Musaylima Kazzab Ka Fitna Aur Jang e Yamama Ki Mukammal Tareekh

مسلیمہ کذاب کا فتنہ

        نبوت کے جھوٹے دعوے داروں میں مسلیمہ کذاب کی طاقت سب سے زیادہ تھی جو جزیرۃ العرب کے مشرقی علاقے نجد سے نمودار ہوا تھا۔ وہ نہایت مکاراورشاطر تھا۔ میٹھی میٹھی باتوں اورخوبصورت وعدوں سے لوگوں کا دل جیتنا اس کے بائیں ہاتھ کا کام تھا۔ وہ اپنے ہاں مسلمانوں کی طرح اذان اورنماز کا اہتمام کراتا تھا۔ بنوحنیفہ کا سارا قبیلہ اس کے گرد جمع ہوگیا تھا۔ "یمامہ" کو اپنا مرکز بناکر اس نے اسے مکہ مکرمہ کی طرح "حرم" قرار دے دیا تھا۔ قرآن مجید کے اسلوب سے ملتی جلتی آیات بنانے کی بھی ناکام کوشش کرتا رہتا تھا۔ اس کی جعلی "وحی" کے چند نمونےملاحظہ ہوں:



➊وَالنِّشَاءِ وَأَلْوَانِهَا، وَاَعْجَبِهَا اَلسُّوْدُ وَاَلْبَانُهَا، وَالشَّاءِ السَّوْدَاءُ وَاللَّبَنُ الْاَبْيَضُ،
 إِنَّ هَذَا لَعَجَبٌ مَّحْضٌ، وَقَدْ حُرِّمَ الْمَذْقُ فَمَا لَكُمْ لَا تَمْجَعُوْنَ
"قسم ہے بکریوں اور اُن کے رنگوں کی، ان میں سے کالی بکریاں اور اُن کا دودھ سب سے عجیب ترین چیز ہیں،بکریاں کالی اوردودھ سفید۔ یہ بڑی عجیب بات ہے۔ یقیناً لسی حرام کردی گئی ہے۔ تو تمہیں کیاہواکہ تم دودھ کے ساتھ کھجوریں نہیں کھاتے۔"

➋ يَا ضِفْدَعُ ابْنَةُ ضِفْدَعٍ، نُقِّى مَا تُنِقِّيْنِ، اَعْلَاكِ فِى الْمَاءِ وَ اَسْفَلُكِ فِى الطِّيْنِ، 
لَا الشَّارِبَ تَمْنَعِيْنَ وَلَا الْمَاءَ تُكَدِّرِيْنَ
"اے مینڈکی! مینڈکی کی بچی، جسے تو صاف رکھے وہ صاف ہوا، تیرا بالائی بدن پانی میں اور نچلا مٹی میں ہے۔ نہ تو پینے والے کو روکتی ہے، نہ پانی کو گدلا کرتی ہے۔"

➌ وَالْمُذْرِيَاتِ زَرْعًا، وَالْحَاصِدَاتِ حَصْدًا، وَالدَّارِيَاتِ قَمْحًا، وَالطَّاحِنَاتِ طَحْنًا، وَالْخَابِزَاتِ خُبْزًا، وَالثَّارِدَاتِ ثَرْدًا، وَالْلَّاقِمَاتِ لَقْمًا، إِهَالَةً وَسَمْنًا، لَقَدْ سُبِقْتُمْ عَلَى اَهْلِ الْوَبْرِ، وَمَا سَبَقَكُمْ اَهْلُ الْمَدَرِ، رِيْفَكُمْ فَامْنَعُوْهُ وَالْمُعْتَرَّ فَاٰوُوْهُ
"قسم ہے ان عورتوں کی جو کھیت میں بیج بوتی ہیں، جو فصل کاٹتی ہیں، جو گندم کے دانے بکھیرتی ہیں، جو آٹا پیستی ہیں، جو روٹی پکاتی ہیں، جو ثرید تیار کرتی ہیں، جو لقمے بناتی ہیں سالن اور چربی کے ساتھ۔ بے شک تمہیں خانہ بدوشوں پر فضیلت دی گئی، دیہاتی تم سے آگے نہیں۔ اپنی زرخیز زمین کا دفاع کرو اور سوالی کو پناہ دو۔"

        مسلیمہ کے پیروکار اس قسم کی عجیب وغریب آیتوں کو بڑے شوق سے سنتے۔ ان میں سے زیادہ تر جانتے تھے کہ یہ جھوٹا ہے مگر نسلی تعصب نے انہیں گمراہ کردیا تھا۔ یہ لوگ عربوں کے مشہور قبیلے ربیعہ کی شاخ تھے جو زمانہ دراز سے "مُضَر" کے مخالف تھے۔ جبکہ قریش جن سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نسبی تعلق تھا، مُضَر ہی کی شاخ تھے، ربیعہ والوں کو حسد تھا کہ نبی مُضَر میں کیوں پیدا ہوا۔ اب جبکہ انکے ایک فرد نے نبوت کا دعویٰ کردیا تھا انہیں بدلہ لینے کا گویا بہانہ ہاتھ آگیا۔

        ان کا نسلی تعصب اس قدر بڑھا ہوا تھا کہ جب مسلیمہ کے ایک پیروکار سے پوچھا گیا کہ کیا وہ واقعی یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ مسلیمہ نبی ہے؟ تو اس نے جواب دیا: "میں جانتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے نبی ہیں اور مسلیمہ جھوٹا، مگر مجھے مدینہ کے سچے نبی سے یمامہ کا جھوٹا نبی زیادہ پسند ہے۔"

        اس قبائلی عناد کے ساتھ علاقائی۔ سیاسی مفادات کی امیدیں بھی تھیں جنہوں نے ہزاروں افراد کو مسلیمہ کے گرد جمع کردیا تھا۔ مسلیمہ کی یہ طاقت اس وقت اور بڑھ گئی جب جھوٹی نبیہ سجاح اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ یمامہ پہنچی اورمسلیمہ سےدوبدو بات چیت کی۔ مسلیمہ نے اسے سبز باغ دکھایا کہ وہ دونوں مل کرعرب کو فتح کریں گے۔ سجاح نہ صرف آمادہ ہوگئی بلکہ اتحاد کو مضبوط کرنے کے لیے اس نےمسلیمہ کی طرف سے رشتے کی پیش کش بھی منظور کرلی۔

        شادی کے بعد جب سجاح واپس اپنے لشکر میں آئی تواس کے عقیدت مندوں نے پوچھا: "آپ کو مہر میں کیا دیا گیا؟ "بولی: "کچھ بھی نہیں۔" وہ بگڑکر بولے: "واپس جائیے اور کچھ مہر لے کرآئیے۔"

        سجاح یہ مطالبہ لے کر اپنے فرضی شوہرکے پاس گئی تواس نے بڑی بےنیازی سے کہا: "اپنی قوم میں اعلان کردو کہ مسلیمہ نے ان کے ذمے سے دو نمازیں معاف کردی ہیں: فجر اور عشاء۔"

        سجاح کے پیروکار اس انوکھے مہر سے بڑے خوش ہوئے کہ دو نمازوں سے جان چھوٹ گئی۔وہ دل وجان سے سجاح کے ساتھ ساتھ مسلیمہ کے بھی گن گانےلگے۔

        مسلیمہ پوری طرح مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست کو مٹانے کے لیے آمادہ تھا، اس کی اس اسلام دشمنی کا یہ عالم تھا کہ آتے جاتے اوراسکے پاس سے گزرتےہوئے ہرمسلمان کو پکڑ لیتا اور زبردستی اپنا کلمہ پڑھوانے کی کوشش کرتا۔جو نہ مانتااسے قتل کردیتا۔ ایک صحابی عبداللہ بن وہبؓ کا گزر اس طرف سے ہوا تو مسلیمہ نے انہیں بھی گرفتار کرلیا اوراپنا کلمہ پڑھنے پر مجبورکیا۔ حضرت عبداللہ بن وہبؓ نے قرآن مجید کی دی گئی رخصت ﴿اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَقَلْبُهٗ مُطْمَئِنٌّۢ بِالْاِيْمَانِ﴾ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زبانی اقرار کرلیا، چنانچہ مسلیمہ نے انہیں قتل کرنے کی بجائے قید کردیا۔

        مشہور دلیر صحابیہ حضرت اُمّ عمارہؓ کے بیٹے حضرت حبیب بن زیدؓ کو بھی مسلیمہ نے گرفتار کرلیا تھا۔ ان کی مسلیمہ سے تکرار ہوئی۔ مسلیمہ انہیں کہتا: "کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد اللہ کے رسول ہیں؟" وہ کہتے: "ہاں، بالکل۔" مسلیمہ پوچھتا: "اور کیا تم یہ گواہی دیتے ہوکہ میں اللہ کا رسول ہوں؟" وہ انجان بن کر کہتے: "مجھے کچھ سنائی نہیں دے رہا۔"

        مسلیمہ ان کا ایک ایک عضو کٹواتا چلا گیا مگر وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کی ختم نبوت کے برملا اظہار سے باز نہ آئے اوراس طرح شدید ترین اذیتیں سہتے ہوئے شہید ہوگئے۔

مسلیمہ کے خلاف لشکر کشی:

        ایسے ظالم وجابراورشاطر دشمن کے فتنے کو مٹانے کے لیے حضرت ابوبکر صدیقؓ نے دو لشکر بھیجے تھے: پہلا لشکر حضرت عکرمہ بن ابی جہلؓ کی قیادت میں گیا تھا اور دوسرا حضرت شرحبیل بن حسنہؓ کی کمان میں۔ حضرت عکرمہؓ کو حضرت ابوبکرصدیقؓ نے یہ ہدایت کی تھی کہ جب تک شرحبیل بن حسنہ کا لشکر نہ پہنچے تم مسلیمہ کے پیروکاروں سے جنگ شروع نہ کرنا۔ مگر حضرت عکرمہؓ نے اس ہدایت پر زیادہ توجہ نہ دی اور نجد پہنچتے ہی دشمن پر حملہ کردیا۔ مسلیمہ کے سپاہی بڑے جنگجو تھے، انہوں نے اسلامی لشکر کو شکست دے کر پسپا کردیا۔

         حضرت عکرمہؓ کی شکست کی خبر حضرت ابوبکرصدیقؓ کو پہنچی تو انہوں نے فی الفور حضرت شرحبیل بن حسنہؓ کے لشکرکو جومسلیمہ ہی سے لڑائی کے لیے جارہا تھا،راستے میں رکوا لیا اورحکم بھیجا کہ خالد بن ولید کی فوج کے آنے کا انتظارکرو۔ دراصل حضرت ابوبکرصدیقؓ مسلیمہ کذاب کی طاقت سے اچھی طرح واقف تھے، اس لیے اس پر حملے کے لیے ایک بڑی فوج کا مرتب ہونا ضروری سمجھتے تھے۔ آخر حضرت خالد بن ولیدؓ طلیحہ کی سرکوبی کرکے مدینہ آئے تو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے تازہ ہدایات کے ساتھ انہیں مسلیمہ کذاب سے مقابلے کی کمان سونپی اور ساتھ ہی ہدایت کردی کہ راستے سے شرحبیل بن حسنہؓ کے لشکرکو ساتھ ملاتےجائیں۔ حضرت خالد بن ولیدؓ اس حکم کے مطابق حضرت شرحبیل بن حسنہؓ کے لشکر کوساتھ لیتے ہوئے یمامہ کے نواح میں پہنچے۔

فیصلہ کن معرکہ:

        مسلیمہ کے ہاتھوں شہید کیے جانے والے حبیب بن زیدؓ کی والدہ اُمّ عمارہؓ بھی اپنے دوسرے بیٹے عبداللہ بن زیدؓ کے ساتھ اس لشکر کشی میں شریک تھیں۔ لشکر کی آمد کی خبر سن کر مسلیمہ کذاب بنوحنیفہ کے چالیس ہزار مسلح افراد کے ساتھ عقرباء کے میدان میں صف بندی کرچکا تھا۔مسلمانوں کے پہنچتے ہی شدت کی جنگ چھڑ گئی۔ بنوحنیفہ اپنے جھوٹے نبی اور قومی حمیت کی خاطر غیرمعمولی جوش وجذبے سے لڑے۔مسلمانوں کو اتنی سخت مزاحمت کا پہلے کسی جنگ میں تجربہ نہیں ہواتھا۔ کئی نامور صحابہ کرامؓ یکے بعد دیگرے شہید ہوگئے۔ مہاجرین کے علمبردار حضرت عبداللہ بن حفصؓ شہید ہوئے تو حضرت سالم مولیٰ ابی حذیفہؓ نے جھنڈا سنبھال لیا، جن کی قرأت کی تعریف خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی۔ لڑائی کی شدت دیکھ کر کسی نے ان سے کہا: "آپ کو اپنی جان کی پروا نہیں؟" بولے: "جان کی پروا کروں تو مجھ سے برا حافظِ قرآن کون ہوگا۔"

        ان کے آقا ابوحذیفہؓ بھی ساتھ میں مصروفِ پیکار تھے اور پورے جوش سے کہہ رہے تھے:

        "اے قرآن کے قاریو! قرآن مجید کو اپنی کارکردگی کی زینت بنائے رکھو۔"

        حضرت عمرؓ کے بڑے بھائی حضرت زید بن خطابؓ نے صحابہ کرام کو حوصلہ دلاتے ہوئے کہا:

        "لوگو دشمن پر وار کرو اور آگے بڑھتے چلے جاؤ۔"

        لڑائی کی یہ حالت تھی کہ کبھی مسلمان غالب آنے لگتے اور کبھی کفار۔ ایک بار مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے اور دشمن انہیں دھکیلتے ہوئے اُن کی خیمہ گاہ تک آن پہنچے۔

        حضرت ثابت بن قیسؓ نے مسلمانوں کی یہ حالت دیکھی تو پکار کر کہا:

        "اے اللہ! میں مسلمانوں کی طرف سے تجھ سے معذرت کرتا ہوں۔" یہ کہہ کر حملہ کیا اور لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔ حضرت سالم، حضرت ابوحذیفہ اور حضرت زید بن خطابؓ نے بھی اپنی جانیں قربان کردیں۔

        میدانِ جنگ میں دیر تک کشتوں کے پشتے لگتے رہے، آخرکار حضرت خالد بن ولیدؓ نے مسلمانوں کو منظم کرکے ایک زوردار حملہ کیا اوردشمن کی صفیں الٹ دیں۔ منکرینِ ختمِ نبوت سر پر پاؤں رکھ کر میدانِ جنگ سے بھاگ نکلے۔ میدانِ جنگ سے کچھ دور بلند و بالا دیواروں میں گھرا ہوا ایک باغ تھا جسے "حدیقة الرحمٰن" کہا جاتا تھا،منکرینِ ختمِ نبوت فرار ہوکر اس باغ میں محصور ہوگئے۔مسلمان وہاں تک پہنچے تو وہ دروازہ بند کرچکے تھے۔ اندر داخل ہونے کی کوئی صورت نہ تھی۔ حضرت انس بن مالکؓ کے بھائی براء بن مالکؓ نے یہ منظر دیکھ کر اصرارکیا کہ انہیں اُچھال کر باغ میں ڈال دیا جائے تاکہ وہ اندر سے دروازہ کھول دیں۔پہلے پہل مسلمان نہ مانے مگر ان کے اصرار پر انہیں اندر پھینک دیا گیا۔ وہ لڑتے بھڑتے دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوگئے، تب تک انہیں اسی (۸۰) سے زائد زخم لگ چکے تھے۔ اب مسلمان ایک ریلے کی طرح اندر گھسنے لگے۔

        دشمنوں نے انہیں روکنے کی جان توڑ کوشش کی، اسی کشمکش میں ابودجانہؓ باغ کے دروازے پر شہید ہوگئے۔ اُمّ عمارہ اور ان کے صاحبزادے عبداللہ بن زیدؓ مسلیمہ کذاب کی تلاش میں دشمنوں کو چیرتے ہوئے باغ میں داخل ہونے لگے۔ اس دوران ایک شخص نے اُمّ عمارہؓ کا ہاتھ کاٹ ڈالا جو پہلے ہی تلوار اور نیزوں کے ۹ زخم کھا چکی تھیں، مگر اس کے باوجود یہ بلند ہمت خاتون آگے بڑھتی چلی گئیں۔

        بنوحنیفہ کا سالارِ محکم مرتدین کو حوصلہ دلا رہا تھا۔ حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرؓ نے تاک کر ایسا تیر مارا کہ حلق سے پار ہوگیا۔ آخر دشمنوں کا حوصلہ ٹوٹ گیا۔ مسلمانوں نے انہیں تلواروں کی باڑھ پر رکھ لیا۔ دشمن مایوس ہوکر باغ سے فرار ہونے لگے تو مسلمانوں نے تعاقب کیا۔ مسلیمہ کذاب بھی مفرورین کے ساتھ بھاگنے کی کوشش کررہا تھا، مگر وحشی بن حربؓ گھات میں تھے جو غزوہ اُحد میں حضرت حمزہؓ جیسے عظیم شخص کے قتل کے بدلے بڑی نیکی کے طور پر اس بدترین انسان کو قتل کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے اپنے روایتی انداز میں ایسا حربہ مارا کہ ملعون گھائل ہوکر گر پڑا۔

        اسی لمحے اُمّ عمارہؓ کے بیٹے عبداللہ بن زیدؓ نے تلوار کا وار کرکے اس کا کام تمام کردیا۔ ادھر اُمّ عمارہؓ بھی وہاں پہنچ گئیں۔ اپنے بیٹے کو ملعون کے خون میں تر بتر تلوار پونچھتے دیکھا تو خوشی سے سجدے میں گرگئیں۔

        اس ہولناک جنگ میں مدینہ کے مہاجرین و انصار میں سے تین سو ساٹھ (۳۶۰) حضرات صحابہ کرام نے جامِ شہادت نوش کیا، جن میں سے پینتیس (۳۵) بڑے نامور قاری اور حافظِ قرآن تھے۔

        دشمن کے سات (۷) ہزار افراد میدانِ جنگ میں، سات (۷) ہزار باغ میں اور تقریباً اتنے ہی فرار ہوتے ہوئے مارے گئے۔

        جنگِ یمامہ سن ۱۱ ہجری کے اواخر میں پیش آئی تھی۔ یہ جزیرۃ العرب میں برپا ہونے والی شورشوں کے خلاف آخری بڑی کارروائی تھی۔ اس کے بعد فتنوں کا زور بالکل ٹوٹ گیا۔ حضرت ابوبکرصدیقؓ کے جرنیلوں نے عرب کے ہر شورش زدہ گوشے میں پہنچ کر وہاں بغاوت کے شعلوں کو ٹھنڈا کیا اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کے تدبر،استقامت اور منصوبہ بندی کی بدولت ایک سال کے اندر اندر پورے ملک میں مکمل امن وامان قائم ہوگیا۔

قرآن مجید کی حفاظت:

        جنگِ یمامہ میں حفاظ و قراء کی اتنی بڑی تعداد کے شہید ہوجانے سے حضرت ابوبکرصدیقؓ کو شدید تشویش لاحق ہوئی، اس وقت تک قرآن مجید لکھ کر محفوظ کرنے کا طرزِ عام نہیں تھا۔ زیادہ تر زبانی یاد کرنے کا رواج تھا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کو خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں حفاظ کے ختم ہوجانے سے قرآن ضائع نہ ہو جائے، چنانچہ انہوں نے قرآن کریم کو کتابی شکل میں جمع کرنے کا ارادہ کیا، پہلے حضرت عمرؓ کے سامنے اپنی رائے پیش کی، دونوں حضرات نے اس موضوع پر کھل کر بحث کی اور آخر طے ہوگیا کہ یہ کام ناگزیر ہے۔ انصار میں سے حضرت زید بن ثابتؓ کے ذمے یہ کام لگایا گیا جو کہ کاتبِ وحی رہے تھے اور نوجوان صحابہ کرام میں علم و فضل کے لحاظ سے ممتاز تھے۔ انہوں نے دن رات ایک کرکے یہ عظیم مہم انجام دی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی رحلت تک چونکہ وحی نازل ہورہی تھی لہذا ایک مکمل مصحف ترتیب دینا ممکن نہ تھا کیوں کہ شرعاً مصحف کو ترتیبِ نزولی کی بجائے جبرئیل علیہ السلام کی بتائی ہوئی ترتیب پر مرتب کرنا تھا اور یہ ترتیب آخری سورت اور آخری آیت کے نزول کے بعد ہی مکمل علم میں آ سکتی تھی۔ لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی زندگی میں قرآن مجید کی مختلف آیات اورسورتیں چمڑے کے پارچوں،کھجور کی چھالوں اور شانے کی چوڑی ہڈیوں پر مختلف صحابہ کے پاس لکھی ہوئی تھیں۔ زبانی حفظ کا رواج بہت عام تھا اور حافظ حضرات ترتیبِ نزولی کی بجائے ترتیبِ لوحِ محفوظ کے مطابق قرآن سناتے تھے۔ انہیں علم ہوتا تھا کہ کونسی آیت یا سورت پہلے ہے اور کونسی بعد میں۔

        حضرت زید بن ثابتؓ نے ان تمام تحریری وسائل اور حافظوں کی یادداشت کو بروئے کار لاکر ایک مکمل محفوظ نسخہ تیارکیا جو حضرت ابوبکرصدیقؓ کے پاس رکھ دیا گیا۔ یہی نسخہ بعد میں خلیفہ دوم حضرت عمر فاروقؓ اور پھر ان کی شہادت کے بعد ان کی صاحبزادی اُمّ المومنین حضرت حفصہؓ کے پاس رہا۔ حضرت عثمانؓ کے دور میں جب یہ شکایت ملی کہ دور دراز کے علاقوں میں لوگ قرآن مجید کی قرأت میں اختلافات کا شکار ہورہے ہیں تو اسی نسخے کو دوبارہ حضرت زید بن ثابتؓ کے حوالے کیاگیا اور انہوں نے قرآن مجید کے ماہر صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ مل کر اس اصل نسخے سے متعدد نسخے تیار کرکے پورے عالمِ اسلام میں ان کی اشاعت کرائی۔

دورِنبوی، دورِصدیقی اور دورِعثمانی کے جمعِ قرآن میں فرق یہ تھا:

        ➊ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کے دورمیں تحریر کردہ نوشتوں میں آیات بھی الگ الگ لکھی ہوئی تھیں۔

        ➋ حضرت ابوبکرصدیقؓ کے دور میں ہرسورت کا مکمل الگ صحیفہ تیار کیا گیا اوران سب صحیفوں کو ایک جگہ جمع کردیا گیا۔ اسے اصل نسخے (ماسٹر کاپی) کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ اسے "اَلْأُمّ" کہا جاتا تھا۔

        ➌ حضرت عثمانؓ کے دورمیں "اَلْأُمّ" کو سامنے رکھ کر سورتوں کے الگ الگ صحیفوں کو ایک ہی بڑے صحیفے پر نقل کرلیا گیا اور پھر اس صحیفے کی نقول تیار کی گئیں۔

علاء بن الحضرمیؓ، بحرین کے محاذ پر:

        مرتدین کے خلاف کارروائیوں کے دوران حضرت علاء بن الحضرمیؓ بحرین کے علاقے میں مصروفِ پیکار رہے جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عامل منذر بن ساوٰیؓ کی وفات کے ساتھ ہی لوگ مرتد ہوگئے تھے۔ حضرت علاء بن الحضرمیؓ کے لشکر میں حضرت ابوہریرہ اور بنوحنیفہ کے ثمامہ بن اُثالؓ بھی شامل تھے۔ راستے میں ایک بہت بڑے صحرا میں شب بسری کے دوران یہ عجیب حادثہ پیش آیا کہ تمام اونٹ جن پر پانی اورغذا کا ذخیرہ لدا ہوا تھا، بھاگ گئے۔مسلمانوں نے بیدار ہوکر یہ منظر دیکھا تو بہت پریشان ہوئے کیوں کہ شدید گرمی کے دن تھے، صحرا میں پانی کے بغیرآگے سفر کرنا تو کجا زندہ رہنا بھی مشکل تھا۔ لوگوں نے ایک دوسرے کو آخری وصیتیں کرنا شروع کردیں۔

        اس کے باوجود حضرت علاء بن الحضرمیؓ ذرا بھی نہ گھبرائے اور فرمایا:

        "پریشان نہ ہوں، آپ اللہ کے راستے میں اور اللہ کے دین کے مددگار ہیں۔ اللہ آپ کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔"

        نمازِ فجر کے بعد آپ نے گڑگڑا کر دعا کی۔ سب مسلمان دعا میں شریک رہے۔ فارغ ہوئے تو دور پانی کی چمک دکھائی دی۔ آگے بڑھ کر دیکھا تو ایک بہت بڑا چشمہ ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ پورے لشکر نے وہاں سے پانی پیا اور نہائے دھوئے۔ ابھی سورج بلند نہیں ہوا تھا کہ تمام اونٹ بھی ساز و سامان سمیت واپس آگئے۔

        آگے کا سفر شروع ہوا تو حضرت ابوہریرہؓ جنہوں نے اپنا پانی سے بھرامشکیزہ چشمے کے کنارے چھوڑ دیا تھا، یکدم واپس مڑے۔ دیکھا تو اس جگہ سوائے ایک چھوٹے سے تالاب کے کچھ نہ تھا۔ مشکیزہ اسی طرح بھرا ہوا کنارے پر رکھا تھا۔ حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں: "میں سمجھ گیا کہ یہ اللہ کا خاص احسان تھا۔"

        علاء بن الحضرمیؓ نے ہجر کے مقام پر مرتدین کی جمعیت کو شکستِ فاش دی۔ باقی ماندہ دشمن فرار ہوکر دارین کی طرف بھاگے جو خلیج فارس کی ایک پٹی کے پار فصیل بند شہر تھا۔مفرورین کشتیوں میں بیٹھ کروہاں چھپ گئے۔علاء بن الحضرمیؓ نے ساتھیوں سے فرمایا: "اللہ نے خشکی میں اپنی نصرت کے مناظر دکھائے ہیں تاکہ تم سمندر میں بھی اس کی مدد کو آزماؤ۔ اب دشمن کی طرف یلغار کرو اورسمندرعبور کرجاؤ۔"

        سب تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے ساحل پر پہنچے، یہاں سے دوسرے کنارے تک کشتی کا سفر پورے چوبیس گھنٹے کا تھا مگر مرتدین نے مسلمانوں کے لیے کوئی کشتی نہیں چھوڑی تھی۔ علاء بن الحضرمیؓ نے دعا فرمائی:

"يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ! يَا كَرِيْمُ! يَا حَلِيْمُ! يَا اَحَدُ! يَا صَمَدُ! يَا حَىُّ!
 يَا مُحْيِ الْمَوْتٰى، يَا حَىُّ يَا قَيُّوْمُ! لَا إِلَهَ إِلَّا اَنْتَ يَا رَبَّنَا!"
        (اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے! اے کرم فرمانے والے! اے بردباری والے! اے واحد ذات! اے بے نیاز ذات!اے مردوں کو زندہ کرنے والے!اے ہمیشہ زندہ اورہمیشہ قائم رہنے والے۔ تیرے سوا ہمارا کوئی معبود نہیں، اے ہمارے رب!)

        یہ دعا کرکے گھوڑا سمندر میں ڈال دیا۔ تمام مجاہدین جو گھوڑوں، اونٹوں اور گدھوں پر سوار تھے، یہ دعا دہراتے ہوئے بلا تامل اپنے امیر کے پیچھے پانی میں داخل ہوگئے اور اس بحرِ ذخار کو بڑے اطمینان سے عبور کرلیا، کوئی ایک فرد بھی ڈوبنے نہ پایا۔ دارین میں چھپنے والے مرتدین یہ دیکھ کر حیران رہ گئے۔ علاء نے انہیں سنبھلنے کا موقع دیے بغیر جا گھیرا اوران کی قوت ختم کردی۔سمندر کوگھوڑوں پر عبور کرلینا صحابہ کرام کی وہ کرامت تھی جس نے دنیا کو ششدر کردیا۔ اسے دیکھ کر اسلام قبول کرنے والے ایک عیسائی راہب کا کہنا تھا:

        "اگر میں یہ کرامتیں دیکھ کر بھی اسلام نہ لاتا تو ڈر تھا کہ اللہ میری شکل نہ مسخ کر دے۔"

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic