Wafat-e-Nabi (SAW) ke Baad Khilafat ka Masla aur Saqifa Bani Saida ka Wakeya

امت کی قیادت سنبھالنے کا سوال

        اس وقت ہر شخص بے حد غم زدہ اور مضطرب ہوکر یہ سوچ رہا تھا کہ اب کیا ہوگا؟ قدرتی طور پر یہ سوال ذہنوں پر دستک دے رہا تھا کہ اب امت کی کشتی کا ملاح کون ہوگا؟ پیش آمدہ معاملات کس سے پوچھ کر طے کیے جائیں گے؟مسائل کے حل کی ذمہ داری کس پر ہوگی؟ دینی و شرعی امور میں مسلمان کس سےرہنمائی لیا کریں گے؟ صحابہ منصب واقتدار کے حریص نہ تھے مگر یہ سوال ضرور ذہنوں میں ابھر رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا نائب کون ہوگا؟


        رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری لمحات تک حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے خاندانی قرب کی وجہ سے کسی حد تک گمان تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شاید ان کے لیے حکومت کی وصیت فرمائیں، ان کا خیال تھا کہ شاید پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم  کی جانشینی میں نسبی قرابت کی اہمیت بھی ملحوظ ہو، یہ دونوں حضرات پوری نیک نیتی سے یہ سمجھتے تھے کہ اگر خلیفہ اہل بیت میں سے ہوا تو مسلمانوں کا اتفاق و اتحاد زیادہ پائیدار ہوگا۔

        حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے کچھ پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جاکر پوچھ لیں کہ خلافت کس کے لیے طے ہوگی، ہم اہل بیت کے لیے یا دوسروں کے لیے؟اگر ہمارے لیےہے تو ہمیں اطمینان ہوجائے گا، اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے دوسروں کے لیے طے کرنا چاہتے ہوں تو ہم انہیں مشورہ دیں گے کہ وہ یہ ذمہ داری ہمیں سونپ کرجائیں۔ مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس معاملے میں کچھ پوچھنے سے معذرت کرلی اور فرمایا: "اگر ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم منع فرما دیں تو بعد میں لوگ ہمیں کبھی بھی اقتدار نہیں دیں گے۔ اس لیے اللہ کی قسم! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں کچھ نہیں پوچھوں گا۔"

        حضرت علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ کون جانتا ہوگا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کو قربانیوں میں آگے اور مناصب میں پیچھے رکھنے کے عادی تھے، لہٰذا ڈر تھا کہ خود قیادت مانگنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خفا نہ ہوجائیں۔ یہی اندیشہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو تھا، ورنہ وہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے۔ اگر انہیں کوئی خدشہ نہ ہوتا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کہنے کی بجائے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ درخواست کرسکتے تھے۔ دراصل اہل بیت کا اقتدار ماننا محض ان حضرات کا ذاتی میلان اور ایک اپنی رائے تھی جسے وہ مناسب اور مسلمانوں کی فلاح کے لیے اہم سمجھ رہے تھے، مگر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی کوئی وصیت کیے بغیر چلے گئے تو ان عاشقانِ رسالت نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمکی پیروی کرتے ہوئے امت کی مصلحت اسی میں سمجھی کہ مسلمانوں کو سیاسی قیادت کا آزادانہ فیصلہ خود کرنے دیا جائے۔ یہی وجہ ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد خلافت کے دعوے کے بارے میں ایک لفظ تک منہ سے نہیں نکالا۔

        ہاں! انصار اس معاملے میں پہل کرنے لگے تھے، اور سقیفہ بنی ساعدہ میں ان سے ایک لغزش ہونے لگی تھی۔

پیر کی شام: سقیفہ بنی ساعدہ میں کیا ہوا؟

        اس وقت اسلام کا سیاسی ومذہبی مرکز مدینہ منورہ تھا جس کے مسلمان دو حصوں میں تقسیم تھے: مہاجرین اور انصار۔ مہاجرین تعداد میں کم تھے اور انصار زیادہ۔ پھر انصار میں دو قبیلے تھے: اَوس اور خزرج۔ اَوس کم تھے اور خزرج زیادہ۔ خزرج کے لوگ اس وقت کسی خاص منصوبے کے یا پیش بندی کے بغیر اپنے سردار سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس بنے چبوترے پر جمع تھے۔ اسے"سقیفہ بنی ساعدہ" کہا جاتا تھا، یہاں جمع ہونا خزرج والوں کا معمول تھا۔ اس دوران اگر ان کے ذہنوں میں یہ بات آئی تھی کہ مسلمانوں کا اگلا قائد خزرج سے ہو تو یہ ایک فطری بات تھی؛ کیوں کہ ماضی میں عربوں کے ہاں اقتدار کا انحصار افرادی قوت پر ہوتا تھا اور یہ حقیقت تھی کہ مدینہ میں خزرج کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ چنانچہ یہ خیال ذہنوں سے زبانوں پر منتقل ہوگیا اور بعض لوگ کہنے لگے: "اب خزرج کے سردار سعد بن عبادہ کو امیر بننا چاہیے۔"

        ایک انصاری نے بات کو بڑھاتے ہوئے کہا: "اور اگر مہاجرین نے اس سے اتفاق نہ کیا تو ہم کہیں گے: ایک ہمارا امیر ہونا چاہیے اور ایک تمہارا۔" یہ ایک ایسا خیال تھا جو امت کی وحدت کو فوری طور پر دو حصوں میں بانٹ سکتا تھا، اسی لیے خود خزرج کے سردار حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "اس سے تو عدم استحکام کی ابتدا ہوگی۔"

        سقیفہ بنی ساعدہ میں ہونے والی اس گفتگو کی اطلاع حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ملی جو ابھی تک مسجد نبوی میں تھے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ اگر اس شکاف کو فوری طور پر بند نہ کیا گیا تو امت کی تقسیم در تقسیم کا عمل شروع ہوتے دیر نہیں لگے گی۔ ان کے سامنے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ ارشادات بھی تھے جن میں حکومت و سیادت کی ذمہ داری قریش پر ڈالی جانے کے واضح اشارات تھے اس لیے انہوں نے ضروری سمجھا کہ انتقالِ اقتدار کے متعلق لوگوں کے شبہات کو فوراً دور کرکے انہیں آمادہ کیا جائے کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قبیلے کے کسی بہتر شخص کو امیر چن لیں۔

        حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر اور حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر تیزی سے "سقیفہ بنی ساعدہ" پہنچے۔ وہاں پہلے انصار کے ایک نمائندے نے اپنی تقریر میں انصار کے فضائل اور کارنامے بیان کیے۔ اس کے جواب میں حضرت عمررضی اللہ عنہ نے لوگوں کو سمجھانے کے لیے اپنے ذہن میں ایک تقریر تیار کرلی تھی مگر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں بولنے سے منع کردیا اور خود موقع کی مناسبت سے نہایت موزوں گفتگو فرمائی۔

        یہ ایک کھلی مشاورت تھی جس میں صحابہ کرام پوری وسعت نظری سے ایک دوسرے کی بات سن رہے تھے اور اپنے خیالات کو کسی روک ٹوک اور دباؤ کاسامنا کیے بغیر ظاہر کررہے تھے، سب کا مقصد ایک تھا اور وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی عدم موجودگی میں مسلمانوں کی مرکزیت متاثر نہ ہونے پائے اورایک مستحکم سیاسی نظام تشکیل پائے۔اس مجلسِ مشاورت کو جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پہلی بڑی مشاورت تھی، مسلمانوں میں شورائیت کا اہم سنگِ میل کہا جاسکتا ہے۔ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے ارشاداتِ نبوی کی روشنی میں قریش کی قیادت کو ضروری سمجھتے تھے۔ جبکہ انصار میں سے کسی کو امیر بنانے پر خود انصار بھی متفق نہ ہوتے، اَوس والوں کو امیر بنایا جاتا تو خزرج والے ناراض ہوتے، خزرج والوں کو بنایا جاتا تو اَوس والے مطمئن نہ ہوتے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسلام کی ابتدا سے بات شروع کرتے ہوئے فرمایا:

        "اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کو ہدایت اور دینِ حق دے کر مبعوث کیا، پس اللہ نے ہمارے دلوں اور پیشانیوں کو تھام کر ہمیں ان کی دعوت قبول کرنے کی سعادت بخشی۔"

        آپ نے انصار کی قومی و دینی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا اور فرمایا:

        "آپ ان تمام فضائل کے بجا طور پر حق دار ہیں، جن کا آپ نے ذکرکیا ہے۔"

        حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انصار کے فضائل کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی کوئی حدیث نہ چھوڑی اور ان سے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دلی تعلق کا اعتراف کرتے ہوئے یہ ارشادِ نبوی دہرایا:

        "اگر لوگ ایک راستے پرچلیں اور انصار دوسرے راستے پر تو میں انصار کی راہ پر چلوں گا۔"

        لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے لوگوں کو یہ بھی یاد دلایا کہ اس وقت قیادت قریش کو سونپنے میں خیر ہے۔ آپ نے فرمایا:

        "ہم مہاجرین لوگوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے ہیں،ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت دار ہیں۔اللہ کی قسم!ہم آپ لوگوں کی فضیلت،اسلام کے لیے آپ حضرات کے کارناموں اور اپنے اوپر عائد آپ کے حقوق کا انکار نہیں کرتے۔ مگر آپ جانتے ہیں کہ یہ قریش کا قبیلہ عرب میں ایسی قدرومنزلت کا حامل ہے جو کسی اورکونصیب نہیں۔ عرب قبائل قریشی آدمی کے سوا کسی شخص پرمتفق نہیں ہوں گے۔آپ اللہ سے ڈریں اوراسلام کو پارہ پارہ نہ کریں،اسلام میں سب سے پہلے رخنہ ڈالنے والے نہ بنیں۔"

        پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مسئلے کا حل پیش کرتے ہوئے فرمایا: "امیر ہمارے ہوں اور وزراء آپ کے۔"

        مگر ایک انصاری سردار حباب بن منذر رضی اللہ عنہ بولے: "یوں کرلیا جائے کہ ایک امیر ہمارا ہو۔ ایک تمہارا۔"

        حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:"نہیں! وزارت تمہاری قیادت ہماری؛ کیوں کہ قریش سب سے معزز سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں اورحسب ونسب میں بھی سب سے اعلیٰ ہیں۔"

        دراصل دو حکمرانوں کی تجویز پرعمل کرنا اسلامی ریاست کو ابتدا ہی سے سبوتاژ کرنے کے مترادف تھا؛ کیوں کہ یہ فطرتی بات ہے کہ ایک سلطنت میں دو بادشاہ اکٹھے نہیں ہوسکتے۔ نیز عرب کے لوگ بھی اس بات کو قبول نہیں کرسکتے تھے کہ ان کا سردار پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے قبیلے کے سوا کسی اور قبیلے کا ہو۔ اسی لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اس خیال کو مسترد کرتے ہوئے فرمایا: "ایک نیام میں دو تلواریں جمع نہیں ہوسکتیں۔"

        اس دوران حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے موقف پر دلیل پیش کرتے ہوئے حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: "اے سعد! آپ جانتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی موجودگی میں فرمایا تھا: قیادت کے ذمہ دار قریش ہیں، اچھے لوگ ان کے اچھوں کے پیچھے چلتے ہیں اور برے لوگ ان کے بروں کی اتباع کرتے ہیں۔"

        سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو حدیث یاد آگئی، وہ بلا پس و پیش بولے: "آپ نے ٹھیک کہا۔ ہم وزیراورآپ امیر۔"

        تب انصار میں سے بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اپنی قوم کو مخاطب کرکے دلائل انگیز لہجے میں گویا ہوئے:

        "اے انصار! بلا شبہ ہم مشرکین سے جہاد میں پیش پیش رہے مگر اس سے ہمارا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا پانا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کی اطاعت کرنا رہا ہے۔ ہمیں زیب نہیں دیتا کہ اپنی دینی خدمات کے بدلے کسی منصب کے حصول کی کوشش کریں یا دنیا کے طلب گار بنیں، بلا شبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم قریش سے تھے اور ان کا قبیلہ ان کا جانشین بننے کا زیادہ حق دار ہے۔"

        ایک اور انصاری نے پکار کرکہا: "بھائیو! حضور صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین میں سے تھے۔ ان کا نائب بھی مہاجرین میں سے ہونا چاہیے۔ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مددگار تھے، ان کے نائب کے بھی مددگار رہیں گے۔"

        انصار نے ان کی پکار پر لبیک کہا۔ انصار کے بخوشی دستبردار ہوجانے کے بعد خلافت کا مسئلہ حل کرنا اتنا کٹھن نہیں رہا تھا۔ دو باتوں پر سب کا اتفاق ہوگیا تھا: ایک یہ کہ امیر ایک ہی ہوگا۔ دوسرے یہ کہ اس کا تقرر قریش ہی سے ہوگا۔

        حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مناسب سمجھا کہ اب اگلے مسئلے یعنی امیر کے چناؤ کو بھی اس مجلس میں طے کرلیا جائے۔

        چنانچہ آپ نے فرمایا: "تو بہتر ہے کہ تم لوگ عمر یا ابوعبیدہ کے ہاتھ پر بیعت کرلو۔"

        حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی غیرمعمولی شان اس سے ظاہر تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا تھا:

        "اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتے۔"

        حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ بھی عشرہ مبشرہ میں سے تھے اور ان کی امانت اور قائدانہ صلاحیت کی وجہ سے انہیں دربارِ نبوت سے "امین الامت" کا خطاب ملا تھا، مگر سب کے نزدیک حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے کہیں بڑھ کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مقام تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خود بھی کہاں گوارا تھا کہ وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں بڑے بنیں۔ انہوں نے لوگوں کو پکار کرکہا: "تم جانتے ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی کو نماز کے لیے آگے کیا تھا اور انہوں نے سب کو نماز پڑھائی تھی۔" سب نے کہا: "ہاں بالکل!"

        حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:"تو تم میں سے کون ہے جو ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے بڑھنا چاہتا ہے؟"

        سب نے کہا: "اللہ معاف کرے۔ ہم میں سے کسی کو یہ اچھا نہیں لگے گا۔"

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت ہوگئی:

        چنانچہ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا: "ہم سب آپ ہی کے ہاتھ پر بیعت کریں گے، آپ ہمارے بزرگ، بہترین انسان اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے  پیارے دوست ہیں۔"

        ادھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا بازو پکڑ کر انہیں بیعت لینے کے لیے ہاتھ آگے بڑھانے پر آمادہ کیا، ادھر بشیربن سعد انصاری رضی اللہ عنہ لپک کرآئے اور سب سے پہلے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیعت کی اور وفاداری کا عہد کیا۔ اس کے بعد سب ہی ٹوٹ پڑے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اس نمائندہ اجلاس میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت پر اتفاق ہوگیا۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بیعت کیوں لی؟

        حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خود حکومت کے طلب گار نہیں تھے مگر اس موقع پر انہیں خطرہ محسوس ہورہا تھا کہ اگر یہ ذمہ داری خود نہیں سنبھالیں گے تو لوگوں میں انتشار پھیل جائے گا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اپنے الفاظ یہ ہیں:

"وَتَخَوَّفْتُ اَنْ تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ بَعْدَہَا رِدَّۃٌ۔"
"مجھے خوف محسوس ہوا کہ کوئی ایسا فتنہ رونما نہ ہوجائے کہ لوگ بکھرجائیں۔"

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا غسل اور تدفین:

        اس دوران خانۂ اقدس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل اور تجہیزوتکفین کے امور انجام دینے کی تیاری شروع ہوگئی تھی۔ پہلے دن تو رنج و صدمے اور دکھ کی انتہا کی وجہ سے شمع رسالت کے پروانے ایک سکتے کی سی کیفیت میں تھے، اس لیے کسی میں ان امور کی انجام دہی کی سکت ہی پیدا نہ ہوسکی۔ بھلا کون تھا جو اپنے محبوب آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے جسدِ اطہر کو مٹی تلے دفن کرنے کی ہمت کرتا؟ کون تھا جو اپنے ہاتھوں سے اپنے جینے کی آس کو نظروں سے اوجھل کرتا؟اعصاب شل ہوچکے تھے اور آہنی قوتیں مفلوج لیکن تقریباً ۲۴ گھنٹے بعد ہوش و حواس بحال ہوئے اور وہ شدید ترین کیفیت جاتی رہی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ، داماد حضرت علی رضی اللہ عنہ اور پھوپھی زاد حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ غسل دینے اورکفن پہنانے کے امور میں مشغول ہوگئے۔ یہ حضرات حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتے دار تھے، اس لیے یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری خدمات انجام دینے کے زیادہ حق دار تھے۔

نائبِ رسول کی باقاعدہ  بیعت:

        سقیفہ بنی ساعدہ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت انہی صحابہ نے کی تھی جو وہاں اتفاق سے پہلے جمع تھے، ان میں زیادہ تر انصار تھے اور وہ بھی بنوخزرج کے۔ چونکہ وہاں اتفاقیہ طور پر خلافت کے استحقاق پر بات چل نکلی تھی اس لیے کسی کو مدعو کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا اس لیے بہت سے صحابہ کرام یہاں تک کہ حضرت علی، حضرت عباس اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہم جیسے لوگ بھی اس موقع پر موجود نہ تھے۔ اہلِ شوریٰ کو باقاعدہ مدعو کرکے مشورہ نہیں ہوا تھا جیسا کہ اسلامی اصولِ سیاست کا تقاضا تھا۔ چنانچہ اگلے دن منگل کو صحابہ کے عام اجتماع میں حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب اور خلیفہ سے بیعت کا اہتمام کیا گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہوکر یہ ابتدائی کلمات ارشاد فرمائے:

        "میں تو امید کرتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ رہیں گے حتیٰ کہ ہم سب کے بعد شریف لے جائیں گے،بہرحال حضور صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوچکے مگر اللہ نےہمارے درمیان وہ نور باقی رکھا ہے جس سے تم ہدایت لے سکتے ہو۔یہ وہی نورِ ہدایت ہےجو اللہ نے اپنے نبی کو عنایت کیا۔ ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معتبر صحابی  ہیں۔ بتاؤ 'اِذْ ھُمَا فِی الْغَارِ' سے کون دونوں مراد ہیں؟ 'اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ' کا مصداق اور کون ہے؟ 'لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا' کن کے متعلق ہے؟ لوگو! یہ ثانی اثنین ہیں۔ یہ مسلمانوں کے امور انجام دینے کے لیے سب سے بہتر ہیں۔ پس آپ کھڑے ہوں اور ان سے بیعت کرلیں۔"

        پھر حضرت عمررضی اللہ عنہ نے اصرار کرکے حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کو منبر پر بٹھایا اور لوگوں نے بیعت کی۔ بیعت کا طریقہ وہی تھا جو عربوں میں قدیم زمانے سے چلا آ رہا تھا یعنی ہاتھوں میں ہاتھ دے کر وفاداری کا عہد کیاجاتا تھا۔

حضرت علی اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما نے بیعت کرنے میں تاخیر کیوں کی؟

        تین اہم افراد اس وقت بھی موجود نہ تھے: ایک خزرج کے سردار حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ، دوسرے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ، تیسرے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ۔ چونکہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ گزشتہ روز خلافتِ قریش کے حق کو تسلیم کرچکے تھے، اس کے علاوہ وہ بیمار بھی تھے، اس لیے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں دوبارہ زحمت دینے کی ضرورت نہ سمجھی۔ مگر حضرت علی اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما کے نہ ہونے سے غلط فہمیاں جنم لے سکتی تھیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے بارے میں خصوصی طور پر پوچھا۔ ان کی عدم موجودگی کی وجہ یہ تھی کہ دونوں بیتِ نبوی میں تجہیزو تکفین میں مشغول تھے، اس لیے حاضر نہ تھے۔

        مگر چونکہ منافق افواہ اڑا سکتے تھے کہ یہ حضرات بیعت سے متفق نہیں، لہٰذا حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت علی اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما کی نہ صرف موجودگی ضروری سمجھی بلکہ جب وہ آئے تو اپنے کسی شبہے کی بنا پر نہیں بلکہ ممکنہ افواہوں کے ازالے کے لیے سب کے سامنے ان سے پوچھا: "کیا تم مسلمانوں میں انتشار پھیلانا چاہتے ہو؟"

        دونوں بولے: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ! ایسی کوئی بات نہیں۔" یہ کہہ کر دونوں نے بیعت کی۔

        دونوں نے یہ بھی کہا: "ہمیں قلق تو ہوا کہ انتخاب کے مشورے میں ہمیں شریک نہیں کیا گیا مگر ہم جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ ہی سب سے افضل ہیں۔"

        ایک روایت کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جب بتایا گیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت ہورہی ہے تو وہ اتنی تیزی سے گھر سے نکل کرآئے کہ چادر تک ساتھ نہ لی۔

بیعت کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا پہلا خطاب:

        بیعت کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بحیثیت سربراہِ مملکت مسلمانوں سے پہلا خطاب کیا۔ آپ نے فرمایا:

        "اللہ کی قسم! مجھے کبھی سرداری کی آرزو نہیں رہی۔ میں نے کبھی اللہ سے حکومت کی دعا نہیں مانگی۔ مگر میں فتنے پھیل جانے کے خوف سے یہ ذمہ داری اٹھانے پر مجبور ہوا۔ مجھے اس عہدے میں کوئی آرام نہیں مل رہا۔ مجھے تو ایسی ذمہ داری کا طوق پہنا دیا گیا ہے کہ اللہ کی توفیق کے بغیر مجھ میں اس کی سکت نہیں ہے۔"

        پھر آپ نے فرمایا:

        "لوگو! مجھے تمہارا حاکم بنایا گیا ہے، اگرچہ میں تم سے افضل نہیں ہوں۔ اگر میں بھلائی کروں تو مجھ سے تعاون کرنا، اگر برائی کروں تو میری اصلاح کردینا۔ سچائی امانت ہے اور جھوٹ خیانت۔"

        آپ نے حکومت کی بنیادی ذمہ داری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

        "قوم کا معمولی آدمی میرے نزدیک اس وقت تک سب سے اہم ہے جب تک میں اسے اس کا حق نہ دلوا دوں۔ قوم کا طاقتور فرد میرے نزدیک معمولی ہے، جب تک میں اس سے مظلوم کا حق وصول نہ کرلوں۔"

        اس ارشاد میں یہ پیغام مضمرتھا کہ حکومت درحقیقت عام لوگوں اور کمزوروں کی دیکھ بھال کے لیے وجود میں آتی ہے، ورنہ امراء اور رؤساء کو اپنی وجاہت اور رعب داب کی وجہ سے گھر بیٹھے حقوق ملتے رہتے ہیں، حکومتی خدمات کی اصل ضرورت تو عام آدمی کو ہے، اس لیے اسلامی حکومت انہی کو ترجیح دے گی۔ اس ارشاد میں یہ تنبیہ بھی تھی کہ امراء کو دوسروں کا حق مارنے کی عادت سے دور رہنا چاہیے؛ کیوں کہ اسلامی حکومت محروم لوگوں کی حمایت کے لیے مستعد اور ان کی حامی ہے۔

        آپ نے جہاد کی اہمیت اورگناہوں کی نحوست کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

        "یاد رکھو! جب بھی کسی قوم نے جہاد ترک کیا تو اللہ نے اس پر ذلت ورسوائی ضرور مسلط کی ہے۔ جب بھی کسی قوم میں بدکاری بڑھتی ہے تو اللہ اسے ہمہ گیر آفات میں مبتلا کردیتا ہے۔"

        آخر میں اسلامی حکومت میں اقتدارِاعلیٰ اللہ کے سپرد ہونے کا نظریہ یاد دلاتے ہوئے فرمایا:

        "جب تک میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کروں تب تک میری پیروی کرنا۔ اگرمیں اللہ اور رسول کی نافرمانی کرنے لگوں تو تم پر میری پیروی لازم نہیں۔"

جب شمع رسالت نگاہوں سے اوجھل ہوگئی:

        حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم  کی تجہیزوتکفین ہوچکی تو صحابہ کرام صلی اللہ علیہ وسلم  نمازِ جنازہ اداکرنے کے لیے جمع ہوئے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا:"نمازِ جنازہ کیسے پڑھیں؟" فرمایا: "ٹولیاں بناکر اندر جاؤ، نماز پڑھتے رہو۔"

        چنانچہ اس طرح نمازِ جنازہ ادا کی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا جنازہ حجرۂ عائشہ میں ہی رہا، تھوڑے تھوڑے لوگ حجرے کے اندرجاتے اواپنی نماز پڑھ کر باہرنکل آتے۔ نمازِ جنازہ کی امامت کوئی نہیں کرنا تھا۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  ہی کی وصیت تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے وفات سے پہلے فرمایا تھا:

        "پہلے میرے گھر والے میری نمازِجنازہ ادا کریں۔ سب لوگ تنہا تنہا نمازِ جنازہ ادا کریں۔"

        اس حکم کے مطابق پہلے اہلِ بیت، پھر مردوں، پھر خواتین، پھر بچوں اور پھر غلاموں نے نمازِ جنازہ پڑھی۔ چونکہ لوگ ہزاروں کی تعداد میں تھے، جبکہ حجرہ عائشہ میں ایک وقت میں تھوڑے ہی افراد سما سکتے تھے۔ اس لیے نمازِ جنازہ کے عمل میں پورا دن گزرگیا۔ اب یہ سوال پیدا ہوا کہ کہاں دفن کیا جائے؟ لوگوں نے الگ الگ تجاویز دیں اور اختلاف پیدا ہونے لگا۔ کسی نے کہا: حجرہ شریفہ میں ہی دفن کیا جائے اور کسی نے کہا: عام مسلمانوں کے ساتھ

        تب حضرت سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ گویا ہوئے: "میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہرنبی کو اسی جگہ دفن کیا جاتا ہے جہاں اس کی روح قبض کی گئی ہو۔"

        چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر ہٹا کر وہیں قبر کی کھدائی شروع کی گئی۔ منگل اور بدھ کی درمیانی شب امہات المومنین اپنے حجروں میں سخت زمین پر کدالیں چلنے کی آواز سن رہی تھیں۔

        قبر تیار ہوچکی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام شقران رضی اللہ عنہ نے جلدی سے ایک سرخ چادر قبر کے اندر بچھا دی، حضرت علی، حضرت عباس اور ان کے لڑکے قثم بن عباس رضی اللہ عنہم نے قبر میں داخل ہوکر جسد اطہر کو اندر اتارا۔

        سب سے آخر میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ مرقد میں اترے اور حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کفن کو درست کیا، اس کے بعد مرقد پر مٹی ڈال دی گئی۔ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے مشک لے کر قبر پر پانی کا چھڑکاؤ کیا۔

        یوں حرا کا چاند طیبہ کی خاک میں روپوش ہوگیا اور اس کے ساتھ ہی سسکیوں اورہچکیوں کی آوازوں سے پورا مدینہ گونج اٹھا۔ زمین وآسمان نے اس سے زیادہ سوگوار اور دردناک منظر کبھی نہیں دیکھا تھا۔

        پیغمبر آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے جانثاروں کے لیے یہ احساس ناقابل برداشت تھا کہ اب اس دنیا میں مشتاق نگاہیں آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کبھی نہ کرسکیں گی۔ صحابہ کرام نے باقی رات آنکھوں میں کاٹ دی۔ صبح صادق کے وقت حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ حسب معمول اذان دینے لگے۔ "اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہ" پر پہنچے تو ضبط کی تاب نہ رہی۔ زاروقطار رونے لگے۔

نماز جنازہ اور تدفین میں تاخیر کیوں ہوئی؟

        رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پیر کی سہ پہر ہوئی تھی اور نماز جنازہ اگلے روز منگل کو ظہر کے بعد۔ پھر تدفین منگل اور بدھ کی درمیانی شب ہوئی۔ ان امور میں تاخیر کا ایک سبب تو صحابہ کرام اور اہل بیت کا رنج وغم سے نڈھال ہونا تھا۔ دوسرا اہم سبب امر خلافت کو طے کرنا تھا۔ نماز جنازہ اور تدفین کے امور اس کے بعد ہی انجام پذیر ہوئے۔

        اس اہم کام کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ اور تدفین سے بھی پہلے انجام پا جانے میں بھی اللہ تعالیٰ کی بڑی مصلحت معلوم ہوتی ہے۔ جنازے میں تاخیر ہونے سے یہ امکان تو ہرگز نہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جسداطہر میں کوئی تغیر پیدا ہوجائے گا، کیوں کہ انبیاء کرام علیہم السلام کے اجسام وفات کے بعد بھی محفوظ رہتے ہیں۔ ہاں اگر خلیفہ کا انتخاب فوراً نہ ہوتا تو کئی مسئلے کھڑے ہوجاتے۔

تجہیزوتکفین سے قبل خلافت کے مسئلے کو حل کرنا کیوں ضروری سمجھا گیا؟

        پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیزوتکفین کی ذمہ داری غیرمعمولی اہمیت رکھتی تھی، اگر اس عظیم کام کو کسی قائد کی نگرانی کے بغیر انجام دیا جانے لگتا تو بات بات پر اختلافات رونما ہوتے۔ اول تو یہی بات متنازع بن جاتی کہ نماز جنازہ کہاں ادا کی جائے؟لوگ جذبات کی شدت سے مغلوب ہو رہے تھے،اس لیے کھلے میدان میں نماز جنازہ ادا کرنا چاہتے، بہت سے لوگ دیدار عام کی تمنا بھی کرتے، ایسے میں آخری نگاہیں ڈالتے ہوئے ہزاروں لوگوں کا نظم کی انتہا سے حواس کھو بیٹھنا بالکل بعید نہ تھا۔ اس بات پر بھی اختلاف ہوتا کہ نماز جنازہ کون پڑھائے؟ تدفین کہاں ہو؟ جب پہلے قیادت کا مسئلہ طے ہوگیا تو پھر ہرکام ایک امیر کے اختیار کے ساتھ خوش اسلوبی سے انجام پاگیا۔

        امرخلافت کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ تھی کہ اسلام کے آغاز سے اب تک مسلمانوں پر کوئی وقت ایسا نہیں آیا تھا کہ وہ کسی امیر کے بغیر ہوں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی سب کے امام، رہنما اور امیر تھے جن کے تحت مسلمان متحدومتفق تھے۔ اب کسی امیر یا خلیفہ سے تھوڑی دیر کی محرومی بھی مسلمانوں کے لیے نہایت گراں تھی اور امت کے اکابر خطرہ محسوس کررہے تھے کہ اگر یہ صورتحال زیادہ دیر رہی تو کہیں امت مسلمہ کسی افتراق وانتشار کا شکار نہ ہوجائے۔ شرپسند عناصر جو منافقین کی شکل میں دورنبوت میں بھی سرگرم رہے کوئی بات اڑا کر اس مسئلے کو اختلاف بلکہ خانہ جنگی کی شکل دے سکتے تھے، جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کئی بار وہ ایسی مذموم کوششیں کرچکے تھے۔

         ان وجوہ سے صحابہ کرام کے پاکیزہ اذہان اور دوراندیش دماغوں کی توجہ خود بخود اس طرف ہوگئی کہ سب سے پہلے حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین کا مسئلہ طے کرلیا جائے۔ وہ لوگ ظاہر بین بلکہ کج فہم ہیں جو گمان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے زیادہ اقتدار کی فکر تھی، اس لیے وہ تجہیزوتکفین کے بجائے خلافت کے استحقاق پر بحث کرنے لگے۔ حقیقت یہ تھی کہ انہیں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہی کی وجہ سے پیغمبر کے دین کو بچانے کی فکر لاحق تھی اور اس کے لیے یہ ضروری تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خلافت کا منصب کسی ذمہ دار ترین شخص کو سونپ کر امت مسلمہ کو متحد اور یکجا رکھا جائے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا رنج و غم:

        حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے سانحے نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جس کرب وغم میں مبتلا کیا تھا اس کا اندازہ وہی لگا سکتا ہے جسے آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا در نصیب ہوا ہو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین سے فارغ ہوکر آئے تو حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا نے فرمایا:

        "انس! تم نے کیسے گوارا کرلیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفنا کے مٹی ڈال کر واپس چلے آئے۔"

        بچپن سے بڑھاپے تک حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی غم گسا وسرپرست حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا روتے ہوئے فرما رہی تھیں: "ہم نزول وحی کی برکت سے محروم ہوگئے۔"

        حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو چند ماہ پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کے شہر "صنعاء" بھیجا تھا، جہاں وہ لوگوں کو دین سکھانے اورشریعت کے مطابق ان کے مابین فیصلے کرنے کی ذمہ داری انجام دے رہے تھے۔ اس رات وہ اپنے بستر پر سورہے تھے کہ کسی نے پکارا "معاذ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی اور تم زندگی کے مزے لے رہے ہو۔"

        وہ اس طرح ہڑبڑا کراٹھے جیسے قیامت کا صور پھونک دیا گیا ہو۔دوڑتےہوئے صنعاء کی گلیوں میں آئے اور چلائے: "یمن والو! مجھے جانے دو۔ کیا المناک دن تھا جب میں اپنے آقا کے قدموں کو چھوڑ کر یہاں آن بسا۔"

        لوگ پوچھتے رہے کہ کیا ہوا؟ مگر وہ کچھ کہے سنے بغیر اپنی سواری کو ایڑی لگا کر سرپٹ مدینہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ مدینہ سے تقریباً پچاس میل (۸۰ کلو میٹر) دور تھے کہ سامنے سے حضرت عماربن یاسررضی اللہ عنہ آتے دکھائی دیے جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حکم سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر لے کر یمن جارہے تھے۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو پہچان کر حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے انہیں روکا اور سانحے کی اطلاع دی۔ وہ بولے:

        "عمار! اب رہنمائی کس سے لیں گے اور فریاد کس کو سنایا کریں گے؟"

        اسی حالت میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حجرے تک پہنچے۔ دستک دے کر اپنا تعارف کرایا اور تعزیت کی۔ وہ بولیں: "معاذ! اگرتم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری وقت دیکھ لیتے تو دنیا کی زندگی چاہے کتنی ہی طویل ہوتی، کبھی اچھی معلوم نہ ہوتی۔"

        یہ سن کر حضرت معاذ رضی اللہ عنہ پر اتنا روئے کہ غشی طاری ہوگئی۔


یَا خَیْرُ مَنْ دُفِنَتْ بِالْقَاعِ اَعْظُمُہٗ

فَطَابَ مِنْ طِیْبِھِنَّ الْقَاعُ وَالْاَکَمُ

نَفْسِی الْفِدَاءُ لِقَبْرِِ اَنْتَ سَاکِنُہٗ

فِیْہِ الْعَفَافُ وَفِیْہِ الْجُوْدُ وَالْکَرَمُ

"اے وہ سب سے پاکیزہ ہستی جس کی استخواں زیر خاک دفن ہیں
پس ان کی خوشبو سے یہ زمین بھی مہک اٹھی اور یہ برگ و بار بھی
میری جان اس مرقد پر قربان جس میں آپ تشریف فرماہیں
شرافت، سخاوت اور جود و کرم کی ساری صفات یہیں جمع ہیں۔"

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic