حیاتِ مبارکہ کا آخری دن...... یومِ رحلت
یہ پیرکا دن تھا۔ ۱۲ربیع الاول کی۱۱ہجری تاریخ ۔حیاتِ مبارکہ کا آخری یوم فجر کی اذان کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت بہترمعلوم ہورہی تھی۔جب جماعت کھڑی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجرے کا پردہ اٹھایا۔عمربھر کی محنت کا حاصل آپ کے سامنے تھا۔صحابہ کرام صف بستہ، ہاتھ باندھے بارگاہِ الٰہی میں باادب کھڑے تھے۔ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ منظر اتنا دلکش تھا کہ چہرہ انورخوشی سے تمتمانے لگا۔ آپ ایسی حالت میں دنیا سے رخصت ہونے پرخوش تھے کہ اسلام کی وارث ایک امت تیار ہوچکی ہے جو تاقیامت اللہ کا پیغام عام کرنے اور بندوں کو بندگی سکھانے کے لیے مستعد ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی جماعت چھوڑے جا رہے تھے جو ہرحال میں دعوتِ اسلام اور جہاد فی سبیل اللہ کے لیے پوری طرح کمربستہ تھی۔
صحابہ کو احساس ہوگیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پردہ اٹھا کر ان کی طرف متوجہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کئی دن سے مسجدِ نبوی میں تشریف نہیں لائے تھے۔ سوائے ان اکابر صحابہ کے جو روزانہ گھر میں حاضر ہوا کرتے تھے، اکثر جاں نثاروں نے کئی دن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نہیں کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو متوجہ پاکر سب کے رگ وپے میں مسرت کی ایک لہر دوڑگئی اوروہ پلٹ کر آپ کی زیارت کے لیے بے تاب ہونے لگے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں نمازمکمل کرنے کا حکم دیا اورچند لمحوں تک اپنے پروانوں پرالوداعی نگاہ ڈالنے کے بعد حجرہ شریف کا پردہ گرادیا۔
صبح سویرے حضرت علی رضی اللہ عنہ حاضرِ خدمت ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت بہتردیکھ کرانہیں تسلی ہوئی،باہرنکلے توصحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خیروعافیت معلوم کرنے کے لیے بے چین تھے۔
ان کے دریافت کرنے پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: "الحمد للہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اب ٹھیک ہیں۔"
صحابہ کرام مطمئن ہوکر اپنے معمول کے کاموں میں مصروف ہوگئے۔
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کچھ دیر کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لےکر مدینہ کے مضافاتی گاؤں''سُنح'' میں اپنی دوسری اہلیہ کے گھر تشریف لے گئے۔ پیچھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت پھر ناساز ہوگئی۔ بے ہوشی طاری ہونے لگی۔ سہ پہر کے وقت پورے مدینہ منورہ پر سکوت چھایا ہوا تھا۔ رحمتِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر غشی کی حالت طاری تھی۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سرمبارک گود میں رکھ کر آپ کو سہارا دیا ہوا تھا، آس پاس اس وقت صرف اہلِ خانہ ہی تھے، اس دوران پیغمبرِ آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے نکلا:
اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَآءِ وَالصّٰلِحِیْنَ
(ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا: انبیاء، صدیقین، شہداء، صالحین۔)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جب یہ سنا تو سمجھ گئیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دنیا میں رہنے یا آخرت کا سفر اختیار کرنے کی بابت پوچھا جارہا ہے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رحلت کو پسند کرلیا ہے۔
آخری وصیت: نماز کا اہتمام اور کمزوروں پر رحم:
اب جان کنی کے آثار ظاہرہونے لگے۔ آخری لمحات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آہستہ آہستہ یہ فرما رہے تھے:
"الصَّلٰوۃ وَمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ"
"نماز کا اہتمام کرنا۔ ماتحتوں اورکمزوروں کا خیال رکھنا۔"
آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہی الفاظ دہراتے رہے، یہاں تک کہ آواز پست ہوتی چلی گئی۔ صرف ہونٹ ہلتے دکھائی دیتے تھے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سورۃ الفلق اورسورۃ الناس پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دم کرنے لگیں۔ اس دوران حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھا اور فرمایا:
"فِی الرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی، فِی الرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی"
(سب سے عالی شان رفیق کے پاس، سب سے عالی شان رفیق کے پاس)
اتنے میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بھائی حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ پیلو کی تازہ شاخ ہاتھ میں لیے اندر داخل ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ ادھر جم گئی۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب سمجھ گئیں۔ بھائی سے شاخ لے کراسے صاف اور نرم کیا اور مسواک تیار کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے معمول کے مطابق اچھی طرح مسواک فرمائی مگر جب واپس فرمانے لگے تو مسواک آپ کے ہاتھ سے گرگئی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا سہارا لیے ہوئے نیم دراز تھے۔ آپ کے سامنے پانی کا پیالہ رکھا تھا، آپ لیٹے لیٹے بار بار اس میں ہاتھ بھگو کر چہرہ انور پر پھیرتے اور فرماتے:
"لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، اِنَّ لِلْمَوْتِ سَکَرَاتٍ، اَللّٰہُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی سَکَرَاتِ الْمَوْتِ"
"اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، بے شک موت کی سختی برحق ہے۔
اے اللہ! موت کی سختی میں میری مدد فرما۔"
اپنے والدِ ماجد کی تکلیف دیکھ کر حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا بے ساختہ پکاراٹھیں:
"وَا کَرْبَ اَبَاہُ" (ہائے میرے ابا کی تکلیف۔)
رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے لاڈلی بیٹی کی طرف دیکھا اور آہستہ سے فرمایا:
"بیٹی! آج کے بعد تیرے ابا کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔"
اسی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرایک لمحے کے لیےغشی طاری ہوئی،دستِ مبارک پانی کے پیالے میں ایک طرف ڈھلک گیا پھر ہوش آیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دولت کدے کی چھت کی طرف نگاہ اٹھائی، ہاتھ سے اوپر کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا:
"اَللّٰہُمَّ الرَّفِیْقَ الْاَعْلٰی" (اے اللہ! اے سب سے عالی مرتبت رفیق!)
پھرہاتھ سے اوپر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے رہے:
"فِی الرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی، فِی الرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی"
یہ کہتے کہتے دستِ مبارک ایک طرف ڈھلک گیا۔ روحِ مبارک عالمِ بالا کی طرف پرواز کرگئی۔
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ
عمرِ مبارک مشہورقول کے مطابق ۶۳ سال تھی۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے ۶۵ سال کا قول بھی منقول ہے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین صدمے سے بے حال:
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کا عالم دیکھ کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے اپنے والد محترم حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کو بلوا لیا تھا مگر ان کے پہنچنے سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم دارِ فانی سے پردہ فرماچکے تھے۔
حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی اطلاع سن کر صحابہ کرام پر بجلی گرپڑی۔ کسی کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آتا تھا۔ جب سے یہ دنیا بنی تھی کسی نے کسی سے ایسی محبت نہیں کی تھی، جیسی صحابہ کرام نے اپنے آقا ومولا سے۔ وہ یہ فراق کیسے برداشت کرپاتے۔ سہ پہر کا وقت تھا مگر شدتِ غم سے ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے مدینہ منورہ پر تاریکی کے پرت لپیٹ دیے گئے ہوں۔ لوگوں کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا تھا۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بے اختیار فرما رہی تھیں:
"یا ابتاہ! اَجَاب ربًا دعاہ۔ یا ابتاہ! مَن جنۃُ الفردوس مأواہ۔ یا ابتاہ! الیٰ جبریل نَنعَاہ۔"
"ہائے میرے ابا جی! آپ نے داعیِ اجل کی پکار پر لبیک کہہ دیا۔ ہائے میرے ابا جن کا مسکن جنت الفردوس ہے۔ ہائے ابا جی! ہم جبریل کو آپ کی وفات کا دکھڑا سناتے ہیں۔"
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی یہ حالت تھی کہ جیسے گویائی و سماعت سلب ہوگئی ہو، حضرت علی رضی اللہ عنہ بیٹھے کے بیٹھے رہ گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس سانحے پر حواس کھو بیٹھے اور ماننے سے انکار کردیا کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت ہوگئی ہے۔ منافقین کو اس سانحے پر خوش ہوتا اور سراٹھاتا دیکھ کران پر حالتِ غضب طاری تھی۔
اس کٹھن وقت میں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے راز دار اور رفیقِ خاص سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی خود پر قابو پائے ہوئے تھے۔ آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر سنتے ہی وہ گھوڑے کو سرپٹ دوڑاتے "سُنح" سے مدینہ پہنچے، حجرے میں داخل ہوئے۔ جسدِ اقدس چادر سے ڈھانک دیا گیا تھا۔ انہوں نے چادر کھول کر پیشانیِ مبارک پر بوسہ دیا اور روتے ہوئے فرمایا: "میرے ماں باپ آپ پر قربان۔ آپ کی زندگی بھی بہترین تھی اور وفات بھی بہترین۔"
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اب مسجد میں آئے، دیکھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کے درمیان کھڑے نہایت جوش سے کہہ رہے ہیں: "کچھ منافق قسم کے آدمی افواہیں پھیلا رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی۔ اللہ کی قسم! وہ زندہ ہیں۔ اپنے رب سے ملنے گئے ہیں، جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام گئے تھے۔ بہت جلد وہ لوٹ آئیں گے اوران کے ہاتھ پاؤں کٹوا دیں گے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبریں پھیلا رہے ہیں۔"
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا تاریخ ساز خطبہ:
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خاموش کرایا اور صحابہ کو مخاطب کرکے فرمایا:
"لوگو! جو کوئی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تو جان لے کہ وہ وفات پاگئے ہیں، اور جو کوئی اللہ کی عبادت کرتا ہے وہ تسلی رکھے کہ اللہ زندہ ہے، ہمیشہ قائم رہنے والا ہے۔" پھر یہ آیت تلاوت فرمائی:
وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ اَفَا۠ئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓی اَعْقَابِکُمْ وَمَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰی عَقِبَیْہِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰہَ شَیْئًا وَسَیَجْزِی اللّٰہُ الشّٰکِرِیْنَ*
"محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) رسول ہی تو ہیں (خدا تو نہیں)، ان سے پہلے بھی تو کتنے رسول دنیا سے جاچکے ہیں، پس اگر وہ فوت ہوجائیں یا شہید کردیے جائیں تو کیا تم دین سے منحرف ہوجاؤ گے؟ اور جو انحراف کرے گا وہ اللہ کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا۔ اور اللہ عنقریب شکر گزاروں کو بدلہ دے گا۔"
یہ آیات غزوۂ اُحد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی جھوٹی افواہ پھیل جانے پر صحابہ کرام کی تسلی کے لیے نازل ہوئی تھیں مگر آج جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں دہرایا تو صحابہ کرام کو ایسا لگا کہ ان کا اس سے زیادہ موزوں موقع کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ یوں محسوس ہورہا تھا گویا کہ یہ آیات ابھی آسمان سے نازل ہورہی ہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ جوں جوں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا حقیقت پسندانہ خطاب سنتے گئے، ان کا جوش، غم واندوہ میں تبدیل ہوتاگیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کا یقین ہوتے ہی ان کے قدم ساتھ نہ دے سکے، وہ اپنی جگہ گرگئے۔

