First Hajj in Islam 9 Hijri | Hajj ki Farziyat aur Hajj-e-Akbar


حج کی فرضیت اور پہلا حج (۹ ہجری)


        وفود کی آمد کا سلسلہ جاری تھا کہ حج کا موسم آگیا، حج کی فرضیت کا حکم نازل ہوچکا تھا۔ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسم نے ذی القعدہ سن ۹ ہجری میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو امیر بناکر تین سو حاجیوں کا قافلہ مکہ روانہ فرمایا۔ صحابہ کی اکثریت حج میں شریک نہ ہوئی؛ کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسم تشریف نہیں لے جارہے تھے،دراصل اب تک حج میں مشرکین کی شرکت پر پابندی کا کوئی حکم اللہ کی جانب سے نازل نہیں ہوا تھا اور اس سال مشرکین حسب معمول حج میں شریک تھے اوران کی بے ہودہ رسموں خصوصاً برہنہ طواف کے ہوتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسم کو حج کرنا ناگوار تھا۔


        تاہم اللہ کی طرف سے یہ فیصلہ ہوچکا تھا کہ مشرکین کی یہ رسوم جلد مٹادی جائیں چنانچہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی روانگی کے بعد سورۃ التوبہ کی آیات نازل ہوئیں جن کی ابتداء اس طرح تھی:


بَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖٓ اِلَى الَّذِيْنَ عَاهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ * فَسِيْحُوْا فِى الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّاعْلَمُوْٓا اَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللّٰهِ وَاَنَّ اللّٰهَ مُخْزِي الْكٰفِرِيْنَ* وَاَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖٓ اِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِيْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ وَرَسُوْلُهٗؕ فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَخَيْرٌ لَّكُمْۚ وَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللّٰهِؕ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ

        (دست برداری ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکین سے جن سے تم نے عہد کر رکھا تھا۔ سو اے مشرکو! تم زمین میں چار ماہ چل پھرلواورجان لو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے بلکہ اللہ ہی مشرکوں کو رسوا کرنے والا ہے۔ اور اعلان کیا جاتا ہے اللہ اوراس کے رسول کی طرف سے بڑے حج کے دن کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکوں سے دست بردار ہیں۔ پھر بھی اگر تم توبہ کرلو تو تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر تم روگردانی کیے رہے تو جان لو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے اور کافروں کو دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجئے۔)

        انہی آیات میں آگے یہ حکم بھی تھا:

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَاۚ

        (اے ایمان والو! مشرکین بالکل ناپاک ہیں پس وہ اس سال کے بعد مسجد الحرام کے قریب بھی نہ آنے پائیں۔)

        نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسم نے فوراًحضرت علیؓ کو سورۃ التوبہ کی یہ آیات اوران کے مطابق یہ اعلامیہ دے کر روانہ فرمایا: "آج کے بعد کسی مشرک کو حج کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ کوئی شخص برہنہ ہوکر بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گا، جن قبائل کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسم سے کسی مخصوص مدت تک کا معاہدہ تھا وہ اپنی مدت تک باقی ہے۔ باقی لوگوں کو صرف چارماہ کی مہلت دی جاتی ہے۔ اس کے بعد ان سے کوئی معاہدہ نہیں رہے گا۔"

        یہ اعلامیہ میدان عرفات میں ۹ ذوالحجہ کو پورے عرب سے آئے ہوئے حاجیوں کو سنایا گیا جن میں مسلم بھی تھے اور مشرک بھی۔حضرت علیؓ اورحضرت ابوہریرہؓ سمیت متعدد صحابہ حاجیوں کے مجمعوں اورڈیروں میں گشت کرکے یہ اعلان سناتے رہے۔حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اس قدر یہ صدا لگائی کہ میریآواز بیٹھ گئی۔

        اس ترتیب کے ذریعے بیت اللہ اورحرم پاک سے مشرکین اور شرکیہ رسومات کا تعلق جو زمانہ دراز سے چلا آرہا تھا، ہمیشہ کے لیے ختم کردیا گیا۔ قرآن مجید نے اس حج کو "حج اکبر" کا نام دیا۔ صدیوں بعد پہلی بارحج کی عظیم عبادت میں وہ لوگ شامل ہوئے تھے جن کا عقیدہ کعبہ کے بانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے عقیدے کے مطابق تھا اورایک طویل زمانے کے بعد کعبہ،حرم اورمناسک حج کو اپنی اصل اور پاکیزہ شکل واپس مل گئی تھی۔

نجران کے پادریوں سے مناظرہ:

        سن ۹ ہجری میں حضرت خالد بن ولیدؓ نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسم کے فرمان کےمطابق نجران کے علاقے میں فوج کشی کی۔ یہاں نصرانی آباد تھے، حضرت خالدؓ نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو اس کے ردعمل میں نجران کے پادریوں کا ایک وفد مدینہ چلا آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسم سے مذہبی بحث چھیڑدی۔

        بحث میں شکست کھانے کے بعد پادریوں نے مباہلے کی دعوت دے ڈالی یعنی دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف بد دعائیں کریں کہ جو جھوٹا ہے اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسم اس کے لئے تیار ہوگئے۔اہل بیت میں سے تمام امہات المؤمنین تو اس مباہلے میں شامل تھیں ہی مگر آپ نے مزید اہتمام کے لیے اپنی اولاد کو بھی بلالیا۔ چونکہ اس وقت تک آپ صلی اللہ علیہ وسم کی بیٹیاں حضرت زینب، حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہن وفات پاچکی تھیں،اس لیے صرف حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا تشریف لاسکیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ داماد ہونے کے ناطے،آپ کے بیٹوں کی مانند تھے، وہ بھی اور ان کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسم کے دونوں نواسے حسن وحسین رضی اللہ عنہما بھی آگئے۔

        ابھی مباہلہ شروع نہیں ہوا تھا کہ عین وقت پر پادریوں کی ہمت جواب دے گئی اور ان کے ضمیر نے گواہی دی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسم کی بددعا خالی نہیں جائے گی۔

        انہوں نے آپس میں کہا: "اگر یہ واقعی پیغمبر ہیں تو نہ ہی ہم کو کبھی کوئی فلاح نصیب ہوگی نہ ہماری نسلوں کو۔"انہوں نے اسلامی ریاست کے ماتحت رہنے کا ارادہ ظاہرکیا اور درخواست کی کہ(ہمارا انتظام سنبھالنے کے لیے) کوئی امانت دار انسان ہمارے ساتھ بھیج دیں۔

        حضور صلی اللہ علیہ وسم نے حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ روانہ فرما دیا۔

عاملین زکوٰۃ کا تقرر:

        حضور صلی اللہ علیہ وسم نے اس سال عرب کے مختلف علاقوں میں اپنے امراء اورعاملین زکوٰۃ مقرر فرمادیے۔ کئی صحابہ اس کام کے لیے بھیجے گئے۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو مآرب، عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو نجران، زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ کو حضرموت اور یعلیٰ بن اُمیّہ رضی اللہ عنہ کو جند بھیجا۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کے لوگوں کی دینی تعلیم اور رہنمائی کی ذمہ داری بھی سونپی گئی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یمن کے محصولات کی وصولی کا کام دے کر بھیجا گیا۔

مزید وفود کی آمد:

        اسلام قبول کرنے والوں میں اس سال بنوزبید کا وفد حاضرہوا، جس کے امیر عمرو بن معدی کرب تھے۔ اشعث بن قیس نے بنوکندہ کے ساٹھ سواروں کے ساتھ آ کر اسلام قبول کیا۔ مُحارِب، بنوعَبس اوردیگروفودبھی آئے اورایمان کی دولت سے مالامال ہوکرگئے۔

کچھ بد قسمت لوگ:

        کچھ بدبخت ایسے بھی تھے جو اب بھی محروم رہے۔ یمامہ سے مُسَیلمہ بنوحنیف کا وفد لے کرآیا اور حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسم سے ملا مگراس کا دل سرکشی اور تکبر سے بھرا ہوا تھا۔ اس میں ایمان نہ اترسکا۔ اس نے یہ پیش کش کی کہ ہم آپ کی نبوت کی مخالفت نہیں کریں گے بشرطیکہ آپ اپنے بعد نبوت ہمارے نام کرجائیں۔

        حضور صلی اللہ علیہ وسم کے دست مبارک میں اس وقت ایک چھڑی تھی۔ اس بیہودہ مطالبے پر آپ نے غضب ناک ہوکر فرمایا: "اگر تو مجھ سے یہ چھڑی بھی مانگے گا تو میں تجھے نہیں دوں گا۔"

        پھر دربارِرسالت کے خطیب ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کو حکم ہوا کہ اس بدبخت کو مفصل اور منہ توڑ جواب دیں۔

        انہیں دنوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسم نے خواب میں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسم کے دونوں ہاتھوں میں دوسونے کے کنگن ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسم کو ناگوار خاطر گزر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسم  نے انہیں پھونک ماری تو وہ دونوں غائب ہوگئے۔

        رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسم نے اس کی تعبیر یہ لی کہ دو جھوٹے مدعی نبوت ظاہر ہوں گے۔ ایسا ہی ہوا۔

        ان میں سے ایک اسود عنسی تھا جس نے اسی سال یمن میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ بہت سے لوگ اس کے چنگل میں پھنس گئے۔ ان میں مجوسی پیش پیش تھے۔ دوسرا مسیلمہ کذاب تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسم کے دو ٹوک جواب سے مایوس ہوکر واپس گیا اور کچھ مدت بعد اس نے بھی یمامہ میں نبوت کا دعویٰ کرکے ہزاروں لوگوں کو گمراہ کردیا جن میں اکثریت اس کے قبیلے بنی حنیف کی تھی۔

        عامر بن طفیل بھی جو بنی عامر کے وفد میں شامل تھا، نہ صرف اسلام لانے سے گریزاں رہا بلکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسم کو دھمکی دے کرگیا کہ میں گھڑ سواروں اور پیادوں کو لے کر مدینہ پر چڑھائی کروں گا۔

        حضور نے دعا کی:

        "یا اللہ! بنوعامر کو ہدایت نصیب فرما اورمسلمانوں کو عامر بن طفیل سے نجات دلا دے۔"

        عامر بن طفیل کو فوراً اپنی گستاخی کی سزا مل گئی۔ وہ مدینہ سے واپس جارہا تھا کہ راستے میں اسے طاعون کی ایسی بڑی گلٹی نکل آئی جیسے اونٹ کونکلتی ہے۔ اسے مجبوراً راستے میں بنوسلول کی کسی عورت کے گھر میں ٹھہرنا پڑا۔ عرب کا حکمران بننے کے خواب دیکھنے والا یہ بدبخت حسرت اورتکلیف کے مارے چیختا رہا: "اونٹ جیسی گلٹی! سلولی عورت کا گھر"

        آخر اپنے وطن میں موت کی تمنا لیے وہ گھوڑے پر سوارہوکر نکلا مگر جلدہی گھوڑے کی زین پر اس کا دم نکل گیا۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic