Fatah-e-Iraq: Jang-e-Jisr ki Azmaish aur Maarka-e-Buwaib ki Azeem Fatah

ایران کا محاذ

        اس دوران ایران کے محاذ پر بھی جنگ مسلسل جاری تھی۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سنہ ۱۳ہجری میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حکم سے ایران میں تعینات آدھی فوج لے کر شام چلے گئے تھے۔ ان کی عدم موجودگی میں ایرانی مقبوضات کو سنبھالنے کی کڑی ذمہ داری حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ پر آپڑی تھی جن کا عسکری مرکز عراقی عربوں کا تاریخی شہر حیرہ تھا۔ اس وقت تختِ ایران پر "شہریران" نامی ایک جنگجو اور اولوالعزم شخص متمکن تھا، جس نے ایرانیوں کے سیاسی بحران سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سابق کم عمر بادشاہ اردشیر بن شیرویہ کو قتل کر کے تخت حاصل کر لیا تھا۔ یہ حکمران اگرچہ ساسانی نسل سے نہیں تھا مگر رومیوں سے جنگوں میں پیش پیش رہنے کی وجہ سے اسے عسکری امور کا زبردست تجربہ تھا۔


        چنانچہ جونہی اسے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی نصف فوج محاذ سے چلی گئی ہے، اس نے دس ہزار سپاہی بھیج کر مسلمانوں کو حیرہ سے بے دخل کرنے کی کوشش کی۔ حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ نے فوراً اپنا لشکر مرتب کیا اور آگے بڑھ کر قدیم عراقی شہر بابِل کے قریب ایرانی افواج کا سامنا کیا۔ لشکرِ اسلام کے دائیں اور بائیں بازوؤں پر حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ کے بھائی حضرت مُعنّٰی اور حضرت مسعود تعینات تھے۔ انہوں نے بڑھ چڑھ کر بہادری کا ثبوت دیا۔ آخر کسریٰ کی فوج کو شکست ہوئی اور مسلمان تعاقب کرتے ہوئے ایرانی دارالحکومت مدائن تک پہنچ گئے، مگر چونکہ ان کی فوج کم تھی، اسی لیے حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ نے اس مہم کو ملتوی کر کے دربارِ خلافت میں حاضری کے لیے مدینہ منورہ کی طرف کوچ کیا۔

حضرت مثنیٰ بن حارثہ مدینہ میں:

        یہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے آخری ایام تھے۔ حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ نے اس حال میں انہیں عراق کے محاذ کی صورت حال تفصیل سے بتائی اور ایرانیوں سے ایک فیصلہ کن جنگ کے لیے مزید فوج بھیجنے کی درخواست کی۔ چونکہ مدینہ طیبہ اور عرب کے ہزاروں بہترین جانثار پہلے ہی شام کے محاذ پر جا چکے تھے، اسی لیے آپ نے محاذ کو بھرتی کرنے کے سوا کوئی اور راستہ نہ تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس وقت ایک فیصلہ کیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور فرمایا:

        "شاید آج میری زندگی کا آخری دن ہے، اگر آج میں مر جاؤں تو تم شام ہونے کا انتظار کیے بغیر لوگوں کو جہاد پر ابھار کر مثنیٰ کے ساتھ کر دینا۔ میری موت کا صدمہ بھی تمہیں اس دینی فریضے سے نہ روکنے پائے۔"

        حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اسی شب انتقال فرما گئے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان کی وصیت کے مطابق اگلے دن لوگوں کو مسجدِ نبوی میں جمع کر کے ایرانیوں سے جہاد کی ترغیب دینا شروع کی۔ تین دن تک آپ لوگوں کو جہاد پر ابھارتے رہے۔ آخر بنو ثقیف کے ابوعبید بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنے قبیلے کے ساتھ اس مہم کے لیے اپنا نام لکھوانے میں پہل کی، پھر دوسرے لوگ بھی شامل ہو گئے۔ حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ کو ان سے خطاب کا موقع دیا گیا تو وہ بولے:

        "بھائیو! کسریٰ کی طاقت سے مرعوب ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، ہم ان کی سرسبز و شاداب سرحدیں فتح کر چکے ہیں، ان شاء اللہ تعالیٰ اس سے آگے کا علاقہ بھی فتح ہو جائے گا۔"

        لشکر ترتیب دینے کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوعبید ثقفی رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کر دیا، حالانکہ وہ تابعی تھے، کسی نے اعتراض کیا کہ صحابہ کی موجودگی میں ایک تابعی کو ان کا امیر کیوں مقرر فرمایا؟ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: "واللہ! میں اس کے سوا کسی کو امیر نہیں بناؤں گا جس نے ندائے جہاد پر سب سے پہلے لبیک کہا ہے۔"

        اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوعبید ثقفی رضی اللہ عنہ کو فوج میں شامل صحابہ سے ہر قدم پر مشورہ کرتے رہنے اور فوج سے اچھا سلوک کرنے کی نصیحت فرما کر رخصت کیا۔

ایرانی مقبوضات میں بغاوت:

        دربارِ ایران کا یہ حال تھا کہ ایک حکمران قدم جمانے نہیں پاتا تھا کہ دوسرا اس کا تختہ الٹ دیتا تھا۔ ان دنوں وہاں ایک اور تبدیلی آچکی تھی، ایرانی امراء نے اپنے فوجی حکمران شہریران کو جس نے بغاوت کر کے اردشیر بن شیرویہ سے حکومت چھینی تھی، قتل کر دیا اور حکومتِ کسریٰ پرویز کی بیٹی "بوران" کے سپرد کر دی کیونکہ شاہی نسل مردوں میں اب کوئی نہ تھا جو حکمرانی کے قابل ہوتا۔ بوران سیاسی امور میں مستعد ثابت ہوئی۔ اس نے ایرانیوں کے سب سے جنگ آزما سردار رُستم کو مسلمانوں سے مقابلے کی ذمہ داری سونپ دی۔ رستم نے عرب کے سرحدی علاقوں میں زمینداروں اور کاشتکاروں کو ڈرا دھمکا کر انہیں مسلمانوں کے خلاف عام بغاوت پر برانگیختہ کر دیا اور مسلمانوں سے عراق کے بیشتر اضلاع چھین لیے۔ حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ اس دوران دربارِ خلافت میں کمک کی درخواست  پیش کر کے واپس آچکے تھے۔ وہ حیرہ میں تھے کہ عام بغاوتوں کا بھونچال آگیا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ رستم کا ایک سالار جابان دریائے فرات کے ساحل کی طرف بڑھا چلا آ رہا ہے اور ایک دوسرا لشکر نرسی نامی سردار کی قیادت میں کسکر کا رُخ کر رہا ہے۔

        حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ نے یہ سنتے ہی حیرہ کو خالی کر دیا اور پیچھے ہٹ کر حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی کمان میں آنے والی کمک کا انتظار کرنے لگے۔ آخر ابوعبید رضی اللہ عنہ کی امدادی لشکر آپ پہنچا اور حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ کی فوج کے ساتھ مل کر "نَمارِق" کے مقام پر جابان سے نبرد آزما ہوا، یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بھیجا ہوا پہلا لشکر تھا جس نے گھمسان کی جنگ کے بعد فتح کا پرچم گاڑ دیا۔ ایرانی سالار جابان شکست کھا کر گرفتار ہوا مگر چونکہ گرفتار کرنے والا مسلمان اس کی حیثیت کا اندازہ نہ لگا سکا تھا، اسی لیے جابان نے اس کی لاعلمی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، اپنے بدلے دو جوان غلام دینے کے عوض امان حاصل کر لی، اتنے میں دوسرے مسلمانوں نے اسے پہچان لیا اور پکڑ کر امیر لشکر حضرت ابوعبید ثقفی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر کر دیا اور بولے: "یہ ایرانیوں کا سردار جابان ہے، اسے قتل کر دینا چاہیے۔"

        مگر حضرت ابوعبید ثقفی رضی اللہ عنہ سارا ماجرا سن چکے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اتنے بڑے دشمن کو چھوڑ دینا بہت نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، مگر انہوں نے قانون اور ایفائے عہد کی پاسداری کی بہترین مثال قائم کرتے ہوئے کہا:

        "اسے ایک مسلمان  پناہ دے چکا ہے اور مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں۔ ایک کی زبان کا وعدہ سب کا وعدہ شمار ہوتا ہے۔ میں اللہ سے ڈرتا ہوں کہ اسے قتل کر کے گناہ گار نہ بن جاؤں۔"

        اس کے بعد حضرت ابوعبید رضی اللہ عنہ "کسکر" کی طرف بڑھے اور یہاں صف بندی کرنے والے نرسی کے لشکر کو بھی مار بھگایا۔ رستم نے اس شکست سے تلملا کر ایک اور نامی گرامی سردار جالینوس کو مسلمانوں سے بدلہ لینے بھیجا مگر حضرت ابوعبید ثقفی رضی اللہ عنہ نے اسے بھی شکستِ فاش سے دوچار کیا۔ جالینوس بچے کھچے افراد کو لے کر بڑی مشکل سے رستم کے پاس پہنچا۔

جنگ جِسر:

        اب رستم نے عجم کے نہایت تجربہ کار سپہ سالار بہمن جادویہ کو لڑائی کے لیے منتخب کر کے اسے حوصلہ افزائی کے لیے ساسانی سلطنت کا خاص شاہی پرچم "دِرَفش کاوِیانی" دیا۔ یہ فوج دریائے فرات کے مشرقی کنارے "قُسُّ ناطِف" کے مقام پر آتری۔ اسلامی لشکر مغربی کنارے "مَروَحہ" پر خیمہ زن تھا۔ یہ شعبان سنہ ۱۳ ہجری کے ایام تھے، جنگ سے پہلی رات سالارِ اسلام حضرت ابوعبید ثقفی رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نے خواب دیکھا کہ ایک شخص آسمان سے شربت کا برتن لیے اترا اور ابوعبید رضی اللہ عنہ سمیت کئی مسلمانوں نے وہ شربت پیا۔ حضرت ابوعبید رضی اللہ عنہ نے خواب سن کر اہلیہ سے کہا:

        "ان شاء اللہ تعالیٰ شہادت کی بشارت ہے۔"

        لڑائی شروع ہونے سے پہلے ایرانی سالار بہمن نے حضرت ابوعبید رضی اللہ عنہ کو دعوت دی کہ تم دریا کے پار آ جاؤ یا ہمیں دریا عبور کرنے کا موقع دو۔ جواب میں حضرت ابوعبید رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کی جرات ظاہر کرنے کے لیے دریا عبور کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ ان کے تجربہ کار ساتھیوں نے فیصلے سے اختلاف کیا تو وہ بولے:

        "ہم ایرانیوں پر یہ ثابت نہیں ہونے دیں گے کہ ہم موت سے گھبراتے ہیں۔"

        آخر دریا پر پل باندھا گیا اور مسلمان پار اتر گئے۔ جب جنگ شروع ہوئی تو شروع ہی میں یہ محسوس ہو گیا کہ اتنی بڑی فوجوں کے لیے میدانِ جنگ خاصا تنگ ہے۔مسلمان ذرا بھی پیچھے ہٹتے تو دریا کی لہروں کی نذر ہو جاتے۔

        شدت کی لڑائی کے دوران ایرانیوں نے اپنے جنگی ہاتھی مسلمانوں کی گھڑ سوار فوج کے سامنے کھڑے کر دیے۔ عربی گھوڑوں نے ہاتھیوں کو پہلے نہیں دیکھا تھا، وہ ان سے خوفزدہ ہو گئے، جب بھی مسلمان گھڑ سوار حملہ کرنے کی کوشش کرتے ان کے گھوڑے ساتھ نہ دیتے، جب ایرانی اپنے ہاتھیوں کے ساتھ پیش قدمی کرتے تو مسلمانوں کے گھوڑے بدک کر ادھر ادھر بھاگتے اور صفیں درہم برہم ہو جاتیں۔اس کے ساتھ ایرانی تیر اندازی کر رہے تھے، جن سے مسلمانوں کو شدید نقصان ہورہا تھا۔ یہ تشویش ناک حالت دیکھ کر امیر لشکر حضرت ابوعبید ثقفی رضی اللہ عنہ اپنے گھوڑے سے کود پڑے اور تلوار سونت کر ہاتھیوں کی طرف لپکے، ان کے ساتھ اور بھی بہت سے مسلمان اس طرح آگے بڑھے اور ہاتھیوں پر حملہ آور ہوئے، ہاتھی کسی کو قریب نہیں آنے دے رہے تھے۔ حضرت ابوعبید رضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے پکار کر کہا:

        "ہاتھیوں کے شکم چاک کر دو اور ان کے ہودج الٹ دو۔"

        اب مسلمان جان ہتھیلی پر رکھ کر ہاتھیوں پر پل پڑے۔ کئی ہاتھی مار گرائے اور ان کے سواروں کو ڈھیر کر دیا۔ حضرت ابوعبید ثقفی رضی اللہ عنہ خود سفید ہاتھی سے نبرد آزما تھے، جو سب سے بڑا اور سخت جان تھا، آخر حضرت ابوعبید رضی اللہ عنہ نے اس پر تلوار کا زوردار وار کیا۔ ہاتھی وار سہہ کر جھکا اور حضرت ابوعبید رضی اللہ عنہ کو اپنی سونڈ میں لپیٹ کر گرا دیا اور پھر ان پر اپنا پہاڑ جیسا پاؤں رکھ کر کھڑا ہو گیا۔ حضرت ابوعبید رضی اللہ عنہ کا جسم کچلا گیا اور وہ موقع پر شہید ہو گئے۔

        یہ منظر دیکھ کر مسلمان گھبرا گئے، ادھر حضرت ابوعبید رضی اللہ عنہ کے گرنے والا پرچمِ اسلام بنی ثقیف کے ایک دوسرے جانباز نے سنبھال لیا، ساتھ ہی ہاتھی پر حملہ کر کے اسے حضرت ابوعبید رضی اللہ عنہ کی لاش سے ہٹا دیا، ہاتھی نے لاش سے ہٹتے ہی اس دوسرے جانباز پر حملہ کر دیا اور اسے بھی کچل ڈالا۔ اس طرح یکے بعد دیگرے بنو ثقیف کے سات افراد ایک دوسرے سے پرچم لے کر ہاتھیوں پر حملے کرتے رہے اور شہید ہوتے گئے۔

        ان مٹھی بھر جانبازوں کے سوا اکثر مسلمان پسپا ہو رہے تھے، یہ کیفیت دیکھ کر بنو ثقیف کے ایک رضا کار نے دریا پر بندھا عارضی پل توڑ دیا تا کہ مسلمان فرار کا خیال دل سے نکال دیں۔ اب مسلمانوں کے پاس پیچھے ہٹنے کی جگہ بھی نہ بچی اور ایرانی انہیں دھکیل کر دریا میں گرانے لگے، ہزاروں مسلمان اسی طرح زخمی اور شہیدہوئے

        اس نازک وقت میں حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے جو خود بھی زخمی ہو چکے تھے، غیر معمولی استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو حوصلہ دلایا۔ وہ کچھ مجاہدین کے ساتھ ایرانیوں کے سامنے جم کر کھڑے ہو گئے اور فوری طور پر پل دوبارہ بندھوانے کا انتظام کرایا۔ اس کے بعد فوج کو مخاطب کر کے کہا:

        "میں تمہاری حفاظت کے لیے سینہ تانے کھڑا ہوں۔ تم بلا خوف و خطر اطمینان سے دریا پار کرو۔"

        یوں ان کی ثابت قدمی سے باقی مسلمانوں کو سنبھلنے اور بچ نکلنے کا موقع مل گیا۔ حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ تین ہزار باقی ماندہ مسلمانوں کو لے کر واپس پلٹے۔ نو ہزار کے لشکر میں سے چار ہزار دشمن کی تلواروں اور دریا کی لہروں کی نذر ہو گئے تھے، جبکہ دو ہزار افراتفری کے عالم میں فرار ہو چکے تھے۔ اگرچہ جنگ میں چھ ہزار ایرانی بھی مارے گئے تھے، مگر انجام کار انہیں فتح ہوئی تھی۔ مسلمانوں کو دورِ نبوت سے اب تک اتنی بڑی شکست کا کبھی سامنا نہیں ہوا تھا۔

        حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع ملی تو نہایت غمگین ہوئے اور کہا:

        "اللہ ابوعبید  پر رحم فرمائے۔ کاش وہ پسپا ہو کر میرے پاس چلے آتے تو مجھے اپنا پشت پناہ پاتے۔"

جِسر کا بدلہ ، معرکۂ بُویب :

        ایک میدان میں فتح یاب ہو کر ایرانیوں کی ہمت بہت بڑھ گئی تھی، جبکہ مسلمان حیرت اور ندامت کی ملی جلی کیفیت میں مبتلا تھے۔ اس صورت حال کو بدلنے کے لیے ایرانیوں سے ایک بھرپور معرکہ ناگزیر تھا جسے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک لمحہ بھی نظر انداز نہ کیا۔ انہوں نے دعوتِ جہاد دے کر تازہ دم رضا کاروں کو حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ کی کمک پر بھیجنا شروع کیا۔ بنو بَجِیلہ کے سردار جَریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بھی اپنے مجاہدین کے ساتھ عراق کے محاذ پر پہنچ گئے۔ حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنے قبیلے سے بھی نئے نوجوان بھرتی کر لیے، اس طرح مسلمانوں کی عسکری حالت مستحکم ہو گئی۔

        ایرانی سپہ سالار اعظم رستم نے مسلمانوں کی ان تیاریوں سے آگاہ ہوتے ہی مہران کو ایک ٹڈی دَل فوج دے کر بھیج دیا۔ رمضان المبارک سنہ ۱۴  ہجری میں دریائے فرات کے کنارے "بُویب" کے مقام پر دونوں فوجیں آمنے سامنے ہوئیں۔ حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے دریا عبور کرنے کی غلطی نہیں کی بلکہ مخالف فوج کو پار آ جانے کی دعوت دی۔

        ایرانی گزشتہ فتح کے نشے میں مسلمانوں کو کسی خاطر میں نہیں لا رہے تھے، اسی لیے بے خوف و خطر دریا پار کر کے اس طرف آ گئے۔ مسلمانوں نے پیچھے ہٹ کر ان کے لیے کھلا میدان چھوڑ دیا اور صفیں باندھ لیں۔ حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ کے ایک بھائی حضرت معنّٰی گھڑ سواروں کی اور دوسرے بھائی مسعود  پیادہ فوج کی قیادت کر رہے تھے۔ حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے مجاہدین کی صفوں میں گشت کرتے ہوئے انہیں ہمت دلائی اور آخر میں اعلان کیا:

        "میں تین تکبیریں کہوں گا۔ تم تیار ہو جانا۔ چوتھی تکبیر کہوں تو ایک ساتھ حملہ کر دینا۔"

        اس دوران ایرانی سامنے سے صفیں باندھے بڑھے چلے آ رہے تھے۔ ان کی تین صفیں تھیں، جن میں سے ہر ایک میں گھڑ سوار اور  پیادوں کے علاوہ جنگی ہاتھی بھی تھے۔ساتھ ہی نقاروں اور نفیروں کی آوازیں اتنی بلند تھیں کہ کانوں کے پردے پھٹے جاتے تھے۔ حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنی فوج کو سمجھاتے ہوئے کہا:

        "یہ جو کچھ تم دیکھ رہے ہو، بزدلی کی دلیل ہے۔ تم نظم و ضبط کے ساتھ خاموش کھڑے رہو۔"

        کچھ دیر گزری تو حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ نے یکے بعد دیگرے تین تکبیریں کہیں۔ مسلمان ہتھیار سنبھال کر تیار ہو گئے۔

        ابھی چوتھی تکبیر کی آواز بلند نہیں ہوئی تھی کہ بنو عِجل کے چند گھڑ سوار صف سے آگے نکل کر دشمن کی طرف لپکنے لگے۔ حضرت مثنیٰ نے افسوس کی شدت سے اپنی داڑھی کو مٹھی میں دبا لیا اور چلائے:

        "اللہ کے لیے آج اسلام کو رسوا مت کرو۔" گھڑ سوار اپنی غلطی کو محسوس کر کے فوراً پلٹ آئے۔

        اس کے بعد امیر لشکر کی ہدایت کے مطابق منظم حملہ شروع ہوا۔ حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ قلب کی قیادت کرتے ہوئے حریف کے قلب پر حملہ آور ہوئے اور اسے دھکیلتے ہوئے دائیں بازو تک لے گئے، یہاں دونوں فوجیں ایسی گتھم گتھا ہوئیں کہ کسی کو سر  پیر کا ہوش نہ رہا۔ اس شدت کی لڑائی میں ایرانی سپہ سالار مہران مارا گیا، جس سے ایرانیوں کے حوصلے پست ہو گئے۔ ادھر مسلمانوں کے دائیں اور بائیں بازو ایرانی فوج کے دونوں پہلوؤں کو پسپا کرتے ہوئے میدان کے آخری کنارے تک لے گئے۔ ایرانیوں کے لیے اب دریا عبور کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا مگر اتنی دیر میں حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ نے خود اپنے کچھ جانبازوں کے ساتھ پل تک پہنچ کر دشمن کی راہِ فرار مسدود کر دی۔

        ایرانی افراتفری کے عالم میں دائیں بائیں بھاگے اور مسلمان ان کا تعاقب کرتے رہے جو نہ صرف ساری رات بلکہ اگلے دن بھی جاری رہا۔اس فتح نے جس میں ایرانیوں کے ایک لاکھ سپاہی مارے گئے، ایک بار پھر سرزمینِ عجم میں عربوں کے پاؤں جما دیے۔ مقتول ایرانیوں کی ہڈیاں ایک مدت تک نمونہ عبرت بنی رہیں۔ اس لڑائی میں حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے بھائی مسعود شہید ہو گئے تھے۔ حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور فرمایا:

        "یہ سوچ کر میرا غم ہلکا ہو گیا ہے کہ میرا بھائی میدان میں جم کر لڑا اور شکست نہیں کھائی۔"


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic