Fatah-e-Khaibar ke Asraat aur Riasat-e-Madina ka Istehkam

فدک اور وادی القریٰ کی فتح:

        خیبر کے جنوب مشرق میں مدینہ سے دو تین منازل دور "فدک" ایک سرسبز و شاداب علاقہ تھا، یہاں کے یہودیوں نے لڑے بغیر جاں بخشی کی شرط پر ہتھیار ڈال دیے اور جلا وطنی قبول کرلی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شمال کی طرف مزید پیش قدمی کی اور یہودیوں کی ایک اور آبادی وادی القریٰ تک پہنچے جو عرب کی آخری بستی شمار ہوتی تھی اور اس سے آگے شام کا علاقہ مانا جاتا تھا۔ یہاں بھی یہودیوں کو شکست ہوئی اور یہ تمام علاقہ مسلمانوں کے ہاتھ آگیا۔


یہودی کی ایک اور ناپاک سازش:

        خیبر کے قلعے گنوانے کے بعد فتنہ پرور یہودی میدانِ جنگ میں مکمل طور پر شکست کھاچکے تھے۔ مگر آخری داؤ کے طور پر انہوں نے ایک گھناؤنا کھیل کھیلا۔ ان کے سردار سلام بن مِشکَم کی بیوی زینب بنت الحارث (مرحب کی بہن) نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی ضیافت کی اور بکری کا بھنا ہوا گوشت پیش کیا جس میں زہر ملا ہوا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جوہی پہلا لقمہ منہ میں رکھا اللہ تعالیٰ نے آپ کو خطرے سے آگاہ کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً لقمہ تھوک دیا، تاہم اس وقت تک دعوت میں شریک ایک صحابی حضرت بِشر بن براء رضی اللہ عنہ نوالہ حلق سے نیچے اتار چکے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب سے اس ناپاک حرکت کا سبب پوچھا تو وہ بولی: "میں اپنی قوم کا انتقام لینا چاہتی تھی، جس کا آپ نے یہ حال کیا۔ میں نے سوچا کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو بچ جائیں گے اور اگر عام فاتح ہیں تو ہمیں آپ سے چھٹکارا مل جائے گا۔"

        عورت یقیناً حاضر جواب تھی اور اس کی چالاکی شک و شبہ سے بالا تر تھی مگر اس طرح جرم پر پردہ نہیں ڈالا جاسکتا تھا۔ تاہم حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات کے لیے انتقام لینا پسند نہیں کرتے تھے اور وہ بھی ایک عورت سے۔ اس لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے درگزر سے کام لیا۔ یہ جانی دشمن سے عفو و درگزر کا بہترین نمونہ تھا۔

        مگر کچھ دنوں بعد بشر بن براء رضی اللہ عنہ زہر کے اثر سے وفات پاگئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عدل کا تقاضا پورا کرتے ہوئے اس عورت کو مقتول کے ورثاء کے حوالے کردیا، جنہوں نے اسے قتل کردیا۔ یہ قانون کی بالادستی کی عمدہ مثال تھی۔

یہودیوں سے زمین داری کا معاملہ:

        خیبر کے یہودی زراعت اور باغبانی کے ماہر تھے۔ اگرچہ ان کی جلاوطنی طے ہوچکی تھی مگر انہوں نے اس موقع پر یہ تجویز پیش کی کہ انہیں ان زمینوں پر صرف کام کرنے کے لیے رہنے دیا جائے، پیداوار میں سے نصف ان کا ہوگا اور نصف مسلمانوں کا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غور کیا تو اس تجویز میں مصلحت محسوس کی؛ کیوں کہ مسلمانوں کی تعداد اتنی نہیں تھی کہ وہ بیک وقت جہاد بھی کرتے اور زراعت بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو جہاد کے لیے فارغ رکھنے کے خیال سے اس تجویز کو منظور فرما لیا مگر یہ واضح فرما دیا کہ جب ہم چاہیں گے یہ معاملہ ختم کردیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی پیداوار سے حصہ وصول کرنے کی ذمہ داری عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو سونپ دی۔ وہ جب بھی خیبر آتے اتنی دیانت داری اور انصاف سے پیداوار تقسیم کرتے کہ یہودی کہہ اٹھتے: "زمین و آسمان ایسے ہی عدل کی وجہ سے قائم ہیں۔"

        یہود حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور تک یہیں آباد رہے، مگر چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی یہ وصیت تھی کہ جزیرۃ العرب میں دو دین باقی نہ رہنے دیے جائیں اور یہود و نصاریٰ کو یہاں سے نکال دیا جائے۔ اس لیے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں خیبر اور گرد و نواح سے تمام یہودیوں کو جلا وطن کر کے شام بھیج دیا اور انہیں متبادل زمینیں فراہم کردیں۔

حبشہ کے مہاجرین کی آمد:

        ابھی رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کی فتح سے فارغ ہوئے تھے کہ حبشہ کے مہاجرین جو تیرہ چودہ سال سے بے وطنی کی زندگی گزار رہے تھے، حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں آپ کی خدمت میں آن پہنچے۔ انہیں نجاشی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق دو بڑی کشتیوں میں پورے انتظام اور اہتمام کے ساتھ واپس روانہ کیا تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حبشہ کے مہاجرین کی آمد سے اتنے خوش ہوئے کہ فرمایا:

        "میں بتا نہیں سکتا کہ خیبر کی فتح کی خوشی زیادہ ہورہی ہے یا جعفر کے واپس آنے کی۔"

        رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ترغیب دی کہ وہ ان نئے مہمانوں کو خیبر سے ملنے والے زرعی رقبوں میں شریک کرلیں تاکہ ان کی آبادکاری ہو اور وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں۔ مسلمانوں نے اسے خوشی سے منظور کرلیا۔

        حبشہ کے مہاجرین کے ساتھ یمن کے 53 مسلمان بھی آپ کی خدمت میں پہنچے جن میں ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور ان کے دو بھائی: ابوبردہ اور ابورُہم بھی تھے۔ یہ لوگ کئی برس پہلے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا شہرہ سن کر یمن سے کشتی میں بیٹھ کر مدینہ کے لیے نکلے تھے مگر طوفان نے انہیں حبشہ کے ساحل پر جا پھینکا۔ وہاں انہیں جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور دوسرے مہاجرینِ حبشہ مل گئے۔ یہ بھی ان کے ساتھ رہنے لگے۔ اب یہ انہی کے ہم رکاب ہوکر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں پہنچ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی خیبر کے اموال سے حصہ عنایت فرمایا۔ اشعری قوم کے یہ لوگ مسجد نبوی میں قرآن مجید بڑے شوق سے سیکھا اور پڑھا کرتے تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  اپنے حجرے سے ان کی دل آویز قرآت سن کر فرمایا کرتے تھے: "میں اپنے اشعری دوستوں کو ان کی تلاوت کے انداز سے پہچان لیتا ہوں۔"

جب حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بارگاہِ رسالت سے وابستہ ہوئے:

        فتحِ خیبر کے موقع پر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں پہنچے۔ ان کا تعلق یمن کے قبیلے دوس سے تھا۔ مسلمان ہوکر قبیلے کے 80 گھرانوں کے ساتھ یمن سے نکلے، راستے میں ہے خود ہوکر یہ شعر پڑھتے رہے:

یَا لَیْلَۃً مِّنْ طُوْلِہَا وَعَنَائِہَا ... عَلٰی اَنَّہَا مِنْ دَارِ الْکُفْرِ نَجَّتِ
"ہائے! یہ رات کتنی طویل اور پرمشقت ہے۔ مگر جیسی بھی ہو، اس نے کفر کی ریاست سے نجات دلا دی ہے۔"

            یہ درویشِ خدا مست اس وقت مدینہ منورہ پہنچے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  خیبر کے جہاد میں مشغول تھے۔ یہ بھی پیچھے روانہ ہوگئے اور آخر خیبرمیں بارگاہِ اقدس میں حاضری نصیب ہوئی۔

        حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: "تم کہاں کے ہو؟" حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: "دوس کے"

        حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشی اور حیرت سے پیشانی پر ہاتھ رکھ لیا۔

        اس کے بعد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بارگاہِ نبوی سے اس طرح وابستہ ہوئے کہ ساری زندگی آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سننے، یاد کرنے اور دہرانے میں گزار دی۔ انہیں صحابہ کرام میں احادیث کا سب سے بڑا حافظ مانا جاتا ہے۔ انہی یمنی مسلمانوں میں دوس کے رئیس طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور دوس کے تمام مسلمانوں کو خیبر کے اموال میں سے حصہ عطا کیا۔

صلح حدیبیہ اور غزوۂ خیبر کے بعد ریاست مدینہ کی حیثیت:

        صلح حدیبیہ اور غزوۂ خیبر کے بعد عربوں کی صدیوں قدیم لامرکزیت کا تقریباً خاتمہ ہوگیا تھا۔ اب عرب میں مسلمان واحد بڑی طاقت تھے۔ قریش کی ساکھ بہت گرچکی تھی اور ان کے لیے ممکن نہ تھا کہ آئندہ کبھی مسلمانوں کو مغلوب کرسکیں۔ جنوب اور جنوبِ مغرب کی سمت مکہ اور قریش کے حلیف قبائل کے علاقوں میں اسلامی دستوں کی نقل و حرکت تقریباً ختم ہوگئی تھی۔ صلح حدیبیہ کی شرائط کے تحت یہ تمام علاقہ محفوظ اور مامون تھا۔

        دیکھا جائے تو ریاست مدینہ اس ابتدائی زمانے ہی میں علاقائی حدود سے بڑھ کر ایک ابھرتی ہوئی بین الاقوامی طاقت سمجھی جانے لگی تھی جو بلاشبہ مسلمانوں کی بیس سالہ طویل اور کٹھن جدوجہد کا مبارک ثمر تھا۔ ریاست مدینہ کو جونہی قریش سے ذرا سی فرصت ملی، اس کی رگوں میں مچلتی توانائیوں نے نیا محاذ تلاش کرلیا اور اس کی عسکری کارروائیوں کا رخ شمال کی جانب ہوگیا۔ خیبر، فدک اور وادی القریٰ کی فتوحات اس عظیم تغیر کا پہلا مرحلہ تھیں جبکہ اس کا دوسرا مرحلہ جنگِ موتہ اور غزوۂ تبوک تھے جہاں سے عظیم سلطنتِ روما کا زوال شروع ہوا۔ تاہم ابھی عرب میں چھوٹی چھوٹی آزاد ریاستیں موجود تھیں۔ ایسی ریاستیں ہر بڑی مملکت کے قیام میں رکاوٹ بنتی ہیں مگر مسلمان یہ صلاحیت رکھتے تھے کہ انہیں اپنے ساتھ ملائیں اور انکار کرنے والوں کو مغلوب کرلیں۔ چنانچہ ان بدوی قبائل کو جو کسی معاہدے کے پابند نہ تھے اور مسلمانوں کے خلاف سخت عزائم رکھتے تھے، ریاست مدینہ کی تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔

غزوۂ ذات الرقاع:

        اس سلسلے کی اہم مہم غزوۂ ذات الرقاع تھی، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  یلغار کرکے قبیلہ غطفان تک گئے۔

        اس سفر میں مجاہدین کے پاس سواریوں کی بہت کمی تھی، ایک ایک اونٹ پر چھ چھ افراد باری باری سواری کررہے تھے۔ صحابہ کو عموماً پیدل ہی چلنا پڑ رہا تھا لہٰذا بہت سے افراد کے جوتے پھٹ کر ناکارہ ہوگئے تھے۔ مہم میں شریک حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے بقول ہمارے پاؤں زخمی ہوگئے تھے، آخر مجبوراً پیروں پر کپڑوں کے چیتھڑے لپیٹنے پڑے (جنہیں عربی میں "رقاع" کہا جاتا ہے) اس لیے یہ مہم "غزوۂ ذات الرقاع" کہلائی۔

صلوٰۃ الخوف:

        غزوۂ ذات الرقاع میں جنگ کی نوبت نہیں آئی، البتہ "نخل" کے مقام پر مسلمان حالتِ جنگ سے ضرور دوچار ہوئے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں باجماعت فرض نماز کو "صلوٰۃ الخوف" کے طریقے پر ادا کیا۔

نجاشی اَصحَمہ کی وفات:

        اسی سال حبشہ میں مسلم بادشاہ نجاشی اصحمہ رضی اللہ عنہ وفات پاگئے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کو اللہ تعالیٰ نے اس کی اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحمہ رضی اللہ عنہ کی غائبانہ نمازِ جنازہ اداکی؛ کیوں کہ وہاں کوئی اور مسلمان نہیں تھا جو ان پر نماز پڑھتا۔ محدثین روایت کرتے ہیں کہ ایک طویل زمانے تک اصحمہ رضی اللہ عنہ کی قبر سے روشنی پھوٹتی رہی۔

ثمامہ بن اثال کی گرفتاری، قبول اسلام، مکہ کی غذائی ناکہ بندی:

        7 ہجری کے وسط میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو نجد کی طرف چھاپے کے لیے بھیجا۔ مجاہدین نے کارروائی کے دوران بنوحنیفہ کے ایک رئیس ثمامہ بن اثال کو گرفتار کرلیا۔ قیدی کو لاکر مسجد نبوی کے ایک ستون سے باندھ دیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے  پوچھا: "کیا ارادہ ہے؟" جواب ملا: "ارادہ نیک ہے۔ قتل کردو تو ایسے شخص کو کروگے جس کا قتل جائز ہے۔ احسان کردو تو ایسے شخص پر کرو گے جو قدردان ہے۔ اگر مال چاہیے تو جتنا چاہو مانگ لو۔"

        رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے اور تیسرے روز بھی یہی سوال کیا۔ قیدی کا وہی ایک جواب تھا۔ اس دوران قیدی نے مسلمانوں کے احوال، مسجد نبوی کے روز و شب اور سب سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جمالِ جہاں آرا کا مشاہدہ کرلیا تھا۔ دل نے گواہی دے دی تھی کہ یہ سچے نبی ہیں۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثمامہ کو غیرمشروط طور پر آزاد کردیا۔ وہ رہا ہوتے ہی قریبی باغ میں گئے، وہاں غسل کیا۔ پھر مسجد میں آئے اور کلمہ شہادت پڑھ کر مسلمان ہو گئے۔

        پھر بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم  میں عرض کیا: "کل تک آپ کے چہرے سے زیادہ ناپسندیدہ چہرہ کوئی نہ تھا۔ آج اس سے زیادہ پسندیدہ چہرہ کوئی نہیں۔ کل تک آپ کے دین سے زیادہ ناگوار دین کوئی نہ تھا۔ آج اس سے زیادہ محبوب دین کوئی نہیں۔ کل تک آپ کے شہر سے زیادہ نفرت کسی شہر سے نہ تھی۔ آج اس سے زیادہ محبت کسی شہر سے نہیں۔"

        پھر عرض کیا: "اللہ کے رسول! میں عمرے کے لیے جا رہا تھا کہ آپ کے شہسواروں نے مجھے پکڑ لیا۔ اب آپ فرمائیں میں کیا کروں؟" حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے انہیں حکم دیا کہ عمرے کا عزم پورا کریں۔

        وہ مکہ گئے تو وہاں کے لوگوں کو ان کے اسلام لانے کا پتا چل چکا تھا۔ کسی نے کہا: "بے دین ہوگئے۔" کہنے لگے: "نہیں! بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  پر ایمان لے آیا ہوں۔ اللہ کی قسم! جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی اجازت نہ ہوگی، تمہیں یمامہ سے گندم کا ایک دانہ بھی نہیں آنے پائے گا۔"

        اور ایسا ہی ہوا۔ یمامہ کا تجارتی راستہ ان کے ہاتھ میں تھا جس کی انہوں نے ناکہ بندی کردی۔

دشمنی کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اہل مکہ پر احسان:

        اہل مکہ قحط سالی سے پہلے ہی ہلکان ہورہے تھے۔ خوراک و رسد کے بیرونی راستے ہی آخری سہارا تھے۔ زیادہ تر غلہ یمامہ سے آتا تھا جس کی شاہراہ ثمامہ رضی اللہ عنہ نے بند کردی تھی۔ آخر تنگ آکر قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں عریضہ بھیجا اور رشتہ داری کا واسطہ دے کر کہا کہ ثمامہ کو ناکہ بندی ختم کرنے کا حکم دیجیے۔

        رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  چاہتے تو قریش کو اسی وقت اپنے قدموں پر جھکا سکتے تھے مگر آپ نے پیغمبرانہ اخلاق کا ثبوت دیتے ہوئے ایسے سخت دشمنوں کی درخواست قبول کرلی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے حکم پر ثمامہ رضی اللہ عنہ نے اہل مکہ کی خوراک کا راستہ کھول دیا۔ لوگوں کے کہنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے قریش کی قحط سالی ختم ہونے کے لیے بھی اللہ سے دعا کی، جس کے باعث مکہ اور گرد و نواح میں بارشیں ہوئیں۔ اہل مکہ کی حالت بہتر ہوگئی تاہم وہ کفر اور سرکشی سے باز نہ آئے۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic