Sulah Hudaibiya ke baad Salateen-e-Alam ko Dawat-e-Islam: Ek Tareekhi Jaiza

 ​سلاطین کو دعوتِ اسلام

        ​رسول اللہ ﷺ کے سامنے صرف جزیرۃ العرب کی اصلاح نہیں تھی بلکہ ساری دنیا آپ ﷺ کی دعوت کے دائرے میں آتی تھی؛ کیوں کہ آپ سب سے آخری اور عالمگیر پیغمبر تھے۔ یہی وجہ تھی کہ آپ قریش کی طرف سے جلد از جلد بے فکر ہوکر دوسرے محاذوں اور میدانوں کی طرف پیش قدمی کرنا چاہتے تھے۔ صلح حدیبیہ کی بدولت جب آپ کو یہ موقع میسر آیا تو آپ نے اپنی جدوجہد کے اگلے مرحلے کا آغاز کرنے میں ذرا بھی دیر نہ لگائی۔



        ​"صلح حدیبیہ" نہ صرف پورے عرب میں اسلام کا سکہ چلنے کا پیش خیمہ ثابت ہوئی بلکہ اب اسلام کے ایک عالمگیر دعوت کے طور پر دنیا کے بڑے بڑے درباروں میں متعارف ہونے کا وقت بھی آن پہنچا تھا۔ صلح کی بدولت جزیرۃ العرب کے تمام راستے محفوظ اور مامون ہوگئے تھے اور اسلام کے قاصد اب ہر طرف جاسکتے تھے۔

بادشاہوں سے مراسلت میں ملحوظ نکات:

        ​دنیا میں اُس وقت درجنوں بادشاہتیں اور حکومتیں تھیں اور ان سب کو اسلام کے حیات آفرین پیغام کی ضرورت تھی مگر حکمت اور موقع کا تقاضا یہ تھا کہ ابتدا ایسے درباروں سے کی جائے جو جزیرۃ العرب کے قریب ہونے کی وجہ سے اس پیغام کے اصل مرکز سے باآسانی رابطہ کرکے اپنے ممکنہ شکوک کا ازالہ کرسکیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اسلام کی راہ ہموار کرنے کے حوالے سے دوسرے ملکوں پر بھی اثر انداز ہوسکیں۔

​        حضورِ اکرم ﷺ نے اس سلسلے میں جزیرۃ العرب سے باہر چار بڑی سلطنتوں: روم، ایران، مصر اور حبشہ کے تاجداروں کو اپنے پیغام کا اولین مخاطب بنایا۔ اس کے علاوہ عرب کے چند بڑے امراء کو بھی خطوط بھیجے۔ یہ ضروری نہ تھا کہ یہ حکمران فوراً ایمان لے آتے مگر اتنا بھی کافی تھا کہ ان کے سامنے ایک بار اسلام کا اجمالی خاکہ آجاتا اور وہ جزیرۃ العرب سے اٹھنے والی عالمگیر اسلامی تحریک کے بارے میں غلط فہمیوں کا شکار ہونے سے بچ جاتے۔ ان حکمرانوں کے ابتدائی ردعمل سے مسلمانوں کو یہ بھی اندازہ ہوجاتا کہ ریاستِ مدینہ کو، جو عنقریب ایک عالمی طاقت بننے جارہی تھی، اپنے پڑوسی ممالک سے کس طرح کے رویوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس کے لیے کیا جوابی حکمتِ عملی اختیار کرنا بہتر ہوگی۔

​        رسول اللہ ﷺ نے یکساں پیغام کی متعدد نقول بنوانے سے احتراز کیا اور ہرحکمران کو اس کے مذہبی و علاقائی پس منظر کے لحاظ سے الگ الگ انداز میں مخاطب کیا۔ آپ کے خطوط مختصر اور مؤثر تھے جن میں عجز و انکسار تھا نہ کسی قسم کا غرور و تکبر، ان میں مخاطب کے لیے خیر خواہی اور ہمدردی جھلکتی تھی۔ پتہ چلتا تھا کہ پیغام دینے والا اپنی دعوت پر غیر متزلزل یقین رکھتا ہے۔ ان بڑے بڑے درباروں کی سطوت و شوکت اور عسکری و اقتصادی برتری اس کے نزدیک پرکاہ کی حیثیت بھی نہیں رکھتی اور وہ ذہنی و نظری طور پر ان سے سب سے بلند و بالا مقام پر کھڑا ہوکر انہیں ان خطرات سے خبردار کررہا ہے جو ان کی پست نگاہوں سے اوجھل ہیں۔

        تحقیقی اقوال کے مطابق سلاطین کے نام یہ دعوتی مراسلے خیبر کی فتح کے بعد ۷ھ کے آغاز میں روانہ کیے گئے تھے۔

ہرقل کو دعوتِ اسلام:

        رسول اللہ ﷺ کے پہلے مراسلے کا مخاطب ہرقل (ہیرکولیس) تھا۔ اس نے ایرانیوں سے شکست کھانے والے بدقسمت رومی بادشاہ فوکس (Phocus) کا تختہ الٹ کر ۶۱۰ء میں بازنطینی روما کا اقتدار سنبھالا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب یورپ سے ایشیا اور افریقہ تک وسیع یہ عظیم الشان سلطنت ایرانی فاتحین کی بے لگام طاقت کے سامنے زمین بوس ہورہی تھی۔ ہرقل نے تخت نشینی کے چھ سال بعد پکا ایک فیصلہ کیا کہ وہ ایرانیوں سے ٹکرا کر بازنطینی سلطنت کی سابقہ آن بان بحال کرے گا۔ یہی وہ زمانہ تھا جب قرآن مجید نے سورۃ الروم میں رومیوں کی ایران کے خلاف فتح کی پیش گوئی کی تھی، حالانکہ اس وقت روما کا دم لبوں پر تھا مگر اس حالت میں جب ہرقل نے ایران پر حملہ کیا تو قدم قدم پر فتح اس کے قدم چومتی گئی۔ اس نے کسریٰ کو مسلسل ہزیمتوں سے دوچار کیا اور سات، آٹھ برس کی جنگوں سے ایشیا میں روما کا اقتدار بحال کرنے کے بعد وہ ایک نامور فاتح کی طرح سن ۶۲۵ء میں اپنے یورپی پایہ تخت "قسطنطنیہ" واپس لوٹا۔

        کسریٰ پرویز سے اس کے مذاکرات جاری رہے۔ پرویز اس کے مقابلے میں شکست کھا کر اس کے مطالبات ماننے پر مجبور ہوچکا تھا، انجام کار عیسائیوں کی "صلیبِ مقدس" جو ایرانی کئی برس پہلے بیت المقدس سے اٹھا لے گئے تھے، روما کو واپس کردی گئی۔ اس صلیب کو بیت المقدس میں دوبارہ نصب کرنے ہرقل خود قسطنطنیہ سے شام آیا۔ یہ تقریباً وہی دن تھے جب حضور ﷺ غزوہ خیبر سے فارغ ہوکر سلاطین کے نام مراسلے تحریر فرما رہے تھے۔

ہرقل کی ابوسفیان سے گفتگو:

        ہرقل پہلے اپنے ایشیائی پایۂ تخت "حِمص" آیا اور یہاں سے شکرانے کے طور پر پاپیادہ "ایلیا" (بیت المقدس) روانہ ہوا۔ مصاحبین اور ارکانِ سلطنت کا ایک جلوس اس کے ساتھ تھا۔ بیت المقدس میں شب بسری کے دوران اس نے ایک عجیب خواب دیکھا جس میں بتایا جارہا تھا کہ ختنہ کرانے والی قوم کا سردار عنقریب سب پر غالب آجائے گا۔

        ختنے کا رواج یہودیوں میں تھا یا عربوں میں۔ ہرقل نے بیدار ہوتے ہی معلوم کرایا کہ ان دونوں میں سے کس قوم میں کوئی انقلاب آیا ہے۔ کارندوں نے جلد ہی پتا لگا لیا کہ عربوں میں ایک نبی کا ظہور ہوچکا ہے۔

        ہرقل نے حکم دیا کہ فوری طور پر کسی عرب کو لایا جائے تاکہ اس سے پوچھ گچھ کی جا سکے۔ تقدیر کی بات کہ قریش کا ایک تجارتی قافلہ شام آیا ہوا تھا۔ ایک مدت سے مکہ اور مدینہ کی جنگوں نے تجارتی راستے مسدود کر رکھے تھے مگر صلح حدیبیہ کے باعث امن و امان تھا، قریش کے ہرفرد نے کچھ نہ کچھ سرمایہ ڈال کر ابوسفیان بن حرب کی قیادت میں یہ قافلہ بھیجا تھا۔ یہ لوگ غزہ میں ٹھہرے ہوئے تھے کہ ہرقل کے کارندے یکدم ان کے سروں پر جاپہنچے اور ان کو حراست میں لے کر ہرقل کے پاس لے آئے۔ ہرقل نے ترجمان کی وساطت سے پوچھا:

        "تم میں سے کون ہے جو اس نبی سے رشتے میں سب سے قریب ہے؟"

         ابوسفیان نے کہا: "میں ہوں۔"

        ہرقل کے اشارے پر سپاہیوں نے ابوسفیان کو آگے بٹھا دیا اور باقی عربوں کو پیچھے ہٹا دیا۔ ہرقل نے ترجمان کے ذریعے گفتگو شروع کی مگر اس سے پہلے باقی عربوں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا:

        "میں اس (ابوسفیان) سے کچھ سوال کروں گا، اس شخص کے بارے میں جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ اگر یہ سچ جواب دے تو تم اس کی تصدیق کرنا۔ لیکن اگر یہ غلط بیانی سے کام لے تو تم بتا دینا کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے۔"

        اس انتظام کے بعد ہرقل نے ابوسفیان سے پوچھا:

        "یہ بتاؤ تمہارے جس شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے، اس کا حسب نسب کیا ہے؟"

        اس وقت تک ابوسفیان اسلام نہیں لائے تھے مگر زبان کے سچے تھے، اس لیے کہا:

        "وہ ایک شریف خاندان اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔"

        ہرقل نے سوال کیا: "ان کے آباؤ اجداد میں کوئی بادشاہ تو نہیں گزرا؟" ابوسفیان نے کہا: "نہیں۔"

        ہرقل نے کہا: "جب انہوں نے نبوت کا اعلان نہیں کیا تھا تو اس سے پہلے تم نے ان پر کبھی جھوٹ کا الزام لگایا؟"

    ابوسفیان کا جواب اب بھی نفی میں تھا۔

        ہرقل نے دریافت کیا: "اچھا ان کے ماننے والے کس قسم کے لوگ ہیں؟ امیر کبیر یا کمزور؟"

        ابوسفیان کا جواب تھا: "زیادہ تر غریب مسکین لوگ۔"

        ہرقل نے پوچھا: "ان کے ساتھی کم ہو رہے ہیں یا بڑھ رہے ہیں؟" ابوسفیان نے کہا: "بڑھ رہے ہیں۔"

        ہرقل نے سوال کیا: "ان کا کوئی ساتھی ان سے ناراض ہوکر بھاگا ہے؟"

         ابوسفیان نے کہا: "نہیں۔"

        ہرقل نے پوچھا: "تمہاری ان سے جنگیں ہوئی ہیں؟" ابوسفیان نے اثبات میں جواب دیا تو ہرقل نے پوچھا: "ان جنگوں کا نتیجہ کیا نکلا؟"

        جواب ملا: "کبھی ہم جیت جاتے ہیں، کبھی وہ۔"

        ہرقل نے پوچھا: "وہ تمہیں کس چیز کا حکم دیتا ہے؟"

        ابوسفیان بولے: "وہ کہتے ہیں کہ اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اپنے آباؤ اجداد کی پیروی چھوڑ دو، اور وہ ہمیں نماز پڑھنے، زکوٰۃ ادا کرنے، صلہ رحمی کرنے، سچ بولنے اور پاک باز بننے کا حکم دیتے ہیں۔"

        ہرقل نے پوچھا: "کیا اس نے تمہارے ساتھ کبھی بدعہدی کی ہے؟"

        ابوسفیان نے کہا: "نہیں۔ ہاں! آج کل ہمارا ان سے ایک معاہدہ (صلح حدیبیہ) ہوا ہے، معلوم نہیں وہ اس کی پابندی کرتے ہیں یا نہیں۔" ابوسفیان بعد میں یہ واقعہ سناتے ہوئے کہتے تھے:

        "اس پوری گفتگو میں اس جملے کے سوا مجھے حضور ﷺ پر حرف گیری کی کوئی گنجائش نہیں ملی۔"

        ہرقل نے پوچھا: "ان کے خاندان میں پہلے کسی نے یہ دعویٰ کیا ہے؟" ابوسفیان نے کہا: "نہیں۔"

        ابوسفیان نے جتنی صفات بتائی تھیں وہ سب گزشتہ آسمانی کتابوں میں مذکور نشانیوں کے عین مطابق تھیں، اس لیے ہرقل نے یہ ساری باتیں سن کر کہا:

        "میں نے تم سے ان کے حسب نسب کے بارے میں پوچھا، تو تم نے بتایا کہ وہ شریف النسب ہیں۔ پیغمبر اسی طرح شریف خاندانوں میں مبعوث ہوتے ہیں۔"

        "میں نے تم سے پوچھا کہ ان کے آباؤ اجداد میں کوئی بادشاہ گزرا، تم نے کہا: نہیں، اگر ان کے بڑوں میں کوئی بادشاہ ہوتا تو میں سمجھتا کہ یہ آدمی اپنی آبائی بادشاہت حاصل کرنا چاہتا ہے۔"

        "میں نے تم سے پوچھا تھا کہ ان کے پیروکار امیر ہیں یا کمزور لوگ؟ تم نے بتایا: کمزور لوگ۔ رسولوں کے پیروکار ایسے ہی ہوتے ہیں۔"

        "میں نے تم سے پوچھا کہ اس نے کبھی جھوٹ بولا؟ تم نے کہا کہ نہیں۔ میں سمجھ گیا کہ جو شخص انسانوں کے بارے میں جھوٹ نہیں بولتا، وہ اللہ کے بارے میں کیسے جھوٹ بولے گا۔"

        "میں نے تم سے پوچھا کہ ان کا کوئی ساتھی ان سے ناراض ہوکر بھاگا ہے؟ تم نے کہا: نہیں۔ واقعی ایمان جب دل کی گہرائیوں میں اتر جاتا ہے تو ایسا ہی ہوتا ہے۔"

        "میں نے تم سے پوچھا کہ ان کے ساتھی گھٹ رہے ہیں یا بڑھ رہے ہیں؟ تم نے کہا کہ بڑھ رہے ہیں۔"

        ایمان کی تحریک اسی طرح پایہ تکمیل کو پہنچ کر رہتی ہے۔

        میں نے تم سے پوچھا کہ ان کی تم سے جنگیں ہوئی ہیں؟ تم نے بتایا کہ جنگیں ہوئی ہیں اور کبھی تم جیت جاتے ہو، کبھی وہ جیت جاتے ہیں۔ رسولوں کو اسی طرح آزمایا جاتا ہے، یہاں تک کہ انجام کار انہی کو فتح ہوتی ہے۔ 

        میں نے تم سے پوچھا کہ کبھی انہوں نے بدعہدی کی؟ تم نے کہا کہ بدعہدی کبھی نہیں کی۔ رسول ایسے ہی ہوتے ہیں کہ بدعہدی نہیں کرتے۔

        میں نے تم سے پوچھا کہ یہ دعویٰ پہلے بھی کسی نے کیا تھا؟ تم نے کہا: نہیں۔ اگر یہ دعویٰ پہلے بھی کسی نے کیا ہوتا تومیں کہتا کہ یہ آدمی پہلے والوںکے دعوے کی نقل کررہا ہے۔

        میں نے پوچھا کہ وہ تمہیں کس بات کا حکم دیتا ہے؟ تم نے بتایا کہ وہ اللہ کی عبادت کرنے کا حکم دیتے ہیں، شرک اور بتوں کی پرستش سے منع کرتے ہیں۔ نماز، روزے، صلہ رحمی اور پاک بازی کا حکم دیتے ہیں۔ اگر تم سچ کہہ رہے ہو تو وہ واقعی نبی ہیں۔ میں جانتا تھا کہ وہ ظاہر ہونے والے ہیں۔ مگر مجھے یہ گمان نہیں تھا کہ ان کی بعثت تمہارے درمیان ہوگی۔ اگر مجھے پتا ہوتا کہ میں ان تک پہنچ سکتاہوں تو میں ان کی خدمت میں جانا پسند کرتا۔ اور اگر میں ان کے پاس ہوتا تو ان کے پاؤں دھو کر پیتا۔ یقیناً وہ یہ زمین بھی فتح کرلیں گے جس پر میں کھڑا ہوں۔

        ابو سفیان کہتے ہیں: اس کے بعد سے میں پست حوصلہ ہوگیا اور مجھے یہ یقین ہوگیا کہ رسول اللہ غالب ہوکر رہیں گے، یہاں تک کہ اللہ نے میرے دل میں اسلام کی حقیقت بھی ڈال دی اگرچہ میں اسے ناپسند کررہا تھا۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic