Dil e Muslim Ko Zinda Tamanna De - Allama Iqbal Hamd Lyrics & Madine Ki Pukaar

حمد باری تعالی

(​جناب علامہ اقبالؒ)

​یارب دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنا دے • جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دے

پھر وادیِ فاراں کے ہر ذرے کو چمکا دے • پھر شوقِ تماشا دے پھر ذوقِ تقاضا دے

محرومِ تماشا کو پھردیدۂ بینا دے • دیکھا ہے جو کچھ میں نے اوروں کو بھی دکھلادے

بھٹکے ہوئے آہو کو پھرسوئے حرم لے چل • اس شہر کے خوگرکو پھروسعتِ
صحرادے

پیدا دلِ ویراں میں پھر شورشِ محشر کر • اس محملِ خالی کو پھر شاہدِ لیلیٰ دے

اس دور کی ظلمت میں ہرقلبِ پریشاں کو • وہ داغِ محبت دے جو چاند کو شرمادے

رفعت میں مقاصد کو ہمدوشِ ثریا کر • خودداریِ ساحل دے، آزادیِ دریا دے

بے لوث محبت ہو بیباک صداقت ہو • سینوں میں اجالا کر دل صورتِ مینا دے

احساس عنایت کر آثارِ مصیبت کا • امروز کی شورش میں اندیشۂ فردا دے

میں بلبلِ نالاں ہوں اک اجڑے گلستاں کا • تاثیر کا سائل ہوں محتاج کو داتا دے



حمد (مدینہ کی پکار)

​خدایا جب خسارے میں مری تقدیر ہوتی ہے

مری آنکھوں میں طیبہ کی حسیں تصویر ہوتی ہے

​ہمیشہ نیند میں شہرِ مدینہ دیکھتا ہوں میں

نہ جانے کیا مرے اس خواب کی تعبیر ہوتی ہے

​غلامانِ محمدؐ کے غلاموں کی غلامی میں

شہنشاہی سے بڑھ کر عزت و توقیر ہوتی ہے

​سنا کرتا ہوں اکثر سرمۂ خاکِ مدینہ کو

نگاہوں میں لگانے سے بڑی تنویر ہوتی ہے

​عقیدت ہو تو دردِ دل کی خاطر پیس کر پی لو

وہاں کے پھول کی پتی بھی اک اکسیر ہوتی ہے

​بنا لو زخم کا مرہم شفا مل جائے گی تم کو

مدینہ کے ہراک ذرے میں وہ تاثیر ہوتی ہے


Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic