Hazrat Umar Farooq RA: Shaksiyat, Khidmaat aur Shaan-e-Farooqi

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

        حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ قریش کی شاخ بنو عدی سے تعلق رکھتے تھے، آپ کے والد کا نام خطاب بن نفیل اور والدہ کا نام حنتمہ بنت ہاشم تھا۔ والد عدی تھے اور والدہ مخزومی۔ آپ کی ولادت حرب فجار کے چار سال بعد ہوئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی کنیت ابوحفص رکھی تھی۔ حفص کا مطلب شیر ہے یعنی آپ شیر جیسے دلیر تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے آپ کو فاروق کا لقب دیا جس کا معنی ہے حق اور باطل کے مابین فرق کرنے والا۔

        اگرچہ آپ رضی اللہ عنہ کے والد خطاب نے آپ کو لڑکپن میں اونٹ چرانے پر لگائے رکھا، مگر اس کے باوجود آپ نے پڑھنا لکھنا سیکھ لیا تھا جو پورے مکہ مکرمہ میں گنے چنے لوگ ہی جانتے تھے۔ آپ نے نو جوانی میں تجارت کا پیشہ اپنایا تھا اور عرب سے باہر کے سفر بھی کیے تھے، اسی لیے آپ کو دنیا کے جغرافیائی، سیاسی، تمدنی اور معاشی و اقتصادی معاملات کا اچھا خاصا علم تھا۔ زمانہ جاہلیت میں سفارت کا عہدہ آپ رضی اللہ عنہ کے ہی پاس تھا۔


        قریش کے لوگ شروع سے آپ کی جرات، قوت ارادی، جنگجوئی، معاملہ فہمی اور عقل و فراست کے معترف تھے۔ آپ انتہائی بارعب شخصیت کے مالک تھے۔ طبیعت میں غیرت اور جوش کا مادہ بہت تھا۔ جسم نہایت توانا اور قد دراز تھا۔ نوجوانی میں آپ اسلام کے سخت مخالف تھے مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی قابلیت اور خوبیوں کے پیش نظر آپ کی ہدایت کے لیے خصوصی دعا کی تھی جو قبول ہوئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس وقت کم و بیش اٹھائیس سال کے تھے۔

        اس وقت تک صرف چالیس مرد اسلام لائے تھے۔ مسلمان کھلم کھلا نماز نہیں پڑھ سکتے تھے، مگر آپ نے اسلام قبول کرتے ہی مسلمانوں کو ساتھ لے کر علانیہ طور پر مسجد الحرام میں نماز ادا کی اور کسی کو منع کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ ہجرت کے موقع پر جب قریش کی ستم رانیوں کے ڈر سے سب مسلمان چھپ چھپا کر مدینہ جا رہے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے باقاعدہ کفار کے جم غفیر کو للکار کر مکہ سے نکلے کہ کسی میں جرات ہے تو میرا راستہ روک کر دکھائے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ایمانی جرات کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے تھے: "یقیناً شیطان عمر سے ڈرتا ہے۔"

        ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے فرمایا:

وَالَّذِیْ نَفْسِيْ بِیَدِہٖ مَا لَقِیَکَ الشَّیْطَانُ سَالِکًا فَجًّا قَطُّ اِلَّا سَلَکَ فَجًّا غَیْرَ فَجِّکَ
(قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر شیطان تمہیں کسی راہ پر چلتا دیکھ لیتا ہے 
تو اس راستے سے کترا کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔)

        حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ان کی غیر معمولی سمجھ بوجھ کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا خصوصی مشیر بنالیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی بیٹی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں تھیں، اس لیے سسر ہونے کے ناطے آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندانی امور کی دیکھ بھال کیا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خانگی معاملات میں آپ کی رائے بہت اہمیت رکھتی تھی۔

        حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے تمام غزوات اور اہم معاملات میں  پیش پیش نظر آتے ہیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں آپ کی حیثیت خلیفہ کے دست راست اور قریب ترین مشیر کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ میں قیادت کے ایسے جوہر  پیدا کیے تھے جو قسمت میں کسی اور کو نصیب نہیں ہوئے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار فرمایا: 

لَمْ اَرَ عَبْقَرِیًّا مِّنَ النَّاسِ یَفْرِیْ فَرِیَّہٗ
(میں نے خوبیوں سے مالا مال ایسا انسان جو ان جیسی کارکردگی دکھا سکے کوئی نہیں دیکھا۔)

        حضرت عمر رضی اللہ عنہ علم دین، دوراندیشی اور تفقہ میں بلند مقام رکھتے تھے۔ آپ سے منقول احادیث مرفوعہ کی تعداد ۵۳۷ ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ پہلے خلیفہ ہیں جنھیں امیر المومنین کا لقب ملا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی انگوٹھی کا نقش تھا: کَفٰی بِالْمَوْتِ وَاعِظًا"موت نصیحت کے لیے کافی ہے۔"

        ریاست مدینہ منورہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں آپ کو قاضی کی حیثیت حاصل تھی اور آپ اپنے گہرے علم، بصیرت اور فقاہت کے ساتھ نہایت عدل و انصاف کے فیصلے فرمایا کرتے تھے۔ آپ واحد صحابی تھے جن کی تجاویز اور مشوروں کو کئی بار اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے سراہا۔ کئی بار ایسا ہوا کہ جو آپ کے ذہن میں آیا قرآن مجید کی آیات اس کے مطابق نازل ہوئیں اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اپنی امت کا وہ خصوصی اور ممتاز فرد شمار کیا جس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق بات ڈالی جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 

اِنَّ اللہَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلٰی لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِہٖ"
اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان و قلب کو حق و صداقت کا محور بنا دیا ہے۔"

        ایک بار فرمایا: 

"لَقَدْ کَانَ فِیْمَا قَبْلَکُمْ مِنَ الْاُمَمِ مُحَدَّثُوْنَ فَاِنْ یَّکُنْ اَحَدٌ فِيْ اُمَّتِیْ فَإِنَّہٗ عُمَرُ "
تم سے پہلی امتوں میں محدث ہوا کرتے تھے۔ اگر میری امت میں کوئی محدث ہے تو وہ عمر ہی ہیں۔"

        محدث سے مراد وہ انسان ہے جس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے صحیح بات ڈال دی جاتی ہو اور پھر وہ اسے دوسروں تک پہنچاتا ہو۔ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس صفت سے نوازے گئے تھے اسی لیے آپ کی رائے کی تائید میں قرآن مجید کی متعدد آیات نازل ہوئیں۔ آپ کی عظمت کا اندازہ کرنے کے لیے یہ حدیث کافی ہے:

"لَوْ کَانَ بَعْدِیْ نَبِیٌّ لَّکَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ"
 (اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتے۔)

        غرض ان خوبیوں سے آراستہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جب مسند خلافت پر جلوہ افروز ہوئے تو اسلام کی فتوحات کا دھارا ایک سیلاب بن کر مشرق و مغرب کو اپنی لپیٹ میں لینے لگا۔


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic