اقدامی جہاد کا آغاز
صلح حدیبیہ کے فورا بعد حضوراکرم ﷺ نے جہاد اور اسلامی سیاست کے ایک اور عظیم مرحلے کی داغ بیل ڈالی اور پہلی بار مدینہ سے باہر منظم فوج کشی کی۔ اب تک کی اکثر جنگیں یا تو دفاعی تھی جیسے غزوۂ احد اور غزوۂ خندق یا ان کی حیثیت دشمن کے علاقوں، قاتلوں اور رسد وغیرہ پر چھاپے مارنے کی ہی تھی۔ اب تک مسلمانوں نے اپنے علاقے سے نکل کر باقاعدہ کسی اور شہری علاقے پر قبضہ نہیں کیا تھا۔ بنونظیر، بنوقینقاع اوربنوقریظہ کی جنگوں میں اگرچہ قلعے چھینے گئے تھے مگر یہ سب مدینہ کے اندرونی محاذ تھے۔ ایسی جنگ جس میں فوج کشی کرکے دشمن کے علاقوں پر قبضہ کیا جائے، پہلی بار غزوۂ خیبر میں ہوئی جوصلح حدیبیہ کے دو ماہ بعد محرم سن ۷ ہجری میں پیش آیا۔ اسی کو "اقدامی جہاد“ کہا جاتا ہے اور "دفاعی جہاد" کی طرح یہ بھی جہاد کی ایک اہم قسم ہے۔
خیبر:یہود کی سازشوں کا مرکز:
خیبر کسی ایک قلعے کا نام نہیں بلکہ یہ مدینہ کے شمال میں نوے میل (۱۴۴ کلومیٹر) دور یہودیوں کی درجنوں آبادیوں چھوٹے بڑے دس قلعوں اور باغات پر مشتمل ایک وسیع وعریض علاقہ تھا۔ قلعوں میں سے سات ایک دائرے میں تھے اور تین الگ الگ۔ یہاں کے یہودی زراعت پیشہ اور بڑے خوشحال تھے۔ وہ لڑنے بھڑنے میں طاق تھے اور ریاستِ مدینہ کے خلاف نت نئی سازشوں میں مصروف رہتے تھے۔ مدینہ سے جلاوطن ہونے والے بنونضیر اور بنوقینقاع کے بہت سے فسادی لوگ بھی یہاں آکر ان سازشوں میں شریک ہوگئے تھے۔ اس طرح خیبر جزیرۃ العرب میں یہودیوں کی طاقت کا سب سے بڑا مرکز بن گیا، جس کے قلعوں میں بیس ہزار مسلح افراد موجود تھے۔
غزوۂ خندق میں اتحادیوں کو مدینہ پر حملے کے لیے ابھارنے والے یہی یہودی تھے۔ بنونضیر کے سردار حُیی بن اخطب کے قتل کے بعد سلام بن ابی الحُقَیق (ابو رافع عبداللہ) یہود کا سربراہ مقرر ہوا تو اس نے خیبرکو مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا مرکز بنالیا، وہ اسلام کے خلاف زہر اگلتا اور مختلف قبیلوں کو مسلمانوں کے خلاف ابھارتا رہا۔ آخر حضور ﷺ نے عبداللہ بن عتیک انصاریؓ کو خفیہ مہم پر خیبر بھیج کر اس فتنہ پرور سردار کو قتل کرادیا۔
غزوۂ خیبر کی تمہیدات: یسیر بن رِزام کا قتل
اب یسیر بن رزام خیبر کا سردار بنا اور وہ بھی سلام بن ابی الحقیق کی طرح غطفان کی مدد سے مدینہ منورہ پرچڑھائی کی تیاری کرنے لگا۔ حضور ﷺ نے شوال ۶ھ میں عبداللہ بن اُنیسؓ اور عبداللہ بن رواحہؓ کو خیبر بھیج کر یسیر بن رزام کو پیش کش کی کہ وہ مدینہ آکر صلح کے مذاکرات کرلے، اس کی حکومت تسلیم کرلی جائے گی۔
یسیربن رزام اس پیش کش میں دل چسپی لے کر ساتھیوں کے ساتھ مدینہ روانہ ہوا، آپ ﷺ کے سفارتی وفد کے افراد بھی اس کے ساتھ تھے مگر دونوں طرف سے سے خدشات کی فضا برابر قائم تھی، جس کی وجہ سے راستے میں یسیر بن رزام نے عبداللہ بن انیس کو نہتا کرنے کی کوشش کی۔ اس پر بات بڑھ گئی اور کشت وخون میں خود یسیر بن رزام مارا گیا۔ اس واقعے کے بعد ریاستِ مدینہ اورخیبر کے مابین تعلقات نہایت کشیدہ ہوگئے۔
غزوۂ ذی قرد۔ ایک کم عمر صحابی کی جرات و شجاعت کا تاریخی واقعہ:
انہی دنوں بنوقارہ کے چھاپہ ماروں نے مدینہ کی چراگاہ غابہ (ذی قرد) پرحملہ کرکے مویشی لوٹے اور ان کے نگران کو قتل کردیا۔ یہ سب رات کے آخری حصے میں ہوا۔ ایک کم عمرصحابی سَلمہ بن اکوعؓ اس دن فجر سے قبل تیرکمان لیے گھوڑے پر سوار غابہ کی طرف چلے جارہے تھے۔ انہیں کسی نے لوٹ مار کی اطلاع دی تو فورًا ایک پہاڑی پر چڑھ کر آواز لگائی ''ڈاکہ! ڈاکہ!'' یہ اعلان کرکے وہ اکیلے ان لٹیروں کے پیچھے دوڑے ۔ ان کی تیز دوڑ ضرب المثل تھی اور نشانه بازی قابل رشک - جلد ہی وہ دشمنوں کے قریب جانچ کر ان پر تیر برسانے لگے۔ ساتھ ساتھ وہ یہ نعرہ لگا رہے تھے: انا ابن الأكوعُ الْيَوْمَ يَوْمَ الرُّضّع (میں ہوں ابن انواع ، آج تمہیں چھٹی کا دودھ یاد آجائے گا۔)
حضرت سلمہؓ کا نشانہ بے خطا تھا، جسے لگتا وہ زخمی یا ہلاک ہوکر گرپڑتا۔ پہلے تو لٹیرے یہ سمجھتے رہے کہ تعاقب کرنے والے کئی ہیں ، اس لئے وہ سر پر پاؤں رکھ کر بھاگتے رہے مگر بعد میں ان کو اندازہ ہوگیا کہ یہ ایک اکیلا لڑکا ہے جو ہمیں پریشان کئے ہوئے ہے۔ اب لٹیروں نے پلٹ کر حملہ کرنے اور انہیں پکڑنے کی کوشش شروع کی مگر جوں ہی کوئی گھوڑا موڑ کر ان کی طرف آتا، یہ کسی درخت یا پتھر کے پیچھے چھپ کر تیر چلاتے اور اس کے گھوڑے کو زخمی کر دیتے، وہ اپنی جان بچانے کے لئے واپس بھاگ جاتا۔ حضرت سلمہؓ کے تعاقب سے لٹیرے اتنے بدحواس ہوئے کہ لوٹی ہوئی اونٹنیوں کے علاوہ سامان سفر اور زائد ہتھیاروں کا بوجھ بھی پھینک کر بھاگتے چلے گئے۔ سلمہؓ اس پھیکے ہوئے مال پر کوئی نشان لگا کر آگے بڑھتے رہے تاکہ پیچھے آنے والے مسلمان اسے مالی غنیمت سمجھ کر سنبھال لیں۔
آگے چل کر میدانی علاقہ ختم ہوگیا اور پہاڑی گھاٹیاں شروع ہوگئیں۔ لٹیرے نشیبی راستوں میں تھے اور سلمہؓ پیچھے بلندی پر بھاگتے ہوئے ان پر بڑے بڑے پتھر لڑھکاتے جارہے تھے۔ کچھ دیر بعد لٹیروں کو ایک اور جماعت مدد کے لئے مل گئی ، اب ان کی جان میں جان آئی۔ اور انہوں نے اس تنہا مجاہد کو پکڑنے کی کوشش کی۔ سلمہؓ ایک پہاڑی پر چڑھ گئے اور للکار کر کہا میں ابن اکوع ہوں ، حضرت محمد ﷺ کو عزت بخشنے والی ذات کی قسم! تم میں سے کوئی مجھے پکڑ نہیں سکتا اور میں جس کو چاہوں پکڑ سکتا ہوں۔"
وہ لوگ گھبرا گئے، حضرت سلمہؓ نے ان کو باتوں میں لگائے رکھا تاکہ مدینہ سے مسلمانوں کی مدد آجائے۔ کچھ دیر بعد دور سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ایک گھڑ سوار دستہ آتا دکھائی دیا۔ ان کے میدان میں پہنچتے ہی لڑائی شروع ہوگئی لٹیروں کا سردار مارا گیا باقی بھاگ نکلے۔ حضرت سلمہؓ ایک بار پھر ان کے پیچھے دوڑے اور دیر تک ان کا تعاقب کرتے رہے۔ بھاگنے والے لٹیرے پانی پینے ایک تالاب کے پاس رکے مگر جب حضرت سلمہؓ کو آتے دیکھا تو خوف کے مارے پانی پیے بغیر بھاگ کھڑے ہوئے، ان میں سے ایک آدمی ذرا پیچھے رہ گیا، حضرت سلمہ بن اکوعؓ نے تعاقب کرتے ہوئے ایک پہاڑ کی کھائی میں اس کو جالیا اور تیر چلاتے ہوئے نعرہ لگایا:
میں ہوں ابن اکوع آج دن ہے ذلیل لوگوں کی ہلاکت کا۔"
تیر اس کے کاندھے سے پار ہوگیا اور وہ تکلیف سے چلاتے ہوئے بولا: " ارے تو وہی صبح والا ابن اکوع ہے؟" حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: "ہاں! اپنی جان کے دشمن ؟ میں وہی صبح والا ابن اکوع ہوں ۔
شام ہوچکی تھی اس لیے حضرت سلمہؓ ڈاکوؤں کے دو گھوڑے اپنے قبضے میں لئے ہوئے واپس روانہ ہوئے۔ راستے میں دیکھا کہ حضور نبی کریم ﷺ خود مزید صحابہ کے ساتھ تشریف لاچکے تھے۔ کافر جو اونٹنیاں، چادریں اور نیزے چھوڑ گئے تھے صحابہ کرام نے ان کو جمع کرلیا تھا۔ حضرت بلالؓ ایک اونٹنی ذبح کرکے اس کی کلیجی اور کوہان بھون رہے تھے تاکہ حضورﷺ نوش فرمائیں ۔ حضرت سلمہؓ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: اللہ کے رسول ! اگر ایک سو آدمی میرے ساتھ کردیں تو میں دشمنوں کا تعاقب کرکے انہیں ختم کردوں ۔
حضور ﷺ اس کم عمر جانثار کی جرأت اور ہمت پر اتنے خوش ہوئے کہ ہنس دیئے ۔ پھر فرمایا " اب مزید تعاتب مناسب نہیں۔ وہ لوگ اپنے قبائل میں پہنچ گئے ہیں۔ رات بھر آرام کرکے صبح کو جب مدینہ منورہ کی طرف واپسی ہوئی تو حضور ﷺ نے حضرت سلمہ بن اکوعؓ کو اپنے ساتھ اپنی اونٹنی پر بٹھا لیا جو ان کے لیے بہت بڑا اعزاز تھا۔ امام بخاری کے مطابق یہ معرکہ جسے غزوۂ ذی قرد کہا جاتا ہے، خیبر پر حملے سے تین دن پہلے لڑا گیا تھا۔

