حجۃ الوداع......(۱۰ ہجری)
ہجرت کا دسواں سال ختم ہونے کو تھا۔ اسلام صحرائے عرب کے ہر گوشے کو محیط ہوکر فارس اور روم کی سرحدوں پر جاپہنچا تھا۔ قرآن مجید کی آیات اور حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے ذریعے اللہ کے آخری دین کی تکمیل ہوچکی تھی۔دین کے ایک ایک پہلو کو حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف اپنے قول بلکہ عمل سے بھی واضح کردیا تھا، تاہم ایک فریضے کی ادائیگی باقی تھی اور وہ تھا فریضہ حج جو مسلمانوں کی اجتماعیت اور وحدتِ امت کا مظہر تھا۔
فتح مکہ کے تین ماہ بعد عتّاب بن اسیدؓ کی امارت میں پہلا حج ہوا تھا جبکہ اس کے ایک سال بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ کی امارت میں دوسرا حج ادا کیاگیا تھا۔ یوں فتح مکہ کے بعد تقریباً سوا سال تک مشرکین کو مناسکِ حج میں شریک سمجھا گیا اور انہی کی تقویم جاری رہی۔ مشرکین کی شرکت کے باعث حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اب تک خود حج ادا نہیں فرمایا تھا، اس لیے مناسکِ حج کے اسلامی احکام کی تعلیم ابھی باقی تھی۔
تاہم اب مشرکین کا حرم میں داخلہ ممنوع ہوچکا تھا۔ انہیں دی گئی مہلت بھی گزر چکی تھی۔ چنانچہ اس آخری فریضے کو ادا کرنے کے لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالقعدہ ۱۰ ہجری میں حج کی تیاری فرمائی تاکہ اس فریضے کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ لوگوں کو مناسکِ حج سکھائے جائیں، حکومتِ الٰہیہ کے قیام کا بانگِ دہل اعلان ہو، تمام کفریہ رسمیں اورجاہلی مفاخر نیست ونابود کردیے جائیں، عورتوں، غلاموں اور پس ماندہ طبقات کے حقوق کی تعلیم عام ہو۔ صدیوں بعد یہ پہلا حج تھا جو صحیح فطری اوقات میں ادا کیا جا رہا تھا۔
رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا ارادہ ظاہرکیا تو ہر طرف ہلچل مچ گئی اوراس مبارک سفرمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ سعادت حاصل کرنے کے لیے مسلمان پروانہ وارامنڈ پڑے۔ ۲۴ ذوالقعدہ بروز جمعہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے مجمع میں سفرِحج اور مناسکِ حج سے متعلق تفصیلی ہدایات دیں، اگلے دن رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ سے کچھ دور ذوالحلیفہ کے مقام سے حج کا احرام باندھا اور ۲۶ ذوالقعدہ کوایک بہت بڑے قافلے کے ساتھ ''لبیک اللھم لبیک'' کی صدا بلند کرتے ہوئے مکہ معظمہ کی طرفروانہ ہوئے۔ رفقاء کی تعداد چالیس ہزار کے لگ بھگ تھی۔ تمام امہات المومنین بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم رکاب تھیں۔ یہ سفر نہ صرف ایک عظیم عبادت کی ادائیگی کے لیے تھا بلکہ یہ اُمت کو مناسکِ حج کی عملی تربیت دینے کا ذریعہ بھی تھا۔ اس سے ان بے شمار مسلمانوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت اوررفاقت کا موقع بھی مل رہا تھا جنہوں نے قریبی دنوں میں دینِ اسلام قبول کیا تھا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار سے محروم تھے۔
آٹھ دن کے سفرکے بعد ۴ ذوالحجہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔ بیت اللہ پر نگاہ پڑی تو دعا فرمائی:
"اَللّٰھُمَّ زِدْ بَیْتَکَ ھٰذَا تَشْرِیْفًا وَّ تَعْظِیْمًا وَّ تَکْرِیْمًا وَّ مَھَابَۃً"
"اے اللہ! اپنے اس گھر کی عزت، عظمت، بزرگی اور توقیر میں اضافہ فرما۔"
رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجرِ اسود کے استلام کے بعد طواف شروع کیا، اس کے بعد سعی کے لیے صفا پہاڑی پر تشریف لے گئے اور دعا فرمائی:
"لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ ، اَنْجَزَ وَعْدَہٗ وَنَصَرَعَبْدَہٗ وَھَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَہٗ"
"اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس کی بادشاہت ہے اور اس کے لیے ہرتعریف ہے۔ وہ ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ اکیلا ہے۔ اس نے اپنا وعدہ پورا کیا۔ اپنے بندے کی مدد فرمائی اور تمام لشکروں کو تنہا شکست دی۔"
۹ ذوالحجہ کو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا رکنِ اعظم وقوفِ عرفہ ادا فرمایا اور اس دوران میدانِ عرفات میں لگ بھگ ایک لاکھ صحابہ کرام کے عظیم مجمع کے سامنے ایک تاریخی خطبہ دیا جس میں باہمی معاملات، اخلاقی حسنہ، حقوق العباد اور سیاستِ اسلامی کے حوالے سے نہایت اہم نصیحتیں تھیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول اورکائنات کے سب سے برگزیدہ رہنما کی طرف سے انسانوں کے لیے ایک وصیت نامہ تھا، جس کے ہر فقرے میں دنیا وآخرت کی کامیابی کے اصول سمو دیے گئے تھے۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"اے لوگو! میری باتیں غور سے سنو! شاید اس کے بعد تم سے اس طرحملاقات نہ ہو۔ لوگو! تمہاری جانیں، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں، ایک دوسرے کے لیے اسی طرح قابلِ احترام ہیں جیسے یہ دن اور یہ مہینہ محترم ہے۔ تم عنقریب اپنے رب کے سامنے پیش ہوگے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کی بابت پوچھ گچھ کرے گا۔
لوگو! شیطان اس بات سے تو مایوس ہوگیا کہ تمہاری سرزمین میں کبھی اس کی عبادت کی جائے گی مگر وہ اس پر بھی مطمئن ہے کہ تم چھوٹی چھوٹی چیزوں میں اس کی پیروی کرتے رہو، پس اپنے دین کے معاملات میں شیطان کی پیروی سےبچو۔ میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں۔ اگر تم انہیں مضبوطی سے تھامے رہے تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے: ایک اللہ کی کتاب قرآن مجید اور دوسری میری سنت۔
لوگو! تمہاری عورتوں کا تم پر حق ہے۔ بے شک وہ تمہارے ماتحت ہیں۔ تم نے انہیں اللہ کے نام پر اپنے لیے حلال کیا ہے۔ لوگو! یاد رکھو، ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے مال میں سے کوئی چیز اس کی مرضی کے بغیر لے لے۔"
لوگوں کو اتحاد، یکجہتی اور اپنے سربراہ کی اطاعت کی تلقین کرتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی تاکید کے ساتھ فرمایا:
"اگر کسی نکٹے، سیاہ رنگ غلام کو بھی تمہارا حاکم مقرر کردیا جائے جو تمہیں کتاب اللہ اور سنت کے مطابق لے کرچلے تو تم اس کی بات سنتے اور مانتے رہنا۔"
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عقیدے کو خالص رکھنے اور گناہوں سے پرہیز کرنے پر زور دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
"اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا۔ انسانی جان کو جسے اللہ نے محترم بنایا ہے، ہرگز قتل نہ کرنا، سوائے ایسے موقع کے کہ جہاں شریعت نے جان لینے کا حق دیا ہو۔ زنا مت کرنا، چوری نہ کرنا۔"
آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو انتشار اورخانہ جنگی کے خطرات سے خبردار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
"دیکھو کہیں میرے بعد گمراہ مت ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔"
خطبے کے اختتام پر خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے حاضرین کو تاکید کرتے ہوئے فرمایا:
"جوموجود ہیں، وہ ان لوگوں تک یہ باتیں پہنچا دیں جو یہاں نہیں۔ بعض اوقات خود سننے والے کی نسبت وہ شخص بات کو زیادہ محفوظ رکھتا ہے جسے بات کسی ذریعے سے پہنچائی گئی ہو۔"
اپنی بات مکمل کرکے نبیِ آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری اُمت کے اس نمائندہ اجتماع سے دریافت فرمایا:
"تم سے قیامت کے دن میرے بارے میں سوال کیا جائے گا۔بتاؤ تم کیا جواب دوگے؟''
مجمع نے بیک زبان کہا: "ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے رب کا پیغام پہنچا دیا، اپنا فرض پورا کردیا اور ہماری خیر خواہی کا حق ادا فرما دیا۔"
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگشتِ مبارک آسمان کی طرف بلند کی اور عرض کیا: "اے اللہ! تو گواہ رہنا۔"
اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اورعصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا فرمائیں اورقبلہ رخ ہوکر سورج غروب ہونے تک کھڑے کھڑے بڑی گریہ و زاری کے ساتھ دعا کرتے رہے۔
نبیِ آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے:
"اے اللہ! میں ایک مصیبت زدہ فقیر، فریادی اور پناہ گزیں، گھبرایا ہوا اور خوف زدہ، اپنے گناہوں کا اعتراف کررہا ہوں۔ میں تجھ سے ایک مسکین کی طرح ایک مجرم اور بے حیثیت شخص کی طرح مانگ رہا ہوں، ایک ایسے خوف زدہ، ہراساں بندے کی مانند دعا کرتا ہوں جس کی گردن تیرے آگے جھک چکی، جس کے آنسو تیرے سامنے بہہ پڑے، جس کا جسم تیرے آگے مسخر ہوچکا، جو تیرے دربار میں ناک رگڑ رہا ہے۔ اے اللہ! اے میرے رب! مجھے اپنی فریاد میں محروم نہ بنانا۔ میرے حق میں شفیق اورمہربان ہوجا۔ اے بہترین سوال کیے جانے والے! سب سے بڑھ کر عطا کرنے والے!"
اس دوران قرآن مجید کی آخری آیت نازل ہوئی، جس میں شریعت کی تکمیل کی خوشخبری کے ساتھ قیامت تک اللہ کے نزدیک صرف اسلام کے پسندیدہ دین ہونےکے فیصلے پر مہرِ توثیق ثبت کردی گئی ۔ ارشاد ہوا:
اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا
"آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہاری شریعت کو کامل کردیا، اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی، اوراسلام کو تمہارے لیے دین کے طور پر پسند کرلیا۔"
12 ذوالحجہ کو حضور نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں مناسکِ حج ادا فرما رہے تھے کہ اس دوران سورۃ النصر کا نزول ہوا جو نزول کے اعتبار سے قرآن مجید کی آخری سورت ہے۔ ارشاد ہوا:
اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ اِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا
"جب اللہ کی مدد اور فتح حاصل ہوگئی اورآپ نے دیکھ لیا کہ لوگ فوج درفوج اللہ کے دین میں داخل ہورہے ہیں تو آپ اپنے رب کی تسبیح وتحمید بیان کریں اور استغفار کریں۔ بے شک وہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔"
یہ سورہ مبارکہ اشارہ دے رہی تھی کہ پیغمبرِ آخرالزماںصلی اللہ علیہ وسلم جس عظیم ذمہ داری کو اداکرنے کے لیے تشریف لائے تھے وہ انجام پاچکی ہے اوراب آپ کا سفرِآخرت قریب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سورت کے نزول کے موقع پرجہاں دیگرصحابہ کو مسرت ہورہی تھی ، وہاں مقامِ رسالت کے سب سے بڑے رمزشناس حضرت ابوبکرصدیقؓ رورہے تھے؛ کیوں کہ انہوں نے محسوس کرلیا تھا کہ اس سورت میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا سے واپسی کی تیاری کا حکم دیا گیا ہے۔
خطابِ غَدیرِ خُم
مکہ سے واپسی پر ۱۸ ذوالحجہ کو مدینہ کے راستے میں "خم" نامی ایک تالاب پر پڑاؤ ہوا۔ یہاں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاضرین کو خطاب کرتے ہوئے چند اہم نصیحتیں فرمائیں۔
ارشاد ہوا:"میں تمہارے درمیان دو اہم چیزیں چھوڑے جارہا ہوں: ایک کتاب اللہ، جس میں ہدایت اورروشنی ہے۔ پس تم اللہ کی کتاب کو لے لو، اسے تھامے رہو۔"
پھرفرمایا: "اور میرے اہل بیت۔ میں ان کے بارے میں تمہیں اللہ یاد دلاتا ہوں۔"
آخری جملہ نبیِ آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار دہرایا۔اسی خطاب میں آپ نے حضرت علیؓ کے بارے میں ارشاد فرمایا:"مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ"(جس کا میں دوست ہوں، اس کا علی بھی دوست ہے)۔
رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ تا قیامت آنے والے مسلمان حضرت علیؓ کو اپنا محبوب، رہنما اور بڑا سمجھیں، ان کا مقام ملحوظ رکھیں، ان کا پورا احترام کریں اور کسی بے ادبی کے مرتکب نہ ہوں۔
دراصل حضرت علیؓ کے بارے میں یہ ارشاد ان لوگوں کی تنبیہ کے لیے ہے جو بعد کے دور میں "ناصبی" بن گئے۔ یہ فرقہ حضرت علیؓ، فاطمہؓ اور حسن وحسینؓ پر بے جا طعنہ زنی کرتا آیا ہے۔ کسی مسلمان کو ایسا کرنا ہرگز زیبا نہیں۔ سخت خطرہ ہے کہ حضرت علیؓ یا سادات کرام کی تحقیر پرمبنی سوچ بروزِحشر رسوائی، شفاعتِ محمدیہ سے محرومی اور نارِ جہنم کا باعث ہوگی۔

