رُومی بادشاہت
شام قیصرِ روم کی بادشاہت کا نہایت اہم صوبہ تھا جس میں عیسائیوں کے مقدس مقامات واقع تھے۔ ایرانیوں کی طرح رومی بھی عربوں کے دیرینہ دشمن تھے، مگر ایرانیوں کی دشمنی میں سیاسی اور تہذیبی عنصر غالب تھا جبکہ رومیوں کی عداوت میں مذہبی جذبات کا دخل زیادہ تھا۔
اسلام سے پہلے یمن کے عیسائی حاکم ابرہہ نے بازنطینی رومی سلطنت ہی کی اشارے پر کعبہ کے مقابلے میں گرجا تعمیر کر کے عربوں کو اس کے حج کی دعوت دی تھی، جسے عربوں نے سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھا تھا۔ جب عرب اسلام قبول کر کے ایک مستحکم طاقت بنے تو اس سے بازنطینی رومیوں کو سخت تشویش لاحق ہوئی کیوں کہ اسلام کی خوبیوں اور رعنائیوں کے سامنے نصرانیت کی مصنوعی چمک دمک ماند پڑ رہی تھی اور خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ اسلام کا پیغام مشرق و مغرب کو اپنے جلو میں لے کر نصرانیت کو ایک بھولی بسری داستان بنا دے۔
یہی وجہ تھی کہ شام کے نصرانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور ہی سے مسلمانوں کے خلاف کمر بستہ تھے۔ اسی حکومت نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر حضرت حارث بن عُمیر رضی اللہ عنہ کو قتل کیا تھا، جن کے انتقام کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر بھیجا جو مؤتہ کے مقام پر سر پر کفن باندھ کر رومیوں کےٹڈی دل لشکر سے لڑا۔ پھر اسی مہم کی تکمیل کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے آخری لمحات میں جیشِ اُسامہ بن زید کو روانہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سن ۹ ہجری میں اپنا آخری جہادی سفر بھی رومیوں کی متوقع یلغار کی روک تھام کے لیے کیا تھا اور تبوک تک جا کر اسلام کے جھنڈے گاڑے تھے جو عرب اور شام کی سرحد تھی۔
رومی اسلام کو اپنے لیے سخت ترین خطرہ تصور کر کے عربوں کے خلاف چڑھائی کے لیے نہ صرف مسلسل تیاریاں کر رہے تھے بلکہ ان دنوں عراق کی سرحد پر مسلمانوں کے خلاف لڑنے والے عرب عیسائیوں کو بھی ان کی پشت پناہی حاصل تھی اور جنگِ فراض میں تو رومیوں نے باقاعدہ شرکت کر کے مسلمانوں کے خلاف عملی طور پر اعلانِ جنگ کر دیا تھا۔
ان حالات کے پیشِ نظر اب ضروری ہو گیا تھا کہ رومیوں کی طاقت کا غرور ہمیشہ کے لیے توڑ کر ایشیا کے لاکھوں بے کس و مجبور لوگوں کو ان کے ظلم و ستم سے نجات دلائی جائے اور اسلام کی دعوت کی قبولیت اور اس کے نظامِ عدل کے نفاذ میں حائل اس جابرانہ سلطنت کے تار و پود بکھیر دیے جائیں۔
رومیوں کے خلاف پہلی مہم:
اتنی بڑی طاقت سے ٹکر لینے میں احتیاط ملحوظ رکھنا ضروری تھا، اس لیے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اب تک شام کی طرف بھیجے جانے والے لشکروں کو زیادہ دور تک پیش قدمی کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ آپ نے حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ کو جو شام کی سرحدوں پر تعینات کیے جا چکے تھے، ہدایت کی کہ وہ آگے بڑھیں مگر رومیوں سے جنگ میں پہل نہ کریں اور اندھا دھند پیش قدمی مت کریں۔
حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ ان ہدایات کے تحت محتاط انداز میں رومیوں کے مقابل آئے جو پوری طرح تیار ہو کر اپنے ماہرِ جنگ باہان کی قیادت میں چلے آ رہے تھے۔ حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ نے بڑی پامردی سے مقابلہ کر کے اس لشکر کو پسپا کر دیا مگر رومیوں کی فوجی طاقت کا کوئی حد و شمار نہ تھا اس لیے حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ نے دربارِ خلافت میں مزید افواج کی درخواست بھیجی۔
نئے لشکروں کی ترتیب:
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس معاملے کو پوری سنجیدگی سے لیا، آپ نے یمن، تہامہ، عمان اور بحرین سے جمع ہونے والے رضا کاروں کو حضرت عِکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ کی قیادت میں جمع کر کے فوری مدد کے طور پر شام کے محاذ پر روانہ کر دیا مگر ضرورت اس سے پوری نہیں ہوئی، وہاں ایک بڑے لشکر کی ضرورت تھی جس کی تیاری اور قیادت کے لیے اکابر صحابہ ہی موزوں تھے۔ چنانچہ آپ نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے محکمہ زکوٰۃ کے افسر تھے، مشورہ دیا کہ وہ یہ عہدہ چھوڑ کر ایک دوسری اہم خدمت کے لیے تیار ہو جائیں۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:
"میں اسلام کے تیروں میں سے ایک تیر ہوں۔ چلانے والے آپ ہیں۔ جو ہدف سب سے خطرناک، سب سے اہم اور سب سے زیادہ اجر و ثواب والا محسوس ہو، مجھے اس پر دے ماریں۔"
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور انہیں نئی فوج کے لیے رضا کار بھرتی کرنے کا کام سونپ دیا۔ جب ایک بڑا مجمع تیار ہو گیا تو آپ نے تین فوجیں تشکیل دیں۔ ایک کا سالار حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو بنا کر اسے فلسطین کے رخ پر روانہ کیا، دوسرے کی قیادت حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کو سونپی اور اسے اُردن کی سمت بھیج دیا۔
تاریخی وصیت:
تیسرا لشکر جو سب سے بڑا تھا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی کمان میں دیا۔ اس لشکر کو آپ نے خود بڑے اہتمام سے روانہ کیا اور مدینہ کے باہر تک اسے رخصت کرنے کے لیے پیدل ساتھ چلے۔ امیرِ لشکر کو یہ تاریخی ہدایات دیں:
"تمہیں قیادت اس لیے سونپی ہے تاکہ تمہاری آزمائش ہو اور تمہاری صلاحیتیں ظاہر ہوں۔ تم نے اچھی کارکردگی دکھائی تو تمہارا رتبہ بڑھا دیا جائے گا۔ اگر ذمہ داری اچھی طرح انجام نہ دی تو معزول کر دیے جاؤ گے۔ تمہیں اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں۔ وہ تمہاری چھپی ہوئی باتوں کو اسی طرح جانتا ہے جیسے تمہارے ظاہر کو، لوگوں میں سے اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ نزدیک وہی ہے جو سب سے زیادہ اس سے لو لگائے رکھے۔ اللہ کے ہاں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اعمال کے ذریعے اس کا زیادہ سے زیادہ قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہے۔
خبردار! جاہلی تعصب سے بچ کر رہنا، اللہ تعالیٰ تعصب کو اور تعصب برتنے والوں کو ناپسند کرتا ہے۔ اپنے سپاہیوں سے اچھا سلوک کرنا، ان کو اچھی اُمید دلاتے رہنا۔ جب انہیں نصیحت کرو تو مختصر بات کرنا کہ طویل تقریر کا کچھ حصہ یاد رہتا ہے، کچھ بھول جاتا ہے۔ اپنے نفس کو نیک بنالو، لوگ بھی تمہارے ساتھ نیکی کریں گے۔ نمازوں کو اپنے اوقات میں رکوع و سجود کے پورے آداب کے ساتھ اور خشوع و خضوع سے ادا کرنا۔
دشمن کے سفیروں کا اعزاز و اکرام کرنا مگر زیادہ دیر انہیں اپنے ہاں مت ٹھہرنے دینا، کہیں وہ تمہارے راز نہ جان لیں۔ اپنے رازوں کو کبھی ظاہر نہ ہونے دینا ورنہ سارا انتظام گڑ بڑ ہو جائے گا۔ جب مشورہ کرنا ہو تو سچ بولنا اور مشیروں سے صورتحال کا کوئی پہلو مت چھپانا۔ پہرے کا بہت اہتمام کرنا۔ سپاہیوں کی حالت سے غافل نہ ہونا، مگر ان کے پوشیدہ معاملات کی ٹوہ میں بھی مت رہنا۔ اپنا اُٹھنا بیٹھنا اپنے خیر خواہ اور وفادار افراد کے ساتھ رکھنا، بزدلی مت دکھانا، ورنہ سپاہی بھی بزدل بن جائیں گے۔ دشمنوں کے جو لوگ اپنی عبادت گاہوں تک محدود ہوں، انہیں مت چھیڑنا۔"
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی یہ نصیحتیں کسی بھی دینی کام کی قیادت کرنے اور اہم ذمہ داریاں سنبھالنے والے افراد کے لیے ایک رہنما کی حیثیت رکھتی ہیں۔
شکست اور نئی حکمتِ عملی:
حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ شام کی سرحدوں پر کمک کا انتظار کر رہے تھے، جوں ہی انہیں اسلامی افواج کی روانگی کی اطلاع ملی، انہوں نے شام کی سرحدوں میں پیش قدمی شروع کر دی اور فلسطین میں مَرْجُ الصُّفَّر کے مقام تک جا پہنچے، یہاں رومی جرنیل باہان ایک زبردست فوج کے ساتھ تیار کھڑا تھا۔ اس نے ناکہ بندی کر کے اچانک حملہ کیا کہ حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ کے لشکر کو بری طرح شکست ہوئی، ان کے بیٹے سمیت بڑی تعداد میں مسلمان شہید ہوئے۔ حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ بمشکل کچھ افراد کے ساتھ زندہ سلامت بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے اور سیدھے مدینہ منورہ حاضر ہوئے۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں مدینہ میں ٹھہرا کر حضرت شُرَحْبِیل بن حَسَنہ، حضرت معاویہ بن ابی سفیان اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہم جیسے آزمودہ کار صحابہ کرام کو شام کے محاذ پر روانہ کر دیا۔ ان سے پہلے کچھ امدادی فوجیں حضرت عِکرمہ بن ابی جہل اور حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کی قیادت میں وہاں پہنچ چکی تھیں۔
جنگی منصوبے کے مطابق یہ تازہ دم افواج شام کی سرحد عبور کر کے الگ الگ مقامات پر ٹھہر گئیں۔ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ جابیہ میں، حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ بلقاء میں اور حضرت شُرَحْبِیل بن حَسَنہ رضی اللہ عنہ نے اُردُن کے میدانوں میں خیمے گاڑ دیے۔ ان میں سے ہر ایک کے پاس سات سات ہزار سپاہی تھے۔ اس طرح اسلامی لشکر کی مجموعی تعداد اکیس ہزار تھی۔
رومی بادشاہ ہرقل کو مسلمانوں کی اس منظم یلغار کی اطلاع ہوئی تو تیزی سے کوچ و قیام کرتا ہوا اپنے دارالحکومت حمص پہنچا اور یہاں سے ہر مسلمان امیر کے مقابلے میں الگ الگ فوجیں روانہ کر دیں تاکہ مسلمان ایک جگہ جمع ہو کر لڑنے نہ پائیں۔ ان میں سے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں جانے والا لشکر ساٹھ ہزار سپاہیوں پر مشتمل تھا جس کی قیادت فَیقار نامی افسر کے ہاتھ میں تھی۔ اُدھر ہرقل کا سگا بھائی تذارِق ۹۰ ہزار کا لشکر لے کر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی طرف چل پڑا تھا۔
مسلمان سپہ سالاروں نے یہ صورتحال دیکھ کر خط و کتابت کے ذریعے باہم مشورہ کیا اور متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ سب کے سب ایک جگہ جمع ہو جائیں اور دربارِ خلافت سے مزید کمک کی درخواست کریں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان حضرات کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے انہیں حکم دیا کہ پیچھے ہٹ کر دریائے یرموک کے کنارے کسی موزوں علاقے میں پڑاؤ ڈال لیں۔
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی شام روانگی:
یہی وہ دن تھے جب دربارِ خلافت سے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو پیغام ملا تھا کہ وہ عراق کے محاذ کی قیادت مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کر کے جلداز جلد اپنی نصف سپاہ کے ساتھ شام کے محاذ پر پہنچ جائیں۔
ان حالات میں جبکہ شام کی سرحدوں پر جنگ کے مہیب بادل چھائے ہوئے تھے اور رومی لشکر مسلسل نقل و حرکت میں تھا، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا انہیں جُل دے کر اپنی منزل تک پہنچنا بہت مشکل تھا مگر وہ اللہ کی تلوار تھے، اپنے ہدف سے پہلے رکنا نہیں جانتے تھے، انہوں نے عراق کی آدھی فوج کے ساتھ جو نو ہزار مجاہدین پر مشتمل تھی، حیرہ سے شمال مغرب کی طرف کوچ کرتے ہوئے ایک ایسا بے آب و گیاہ صحرائی راستہ اختیار کیا جسے عبور کرنے کا کسی کو وہم و گمان تک نہیں ہو سکتا تھا۔ یہ صحرا "قُواقِر" سے "سُویٰ" تک پھیلا ہوا تھا اور رومی فوجیں اس کے جنوب مغرب میں سرحدوں کی ناکہ بندی کیے موجود تھیں۔ اس صحرا میں کوئی چشمہ تھا نہ نخلستان۔
قبیلہ بنو طے کے حضرت رافع بن عُمیرہ رضی اللہ عنہ جنہیں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے راہبر مقرر کیا تھا، بولے: "اس صحرا کو تو تیز رفتار تنہا سوار بھی آسانی سے عبور نہیں کر سکتا چہ جائیکہ آپ فوج اور قافلے کے ساتھ یہاں سے گزر سکیں۔"
حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "مجھے یہاں سے گزرنا ہی ہوگا، رومیوں سے کترا کر مدد کے منتظرمسلمانوں تک پہنچنے کے لیے یہ ضروری ہے۔"
صحراء، پیاس اور چشمہ
خالد رضی اللہ عنہ نے ہمراہیوں کو حکم دیا کہ وہ اونٹوں کو خوب سیراب کر لیں اور جتنا ہو سکے پانی ساتھ لے لیں۔ اب صحرا کا دشوار گزار سفر شروع ہوا۔ گرمی کی شدت اور سخت پیاس کی وجہ سے آخر پانی ختم ہو گیا، گھوڑے پیاس سے نڈھال ہونے لگے تو اونٹوں کو ذبح کر کے ان کے کوہانوں میں محفوظ رطوبت انہیں پلائی گئی۔ پانچویں دن قافلے کا دم لبوں پر تھا، راہبر حضرت رافع بن عُمیرہ رضی اللہ عنہ کی آنکھیں بیماری کی وجہ سے دکھ رہی تھیں، وہ بمشکل صحرا کی وسعتوں پر نگاہ دوڑا رہے تھے مگر کچھ سجھائی نہ دیتا تھا۔ آخر کار وہ قافلے کو ایک سمت لے جا کر کہنے لگے:
"دیکھو، کہیں ایسا درخت نظر آتا ہے، جیسے بیٹھا ہوا آدمی۔" جواب ملا: "نہیں۔"
بولے: "پھر تو تم بھی ختم اور میں بھی۔ دیکھو، دوبارہ غور سے دیکھو۔"
تب اچانک کسی شخص نے پکار کر کہا: "ہاں، ایک درخت کا کٹا ہوا تنا دکھائی دے رہا ہے۔"
حضرت رافع رضی اللہ عنہ نے وہاں جا کر کہا: "اس کی جڑ میں کھدائی کرو۔"
لوگوں نے کھدائی کی تو نیچے سے ایک چشمہ جاری ہو گیا۔حضرت خالد رضی اللہ عنہ حیران تھے کہ رافع رضی اللہ عنہ کو یہاں پانی کے امکانات کا اندازہ کیوں کر ہوا۔ پوچھا تو وہ بولے: "میں صرف ایک بار بچپن میں والدین کے ساتھ یہاں سے گزرا تھا تب اس درخت کے پاس چشمہ بہا کرتا تھا۔"
قافلہ سیراب ہو کر آگے بڑھا اور پانچویں دن صحیح سلامت موت کی وادی سے نکل کر اس خاموشی سے شام کی حدود میں داخل ہو گیا کہ دشمن کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔
بُصریٰ کی فتح:
شام پہنچتے ہی حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کی ایک بڑی کمزوری کا اندازہ کیا، وہ یہ کہ اب تک انہوں نے کوئی شہر یا قلعہ فتح نہیں کیا تھا۔حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے محسوس کیا کہ جب تک ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر کوئی فصیل بند شہر زیرِ نگیں نہ ہو، شام میں قدم جمانا ممکن نہیں، چنانچہ انہوں نے اپنے راستے میں آنے والے سب سے پہلے شہر "بُصریٰ" کے سامنے خیمے گاڑ دیے، اس دوران دیگر اسلامی قائدین کی فوجیں بھی مدد کے لیے پہنچ گئیں۔ اہل شہر نے جزیہ دینا قبول کر کے ہتھیار ڈال دیے اور شہر مصالحت کے ساتھ فتح ہو گیا۔
جنگِ اَجنادَین:
اب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور دیگر امرائے اسلام نے اَجنادین کا رخ کیا، جہاں حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں ہرقل کا بھائی ۹۰ ہزار سپاہیوں کے ساتھ موجود تھا، یہ علاقہ فلسطین کی بستی رَملَہ اور بیتِ جِبرِین کے درمیان واقع ہے۔
جنگ سے پہلے رومیوں کے سپہ سالار نے ایک عرب جاسوس کو مسلمانوں کے خیمہ گاہ میں بھیجا۔ اس نے واپس آکر یہ رپورٹ پیش کی: "بِاللَّیلِ رُھبَانٌ، وَبِالنَّھَارِ فُرسَانٌ" (رات کو عبادت گزار، دن کو شہ سوار)۔
ساتھ ہی کہا: "ان میں قانون کی بالا دستی اتنی ہے کہ اگر ان کے حکمران کا بیٹا بھی چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا، اگر بدکاری کرے تو اسے بھی سنگسار کیا جائے گا۔"
یہ سن کر رومی سپہ سالار نے کہا:
"تو پھر ان سے لڑنے سے زمین میں زندہ دفن ہونا بہتر ہے۔ کاش! مجھے ان سے لڑنا نہ پڑتا۔"
آخر ۲۴ جمادی الاولیٰ سن ۱۳ ہجری کو اَجنادین کے میدان میں نہایت گھمسان کی جنگ ہوئی۔ مسلمانوں کے تمام امرائے فوج نے متفقہ طور پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو سپہ سالارِ اعلیٰ بنالیا تھا، اس لیے حضرت عمرو بن العاص، حضرت یزید بن سفیان، حضرت شُرَحْبِیل بن حَسَنہ اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہم سمیت تمام اکابر انہی کی کمان میں لڑ رہے تھے۔ آخر کار رومیوں کو شکستِ فاش ہوئی، ہرقل کا بھائی تَذارِق مارا گیا اور میدانِ جنگ مسلمانوں کے ہاتھ رہا۔حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے رومیوں کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا اور بڑی تیزی سے پوری فوج کو لے کر دمشق کی طرف بڑھتے چلے گئے، یہاں تک کہ یرموک تک جا پہنچے جہاں ہرقل کی بہت بڑی فوج سے مقابلہ ناگزیر تھا۔

