یرموک کی دوسری جنگ
فِحل، دمشق اور حمص سے شکست کھا کر بھاگنے والے رومی افسران ہرقل کے پاس انطاکیہ میں جمع ہو گئے تھے۔ ہرقل جس نے چند سال پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب پڑھا تھا، اچھی طرح جانتا تھا کہ اس کی قوم کا ستارہ گردش میں آچکا ہے اور دین احمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکاروں کا راستہ روکنا ممکن نہیں ہے۔ اس نے ایک بار پھر قوم کے عمائد کو سمجھانے کی کوشش کی اور کہا: ”عربوں سے جنگ اب بے سود ہے۔ تم میری مانو تو اُن سے صلح کر لو۔ اس طرح کم از کم ایشیائے کوچک کے علاقے ہمارے پاس رہ جائیں گے، لیکن اگر تم لڑنے پر بضد ہو تو یاد رکھو، شام پر قبضے کے بعد عرب افواج ایشیائے کوچک کے کوہستان تک ہمارا تعاقب کریں گی۔“
مگر رومی افسران نے ہرقل کے مشورے کو مسترد کرتے ہوئے اصرار کیا کہ بہر حال جنگ جاری رکھی جائے۔
تب ہرقل نے قومی حمیت کے تحت حکم دیا کہ قُسْطَنْطِینِیَّہ، ایشیائے کوچک، الجزیرہ اور آرمینیا سمیت تمام علاقوں سے ہر بالغ شخص کو بھرتی کر کے تازہ افواج فراہم کی جائیں۔ جلد ہی بہت بڑے پیمانے پر رومی افواج انطاکیہ پہنچنے لگیں، رومیوں کے جوش کا یہ عالم تھا کہ گرجوں کے پادری بلکہ تارک الدنیا راہب بھی جو کبھی اپنی خلوت گاہوں سے باہر نہیں نکلے تھے، اس فیصلہ کن جنگ میں شرکت کے لیے نکل پڑے تھے۔ بھر پور تیاری کے بعد اس ٹڈی دل لشکر نے جنوب کا رُخ کیا جہاں مسلمان اپنا پرچم لہرا چکے تھے۔
علامہ ازدی نے جن کا بیان شام کے معرکوں کے متعلق سب سے زیادہ معتبر ہے، رومیوں کی تعداد چار لاکھ بیان کی ہے۔ جبکہ دیگر مؤرخین دو لاکھ بتاتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پیشہ ور رومی فوج دو لاکھ تھی اور باقی نصرانی عرب، رضا کار اور نئے بھرتی کیے جانے والے لوگ تھے۔
سپہ سالارِ اسلام حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ فوج کے ایک حصے کے ساتھ حمص کے فصیل بند شہر میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ بہت سے مجاہدین کے اہل و عیال بھی ساتھ تھے کیوں کہ یہاں مسلمانوں کی باقاعدہ حکومت قائم ہو چکی تھی۔ اس حال میں رومیوں کے اتنے بڑے اجتماع کی خبر ملی تو اکابر صحابہ کرام سر جوڑ کر بیٹھ گئے، سپہ سالارِ اعظم حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”مسلمانو! دشمن اتنی بڑی تعداد میں آ رہا ہے کہ زمین لرز اُٹھی ہے۔ اب بتاؤ کیا تجویز ہے؟“
حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے خواتین اور بچوں کو شہر میں رکھ کر خود کھلے میدان میں ٹکر لے جانے کی رائے دی مگر حضرت شُرَحْبِیل بن حَسَنہ رضی اللہ عنہ نے کہا:
”شہر والے سب عیسائی ہیں، خدشہ ہے کہ ہماری غیر موجودگی میں وہ ہمارے اہل و عیال کو یرغمال بنا لیں۔“
حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ بولے: ”اس کا علاج یہ ہو سکتا ہے کہ ہم شہر والوں کو پہلے باہر نکال دیں۔“
حضرت شرحبیل رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یا امیر! یہ کیسے جائز ہوگا؟ ہم انہیں امن دے چکے ہیں، حفاظت کے بدلے ان سے جزیہ لے چکے ہیں۔ ان سے بدعہدی کیسے کر سکتے ہیں۔“
حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اپنی رائے سے رجوع کرتے ہوئے متبادل طریقہ دریافت کیا۔اتنا وقت بھی نہیں تھا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر ان کی کمک کا انتظار کیا جاتا جو فوج کےدوسرے حصے کے ساتھ دمشق میں قیام پذیر تھے۔ آخر کار طے یہ ہوا کہ مسلمان از خودحمص خالی کر کے دمشق چلے جائیں۔
فیصلہ ہوتے ہی حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے سرکاری خزانے کے افسر حضرت حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو طلب کر کے حکم دیا کہ عیسائیوں سے جزیے کی مد میں لیا گیا ایک ایک درہم واپس کر دیا جائے؛ کیوں کہ یہ رقم اُن کی حفاظت کے بدلے لی جاتی ہے اور اب ہم ان کی حفاظت کی ذمہ داری ترک کر کے یہاں سے کوچ کر رہے ہیں۔
یہی حکم ان دیگر بستیوں اور شہروں میں بھیج دیا گیا، جنہیں فتح کرنے کے بعد اب مسلمان چھوڑنے پر مجبور تھے۔ شہر والوں کو یہ لاکھوں درہم واپس کرنے کے بعد مسلمانوں نے رختِ سفر باندھا۔
حالت یہ تھی کہ شہر کے لوگ غیر مسلم ہونے کے باوجود اس حسنِ سلوک اور دیانت داری سے متاثر ہو کر اشک بار تھے، عیسائی دعا کر رہے تھے: ”خداوند تم کو واپس لائے۔“
اور یہودی کہہ رہے تھے: ”جب تک ہم زندہ ہیں قیصر کو اس شہر میں قبضہ نہیں کرنے دیں گے۔“
حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ مسلمانوں کا قافلہ لے کر دمشق پہنچے، یہاں تمام افسران کو جمع کر کے جنگی حکمتِ عملی مرتب کی اور پھر اُردن کی طرف کوچ کیا،جہاں یرموک کا میدان تھا اورحضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اپنی فوج کے ساتھ پہلے سے وہیں تعینات تھے، یہاں سارا میدانی علاقہ تھا اور عرب کی سرحد قریب تھی، شکست کی صورت میں مسلمان پیچھے ہٹ کر محفوظ علاقے میں داخل ہو سکتے تھے۔
حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے حمص سے چلتے وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو رومیوں کی کثرت کی اطلاع اور فوری امداد کی درخواست پر مشتمل عریضہ بھیج دیا تھا مگر جب تک قاصد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا، کوئی بڑی فوج تیار کر کے بھیجنے کا وقت ہاتھ سے نکل چکا تھا، اس لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے نام حوصلے، صبر اور توکل کی تعلیم پر مبنی ایک مراسلہ تحریر کیا اور ساتھ ہی سعید بن عامر کو فوری طور پر ایک ہزار افراد کے ساتھ شام روانہ کر دیا۔
امیر المومنین نے عام مجاہدین کے لیے ایک خصوصی پیغام بھی اس تاکید کے ساتھ بھیجا کہ اسے لڑائی سے پہلے فوج کی صفوں میں کھڑے ہو کر مجاہدین کو سنا دیا جائے، جس میں آپ نے فرمایا تھا:
”اے مسلمانو! دشمن سے جم کر لڑنا، اُن پر شیر کی طرح حملہ کرنا۔ وہ تمہارے نزدیک چیونٹیوں سے بھی حقیر معلوم ہوں۔ ہمیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فتح و نصرت تمہارے قدم چومے گی۔“
یہ کمک اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا پیغام ایک ہی دن ایسے عالم میں محاذ پر پہنچے کہ لڑائی کا آغاز ہونے کو تھا۔ مسلمانوں کی تعداد تیس، پینتیس ہزار سے زیادہ نہ تھی مگر ان میں ایک ہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے جن میں سے ایک سو بدری حضرات تھے۔ یمنی قبیلے اَزْد کے دس ہزار سے زائد بہادر مسلمانوں کی صفوں میں موجود تھے، یمن سے قبیلہ حِمْیَر کے سرفروش بھی بڑی تعداد میں آئے۔ لشکرِ اسلام کے دائیں بازو کے امیر حضرت مُعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ، بائیں کے حضرت قَباث بن اَشْیَم رضی اللہ عنہ، پیادوں کے حضرت ہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ اور سواروں کے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ مقرر تھے۔ سپہ سالارِ اعظم اگرچہ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے مگر وہ تمام جنگی امور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے مشورے سے طے کر رہے تھے، انہی کے مشورے سے صف بندی کی ترتیب طے پائی اور افسران کی تعیناتی ہوئی۔
ابھی باقاعدہ جنگ شروع نہیں ہوئی تھی کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ چنیدہ گھڑ سواروں کے دستے کے ساتھ یلغار کرتے ہوئے رومیوں کی خیمہ گاہ تک جا پہنچے، رومی جو یہ تصور کیے بیٹھے تھے کہ مسلمان ان کی ہیبت سے مرعوب ہو کر شاید خود پسپا ہو جائیں گے، حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو آتا دیکھ کر ششدر رہ گئے اور فوری طور پر آمادۂ پیکار ہوئے۔ معرکہ انفرادی مقابلوں سے شروع ہوا۔ رومیوں کا ایک دیو پیکر گھڑ سوار نکلا۔ اِدھر حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے اشارے پر حضرت قیس بن ہُبَیْرَہ رضی اللہ عنہ جو حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے ماتحت افسر تھے، تلوار سونت کر سامنے آئے اور حریف کے سنبھلنے سے پہلے ہی ایسا وار کیا کہ تلوار اس کے سر کو خود سمیت کاٹتی ہوئی گردن تک اُتر گئی۔
اس کے بعد عام لڑائی شروع ہوئی، مگر ہار جیت کا فیصلہ نہ ہو سکا تاہم رومی مسلمانوں سے مرعوب ہو گئے تھے انہوں نے جنگ روک کر مسلمانوں کو ایک بار پھر مال و دولت کا لالچ دے کر جنگ ٹالنے کی تجویز پر غور کیا اور قاصد بھیج کر حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ سے درخواست کی کہ اپنا کوئی قابلِ اعتماد سفیر بھیج دیں تا کہ صلح کی بات چیت شروع کی جائے۔
حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے حکم سے حضرت خالد رضی اللہ عنہ رومیوں کے معسکر میں گئے۔ ان کے سپہ سالار ماہان نے اپنی قومی شان میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے کے بعد کہا: ”اے عرب والو! ہم تمہارے اچھے پڑوسی رہے، تمہارے جو قبیلے بھی ہمارے وطن میں آ کر آباد ہوئے، ہم نے ان سے ہمیشہ اچھا برتاؤ کیا۔ ہمیں اُمید تھی کہ اہلِ عرب اس حسنِ سلوک پر ہمارے شکر گزار ہوں گے، مگر اس کے برعکس تم ہم پر دھاوا بول کر ہمیں یہاں سے بے دخل کرنا چاہتے ہو۔ حالانکہ اس کوشش میں اہلِ فارس سمیت دنیا کی کوئی قوم آج تک کامیاب نہیں ہوسکی۔ اور تم تو دنیا کی سب سے پسماندہ اور جاہل قوم ہو، تمہیں یہ جرأت کیسے ہوئی؟ بہر حال ہم تمہیں پیش کش کرتے ہیں کہ اگر اب بھی واپس چلے جاؤ تو ہم تمہارے سپہ سالار کو دس ہزار، افسروں کو ہزار، ہزار اور سپاہیوں کو فی کس سو، سو دینار دیں گے۔“
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے باہان کی باتوں کا جواب دیتے ہوئے کہا: ”تمہاری طاقت اور شان و شوکت کو ہم خوب جانتے ہیں مگر تم نے عربوں سے جس حسنِ سلوک کا ذکر کیا ہے وہ عنایت صرف انہیں نصرانی بنانے کے لیے تھی، چنانچہ ان کے کتنے ہی قبیلے عیسائی ہو کر آج تمہاری صفوں میں ہمارے خلاف لڑ رہے ہیں۔ رہی بات ہماری محتاجی، تنگ دستی، جہالت اور بدبختی کی، تو بلاشبہ ہم اس سے بھی گئے گزرے تھے، ہم صحرائی خانہ بدوش تھے، ہمارے طاقتور کمزوروں پر ظلم کرتے، اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے اور پتھروں کو پوجتے تھے۔ غرض ہم تباہی کی کھائی میں گرنے والے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو بھیج کر ہمیں ہدایت دی، جنہوں نے ہمیں کفر و شرک سے منع کیا اور بدعقیدہ لوگوں سے جہاد کا حکم دیا اور کہا کہ اس توحید کے پیغام کو دوسروں تک پہنچائیں جو مانے وہ ہمارا بھائی ہے اور جو نہ مانے وہ جزیہ دے ہم اس کے محافظ ہوں گے۔ جو اس سے بھی انکار کرے اس کے لیے تلوار ہے۔“
باہان یہ سن کر سمجھ گیا کہ لڑے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔
غرض ایک عارضی وقفے کے بعد پھر جنگ ٹھن گئی۔ اس دن نمازِ فجر میں حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے سورۃ الفجر تلاوت کی، جب ﴿فَصَبَّ عَلَیْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍ﴾ (پس برسایا تیرے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا) پر پہنچے تو مسلمانوں کو محسوس ہوا اللہ کا عذاب رومیوں پر ضرور نازل ہوگا اور فتح اسلام ہی کی ہوگی۔
اب دونوں فریق پوری تیاری کے ساتھ میدان میں نکلے، لڑائی سے ذرا دیر پہلے ایک کڑیل جوان امیر عساکر حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور گویا ہوا:
”میں جان دینے کا تہیہ کر چکا ہوں، اگر آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی پیغام دینا چاہتے ہیں تو فرمائیے۔“
حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ تڑپ اُٹھے اور بولے: ”ہاں، آقا صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا سلام عرض کرنا اور کہنا یا رسول اللہ! اللہ نے (آپ کی وساطت سے) ہم سے جو وعدے کیے تھے وہ سب پورے ہوئے۔“
یہی جوان جنگ کی آگ میں سب سے پہلے کودا اور لڑتے لڑتے شہید ہوا۔
آخر رومیوں کا باقاعدہ حملہ شروع ہوا، ان کے تیس ہزار سپاہی زنجیریں ڈال کر لڑنے آئے تھے تا کہ میدان سے بھاگنے نہ پائیں، آگے ہزاروں تیر انداز تھے جو تیروں کی بارش کرتے ہوئے آ رہے تھے۔ پھر نیزہ باز تھے جنہوں نے گھوڑوں کو ایڑ لگا کر دھاوا بولا اور مسلمان دباؤ میں آ کر پیچھے ہٹنے لگے، مسلمانوں کے دائیں بازو میں قبیلہ اَزْد بڑی پامردی سے ڈٹا رہا، عیسائی پوری طاقت صرف کر کے بھی انہیں پسپا نہ کر سکے۔ البتہ دائیں بازو کے دیگر دستے نصرانی سیلاب کے سامنے جم نہ سکے اور بکھر گئے۔ رومی یلغار کرتے ہوئے مسلمانوں کو اُن کی خیمہ گاہوں تک دھکیل کر لے گئے۔ یہاں مسلم خواتین نے اپنے مردوں کو پسپا ہوتے دیکھا تو خیموں کے بانس اُٹھا کر دوڑیں اور آواز لگائی کہ اگر پیچھے ہٹے تو تمہارے سر توڑ دیں گی۔
مسلمانوں کو غیرت آئی اور وہ واپس لوٹ کر لڑنے لگے۔ مُعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے گھوڑے سے کود کر صدا لگائی:
”میں پیدل جم کر لڑ سکتا ہوں، کوئی اس گھوڑے کا حق ادا کر سکے تو اسے لے لے۔“
اُن کے بیٹے حضرت عبدالرحمن فوراً بولے: ”یہ حق میں ادا کروں گا۔“ اور گھوڑے پر چڑھ گئے، دونوں باپ بیٹا شیروں کی طرح دشمن سے جا بھڑے۔ اِدھر سے قبیلہ زُبَیْد کے سردار حجاج بن عبد یغوث پانچ سو مجاہدین کے ساتھ رومیوں کے راستے میں دیوار بن کر کھڑے ہو گئے اور انہیں پسپا ہونے والے مجاہدین کا تعاقب کرنے سے روک دیا۔
یہ تو دائیں بازو کی حالت تھی، اُدھر مسلمانوں کا بایاں بازو بھی رومیوں کا غیر معمولی دباؤ برداشت نہ کر سکنے کی وجہ سے پیچھے ہٹ کر اپنی خیمہ گاہ تک آ گیا۔ یہاں بھی مسلمان خواتین نے حیرت انگیز دلیری کا ثبوت دیتے ہوئے رومیوں کے مقابلے میں اپنی فوج کے قدم جمائے۔ مسلم افسران میں سے حضرت یزید بن ابی سفیان، حضرت عمرو بن العاص اور حضرت شُرَحْبِیل بن حَسَنہ رضی اللہ عنہم جیسے صحابہ کرام اس طرف تھے اور پہاڑ کی طرح جم کر لڑ رہے تھے۔
حضرت شُرَحْبِیل بن حَسَنہ رضی اللہ عنہ کے چاروں طرف رومیوں کا مجمع تھا اور وہ یہ آیات پڑھتے ہوئے چٹان کی طرح ڈٹے ہوئے تھے:
﴿إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ﴾
”بے شک اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کی جانوں اور مالوں کو جنت کے عوض خرید لیا ہے۔“
انہوں نے بار بار آواز لگائی: ”اللہ کے ساتھ سودا کرنے والے کہاں ہیں؟“
جس مسلمان نے یہ پکار سنی لوٹ آیا۔ آخر کار پسپا ہوتے ہوئے مسلمان پھر سے قدم جمانے میں کامیاب ہو گئے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ حال تھا کہ بلند آواز سے پکار رہے تھے:
”مسلمانو! حورِعین کے لیے بن سنور کر آگے بڑھو، اپنے رب کی جنت کی طرف لپکو۔“
حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ بھی اسی طرح مجاہدین کے حوصلے بلند کرتے اپنے بیٹے حضرت یزید رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے جو فوج کے چوتھائی حصے کے کمانڈر تھے، بولے: ”بیٹا! میدان میں ہمارا ایک ایک سپاہی جان کی بازی لگائے ہوئے ہے، تمہارے اوپر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ جان ہتھیلی پر رکھ کر لڑو۔“
حضرت یزید رضی اللہ عنہ یہ سن کر اور جوش و خروش سے لڑنے لگے۔
بائیں بازو کے سالار حضرت قباث بن اَشْیَم رضی اللہ عنہ جنگجوئی میں بے مثال تھے۔ وہ اس شدت سے لڑ رہے تھے کہ تلواریں ٹوٹ ٹوٹ کر گر جاتیں اور نیزے دہرے ہو جاتے۔ وہ بار بار پکارتے: ”کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کے نام پر مرنے مارنے کی قسم کھا کر آئے اور کوثر پر اکٹھا ہو۔“ لوگ انہیں فوراً ہتھیار دیتے اور وہ پھر دشمن پر جھپٹ پڑتے۔
بائیں بازو میں حضرت حنظلہ بن جُویّہ رضی اللہ عنہ بھی پامردی سے لڑتے رہے۔ رومیوں کا ایک زرہ پوش پہلوان جو عربوں کا سالباس پہنے ہوئے تھا، یہ کہتے ہوئے آیا ”اے عرب والو! اپنے دیہاتوں اور یثرب کی طرف لوٹ جاؤ۔“
حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھا تو ٹوٹ پڑے، اس نے بھی حملہ کیا، تلواروں کے وار پر وار ہوئے مگر پلہ برابر رہا۔ آخر حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ نے اسے بازوؤں میں جکڑ کر گرا لیا، چند لمحوں کی کشتی کے بعد دونوں پھر اُٹھ کھڑے ہوئے، حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا حریف کی زرہ گردن کے پاس ذرا سی کھلی ہوئی ہے۔ انہوں نے تاک کر وہیں حملہ کیا اور تلوار اپنے ہدف سے پار کر دی۔
اسلامی لشکر کے قلب کے افسر حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل بیٹھے نیزہ سنبھال کر اپنی جگہ جم کر لڑ رہے تھے، دشمن کے دستے حملہ کرتے یہ بھرپور جواب دیتے اور ان کے ہر دستے کے پہلے حملہ آور کو نیزہ بھونک کر موت کے گھاٹ اُتار دیتے۔
حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ رومیوں پر اس شدت سے حملہ آور تھے کہ دو بار ان کی صفوں کو چیرتے ہوئے ایک سرے سے دوسرے سرے تک نکل گئے۔ دوسری بار واپسی میں ان کے کندھے پر دو بہت گہرے زخم بھی آئے۔
لڑائی میں گرم جوشی کا یہ عالم تھا کہ کسی کو سر و تن کا ہوش نہیں تھا۔ حضرت حُباس بن قیس رضی اللہ عنہ اس قدر جوش و خروش سے لڑ رہے تھے کہ دشمن کی ضرب سے اُن کا پاؤں کٹ کر علیحدہ ہو گیا، مگر انہیں احساس تک نہ ہوا۔ کچھ دیر بعد تکلیف محسوس کی تو اپنا پاؤں ڈھونڈنے لگے۔
اس دوران حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے گھڑ سواروں کو لے کر دھاوا بولا اور دشمن کے دس ہزار سپاہیوں کو مار ڈالا۔ دن ڈھلنے تک لڑائی عروج پر تھی اور اندازہ نہیں ہو پا رہا تھا کہ کون جیتے گا کون ہارے گا۔ مگر حضرت خالد رضی اللہ عنہ سمجھ چکے تھے کہ رومیوں کا دم خم ٹوٹنے والا ہے۔ انہوں نے اپنے گھڑ سواروں کو حوصلہ دلا کر کہا: ”مسلمانو! رومیوں کی جتنی طاقت تھی وہ دکھا چکے، پس اب ایک زور دار حملہ کرو۔ اللہ کی قسم! ہمیں ابھی فتح نصیب ہو جائے گی۔“
یہ کہہ کر آپ نے اپنے ایک ہزار بہترین شہ سواروں کو رکاب میں لیا اور رومیوں کی گھڑ سوار فوج پر جو ایک لاکھ کی تعداد میں تھی، ایسا ہولناک حملہ کیا کہ ان کی صفیں اُلٹ پلٹ گئیں۔
اِدھر سے حضرت قیس بن ہُبَیْرَہ رضی اللہ عنہ جو تازہ دم سپاہیوں کے ساتھ بائیں بازو کی پشت پر کھڑے تھے، یکا یک نکلے اور رومیوں کی صفیں چیر کر رکھ دیں۔
اسلامی لشکر کے قلب سے حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے ہلہ بولا اور رومیوں کے قلب کو میدان کے آخری سرے تک دھکیلتے چلے گئے۔ رومیوں کے قدم اب ایسے اکھڑے کہ پھر جم نہ سکے۔ مسلمانوں نے تعاقب کرتے ہوئے کشتوں کے پشتے لگا دیے۔ شام تک یرموک کے میدان میں بازنطینی رومی سلطنت کی قسمت کا فیصلہ ہو چکا تھا۔ ایک لاکھ سے زائد رومی قتل ہوئے تھے۔ مسلمان شہداء کی تعداد تین ہزار کے قریب تھی جن میں حضرت ضرار بن اَزْوَر اور حضرت ہشام بن العاص رضی اللہ عنہما جیسے گراں مایہ افراد بھی شامل تھے۔
ہرقل اس وقت انطاکیہ میں اپنی قوم کے بارے میں تقدیر کے فیصلے کا منتظر تھا، جونہی اسے شکستِ فاش کی خبر ملی تو اس نے ایشیا کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دیا اور قُسْطَنْطِینِیَّہ کے لیے کوچ کرنے کی تیاری شروع کر دی۔
شام کی سرحد عبور کر کے وہ رُہا (اُدیسہ) پہنچا، اس نے آخری بار اس سرزمین کو پلٹ کر دیکھا جہاں چند برس پہلے اس نے شہرت و توقیر کے آسمان کو چھوا تھا۔ مگر اب پانسہ بالکل پلٹ چکا تھا۔ عرب کے اسلامی انقلاب نے اسے بے بس کر دیا تھا۔ اس نے بے ساختہ کہا: ”الوداع اے شام! تجھے آخری سلام!“ اور گھوڑے کو ایڑ لگا دی۔

