Islami Tareekh Ke Aham Waqiat: 1 Hijri Se 11 Hijri Tak Ka Khulasa

ہجری سالوں کے اہم واقعات کی کچھ جھلکیاں

سن ایک ہجری (۶۲۲، ۶۲۳ء)

        * بیعت عقبہ کے بارہ نقیبوں میں سے ایک بزرگ براء بن معرور رضی اللہ عنہ ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے ایک ماہ قبل، سفر میں وفات پاگئے۔

        * انصار کے سردار اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ ، مسجد نبوی کی تعمیر کے دنوں میں انتقال کرگئے۔

        * کلثوم بن ہدم انصاری رضی اللہ عنہ ، جن کے ہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ آکر پہلا قیام کیا تھا، دنیا سے رخصت ہوگئے۔

        * مکہ کے ایک مسلمان ضمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ ، بیماری کی حالت میں سفر ہجرت کرتے ہوئے فوت ہوگئے۔

        * ہجرت کے بعد مہاجرین وانصار کے ہاں پہلی نرینہ اولاد ہوئی، مہاجرین کے ہاں عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور انصار کے ہاں نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ ۔ 


 سن دو ہجری (۶۲۳، ۶۲۴ء)

        * مہاجرین میں سے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے وفات پائی۔

        * 15 شعبان کو بیت اللہ قبلہ قرار پایا۔

        * اذان شروع ہوئی ۔ رمضان کے روزے فرض ہوئے ۔ عاشوراء کا روزہ جو پہلے فرض تھا، منسوخ ہوکر نفل رہ گیا۔

        * جمادی الآخرہ کے اواخرمیں سریہ عبید اللہ بن جحش رضی اللہ عنہ روانہ ہوا۔

        * حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ کی وفات ہوئی۔

        * غزوہ بدر کے بعد حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی ہوئی۔

        * 15 شوال کو غزوہ قینقاع پیش آیا۔ 

سن تین ہجری (۶۲۴، ۶۲۵ء)

        * حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت حفصہ بنت عمررضی اللہ عنہا سے نکاح ہوا۔ ان کی عمر 19 برس تھی۔ 

        * 15 شوال کو غزوہ احد پیش آیا۔

        * رمضان میں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی۔ 

 سن چار ہجری (۶۲۵، ۶۲۶ء)

 * شعبان میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی ۔ 

        * حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح ہوا جو اپنی سخاوت کی وجہ سے ام المساکین کے لقب سے مشہور تھیں، نکاح کے صرف چھ ماہ بعد انتقال کرگئیں۔ ان کی عمر 30 برس تھی۔

        * حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے وفات پائی ۔ ان کی بیوہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا عدت کے بعد حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں اور ان کے بیٹے عمر بن ابی سلمہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پرورش میں لے لیا۔

سن پانچ ہجری (۶۲۶، ۶۲۷ء)

        * ربیع الاول کے اواخر سے ربیع الآخر کے وسط تک غزوہ دومۃ الجندل میں مصروفیت رہی۔

        * شعبان میں غزوہ بنومُریسع (بنومصطلق) سے واپسی پر تیمم کا حکم نازل ہوا۔

        * حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا۔

        * رمضان میں سانحہ افک رونما ہوا۔

        * حد قذف کے بارے میں سورۃ النور کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں۔

        * وسط شوال تا ذوالقعدہ غزوہ خندق لڑا گیا۔

        * ذوالقعدہ میں غزوہ بنو قریظہ برپا ہوا۔

        * ذوالقعدہ میں حضرت زینب بنت جحش سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح ہوا۔

        * پردے کا حکم نازل ہوا۔

 سن چھ ہجری (۶۲۷، ۶۲۸ء)

        * شمال کی طرف زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اور ساحل پر ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کی قیادت میں مہمات بھیجی گئیں۔

        * حبشہ میں نجاشی اصحمہ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح حضرت ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا سے پڑھایا۔

        * ذوالقعدہ میں صلح حدیبیہ ہوئی۔

        * سال ختم ہونے سے چند دن قبل غزوہ ذی قرد پیش آیا۔

        * نجاشی اصحمہ رضی اللہ عنہ نے حبشہ میں وفات پائی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غائبانہ نماز جنازہ ادا فرمائی۔ 

 سن سات ہجری (۶۲۸،۶۲۹ء)

        * محرم تاریخ الاول بادشاہوں کو دعوتی خطوط ارسال کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔ 

        * محرم اورصفر میں خیبر اور فدک کے علاقے فتح ہوئے ۔

        * خیبر کی شہزادی صفیہ بنت حی بن اخطب رضی اللہ عنہا سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح ہوا۔

        * مہاجرینِ حبشہ کی واپسی ہوئی۔

        * حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حاضر خدمت ہوئے اور اسلام قبول کرکے حفظ حدیث کے لیے زندگی وقف کردی۔

        * ذوالقعدہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ قضا کیا۔

        * ذوالقعدہ میں حضرت میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح ہوا۔ 

سن آٹھ ہجری (۶۲۹، ۶۳۰ء)

        * حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اورعمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔

        * جمادی الاولیٰ میں موتہ کی جنگ لڑی گئی جو عرب کی سرحد سے باہر کسی غیر ملکی طاقت سے پہلی باقاعدہ جنگ تھی۔

        * 17 رمضان المبارک کو مکہ فتح ہوا۔

        * 12 شوال کو حنین کی جنگ ہوئی۔

        * ذوالقعدہ میں طائف کا محاصرہ ہوا۔

        * حضرت زینب رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی۔

        * حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری اولاد حضرت ابراہیم پیدا ہوئے۔ 

سن نو ہجری (۶۳۰، ۶۳۱ء)

        * رجب میں تبوک کی مہم درپیش ہوئی۔

        * ماہ رمضان میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تبوک کے سفر سے لوٹے تو آپ کی صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا وفات پاگئیں۔

        * ذوالقعدہ میں منافقوں کا سردار عبد اللہ ابن ابی موت کے گھاٹ اترا۔

        * 70 سے زائد وفود اسلام قبول کرنے مدینہ حاضر ہوئے۔

        * حج فرض ہوا ،حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کو امیر حج بناکرمکہ بھیجے گئے۔ 

سن دس ہجری (۶۳۱، ۶۳۲ء)

        * ربیع الاول میں حضرت ابراہیم بن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی۔

        * نجران کے پادری مناظرے کے لیے مدینہ آئے۔

        * یمن میں اسودعنسی اور یمامہ میں مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا۔

        * حجۃ الوداع ہوا، وحی کی تکمیل ہوئی۔

سن گیارہ ہجری (۶۳۲، ۶۳۳ء)

        * نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رومیوں سے جہاد کے لیے اسامہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں لشکر تیار فرمایا۔

        * حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو وفات سے چار دن پہلے اپنے مصلے پر مقررکیا۔

        * 12 ربیع الاول کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم 63 سال کی عمر میں دنیا سے رحلت فرما گئے۔

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic