بیرونی جنگیں..... ایران و روم (Hazrat Abu Bakr Siddique RA ki Beruni Jangen: Iran aur Rome par Lashkar Kashi)

بیرونی جنگیں..... ایران و روم


        اندرونی مہمات سے فارغ ہو کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ  بیرونی خطرات کی طرف متوجہ ہوئے۔ اس وقت جزیرۃ العرب دنیا کی دو عظیم ترین طاقتوں کی نگاہوں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہا تھا۔ مشرق میں ساسانی ایرانی سلطنت تھی اور مغرب میں بازنطینی روم۔ ان دونوں سلطنتوں کو عربوں سے دیرینہ دشمنی تھی۔ کئی بار انہوں نے جزیرۃ العرب میں فوج کشی کی تھی اور بارہا سرحدوں پر جھڑپیں ہوئی تھیں۔


         ایرانی، عربوں سے خاص طور پر عداوت رکھتے تھے، انہیں نہ صرف اپنے تمدن اور عسکری سیاسی برتری پر بڑا غرور تھا بلکہ اپنی نسل کو بھی دنیا کی تمام قوموں سے برتر سمجھتے تھے، اسی لیے وہ عربوں کو بڑی حقارت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور انہیں جاہل، مفلس اور جنگلی تصور کرتے تھے۔ ان کے رہن سہن، وضع قطع اور بود و باش کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔

        اسلام سے پہلے چونکہ عربوں کی کوئی مضبوط حکومت نہیں تھی بلکہ جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے سرداروں کی اجارہ داری تھی، اس لیے ان کے انتشار سے فائدہ اٹھا کر ایرانی حکام سرزمین عرب میں مداخلت کرتے رہتے تھے اور بعض اوقات ان کے سرداروں کو اپنا ماتحت بنا کر ان سے لگان بھی وصول کیا کرتے تھے لیکن عربوں کی حریت پسندی انہیں زیادہ دن کسی کی غلامی میں رہنے نہیں دیتی تھی، چنانچہ وہ بار بار بغاوت کر کے ایرانیوں کی بالا دستی سے آزاد ہوتے رہتے تھے۔

         اسلام کے بعد عرب قبائل ایک پرچم تلے جمع ہو کر ایک مستحکم طاقت بن گئے تھے،اسی لیے ایرانی سلطنت کو جزیرۃ العرب سے مزید تشویش لاحق ہو گئی۔ عربوں کے وہ عیسائی قبائل بھی جو عراق کی سرحدوں پر آباد تھے، ایرانی دربار میں مسلمانوں کو ایک سنگین خطرہ بنا کر پیش کر رہے تھے۔ اس لیے ایرانی زعماء چاہتے تھے کہ کسی طرح مسلمانوں کی طاقت کو پارہ پارہ کر دیا جائے، مگر ان دنوں ایران خود شدید ترین سیاسی بحران کا سامنا کر رہا تھا، اس لیے دربارِ ایران کو کسی بیرونی محاذ پر توجہ دینے کی فرصت نہیں مل رہی تھی۔

        اس سیاسی بحران کا آغاز کسریٰ پرویز کی موت سے ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا دعوتی مکتوب چاک کرنے کے کچھ ہی دنوں بعد وہ اپنے بیٹے شیرویہ کے ہاتھوں قتل ہو گیا تھا۔ پھر جب شیرویہ نے بغاوتوں کے امکانات سے نجات پانے کے لیے اپنے تمام بھائیوں کو قتل کر ڈالا تو ساسانی سلطنت یک لخت جانشینوں کی کھیپ سے تہی دامن ہو گئی۔ اپنی حکومت کے استحکام کے ان مبالغہ آمیز انتظامات کے باوجود بدقسمت شیرویہ صرف آٹھ ماہ حکومت کر کے اس حالت میں مر گیا کہ پیچھے اس کے سات سالہ لڑکے اردشیر کے سوا کوئی جانشین نہ تھا۔ اسے تخت پر بٹھا دیا گیا مگر کم سنی کی وجہ سے وہ اس قابل نہ تھا کہ حکومتی ذمہ داریاں انجام دے سکتا، نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ بعض اوقات حکومتی معاملات عورتوں کو سنبھالنے پڑے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی حیاتِ بابرکات کے آخری برسوں سے لے کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور تک ایران کی سیاسی صورتحال جوں کی توں تھی۔ "بُوران دُخت" اور "آرزمی دخت" نامی دوشہزادیاں سلطنت کے معاملات پر حاوی تھیں اور ایرانی سیاست اپنی بحرانی کیفیت سے باہر نہیں نکل سکی تھی۔

        غرض ان وجوہ سے ایرانیوں کو اب تک جزیرۃ العرب کے خلاف کسی کارروائی کا موقع نہیں مل سکا تھا، تاہم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو یقین تھا کہ ایرانیوں کی حالت جوں ہی سنبھلے گی وہ سرزمین عرب پر یلغار کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے، اس لیے آپ مشرقی سرحدوں کی طرف سے پوری طرح چوکنا تھے۔

ایران پر فوج کشی کا موقع

        اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ انہی دنوں میں از خود ایسے حالات  پیدا ہو گئے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ایرانی سرحدوں پر پہلی بار لشکر کشی کا انقلابی فیصلہ کرنے میں کوئی تردد باقی نہ رہا۔ ہوا یہ کہ عراق کی سرحدوں پر آباد بعض عرب قبائل جو صدیوں سے ایرانیوں کے مظالم برداشت کر رہے تھے، ان کے سیاسی بحران سے فائدہ اٹھا کر ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ یہ عرب قبائل عیسائی تھے مگر انہوں نے وطنی غیرت کے سبب ایرانیوں کی غلامی کی زنجیریں توڑ ڈالی تھیں اور اب عرب سے ملے ہوئے ایرانی صوبے "سواد" (عراق) میں گھس کر کارروائیاں کر رہے تھے۔ ان قبائلیوں میں مزاحمت کا جذبہ  پیدا کرنے میں قبیلہ وائل کے ایک رئیس مثنیٰ بن حارثہ شیبانیؓ   پیش پیش تھے جنہوں نے  ۹ھ میں مدینہ آکر اسلام قبول کیا تھا۔ وہ اپنی قوم کو لے کر ایرانیوں کی چوکیوں پر چھاپہ مار حملے کرتے رہتے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ان کی کارروائیوں کی اطلاعات ملیں تو ان کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔ لوگوں نے بتایا:

        "یہ مثنیٰ بن حارثہؓ  ہیں جو کوئی گمنام شخص نہیں، مشہور و معروف اور بلند مرتبہ آدمی ہیں۔"مثنیٰ بن حارثہ کو خوب اندازہ ہو گیا تھا کہ کسریٰ کی افواج میں اب پہلے جیسا دم خم نہیں ہے۔ انہوں نے سوچا اگر مدینہ منورہ سے افواج فراہم ہو جائیں تو ایران کو فتح کرنا زیادہ مشکل نہیں ہوگا۔ چنانچہ وہ خود مدینہ منورہ آئے اور دربارِ خلافت سے عراق پر حملے کی اجازت لی اور امدادی افواج کا مطالبہ بھی کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آٹھ ہزار سپاہیوں کی کمک کے ساتھ اس فوج کشی کی منظوری دے دی۔ تاہم آپ محسوس کر رہے تھے کہ ایران جیسی عظیم الشان سلطنت کے ساتھ ٹکر لینے کے لیے کسی غیر معمولی قائد کی ضرورت ہے۔ آپ کی نگاہِ انتخاب ایک بار پھر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ پر پڑی، جنہوں نے مرتدین اور منکرینِ ختمِ نبوت کے خلاف جہاد میں حیرت انگیز کامیابیاں حاصل کر کے اپنی عسکری صلاحیتوں کا لوہا منوالیا تھا۔

        حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں عراق کی طرف کوچ کرنے اور مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی مہم کو کامیاب بنانے کا حکم دیا۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے درخواست کی کہ انہیں کمک فراہم کی جائے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ کو روانہ کر دیا جو جنگی اور سفارتی معاملات میں اپنی مثال آپ تھے۔ لوگوں نے اعتراض کیا کہ صرف ایک آدمی بھیجنے سے کیا فائدہ؟ مگر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:

        "ان جیسا ایک آدمی جس فوج میں شامل ہو اسے شکست نہیں دی جا سکتی۔"

        عراق پر اس پہلی یلغار کی کامیابی کے لیے ضروری تھا کہ حریف پر بھرپور حملے کیے جائیں تاکہ مسلمانوں کی قوت کی دھاک بیٹھ جائے، اس مقصد کے لیے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے مشیروں کے ساتھ مل کر بہت سوچ سمجھ کر جنگی نقشہ مرتب کیا، ساتھ ہی حضرت عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ کو بھی تاکید کی کہ وہ اپنی فوج لے کر حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا ملیں۔

ایرانیوں کو  پیغام:

        حکمتِ عملی کے مطابق یہ تمام فوجیں خلیج فارس کے قریب ساحلی مقام "اُبُلّہ" کے قریب جمع ہو گئیں۔ ان کی ایک سمت ایران تھا اور دوسری سمت جزیرۃ العرب، جبکہ تیسری طرف خلیج فارس کا گہرا پانی تھا۔ یہاں پر قابض فوج نہ صرف  بیک وقت عراق اور عرب کی سرحدوں پر تسلط حاصل کر سکتی تھی بلکہ سمندر کے راستے بلا روک ٹوک ہندوستان تک جا سکتی تھی۔ عراق کے اس خطے میں ایرانیوں کے گورنر "ہُرمز" کی حکومت تھی، جس کے ظلم و ستم سے رعایا اتنی پریشان تھی کہ اسے برملا بد دعائیں دیتی۔ لوگوں میں ہرمز کا نام ایک گالی بن گیا تھا۔ کسی کو کوسنے کے لیے "ہرمز سے بڑا کافر" عام محاورہ بن گیا تھا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے آتے ہی ہرمز کو مراسلہ بھیج دیا کہ یا تو اسلام قبول کر لو یا جزیہ دے کر ہماری حفاظت میں آ جاؤ۔ ورنہ تمہارے مقابلے میں ایسی قوم آ رہی ہے جسے اللہ کے راستے میں قتل ہونا اتنا ہی پسند ہے جتنا تمہیں شراب مرغوب ہے۔


مجوسیوں سے پہلی جنگ..... ذات السلاسل:


        ہرمز نے یہ خط ایران کے پایہ تخت مدائن میں کسریٰ اردشیر کو روانہ کر دیا اور خود اپنی تمام فوج کو رکاب میں لے کر مسلمانوں سے ٹکر لینے نکل کھڑا ہوا، اس کے ساتھ نامی گرامی شہزادے اور پہلوان بھی تھے۔ ایرانی سورماؤں نے اپنی صفوں کو زنجیروں سے باندھ رکھا تھا تاکہ شکست کھا کر بھاگنے کا خیال بھی نہ آئے اس لیے اس جنگ کو "ذات السلاسل" یعنی زنجیروں والی جنگ کہا جاتا ہے۔

        چونکہ یہ اسلامیانِ عرب اور مجوسِ عجم کی پہلی باقاعدہ جنگ تھی اس لیے طبلِ جنگ پر چوٹ پڑی تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ دشمن پر نفسیاتی دباؤ ڈالنے کے لیے تلوار سونت کر خود دونوں فوجوں کے درمیان آ کھڑے ہوئے اور ایکا ایکی مقابلے کے لیے للکارا۔مسلمانوں کے سپہ سالارِ اعلیٰ کو شمشیر بکف دیکھ کر ہُرمُز کو بھی اپنی قوم کا حوصلہ بحال رکھنے کے لیے میدان میں آنا پڑا، مگر ساتھ ہی اس نے اپنے کچھ سپاہیوں کو سمجھا دیا کہ وہ موقع پاتے ہی صفوں سے نکل کر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ پر ٹوٹ پڑیں۔

        مقابلہ شروع ہوا، حضرت خالد رضی اللہ عنہ اور ہرمز دونوں اپنے گھوڑوں سے کود کر آمنے سامنے آگئے، دونوں طرف سے تلواروں کے چند بھرپور وار ہوئے اور آخر حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے ہرمز کو اپنے آہنی بازوؤں میں جکڑ لیا۔ یہ دیکھ کر ہرمز کے ساتھی حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی طرف لپکے، تاہم ادھر سے حضرت قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ نے بروقت حملہ کر کے انہیں مار بھگایا، اتنی دیر میں حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے ہرمز کا کام تمام کر دیا جس سے ایرانیوں میں بھگدڑ مچ گئی، ان کے پہلوان اپنی زنجیریں توڑ توڑ کر بھاگے، مسلمانوں نے تعاقب کرتے ہوئے ان کے بے شمار سپاہی کاٹ ڈالے۔ یہ سن ۱۲ ہجری کے آغاز کا واقعہ ہے، سرحداتِ عجم کی اس پہلی فتح کی خوشخبری مالِ غنیمت کے پانچویں حصے کے ساتھ دربارِ خلافت بھیج دی گئی۔

ثَنِّی کا معرکہ:

        اس دوران دربارِ ایران سے ایک نامور جرنیل قارِن کی کمان میں ہُرمُز کی مدد کے لیے کمک بھیج دی گئی تھی۔ یہ فوج راستے میں تھی کہ ہرمز کی شکست خوردہ فوج آتے ہوئے ملی، جس نے اپنے اوپر پڑنے والی آفت کی خبر دی، قارن یہ سن کر خوفزدہ ہو گیا اور وہیں "ثَنِّی" کے مقام پر پڑاؤ ڈال دیا۔ ادھر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اپنی فوج کو آگے بڑھایا اور ایرانیوں پر ہلہ بول دیا۔ حریف فوج یہاں بھی جم کر نہ لڑ سکی، قارن مارا گیا اور اس کے تیں (۳۰) ہزار سپاہی بھی موت کے گھاٹ اتر گئے۔


دَلَجہ کی جنگ:

        ایرانی دربار میں اس رسوا کن شکست کی خبر پہنچی تو دوسپہ سالار اَندَر زَگر اور بَہمَن جادوَیہ ایک لشکرِ جرار لےکر مسلمانوں سے انتقام لینے روانہ ہوئے۔ صفر ۱۲ ہجری میں "دلجہ" کے مقام پر مسلمانوں اور مجوسیوں میں بڑی خونریز جنگ ہوئی۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اپنی فوج کا کچھ حصہ گردونواح کی نشیبی زمین میں چھپا دیا تھا۔ جب دونوں فریق لڑتے لڑتے تھک گئے تو مسلمانوں کی اس تازہ دم فوج نے یکایک دھاوا بول دیا، ایرانی اس غیر متوقع حملے سے بدحواس ہو کر بھاگ نکلے۔ ان کا سردار اندر زگر فرار ہوتے ہوئے  پیاس کی شدت سے مر گیا۔

اَمغِیشیَا کا مالِ غنیمت:

        سرحداتِ عراق پر آباد قبیلہ بکر بن وائل کے عیسائی عرب، ایرانی سلطنت کے حامی تھے اور دلجہ کی جنگ میں انہوں نے ایرانیوں کی مدد کی تھی۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے انہیں سبق سکھانا ضروری سمجھا اور دریائے فرات کی طرف پیش قدمی کی۔ عرب عیسائی، ایرانی سپہ سالار جابان کےلشکر میں شامل ہو کر مقابلے پر نکل آئے۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے یہاں بھی دشمنوں کو مبارزت کی دعوت دی۔ نامور عیسائی جنگجو مالک بن قیس مقابلے میں آیا اور حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں مارا گیا۔ اس کے بعد عام معرکہ ہوا جس میں ستر ہزار ایرانی اور عیسائی عرب قتل ہوئے۔ ان کے خیمہ گاہ "امغیشیا" میں تھی جہاں ساز و سامان، اسلحے اور جانوروں کا بہت بڑا ذخیرہ جمع تھا، دشمن خوف کی وجہ سے یہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بھاگ نکلا۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے جب اس مالِ غنیمت پر قبضہ کر کے پانچواں حصہ مدینہ منورہ بھیجا تو مال و دولت کے یہ انبار دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بے ساختہ کہہ اٹھے:

        "کوئی ماں خالد جیسا بیٹا نہیں جن سکتی۔"


فتحِ حیرہ:

        دریائے فرات کے قریب "حیرہ" عیسائی عربوں کا قدیم مرکز تھا۔ لشکرِ اسلام نے آگے بڑھ کر اس کا محاصرہ کر لیا۔ شہر کے لوگ مقابلے سے عاجز آگئے تو اپنے ایک رئیس عمرو بن عبدالمسیح کو صلح کی بات چیت کے لیے بھیج دیا۔

        حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: "جنگ چاہتے ہو یا امن؟" وہ بولا: "امن۔"

        عمرو بن عبدالمسیح کا خادم اپنے ساتھ زہر کی تھیلی لیے ہوئے تھا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے پوچھا "یہ ساتھ کیوں لائے ہو؟ " بولا: "ڈرتا ہوں کہ اگر صلح کے مذاکرات میں ناکام ہو گیا تو اپنی قوم کو کیا منہ دکھاؤں گا۔ اس سے بہتر ہوگا کہ زہر کھاکے مر جاؤں۔" حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے تھیلی لے کر زہر اپنی ہتھیلی پر الٹ دیا اور بولے: "جب تک وقت پورا نہ ہو جائے، موت نہیں آ سکتی۔" آپ نے "بِسْمِ اللَّهِ خَیْرِ الْأَسْمَاءِ، رَبِّ الْأَرْضِ وَ السَّمَاءِ، الَّذِی لَیْسَ یَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ دَاءٌ، الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ"  پڑھتے ہوئے زہر پھانک لیا اور آپ کو کوئی گزند نہ پہنچی۔ عمرو بن عبدالمسیح یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا اور کہہ اٹھا "جب تک مسلمانوں میں تم جیسے موجود ہیں، وہ جس چیز کا بھی ارادہ کریں گے اسے حاصل کر کے رہیں گے۔غرض اہل حیرہ نے ایک لاکھ نوے ہزار درہم سالانہ پرصلح کرلی یہ ربیع الاول سن ۱۲ ہجری کا واقعہ ہے۔مسلمانوں نے مقامی باشندوں کے ساتھ بڑی کشادہ دلی کا معاملہ کیا،یہ سلوک دیکھ کر گرد و نواح کے زمینداروں اور رئیسوں نے بھی جزیہ دینا قبول کر کے مسلمانوں کی ماتحتی اختیار کر لی۔

معرکہ عین التمر:

        محلاتی سازشوں میں مصروف ایرانی سیاست دانوں کے باہمی اختلافات اپنی جگہ تھے مگر مسلمانوں کے مقابلے میں وہ سب ایک تھے اور اپنے ملک کی حفاظت کے لیے نہایت پرجوش تھے۔انہوں نے اپنے سپہ سالار بہمن جادویہ کو مسلمانوں سے مقابلے کے لیے نااہل سمجھ کر ہٹا دیا تھا اور اس کی جگہ "بہرام چوبیں" کو مقرر کر دیا تھا۔ بہرام نے مسلمانوں سے بدلہ لینے کے لیے اپنے بیٹے مہران کو لشکر دے کر بھیجا جس نے شمالی عراق کے علاقے عین التمر میں پڑاؤ ڈال دیا، اس کی مدد کے لیے ایک عیسائی عرب سردار عُقبہ بن ابی عُقبہ بھی قبائلیوں کی فوج لے کر پہنچ گیا۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے بھی شمال کی طرف پیش قدمی کی اور انبار سمیت راستے کی بستیوں کو زیرِ نگیں کرتے ہوئے دشمن کے مقابلے میں "عین التمر" پہنچ گئے۔ جنگ شروع ہوئی تو حضرت خالد نے بذات خود عیسائی سردار عقبہ پر حملہ کیا اور اسے جکڑ لیا، یہ دیکھ کر دشمنوں کے قدم اکھڑ گئے اور ان کی بڑی تعداد نے فرار ہو کر ایک قلعے میں  پناہ لی، جبکہ مہران خوفزدہ ہو کر بھاگ نکلا۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے قلعے کا محاصرہ کر کے اسے بزورِ قوت فتح کیا اور دشمنوں کا کام تمام کر کے چھوڑا۔

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ دومۃ الجندل میں:

        اس دوران جزیرۃ العرب کے شمال میں دومۃ الجندل کے علاقے میں بھی عرب عیسائی قبائل بنو غسان، بنو تنوخ اور بنو کلب مسلمانوں کے خلاف جتھہ بندی کر رہے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کی سرکوبی کے لیے حضرت عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا تھا مگر وہ تنہا ان پر قابو نہ پا سکے تو حضرت خالد رضی اللہ عنہ سے مدد طلب کی۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ بلا پس و پیش وہاں پہنچ گئے۔ عیسائی عربوں نےانہیں آتے دیکھا تو گھبرا گئے، ان کے سردار اُکیدر بن مالک نے جو غزوہ تبوک میں حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی یلغار کا مشاہدہ کر چکا تھا، اپنی قوم کو صلح کرنے کا مشورہ دیا مگر عیسائی قبائل لڑنے مرنے پر آمادہ تھے۔

         اکیدر نے یہ رنگ دیکھا تو ایک طرف نکل گیا مگر راستے میں ایک مسلمان کے ہاتھوں مارا گیا۔ ادھر ایک عرب نصرانی سردار جُودی بن ربیعہ نے قبائل کو مزید جوش دلایا۔ وہ دو حصوں میں تقسیم ہو کر حضرت خالد رضی اللہ عنہ اور عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ کی فوجوں سے، جو الگ الگ سمتوں میں تھیں، لڑنے کے لیے نکلے۔

         گھمسان کی جنگ کے بعد عیسائیوں کو دونوں محاذوں پر شکست ہوئی، جودی گرفتار ہو گیا اور باقی عیسائی پسپا ہو کر قلعہ بند ہو گئے، تاہم حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اس قلعے کو بھی بزورِ شمشیر فتح کر کے دم لیا۔ اس طرح عرب نصرانیوں کی طاقت پارہ پارہ ہو گئی۔

فِراض کی جنگ:

        اب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ واپس "حیرہ" کی طرف پلٹے جہاں عجمی سیاستدان اور عرب عیسائی سردار از سرِ نو طاقت جمع کر کے جنگ کی آگ بھڑکا رہے تھے۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے یکے بعد دیگرے مُصیَّح، ثَنیّ اور زُمَیل کے میدانوں میں ان سے جنگیں کیں اور ان کا شیرازہ بکھیر دیا۔

         "فراض" شام، عراق اور ریاستِ حیرہ کی سرحدات کا سنگم ہونے کی وجہ سے نہایت اہم مقام تھا۔ ذوالقعدہ ۱۲ ہجری میں حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اسے فتح کرنے کے لیے فوج مرتب کی۔ شام کے رومی، عراق کے عجمی اور جزیرہ کے عیسائی قبائل میں سے کوئی یہ برداشت نہیں کر سکتا تھا کہ اتنا اہم علاقہ مسلمانوں کے قبضے میں آئے، اس لیے جب اسلامی لشکر یہاں پہنچا تو ایرانیوں اور عیسائی عربوں کے ساتھ ساتھ رومی افواج بھی مسلمانوں کے مقابلے کے لیے شانہ بشانہ کھڑی تھیں، دونوں فوجوں کے درمیان دریائے فرات حائل تھا۔

         حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے حریف کو دریا پار کرنے کا موقع دیا۔ یہاں ایک نہایت خونریز جنگ کے بعد اتحادیوں کی ہمت جواب دے گئی، جب وہ فرار ہوئے تو دریائے فرات کی موجوں کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ قریب قریب ساری اتحادی فوج ماری گئی، کم و بیش ایک لاکھ افراد قتل ہوئے۔

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا حج اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تنبیہ:

        اس شاندار فتح کے بعد حضرت خالد رضی اللہ عنہ پر اچانک حجِ  بیت اللہ کا شوق غالب آ گیا، جس میں صرف دو ہفتے باقی رہ گئے، چونکہ اسلامی لشکر کے سپہ سالار کی محاذِ جنگ سے غیر حاضری سے سپاہیوں پر منفی اثر پڑ سکتا تھا، اس لیے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اپنا ارادہ کسی پر ظاہر نہ ہونے دیا اور خفیہ طور پر نہایت تیز رفتاری سے صحرائے عرب عبور کرتے ہوئے مکہ جا پہنچے۔

         مناسکِ حج ادا کر کے آپ اسی تیزی سے واپس عراق پہنچ گئے اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس سال خود حج کے لیے تشریف لائے تھے مگر حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی آمد و رفت سے وہ بھی اس وقت بے خبر رہے، مدینہ واپس پہنچ کر معلوم ہوا تو حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو اپنے مکتوب میں تحریر فرمایا:

        "خبردار! آئندہ ایسا خطرہ مول نہ لینا۔ خیال رکھنا کہ تمہارے اندر خود پسندی کا مادہ  پیدا نہ ہونے پائے ورنہ نقصان ہوگا۔اپنے کسی کارنامے پر ناز مت کرنا کیونکہ یہ سب اللہ ہی کا احسان ہے وہی بہترین بدلہ دینے والاہے۔"اس کے ساتھ ہی آپ نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو فوری حکم جاری کیا کہ وہ عراق چھوڑ کر شام کی سرحدوں پر پہنچ جائیں، کیونکہ اب وہاں سخت جنگوں کا وقت آ گیا تھا اور حضرت خالد سیف اللہ رضی اللہ عنہ کی وہاں زیادہ ضرورت تھی۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic