Hazrat Abu Basir (R.A) Ki Karwaiyan Aur Quraish Ki Maeeshat Par Asar

 حوصلے اور اطاعت کا ایک شدید امتحان

        ابھی صلح نامے پر دستخط نہیں ہوئے تھے کہ ایک عجیب واقعہ پیش آیا جو مسلمانوں کی ہمت حوصلے اور اطاعتِ رسول کا سخت ترین امتحان تھا۔ ہوا یہ کہ قریش کے سفیر سہیل بن عمرو کے نوجوان بیٹے ابوجندل نے مکہ میں اسلام قبول کر لیا تھا، انہیں اس کی پاداش میں زنجیروں میں جکڑ کر رکھا گیا تھا مگروہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ کے قریب تشریف آوری کا سن کر کسی طرح بھاگ نکلے اور اس حال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے کہ پیروں میں بیڑیاں پڑی تھیں۔ سہیل بن عمرو نے دیکھا تو کہا کہ معاہدے کے مطابق اسے واپس کیا جائے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:



        ابھی صلح نامہ پر دستخط نہیں ہوئے۔  مگر سہیل بن عمرو نے بیٹے کی واپسی پر اصرار کیا۔

        آخر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں واپس جانے کا حکم دیا۔ حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے یہ دیکھا تو بے چین ہوکر بولے:

        یا رسول اللہ کیا ہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں؟ پھر کیوں ہم اپنے دین کے معاملے میں سرنیچا کریں؟

         رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم  ہم نے فرمایا: "عمر اللہ میرا مددگار ہے۔

        وہ بولے: "کیا آپ نے نہیں فرمایا تھا کہ ہم بیت اللہ کا طواف کریں گے۔"

        رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں مگر میں نے یہ کب کہا تھا کہ اس سال کریں گے۔

        آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجندل رضی اللّٰہ عنہ کو تسلی دے کر رخصت کیا ۔صلح نامے پر دستخط ہوگئے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ اپنے جانوروں کو قربان کرکے اور سر منڈواکر احرام کھول دیں۔  29 ذی الحجہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ واپس پہنچ گئے۔

ابوبصیرؓ کی کاروائیاں

        رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ واپس تشریف لائے ہوئے زیادہ دن نہیں ہوئے تھے ایک مسلمان ابوبصیر کفار کی قید سے فرار ہوکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آگئے قریش نے دوسفیر بھیج کر معاہدے کے مطابق ان کی واپسی کا مطالبہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں واپس بھیج دیا ۔آپ کے فرمان کے مطابق قریش کے سفیروں کے ساتھ چل پڑھے مگر راستے میں موقع پاکر ان میں سے ایک کو قتل کردیا اور بھاگ کر پھر حضور ﷺ کی خدمت میں آگئے اور عرض کیا:

        آپ نے تو معاہدے کے مطابق مجھےان کے ساتھ بھیج کر اپنی ذمداری ادا فرمادی، پھر اللّٰہ تعالیٰ نے مجھےان سے بچالیا مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان کا رہنا اب بھی معاہدے کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا۔ لہذا آپ نے فرمایا:

        اگر اس (ابو بصیر) کے ساتھ اور لوگ ہوتے تو یہ جنگ کی آگ بھڑکا دیتا۔"وہ سمجھ گئے کہ انکا یہاں ٹھیرنا مناسب نہیں اور اگر قریش کی طرف سے انہیں گرفتار کرنے کوئی دوسرا وفد آیا تو انہیں واپس مکہ بھیج دیا جائے گا۔ چنانچہ وہ فی الفور مدینہ سے نکل گئے اور سمندر کے کنارے سیف البحر کے مقام پر قریشی کے قافلے کی راہ میں الگ تھلگ رہنے لگے۔

        کچھ دنوں بعد ابو جندل رضی اللّٰہ عنہ بھی مکہ سے فرار ہوکر ان کے پاس آگئے۔ رفتہ رفتہ قریش کے مظالم سے تنگ آنے والے درجنوں نوجوان بھاگ بھاگ کر یہیں جمع ہوگئے اور ان کی تعداد  70 تک پہنچ گئی۔ نوجوان ایک آزاد قوت بن کر قریش کے ہر آتے جاتے تجارتی کارواں پر چھاپے مارنے لگے۔ ان کے حملے اس تسلسل سے ہورہے تھے کہ قریش کی شام کی تجارت جو پہلے ہی کمزور  ہوچکی تھی، تقریبًا بند ہوگئی۔ آخر کار قریش نے تنگ آکر خود ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ صلح نامے سے وہ شق حذف کردی جائے جس کے تحت مکہ سے آپ کے پاس آنے والوں کو واپس کرنا ضروری ہے۔ اب جو بھی آپ کے پاس آئیگا۔ وہ مامون سمجھا جائیگا ۔ اسی طرح ابو جندل رضی اللّٰہ عنہ اور دیگر صحابہ کو جو ساحل پر مورچہ بنائے ہوئے تھے ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آنے کا موقع مل گیا ۔البتہ ابو بصیر رضی اللّٰہ عنہ اس سے پہلے وفات پاگئے۔

ابوبصیرؓ کی مہمات پر دکتور اکرم ضیاء العمری کا محققانہ تبصرہ

        ابوبصیر کی یہ مہم اسلامی تاریخ کا ایک منفرد تجربہ تھی جس نے حالات پر گہرے اثرات مرتب کیے ۔ عصر حاضر کے نامور محقق جناب دکتور اکرم ضیاء العمری اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

        حضرت ابو جندل رضی اللّٰہ عنہ اور حضرت ابو بصیر رضی اللّٰہ عنہ نے ایمان کی خاطر بے انتہا تکالیف سہی، لیکن انہوں نے انتہائی استقامت ، خلوص نیت اور اولوالعزمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جد و جہد اس وقت تک جاری رکھی جب تک مشرکین کا سر نیچا نہ کردیا۔ وہ مسلمانوں سے اس سخت شرط کو ہٹانے کا ذریعہ بن گئے جو مشرکین نے صلح حدیبیہ میں ان پرعائد کی تھی۔ یہ واقعہ ایمان سے وابستگی اور اس کے لیے جدوجہد کی ایک روشن مثال ہے۔ اس واقعے سے یہ اصول بھی اخذ ہوتا ہے کہ کبھی فردِ واحد وہ کام کر جاتا ہے جو پورا معاشرہ نہیں کرسکتا۔

        ابوبصیر رضی اللّٰہ عنہ اور ان کے رفقاء نے مشرکین کو ایسے وقت میں زک پہنچائی جب اسلامی مملکت ایسا کرنے سے قاصر تھی کیوں کہ مسلمان مشرکین سے صلح اور امن کی شرائط طے کرچکے تھے۔ حضرت ابوبصیر رضی اللّٰہ عنہ اور ان کے رفقاء چاہے بظاہری ہی سہی مگر ریاستِ مدینہ کی عمل داری سے باہر تھے۔ تاہم انہوں نے اور ان کے ساتھ مکہ کے مظلوم مسلمان ساتھیوں نے یہ تمام کارروائیاں محض ایسے اجتہاد سے نہیں کی تھیں جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا شامل نہ ہو۔ اگر  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تو شروع ہی میں ابوبصیر رضی اللّٰہ عنہ کو قریشی قافلوں پر حملوں سے منع کر دیتے یا مکہ واپس جانے کا حکم دے دیتے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہ کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی کی علامت تھی۔

        حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء نے جو کیا، وہ یقیناً عقل مندی تھی۔ انہوں نے مکہ میں رہ کر مظالم برداشت کرتے رہنا بھی گوارا نہ کیا اور نہ ہی یہ گوارا کیا کہ انہیں ان کے دین سے ہٹانے کی کوششیں کی جاتی رہیں۔ انہوں نے ایک ایسی تدبیر اختیار کی جس سے نہ صرف انہیں اہل مکہ کے ظلم و ستم سے نجات مل گئی بلکہ ان کی کارروائیوں سے مملکتِ مدینہ کو بھی مدد ملی؛ کیوں کہ ان کی کارروائیوں سے قریش کی معیشت کو نقصان پہنچا۔ ان کی کارروائیوں کا ایک نفع یہ بھی سامنے آیا کہ صلح کے دور میں بھی قریش کو اپنے تحفظ کا خدشہ لگا رہا۔ یہ بھی کہا جا سکتاہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبصیر رضی اللہ عنہ کے طرزِ عمل کی بالواسطہ حوصلہ افزائی کی؛ کیوں کہ آپ نے فرمایا تھا:

        "اگر ابوبصیر کے ساتھ اور لوگ بھی ہوتے تو یہ جنگ کی آگ بھڑکا دیتا۔"

صلح کے اثرات:

        "صلح حدیبیہ" سے حضورِ اکرم ﷺ کا وہ ارمان پورا ہوگیا، جس کا اظہار آپ نے حدیبیہ پر پڑاؤ ڈالتے وقت ان الفاظ میں کیا تھا: "قریش پر افسوس ہے، انہیں جنگوں نے نگل لیا۔ ان کا کیا بگڑ جائے گا اگر وہ مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں اور باقی عربوں کو ان کے حال پر۔ پھر اگر دوسرے عرب قبائل مجھ پر غالب آجائیں تو قریش کا مقصد خود بخود پورا ہوجائے اور اگر اللہ نے مجھے غالب کردیا تو قریش جوق در جوق اسلام میں داخل ہوجائیں۔"

خالد بن ولید اور عمرو بن العاص مشرف بہ اسلام ہوئے:

        حضور ﷺ کی توقعات پوری ہونے کے آثار بہت جلد ظاہر ہوئے۔ خود قریش کے بڑے بڑے شریف اور باصلاحیت لوگوں کے دلوں میں اسلام گھر کرنے لگا۔ جب قریش نے حضورِ اقدس ﷺ سے خود درخواست کرکے صلح نامے سے مکہ کے نئے مسلمانوں کو مدینہ منورہ سے جبراً واپس بھیجنے کی شق منسوخ کرائی تو اس کے کچھ ہی دنوں بعد قریش کے تین معزز اور قابل جوان حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے۔

        ان میں سے ایک خالد بن ولید تھے جن سے بڑا شہسوار اور مردِ میدان مکہ میں کوئی نہ تھا۔ 

         دوسرے عمرو بن العاص تھے جن کی دانائی اور ذہانت سے سب واقف تھے۔

         تیسرے عثمان بن طلحہ تھے، جن کا خاندان خانہ کعبہ کا کلید بردار تھا۔

        جب یہ تینوں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے صحابہ کرام سے فرمایا:

"رَمَتْکُمْ مَکَّةُ بِأَفْلَاذِ کَبِدِھَا"
(مکہ نے اپنے جگر کے ٹکڑے تمہارے حوالے کر دیے۔)

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic