سفرِ آخرت (Safar e Akhirat: The Last Days of Prophet Muhammad ﷺ in Urdu)

سفرِ آخرت


        اب وقت آچکا تھا کہ پیغمبرِ آخرالزماں  دنیائے فانی سے عالمِ جاودانی کی طرف رحلت فرمائیں کہ نبیِ آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا فرضِ منصبی پورا پورا ادا کردیا تھا۔ اللہ کا  پیغام پوری وضاحت کے ساتھ دنیا والوں کو پہنچا دیا تھا اور اس کے ابلاغ میں جدوجہد، صبر، ایثار اورقربانی کی انتہا کردی تھی۔ اب شریعت کی تکمیل ہوچکی تھی، وحی کا نزول پورا ہوگیا تھا۔ دینِ حق کا پرچم اب سربلند تھا اوراس کی حفاظت و اشاعت کے لیے ایک ایسی اُمت تیار کردی گئی تھی جسے "خیر اُمت" کا لقب ملا تھا جو قیامت تک بنی نوع آدم کی رہنمائی، امامت اور قیادت کی ذمہ دار تھی۔


        ۲۳ سال کے ان تھک مجاہدوں اورقربانیوں کے ذریعے رحمتِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم  نے بنی نوع انسان کے لیے ایک ایسے جہانِ نو کی بنیاد رکھ دی تھی جس کی پناہ میں انسانیت تا قیامت سکھ کا سانس لے سکتی تھی۔ اگرچہ اب تک اسلامی ریاست کی حدود جزیرۃ العرب تک محدود تھیں مگر دنیا کی بڑی بڑی حکومتوں کو دعوتِ اسلام پہنچ چکی تھی اور ہرقوم اس انقلاب کو چشمِ حیرت دیکھ رہی تھی جس نے صحرائے عرب کے ہر ذرے میں ایک نئی تابانی  پیدا کردی تھی۔

        حج سے واپسی کے بعد حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کا اشتیاق غالب محسوس ہونے لگا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  معمول سے زیادہ استغفار اورحمد و تسبیح میں مشغول رہنے لگے، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سفرِ آخرت کی تیاری فرما رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے ارشادات بھی آپ کی رخصتی کا پتا دے رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک دن غزوۂ احد کے شہیدوں کے لیے یوں دعا فرمائی جیسے آپ سب کو الوداع کہہ رہے ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  مسجد میں آئے اورمنبر پرتشریف فرما ہوکر صحابہ کرام کو یوں خطاب کیا:

        "میں تم سے پہلے اگلی منزل پر جارہا ہوں۔ میں تمہارے لیے گواہی دوں گا۔ اب تم سے حوضِ کوثر پرملاقات ہوگی۔مجھے یہ خدشہ تو نہیں ہے کہ تم میرے بعد شرک کرنے لگو گے، لیکن ڈرتا ہوں کہ تم دنیا داری میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنے لگو گے اور جس طرح گزشتہ قومیں ہلاک ہوئی ہیں، تم بھی اسی طرح ہلاک ہوجاؤ۔"

رومیوں کے خلاف نئی یلغار کی تیاری:

        خیبر،فدک اور وادی القریٰ کی شمالی فتوحات کے بعد ریاستِ مدینہ کی سرحدیں اس بازنطینی روما کی سرحدوں سے جاملی تھیں جس نے کچھ ہی مدت پہلے فارس جیسی عالمگیر طاقت کو گھٹنوں پر جھکاکر دنیا کو اپنی قوت وشوکت کا ازسرِنو یقین دلایا تھا۔ مگر اس عظمت وہیبت کے باوجود رومی اربابِ اقتدارعرب انقلاب کی لہر سے غیرمعمولی طور پر خائف تھے۔ اسی بناء پر انہوں نے بَلقاء جانے والے اسلامی سفیر حارث بن عمیر کو قتل کیا تھا جس کے ردِ عمل میں جنگِ موتہ برپا ہوئی اور بازنطینیوں نے مدینہ پر یلغار کی تیاریاں کرلیں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے تبوک تک پیش قدمی کرکے ناکام بنا دیا۔

        اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  حضرت عمرفاروقؓ کے مشورے پر مزید پیش قدمیمناسب وقت کے لیے ملتوی کرکے واپس چلے آئے تھے۔ مگر اس کے کچھ عرصہ بعد رومیوں کو سرزنش کرنے کی ایک اہم وجہ پیدا ہوگئی تھی، وہ یہ کہ شاہی سرحدی علاقے "معان" کے نصرانی عرب گورنر فَروَہ بن عمروجُذامی نے اسلام قبول کرکے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی حلقہ بگوشی اختیار کرلی تھی اور اس بارے میں اطلاعی مراسلہ مدینہ بھیج دیا تھا۔ رومیوں نے اس پر مشتعل ہوکر فروہ بن عمرؓ کو سولی پر چڑھا دیا تھا۔ دریں حالات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  رومیوں کے خلاف جہاد کو مزید مؤخر کرنے کی گنجائش نہیں دیکھتے تھے۔ اگرچہ ۱۰ ہجری کے موسمِ بہار کا بڑا حصہ حجۃ الوداع میں صرف ہوگیا تھا، اس کے باوجود مسلمان رومیوں کے خلاف جنگ کے لیے ذہنی طور پر پوری طرح مستعد تھے؛ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  بار بار انتہائی رنج کے ساتھ اپنے لے پالک زید بن حارثہؓ اور اپنے عم زاد جعفر بن ابی طالبؓ کی شہادت کو یاد کرتے تھے جو رومیوں سے جنگ میں شہید ہوئے تھے۔ چنانچہ حجۃ الوداع سے واپس تشریف لاکر ماہِ صفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے بڑے اہتمام سے ایک لشکر تیار کرانا شروع کیا۔

اسامہ بن زیدؓ کی امارت:

        توقع کے برخلاف حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے اکابر کو چھوڑکر لشکر کا سپہ سالار حضرت اسامہ بن زیدؓ کو بنایا جن کی عمر بیس سال کے لگ بھگ تھی، انہیں یہ اعزاز اس لیے دیا گیا کہ جنگِ موتہ میں لشکر کے اولین سپہ سالار انہی کے والد حضرت زید بن حارثہؓ تھے جو لڑتے لڑتے شہید ہوگئے تھے۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم  چاہتے تھے کہ باپ کی ادھوری مہم کی تکمیل بیٹے کے ہاتھوں ہو، تاکہ رومیوں پرمسلمانوں کی دینی غیرت وحمیت کا رعب بھی پڑے اور وہ جان لیں کہ مسلمان اپنے شہداء کا خون بھولا نہیں کرتے۔ پیر ۲۹ صفر کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے حضرت اسامہ بن زیدؓ کو امیر بناکر ارشاد فرمایا:

        "اللہ کا نام لے کر وہاں تک پیش قدمی کرو جہاں تمہارے والد شہید ہوئے تھے۔ تیزی سے سفر کرنا۔ اللہ فتح عطا کرے تو وہاں مختصر مدت قیام کرنا۔ راہبروں سے کام لینا، جاسوسوں اور ہراول دستوں کو آگے بھیجنا۔"

مرض الوفات کا آغاز:

        ماہِ صفر کے آخری ایام تھے کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  جنت البقیع تشریف لے گئے اور مرحومین کے لیے دعائے مغفرت فرمائی۔ صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو سر میں شدید درد محسوس ہوا۔ عجیب بات یہ تھی کہ اسی دن حضرت عائشہ صدیقہؓ کو بھی سر درد کی تکلیف لاحق ہوئی۔ وہ کہہ اٹھیں: "ہائے میرے سرمیں درد!"

        حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: "مجھے تم سے زیادہ درد ہورہا ہے۔"

        پھرحضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے مزاحاً فرمایا: "عائشہ! اگر تم مجھ سے پہلے مرجاؤ تو کیا حرج ہے، تمہارا کفن دفن میں کروں گا۔"

        وہ بولیں: "جی ہاں، اگر میں پہلے مرگئی تو آپ اس گھر میں کسی دوسری بیوی کو لے آئیں گے۔"

        حضور صلی اللہ علیہ وسلم  ان کی حاضرجوابی پر ہنس دیے۔

جیشِ اسامہ کی روانگی:

        اگلے دنوں میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی بیماری میں شدت آ گئی۔ ادھر لشکر روانگی کے لیے تیار تھا۔ جمعرات ۲ ربیع الاول کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے پرچم تیار کرکے اسامہ بن زیدؓ کو عطاکیا اوردعاؤں کے ساتھ انہیں رخصت فرمایا۔

        اسامہ بن زیدؓ نے روانگی سے پہلے عرض کیا: "اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو شفا عطا فرمائیں گے۔ آپ مجھے کچھ دن ٹھہرنے کی اجازت دیجیے۔ اگر میں اسحالت میں روانہ ہوگیا تو دل میں خلجان رہے گا۔" حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے سکوت فرمایا اور کوئی جواب نہ دیا۔ اسامہ بن زیدؓ فوج کو لے کر مدینہ منورہ سے تین میل دور "جُرف" کے مقام پر جا ٹھہرے ۔ اس مہم میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم  کی غیرمعمولی دلچپی کو دیکھتے ہوئے صحابہ کرام جوق درجوق وہاں پہنچنے لگے ۔ حضرت ابوبکرصدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ، حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ اورحضرت سعید بن زیدؓ جیسے صفِ اول کے جلیل القدر صحابہ بھی لشکر میں شمولیت کے لیے موجود تھے۔

حجرۂ عائشہؓ میں مستقل قیام:

        رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے سر کا درد بڑھتا چلا گیا۔اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم  ازواجِ مطہرات کے ہاں روزانہ باری باری تشریف لے جاتے رہے مگر جب تکلیف زیادہ بڑھ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ازواجِ مطہرات سے اجازت چاہی کہ بیماری کے دن حضرت عائشہ صدیقہؓ کے ہاں گزار لیں تاکہ گھر بدلنے کی زحمت نہ ہو۔سب نے خوشی سے اجازت دےدی۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم  حضرت علیؓ اور حضرت فضل بن عباسؓ کا سہارا لے کر حضرت عائشہ صدیقہؓ کے حجرے کی طرف تشریف لے چلے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے سر مبارک پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور قدم زمین پر گھسٹ رہے تھے۔

        رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  حضرت عائشہ صدیقہؓ کے گھر آرام فرما ہوئے۔ بیماری کی شدت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم   کو محسوس ہورہا تھا کہ خیبرمیں زینب بنتِ سلام بن مِشکم کی ضیافت میں جو زہر آلود لقمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے منہ میں رکھا تھا اس کے رسمی اثرات ظاہر ہورہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  فرماتے تھے: "اس وقت اس زہر کے اثر سے میری شہ رگ کٹی جا رہی ہے۔"

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم   کی اذیت دیکھ کرامہات المومنین بھی صدمے سے بے حال تھیں۔ام المومنین  حضرت صفیہؓ نے جذباتی انداز میں کہا: "اللہ کی قسم! یا نبی اللہ! میں چاہتی ہوں کہ آپ کی تکلیف مجھ پر آ جائے۔"

اُمت کو اہم امور کی ذمہ داریاں سونپنا:

        اس قدر شدید بیماری کے باوجود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  اُمتِ مسلمہ کی خیر خواہی اور ریاست کے اہم انتظامی و سیاسی امور سے لاتعلق نہیں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے مسلمانوں کو تلقین کی کہ جزیرۃ العرب میں دو دین باقی نہ رہنے پائیں۔ یہ تاکید بھی فرمائی کہ یہودیوں اور نصرانیوں کو جزیرۃ العرب کی حدود سے نکال باہر کیا جائے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے یہ اس لیے فرمایا کہ یہ خطہ پورے عالمِ اسلام کے مرکز اور ہیڈ کوارٹر کی حیثیت رکھتا تھا اور مرکز میں اغیار کی موجودگی بہت سے فتنوں کا باعث بن سکتی تھی۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی نماز میں آخری بار امامت:

        حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی بیماری بڑھتی چلی گئی۔ایک دن مغرب کی نماز پڑھائی جس میں سورۃ المرسلات کی تلاوت کی۔ یہ آخری رسول کی اقتدا میں آخری باجماعت نماز تھی۔

حضرت ابوبکرصدیقؓ کو امامت کا حکم اور ان کی نیابت کے اشارات:

        اس کے بعد بخار کی شدت سے غشی کی کیفیت طاری ہونے لگی۔عشاء کی نماز کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کوافاقہ ہوا تو پوچھا:"کیا لوگ نماز پڑھ چکے؟"حضرت عائشہ صدیقہؓ نے عرض کیا: "جی نہیں، وہ آپ کے منتظر ہیں۔"

        رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے وضو فرما کر مسجد تشریف لے جانے کا ارادہ کیا مگر نقاہت اور غشی کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہوا۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے تازہ دم ہونے کے لیے سات مشک پانی منگوایا اور ایک بڑے برتن میں تشریف فرما ہوئے۔ گھر کی خواتین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  پر پے درپے پانی انڈیلا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو ٹھنڈک پہنچی تو ہاتھ کے اشارے سے مزید پانی گرانے سے منع فرمایا اورنماز کے لیے اٹھنے لگے مگردوبارہ غشی طاری ہو گئی۔ ہوش آیا تو دریافت فرمایا: "کیا لوگ نماز پڑھ چکے؟" عرض کیا گیا: "جی نہیں، وہ آپ کا انتظار کررہے ہیں۔"

        رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے دوبارہ غسل فرمایا اور مسجد تشریف لے جانے کی کوشش فرمائی مگر پھر ہوش وحواس نے ساتھ نہ دیا، ایسا تین بار ہوا۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: "ابوبکر کو کہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔"

        امہات المومنین نے ذرا پس وپیش کی اور حضرت عائشہ صدیقہؓ نے عرض کیا: "وہ نرم دل انسان ہیں۔ آپ کی جگہ کھڑے ہوکر اپنے اوپر قابو نہیں پاسکیں گے۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے دوبارہ سہ بارہ بڑے اصرار کے لہجے میں ارشاد فرمایا: "ابوبکر کو حکم دو کہ وہ نماز پڑھائیں۔"

        یہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی جانب سے اُمت کے لیے اپنے نائب اور جانشین کی نامزدگی کا لطیف اشارہ تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کو سفرِ آخرت پر روانہ ہوتے ہوئے پیچھے رہ جانے والی اُمت کے نظم وضبط اور وحدت کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری کا پورا احساس تھا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس اہم فریضے کو عام بادشاہوں کی طرح ولی عہدی اورجانشین کی نامزدگی کے ذریعے انجام دینا پسند نہیں فرمایا کہ کہیں مسلمانوں کے سیاسی نظام میں انتقالِ اقتدار کا معاملہ "ولی عہدی" میں محدود نہ ہو جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  اس معاملے میں وسعت اور کشادگی رکھنا چاہتے تھے۔ آپ مسلمانوں میں باہمی مشاورت، قومی ہمدردی، خیر خواہی، سیاسی شعور، ذاتی ایثار، اتفاقِ رائے، غوروفکر اورافہام و تفہیم جیسی صفات کو اجاگر کرنے کے خواہشمند تھے۔

         یہ تب ہی ہوسکتا تھا جب انہیں "انتقالِ اقتدار" کے معاملات میں ایک لگے بندھے طرز کا پابند نہ کیا جاتا بلکہ انہیں موقع دیا جاتا کہ وہ قرآن وسنت کی روشنی میں حسبِ ضرورت بہتر سے بہتر سیاسی نظام تشکیل دے لیا کریں۔ تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے ذہن میں اپنے جانشین کا نام بہت واضح تھا اور وہی شخصیت اللہ تعالیٰ کی طرف سے طے ہوچکی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو مسلمانوں کی بصیرت اورمعاملہ فہمی کی صلاحیت پر پورا بھروسہ تھا کہ وہ بھی اسی شخصیت کو خلیفہ چنیں گے۔ یہ شخصیت حضرت ابوبکر صدیقؓ کی تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے سب سے قریبی رفیق، صحابہ میں سب سے زیادہ بزرگ اور سیادت وامامت کے بارِ گراں کو سنبھالنے کے سب سے زیادہ اہل تھے۔

        حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو امامت کا حکم فرمایا مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی بیماری کی وجہ سے وہ اتنے غم زدہ اوردل شکستہ تھےکہ فوراً تعمیل نہ کرسکے اور ان کی جگہ حضرت عمر فاروقؓ نماز پڑھانے لگے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے حضرت عمرؓ کی قرأت سنی تو حجرۂ مبارک سے ہی صدا بلند فرمائی:

        "نہیں، نہیں، نہیں! صرف ابوبکر نماز پڑھایا کریں۔"

        یہ بھی فرمایا: "نہ اللہ تعالیٰ ابوبکر کے سوا کسی کو امام بننے دے گا نہ مسلمان ایسا ہونے دیں گے۔"

        چنانچہ اس کے بعد حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی وفات تک تمام نمازیں حضرت ابوبکر صدیقؓ ہی پڑھاتے رہے۔مسجدِ نبوی کا مصلیٰ وہ مقام تھا جہاں حضورصلی اللہ علیہ وسلم  کی موجودگی میں کسی اور کو قدم رکھنے کی جرات نہ تھی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنی زندگی میں کسی کو خود اپنی جگہ مقرر کرنا اس بات کا واضح قرینہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  اپنی جانشینی کے لیے کس پر اعتماد کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  چاہتے تھے کہ مسلمان اپنے رسول کی منشا کو خود سمجھ کر اپنی رمزشناسی اورسیاسی بصیرت کا ثبوت پیش کریں۔ اور بعد میں ایسا ہی ہوا۔ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی توقع پر پورے اترے۔

       اگرچہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنے جانشین کی نامزدگی کوخلافِ مصلحت سمجھا تھا اور اسے مسلمانوں کی شوریٰ پر چھوڑنا پسند کیا تھا مگر ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو یکایک خیال ہوا تھا کہ کہیں اس طرح مسلمانوں میں کوئی تنازعہ نہ کھڑا ہوجائے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: "ابوبکر اوران کے صاحبزادے کو بلوا دیں کچھ تحریر کروا دوں۔ کہیں ایسا نہ ہوکہ ابوبکر کی موجودگی میں اقتدار کا کوئی اور امیدوار اٹھ کھڑا ہو۔"

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کیا وصیتیں لکھوانا چاہتے تھے؟

        جمعرات کے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی بیماری نہایت شدت اختیار کرگئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اسی حالت میں کچھ نصیحتیں لکھوانے کے لیے کاغذ طلب کیا۔ اس وقت حضرت عمرؓ، حضرت عباسؓ اور چند صحابہؓ خدمت میں حاضر تھے۔ کچھ نے حکم کی تعمیل کرنا چاہی مگر اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم  پر شدید نقاہت طاری تھی، بار بار غشی ہوتی تھی، اس لیے حضرت عمرؓ اور بعض دیگر صحابہ نے آپ کی زحمت کا خیال کرکے کچھ لکھنے لکھوانے سے منع کیا اورکہا:

        "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  شدید تکلیف میں ہیں۔ ہمارے پاس قرآن مجید موجود ہے، وہ ہمیں کافی ہے۔"

        اس کہنے سننے کی وجہ سے مجلس میں آوازیں کچھ بلند ہونے لگیں۔

        رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  یہ سب سن رہے تھے۔ شور سے آپ کو ناگواری تو ہوئی مگر یہ اطمینان بھی ہوگیا کہ دین کی تکمیل کے متعلق یہ تربیت یافتہ جماعت پر اعتماد ہے اور بعد میں پیش آنے والے مسائل کا حل کتاب وسنت کی روشنی میں اخذ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے نصائح لکھوانے پر اصرار نہ فرمایا اور مجلس برخاست کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: "اچھا! اب تم جاؤ۔"

        تاہم ضروری وصیتیں زبانی بتاتے ہوئے فرمایا:

        "مشرکوں کو جزیرۃ العرب سے نکال دینا۔ اسامہ کے لشکر کو اسی اہتمام سے روانہ کرنا جس طرح میں لشکروں کو رخصت کیا کرتا تھا۔ وفود کا ویسے ہی اعزاز و اکرام کرتے رہنا جیسا کہ میں کرتا تھا۔"

        رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے خلافت نامے کا خیال بھی ترک کر دیا اور فرمایا:

        "اللہ بھی اور مسلمان بھی ابوبکر کے سوا کسی کو خلیفہ نہیں بننے دیں گے۔"

حضرت علیؓ کو وصیت:

        ایک دن حضرت علیؓ کو کاغذ قلم لانے کا حکم دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کچھ وصیتیں لکھوانا چاہتے تھے تاکہ لوگ گمراہ نہ ہوں۔ دیگر صحابہ کی طرح حضرت علیؓ نے بھی لکھنا خلافِ مصلحت سمجھا اوعرض کیا: "آپ بیان فرمادیں۔میں زبانی یاد کرلوں گا۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: "میں وصیت کرتا ہوں کہ نماز کا، زکوٰۃ کا اور ماتحتوں کا بہت خیال رکھنا۔"

مسجدِ نبوی میں آخری بار تشریف آوری:

        لشکرِ اسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی بیماری سے مضطرب ہوکر "جرف" میں رکا ہوا تھا۔ ہفتہ دس ربیع الاول کو امیرِ لشکر اسامہ بن زیدؓ اور بہت سے صحابہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی عیادت کے لیے "جرف" سے مدینہ منورہ آئے۔

        اسی دن ظہر کی نماز کے وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کو کچھ افاقہ ہوا۔ آپ حضرت عباسؓ اورحضرت علیؓ کا سہارا لے کر مسجد میں تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے سر مبارک پر پٹی بندھی تھی۔ بدن مبارک پر کمبل لپٹا ہوا تھا۔ جماعت کھڑی ہوچکی تھی۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نماز پڑھا رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے حجرے کا دروازہ پہلی صف کے بائیں جانب تھا جو مسجد کے اندر کھلتا تھا، اس لیے حضرت ابوبکر صدیقؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی آمد کو فوراً محسوس کرلیا اور امام کی جگہ خالی کرکے پیچھے ہٹنے لگے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ہاتھ سے اشارہ کرکے انہیں منع فرمادیا۔ حضرت عباسؓ اور حضرت علیؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو حکم فرمایا: "مجھے ابوبکر کی بائیں طرف بٹھادو۔"اب حضرت ابوبکر صدیقؓ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے اور لوگ حضرت ابوبکرصدیقؓ کی تکبیرات پر نماز ادا کر رہے تھے۔ یہ اپنی موجودگی میں اُمت کو اپنے جانشین کی تابع داری کرانے کا بڑا دلکش نمونہ تھا اور اس بات کا ثبوت بھی کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی پیروی دراصل نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم  ہی کی پیروی ہے۔

امت سے آخری خطاب:

        نماز کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم  اسامہ بن زیدؓ کا سہارا لے کراٹھے جو لشکر کو جرف کی خیمہ گاہ میں چھوڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی عیادت کے لیے واپس آ گئے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  منبر پر تشریف فرما ہوئے اورفرمایا:

        "اللہ نے اپنے بندے کو اختیار دے دیا کہ وہ چاہے تو دنیا کی نعمتوں کو قبول کرے،چاہے تو اللہ کے پاس موجود انعامات کو اختیار کرلے، پس اس بندے نے اللہ کی نعمتوں کو پسند کرلیا ہے۔"

        یہ الفاظ سنتے ہی حضرت ابوبکر صدیقؓ بے ساختہ بولے:

        "آپ پر میرے ماں باپ قربان۔ ہماری جانیں اورمال آپ پرفدا۔"

        یہ کہتے ہوئے وہ زاروقطار رونے لگے۔ کیوں کہ پورے مجمع میں فقط وہی سمجھے تھے کہ یہ الفاظ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی رخصتی کا پیغام ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے حضرت ابوبکرؓ کا رونا برداشت نہ ہوسکا، فرمایا: "ابوبکر! مت روؤ۔"

حضرت ابوبکر صدیقؓ کے احسانات کا ذکر:

        پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے صحابہ کرام کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایا:

        "مجھ پر سب سے زیادہ احسانات ابوبکر کے ہیں۔ اگر مجھے کسی انسان کو محبوب بنانا ہوتا تو ابوبکر ہی کو محبوب بناتا مگر ان سے رشتہ دینی بھائی بندی کا ہے۔ اچھا! مسجد میں کھلنے والے سب دروازے بند کردینا۔ صرف ابوبکر کے گھر کا دروازہ کھلا رہنے دینا۔"

اسامہ بن زیدؓ کی امارت کا فیصلہ برقرار:

       اسامہ بن زیدؓ کی کم عمری کے پیشِ نظر بعض صحابہ کو انکی قیادت پراطمینان نہ تھا۔ اس سے قبل جنگِ موتہ میں جب ان کے والد کو امیرِاول بنایا گیا تھا تواس وقت بھی اس قسم کی چہ میگوئیاں ہوئی تھیں۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم  کوان باتوں سے سخت کوفت ہورہی تھی۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اعتراض کرنے والوں کو مخاطب کرکے انہیں یوں سرزنش کی:

        "اگر تم اسامہ کی قیادت پر اعتراض کررہے ہو تو اس سے پہلے تم اس کے والد کی قیادت پر بھی اعتراض کرچکے ہو۔ اللہ کی قسم! وہ اس منصب کے قابل تھے اور اللہ کی قسم! وہ مجھے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھے، اور اللہ کی قسم! یہ (اسامہ) بھی اس منصب کے لائق ہیں۔"

        اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے حضرت اسامہؓ پر مکمل اعتماد ظاہرکرتے ہوئے ان کی امارت کا فیصلہ برقرار رکھا۔

قبروں کو سجدہ گاہ بنانے کی ممانعت:

        حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کو خدشہ تھا کہ مسلمان دیگر قوموں کی طرح انبیاء اوراولیاء کی عقیدت میں غلو کرکے شرک میں مبتلا ہوجائیں۔ آپ نے قیامت تک آنے والے مسلمانوں کو خبردار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

        "گزشتہ قوموں نے اپنے پیغمبروں اور بزرگوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا۔ خبردار! تم ایسا نہ کرنا۔ میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں۔"

انصار سے حسنِ سلوک کی تاکید:

        رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے انصار کے بے پایاں احسانات اور ان کی گراں قدر خدمات کو یاد کرتے ہوئے مہاجرین کو ان سے حسنِ سلوک کی وصیت کی اور فرمایا:

        "لوگو! انصار کے بارے میں تمہیں اچھا رویہ رکھنے کی تاکید کرتا ہوں۔ عام مسلمان بڑھتے جائیں گے اور انصار گھٹتے گھٹتے کھانے میں نمک کی مانند ہوجائیں گے۔ وہ اپنی ذمہ داری نبھا چکے۔ اب ان کی ذمہ داری تمہیں ادا کرنی ہے۔ تمہارے اربابِ حل وعقد کو چاہیے کہ انصار کے نیکوکار لوگوں کی قدردانی کرتے رہیں اور ان میں سے جو کسی خطا کے مرتکب ہوں، ان سے درگزر کریں۔"

        یہ بھی فرمایا: "تم میں سے ہرکسی کو مرتے وقت اللہ تعالیٰ سے اچھا گمان رکھنا چاہیے۔"

        یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا آخری خطبہ تھا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم  گھر تشریف لے گئے۔

اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے لیے خاموش دعا:

        اگلے دن (بروز اتوار) اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ دوبارہ حاضرِ خدمت ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے انہیں دیکھا تو آنکھوں میں آنسو جھلملانے لگے، اسامہ رضی اللہ عنہ نے جھک کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا بوسہ لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے دستِ مبارک آسمان کی طرف اٹھا کر اسامہ رضی اللہ عنہ پر رکھ دیا، گویا ان کے لیے دعا کر رہے ہوں۔

اسبابِ دنیا سے قطع تعلق:

        جیسے جیسے آخری لمحات قریب آ رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اس عالمِ فانی کے اسباب سے لاتعلقی اختیار کرتے جا رہے تھے۔ دولت کدے میں کچھ اشرفیاں موجود تھیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو تاکید فرمائی کہ انہیں صدقہ کردیں۔

        کچھ دیر بعد پوچھا: "کیا وہ اشرفیاں صدقہ کردیں؟"

        عرض کیا: "ابھی تک نہیں۔"

        آپ نے وہ منگوائیں، دستِ مبارک پر رکھ کر انہیں گِنا۔ وہ چھ تھیں۔ فرمایا:

        "محمد اپنے رب سے کس گمان کے ساتھ ملے گا، اگر یہ دولت اس کے گھر میں ہو۔"

        یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے وہ تمام اشرفیاں فی الفور صدقہ کردیں۔

        جسدِ اطہر پر ایک کمبل تھا جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  بخار کی شدت میں کبھی چہرے پر ڈال لیتے کبھی ہٹا دیتے۔اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اچانک فرمایا:

        "یہودونصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے پیغمبروں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔"

        حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

        "حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کو خدشہ تھا کہ کہیں ان کی قبر پر بھی سجدے نہ کیے جانے لگیں۔ (اس خطرے کے باعث یہ ارشاد فرمایا۔) اگر یہ خدشہ نہ ہوتا تو آپ کی قبرِ اطہر بھی ظاہر کی جاتی۔ (مگر مسلمانوں کو شرک کے امکان سے بچانے کے لیے مکان کے اندر تدفین ہوئی اور قبر تک رسائی کا راستہ بند کردیا گیا۔)"

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic