعَنِي مَالُ أَحَدٍ مَا نَفَعَنِي مَالُ أَبِي بَكْرٍ"
"مجھے ابوبکر کے مال سے جتنا فائدہ پہنچا ہے اتنا فائدہ کسی دوسرے کے مال نے نہیں دیا۔"


        غزوہ تبوک کے موقع پر حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ گھر کا سارا مال راہِ خدا میں خرچ کرنے کے لیے لے آئے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے پوچھا: مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ (گھر والوں کے لیے کیا چھوڑ آئے ہو؟)


        عرض کیا: أَبْقَيْتُ لَهُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ (ان کے لیے اللہ اور اللہ کے رسول کو چھوڑ آیا ہوں)۔


        خلیفہ بننے کے بعد بھی آپ رضی اللہ عنہ کی تواضع اور سادگی میں کوئی فرق نہیں آیا۔ بذات خود غریبوں، بیواؤں اور ناداروں کی خدمت کر کے خوشی محسوس کرتے۔ کسی کی بکریوں کا دودھ دوہ دیتے، کسی کے اونٹ چرانے لے جاتے، کسی کے گھر میں جا کر صفائی کر آتے۔


        اللہ تعالیٰ کا خوف ہمیشہ طاری رہتا، دنیا سے ذرا بھی دل نہ لگاتے، ہر وقت آخرت کی فکر دل و دماغ پر حاوی رہتی۔ کبھی فرماتے: "کاش، میں کوئی درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا۔" کبھی فرماتے: "کاش میں کسی مومن کے جسم کا بال ہوتا۔" کبھی فرماتے کاش میں کوئی گھاس ہوتا جسے جانور چر جاتے۔


امورِ مملکت کے انتظام میں خداداد مہارت:

        اس خدا خوفی، پرہیز گاری اور تواضع کے باوجود حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سیاسی ذمہ داریوں اور انتظامی کاموں کو پوری حاضر دماغی اور مستعدی سے نبھاتے۔ یہاں آپ بیداری اور چوکسی کی انتہا پر نظر آتے۔ مدینہ منورہ میں بیٹھ کر آپ دور دراز کے علاقوں کے معاملات کو یوں سنبھالتے گویا پورا جزیرۃ العرب، عراق اور شام آپ کی ہتھیلی پر نقش ہو۔ ایران سے شام تک ایک ایک راستہ اور ایک ایک بستی آپ کی نظر میں تھی۔ کون سا امیرِ فوج کہاں ہے، دشمن کا رخ کس طرف ہے اور کتنی فوج کو کہاں سے ہٹا کر کہاں متعین کرنا ہے، یہ سب آپ کے ذہن میں حاضر رہتا۔ جو جنگیں سینکڑوں میلوں تک پھیلے ہوئے محاذوں پر ہو رہی تھیں ان کی اصل کمان آپ کے ہاتھ میں تھی۔


        آپ افسران کو تیز ترین  پیام رسانی کے ذریعے یوں آگے بڑھاتے اور پیچھے ہٹاتے جیسے شطرنج کے مہروں کو بدلا جاتا ہے، آپ کی طرف سے ذرا سی تبدیلی میدانِ جنگ کا پانسا پلٹ دیتی۔عرب و عجم اور شام و روم کی جنگوں میں پلے بڑھے بڑے بڑے عسکری ماہرین کے دماغ مل کر آپ کی منصوبہ بندی اور دوراندیشی کا مقابلہ نہیں کر پاتے تھے۔

آزمائشوں کا ڈٹ کر مقابلہ:

        حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلافت کا منصب سنبھالتے ہی جن آزمائشوں سے پالا پڑا ان سے نمٹنا کسی کے بس کی بات نہ تھی۔ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی نبوت سے منتقل ہونے والے فیضانِ خاص کا اثر تھا کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان سب مصائب میں ثابت قدم رہے۔ مدینہ منورہ کا محاصرہ ہو رہا تھا، زکوٰۃ سے انکار کیا جا رہا تھا، جھوٹے نبیوں نے آفت مچا رکھی تھی، قبائل مرتد ہو رہے تھے، رومی افواج امنڈنے کو تیار تھیں مگر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ایمانی قوت، غیر معمولی استقامت اور حسنِ تدبیر نے تمام فتنوں کا زور توڑ دیا۔ مرتدین، منکرینِ ختمِ نبوت، ایرانی، عرب قبائل اور رومی سب ہی مقابلے پر تھے، مگر آپ کی سیاسی اور عسکری مہارت کے سامنے سب طفلِ مکتب ثابت ہوئے۔


        بلاشبہ یہ غیر معمولی صلاحیتیں اس نورِ نبوت کا اثر تھیں جو پوری اُمّت میں سے سب سے زیادہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو نصیب ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی، اس کو استحکام بخشنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا کارنامہ ہے۔ آپ نے جزیرۃ العرب اور نو مفتوحہ علاقوں کو دس حصوں میں تقسیم کر کے ہر حصے پر اپنی جانب سے ایک امیر مقرر کیا، جسے حاکم ہونے کے ساتھ ساتھ قاضی کے اختیارات بھی حاصل تھے۔


        حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسلامی فوج کو بہتر ترجیحات سے آراستہ کیا۔ ایک محاذ کے لشکر کو آپ چھوٹی چھوٹی فوجوں میں تقسیم کرتے، پھر ان سب کو ایک سپہ سالارِ اعلیٰ کے ماتحت کر دیتے، اس طرح اجتماعیت بھی باقی رہتی اور مختلف نقاط پر پیش قدمی بھی آسان بن جاتی۔


        سپاہیوں کو تاکید کی گئی تھی کہ فصلوں اور باغوں کو نہ اجاڑیں، عورتوں، بوڑھوں، بچوں اور ضعیفوں کو گزند نہ پہنچائیں، کسی پر زیادتی نہ کریں، دھوکا اور فریب نہ کریں، جزیہ ادا کرنے والوں کی حفاظت کا مکمل انتظام کریں۔


        ان اخلاق و صفات سے آراستہ اسلامی لشکروں نے جہاں بھی قدم رکھا عوام ان کے گرویدہ ہو گئے۔


اسلام پہلے مسلمان بعد میں:

        حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے دورِ خلافت میں نہ صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی نیابت کا حق ادا کر گئے بلکہ خلافت اور اس کی ذمہ داریوں کے احساس سے متعلق ایک معیار پیش کر گئے۔ آپ نے ارتداد، انکارِ ختمِ نبوت اور انکارِ زکوٰۃ کے فتنوں کے مواقع پر تاریخ ساز استقامت کا مظاہرہ کر کے خلفاء اور مسلم قائدین کے لیے ایک مثال قائم کر دی کہ خطرات چاہے ہر حد سے متجاوز ہوں مگر عقیدے اور اسلامی احکام میں کوئی رد و بدل نہیں کیا جائے گا اور اصولوں پر سودے بازی نہیں کی جائے گی۔

        غرض آپ رضی اللہ عنہ نے رہتی دنیا تک "اسلام پہلے اور مسلمان بعد میں" کی ایک ایسی روایت رقم کر دی جس کی وجہ سے آج تک اسلام اپنی صحیح شکل میں زندہ و تابندہ ہے۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic