Jang e Qadisiya: Islam ki Azeem Fatah aur Rustam ki Shikast ka Mukammal Qissa

جنگ قادسیہ

        اسی دن رستم نے فوج کو کوچ کا حکم دیا۔ سنہری زرہ اور چمکتا خود پہن کر وہ ایک ہی جست میں اپنے برق رفتار گھوڑے پر بیٹھا اور چلایا: "کل میں عربوں کو مٹا کر رکھ دوں گا۔" ایک افسر نے کہا: "اگر خدا نے چاہا تو۔"

        رستم نے ڈپٹ کر کہا "خدا نہ چاہے تب بھی۔"


        وہ ایک لاکھ بیس ہزار سپاہ کے ساتھ ساباط کی چھاؤنی سے نکلا، مسلمان دریائے فرات کے مغرب میں خیمہ زن تھے، رستم نے یہاں پہنچ کر کشتیوں کا عارضی پل بنانے کی بجائے لکڑی، مٹی اور پتھروں کی بھرائی کر کے راتوں رات ایک مضبوط راستہ تیار کرایا۔ صبح ہوتے ہی اس نے دریا عبور کر کے ساحل کے ساتھ صف بندی کر لی۔ تیس ہزار چنیدہ ایرانی سورماؤں نے زنجیریں پہن کر صفیں بنائی تھیں تاکہ نہ تو کوئی ان کی صفوں کو توڑ سکے، نہ وہ خود  پیٹھ پھیر کر بھاگ سکیں۔ اٹھارہ جنگی ہاتھی لشکر کی درمیانی صفوں میں اور پندرہ دونوں پہلوؤں کے آگے کھڑے تھے، ان کے ہودجوں میں انتہائی ماہر تیر انداز بیٹھے تھے۔ رستم اپنے لشکر کے پیچھے دریا کے کنارے ایک شاندار تخت پر براجمان ہو کر فوج کا معائنہ کر رہا تھا۔ شاہِ ایران یزد گرد نے جنگ کی صورتِ حال سے لمحہ بہ لمحہ آگاہ رہنے کے لیے قادسیہ سے اپنے شہر مدائن تک جگہ جگہ نقیب مقرر کر دیے تھے جو  پیغام کو ایک دوسرے سے سن کر بآوازِ بلند آگے منتقل کرتے جا رہے تھے، یوں رستم کی بات یزد گرد تک اور اس کی رستم تک آناً فاناً پہنچ رہی تھی۔

        ادھر مسلمان اپنی صف بندی کر رہے تھے۔ مگر سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ لشکر کے امیر سعد بن ابی وقاصؓ کے جسم پر پھوڑے نکل آئے تھے، وہ اتنی تکلیف میں تھے کہ نہ بیٹھ سکتے تھے نہ ہی کھڑے ہو سکتے تھے۔ وہ اپنے لشکر کے پیچھے ایک کھنڈر نما عمارت کی چھت پر سینے کے نیچے تکیہ لگا کر اس طرح اوندھے منہ لیٹ گئے تھے کہ سارا میدانِ جنگ ان کے سامنے تھا۔ یہ شوال سن ۱۵ ہجری کے دن تھے۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے  بیماری کے باوجود فوج سے خطاب کیا اور انہیں حوصلہ دلاتے ہوئے فرمایا: "مسلمانو! اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے:

﴿وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ﴾
(ہم نے نصیحت کی بات کے بعد زبور میں بھی یہ بات لکھ دی کہ
 زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔)

        لوگو! یہ زمین تمہاری میراث ہے، یہ اللہ کا تم سے کیا گیا وعدہ ہے۔ اگر تم دنیا کے حریص نہ بنو اور آخرت کے طلبگار رہو تو اللہ دنیا بھی تمہیں دے گا اور آخرت بھی۔ اور اگر تم نے بزدلی اور کمزوری دکھائی تو تمہارا رعب داب جاتا رہے گا اور تمہاری آخرت بھی برباد ہو جائے گی۔"

        لشکر کے دیگر سالار بھی اپنے سرفروشوں کے سامنے تقریریں کر کے ان کی ہمت اور جذبے کو ابھار رہے تھے۔ چونکہ حضرت سعدؓ کی بیماری کا اکثر سپاہیوں کو علم نہ تھا؛ اس لیے انہیں لشکر کے پیچھے عمارت میں دیکھ کر بعض لوگوں نے اعتراض کیا اور اسے تن آسانی پر محمول کرنے لگے۔ حضرت سعدؓ کو معلوم ہوا تو سامنے آ کر اپنے جسم کے پھوڑے دکھائے، تاکہ  کسی  کو اعتراض کی گنجائش نہ رہے۔

        آپ نے حضرت خالد بن عُرفطہ غفاریؓ  کو میدان میں اپنا نائب مقرر کیا کہ ماتحت سپہ سالاران کی آواز پر لبیک کہیں گے۔ ابو مِحجن ثقفیؓ نے خالد بن عرفطہؓ کی تقرری سے اتفاق نہ کیا۔ حضرت سعدؓ نے تنبیہ کے طور پر انہیں اس عمارت میں قید کر دیا جس کی چھت پر ان کی نشست تھی۔ حضرت سعدؓ نے ترتیب یہ بنائی کہ پرچوں پر ہدایات لکھ لکھ کر نیچے خالد بن عرفطہؓ کے حوالے کرتے جاتے اور وہ یہ  پیغامات سالارانِ لشکر تک پہنچاتے جاتے۔

یومِ ارمات:

        ظہر کے وقت تک دونوں لشکر اپنی جگہ کھڑے رہے۔ امیرِ لشکر کے حکم سے صفوں میں جگہ جگہ سورۃ الانفال کی تلاوت کی جاتی رہی۔ مسلمانوں نے صف بندی کی حالت میں ہی نمازِ ظہر ادا کی۔ آخر حضرت سعد بن وقاصؓ کی پہلی تکبیر گونجی اور سب سمجھ گئے کہ اب حملہ شروع ہوا چاہتا ہے۔ دوسری تکبیر بلند ہوئی اور سب نے ہتھیار سنبھال لیے۔ تیسری تکبیر سن کر اسلامی لشکر نے بھی "اللہ اکبر" کا ملک شگاف نعرہ لگایا۔ ساتھ ہی تیر اندازوں نے تیر برسائے اور گھڑ سوار نیزے تان کر آگے بڑھے۔ چند لمحوں بعد چوتھی تکبیر گونجی تو ترتیب کے مطابق پورے اسلامی لشکر نے یک بارگی حریف پر دھاوا بول دیا۔

        لڑائی میں ایرانی شہزادہ ہرمز تاج پہنے حضرت غالب بن عبداللہ اسدیؓ کے مقابلے میں آیا اور گرفتار ہو گیا۔ ایک اور فارسی افسر قیمتی کنگن اور جڑاؤ کمر بند پہنے للکارتا ہوا سامنے آیا تو حضرت عمر بن معدی کربؓ اس کی طرف لپکے اسے زمین پر پٹخ کر خنجر سے ذبح کر دیا۔ اب گھمسان کی جنگ شروع ہو چکی تھی۔ حضرت سعدؓ محل کی چھت سے برابر فوج کی رہنمائی کر رہے تھے۔ ان کی بے خوفی کا یہ عالم تھا کہ محل کے دروازے کھلے تھے اور کوئی پہرہ نہیں تھا۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ اگر مسلمانوں کو پیچھے ہٹنا پڑتا تو ایرانی سیدھے محل میں گھس کر حضرت سعدؓ کو گرفتار کر سکتے تھے، مگر حضرت سعدؓ کو اس خطرے کی کوئی پروا نہ تھی۔

        عربوں کے قبیلہ بنو بجیلہ کے گھڑ سوار بڑی پامردی سے لڑ رہے تھے، ایرانیوں نے سترہ ہاتھیوں کا ریلا لے کر ان کی طرف یلغار کی۔ گھوڑے ہاتھیوں کو دیکھ کر بدک گئے اور بنو بجیلہ کی صف بندی ٹوٹنے لگی۔ حضرت سعدؓ نے یہ منظر دیکھا تو فوراً بنو اسد کے دستے کو ان کی مدد کے لیے بھیجا۔ اب ہاتھیوں کا غول بنو اسد کی طرف پلٹ پڑا اور انہیں روندنے لگا۔ حضرت سعدؓ نے بے چین ہو کر حضرت عاصم بن عمروؓ سے کہا: "ان ہاتھیوں سے نجات کی کوئی صورت ہو سکتی ہے؟" وہ بولے: "کیوں نہیں۔" یہ کہہ کر اپنے قبیلے کے بہترین تیر اندازوں کو لے کر آگے بڑھے اور تیروں  کی اتنی شدید بوچھاڑ کی کہ کوئی فیل بان زخمی ہوئے بغیر نہ رہا۔ بنو تمیم کے بہادروں نے ہاتھیوں کے ہودج الٹ دیے اور انہیں توڑ پھوڑ دیا۔ فیل بان نیچے گر کر واپس دوڑے اور یوں اس کالی آندھی کا رخ پھر گیا۔

اس پہلے دن کی جنگ کو تاریخ میں "یوم الا رمات" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

یومِ اغواث:

        پہلے دن کی لڑائی میں مسلمانوں کے خاصے افراد شہید اور زخمی ہوئے تھے، شہداء کی تدفین اور زخمیوں کے علاج معالجے کے انتظامات کے بعد اگلے دن مسلمان پھر صف بستہ ہوئے، ابھی جنگ شروع نہیں ہوئی تھی کہ اچانک حضرت سعدؓ کے بھائی حضرت ہشام بن عتبہؓ پانچ ہزار کے امدادی دستے کے ساتھ آن  پہنچے۔ وہ شام کے محاذ پر حضرت ابوعبیدہؓ کے ماتحت رومیوں سے برسرِ  پیکار تھے، حضرت عمرؓ نے ابوعبیدہؓ کو حکم بھیجا تھا کہ عراق کے محاذ سے جو مسلمان خالد بن ولیدؓ کے ہمراہ کمک کے لیے شام بھیجے گئے تھے، انہیں حضرت سعد بن وقاصؓ کی مدد کے لیے واپس عراق بھیج دیا جائے، چنانچہ یہ فوج دوبارہ ادھر آ گئی جس سے مسلمانوں کی ہمتیں بلند ہو گئیں۔

        اس فوج کے آنے کی ترتیب یہ رکھی گئی کہ دس دس سپاہی تکبیریں بلند کرتے تھوڑی تھوڑی دیر بعد آ کر لشکرِ اسلام میں شامل ہوتے رہے۔ دن بھر یہ سلسلہ جاری رہا اور دشمن یہ سمجھا کہ مسلمانوں کی مدد کے لیے بہت بڑی فوج آئی ہے۔ سب سے پہلا دستہ جو آ کر شامل ہوا اس کے امیر حضرت قعقاع بن عمروؓ تھے، جن کی دلیری اور فراست کی بڑی شہرت تھی۔ ان کے بارے میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کا ارشاد تھا: "جس لشکر میں اس جیسا شخص ہو اسے شکست نہیں ہو سکتی۔" انہوں نے آتے ہی ایرانیوں کو للکارا کہ "ہے کوئی بہادر تو سامنےآئے۔"

        مقابلے میں سلطنتِ فارس کا نامور سردار بہمن خود آیا جو ذوالحاجب کے لقب سے مشہور تھا۔ اسی نے جنگِ جسر میں مسلمانوں کو شکست دی تھی جس میں حضرت ابوعبیدہ ثقفیؓ شہید ہوئے تھے۔

        حضرت قعقاعؓ نے اسے دیکھتے ہی آواز لگائی: "ہائے ابوعبیدہ اور شہدائے جسر کا انتقام!"

           یہ کہہ کر اس پر حملہ آور ہوئے، چند لمحے دونوں کی تلواریں ٹکراتی رہیں، آخر حضرت قعقاعؓ نے اسے مار گرایا۔ اس کے بعد عام جنگ شروع ہو گئی۔ شام سے آنے والی امدادی فوج کے دس دس آدمیوں کا جب بھی کوئی دستہ افق سے نمودار ہوتا۔ حضرت قعقاعؓ اس میں شامل ہو کر بڑے زور و شور سے دشمن پر حملہ آور ہوتے۔ گزشتہ روز کی جنگ میں مسلمانوں نے ہاتھیوں کے جو ہودج چھلنی کیے تھے، ایرانی ان کا متبادل انتظام اب تک نہیں کر پائے تھے اس لیے ایرانی اس دن ہاتھیوں کو میدان میں نہیں لا سکتے تھے لہٰذا مسلمان گھڑ سوار جم کر لڑ رہے تھے۔

        ادھر حضرت قعقاع بن عمروؓ نے ایرانیوں کے گھوڑوں کو خوف زدہ کرنے کے لیے یہ عجیب چال چلی کہ اپنے اونٹوں کو سیاہ چادریں پہنا کر ان ایرانی گھڑ سواروں کے سامنے لے آئے جنہوں نے ایک دوسرے کو زنجیروں سے متصل کیا ہوا تھا تاکہ میدان سے فرار نہ ہونے پائیں اور دشمن پر یکبارگی حملے کرتے رہیں، مگر جب عربی اونٹ سیاہ چادروں میں سامنے آئے تو ایرانی گھوڑے بدکنے لگے اور ان کی صفیں درہم برہم ہو گئیں۔

        ایرانی لشکر کا ایک دستہ ماہر تیر اندازوں کا تھا جو زرق برق لباس میں سونے چاندی کے کنگن اور کمر بند پہنے سب سے نمایاں نظر آتا تھا۔ ان میں سے ایک تیر انداز مسلسل مسلمانوں کو نشانہ بنائے جا رہا تھا۔ اس دوران عمرو بن معدی کربؓ نے یہ آواز لگاتے ہوئے کہ "مسلمانو! شیر بن کر دکھاؤ۔ فارسی والے بھیڑ بکریاں ہیں۔" اسی سمت آگے بڑھے۔

        ایک مسلمان نے چلا کر کہا: "ابو ثور! اس فارسی سے بچ کے رہنا، اس کا کوئی نشانہ خطا نہیں جاتا۔"

        حضرت عمرو بن معدی کربؓ نے پلٹ کر تیر انداز کو دیکھا اور پھر اس کی طرف دوڑ پڑے۔ تیر انداز نے کمان پر تیر چڑھا کر ان پر چھوڑ دیا جو سنسناتا ہوا آیا۔ حضرت عمرو بن معدی کربؓ بھی چوکنا تھے، فوراً ڈھال آگے کر دی، تیر اس میں  پیوست ہوگیا، اس سے قبل کہ تیر انداز دوسرا تیر کمان پر چڑھاتا، عمرو بن معدی کربؓ اس تک جا پہنچے اور اسے یکدم دبوچ کر ذبح کر ڈالا، اس کے سونے کے دو کنگن، طلائی کمر بند اور ریشمی واسکٹ اتار لی۔

ابو محجنؓ کی شجاعت:

        ابو محجن ثقفیؓ کو جنگ سے پہلے فوجی نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر زنجیر ڈال کر اس محل میں قید کر دیا گیا تھا جس کی چھت پر حضرت سعدؓ بیٹھے تھے۔ حضرت ابو محجنؓ کو جنگ میں شرکت سے محرومی کا اتنا قلق تھا کہ بے اختیار یہ اشعار پڑھنے لگے:

كَفَى حُزْنًا أَنْ تُرْدِيَ الخَيْلُ بالقَنَا
وَأُتْرَكَ مَشْدُودًا عَلَيَّ وَثَاقِيَا
"کتنے غم کی بات ہے کہ گھڑ سوار نیزے تان کر بھڑے ہوئے ہیں 
اور میں زنجیروں میں باندھ کر یہاں پھینک دیا گیا ہوں۔"

        حضرت سعدؓ کی باندی زہراہ کا وہاں سے گزر ہوا تو ابو محجنؓ نے ان سے درخواست کی:

"میری زنجیر کھول کر ایک گھوڑا مجھے دے دو، شام کو میں واپس آ جاؤں گا تو مجھے پھر سے باندھ دینا۔"

        باندی کو رحم آ گیا، انہیں کھول کر حضرت سعدؓ کا گھوڑا ان کے حوالے کر دیا، وہ سیدھے میدانِ جنگ میں پہنچے اور اس بے جگری سے لڑے کہ کشتوں کے پشتے لگا دیے۔لوگ حیران تھے کہ یہ کون بہادر میدان میں آکودا ہے؟ حضرت سعدؓ کی جب بھی ان پر نظر پڑتی تو وہ یہ محسوس کیے بغیر نہ رہتے کہ یہ سپاہی بھی ابو محجنؓ کی طرح لڑ رہا ہے اور گھوڑا بھی میرے گھوڑے کی مانند ہے۔ پھر سوچتے کہ ابو محجن تو قید ہیں۔ دن بھر یہ معاملہ حل نہ ہو سکا۔

        شام ڈھلنے تک جنگ جاری رہی اور اندھیرا ہونے پر دونوں لشکر اپنی خیمہ گاہوں کو لوٹ آئے۔ ابو محجنؓ نے بھی اپنی جگہ آ کر پہلے کی طرح خود کو زنجیر ڈلوا لی۔ حضرت سعدؓ نیچے اترے تو سب سے پہلے اپنے گھوڑے کی طرف گئے، دیکھا پسینے سے تر ہورہاہے، تفتیش کی تو ساری بات سامنے آ گئی۔ حضرت سعدؓ ابو محجنؓ کی بہادری سے بڑے خوش ہوئے اور انہیں آزاد کر دیا۔

ابو محجنؓ پر شراب نوشی کا الزام اور اس کی حقیقت:

        یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ بعض تاریخی روایات میں بتایا گیا ہے کہ ابو محجنؓ کو شراب نوشی کی وجہ سے قید کیا گیا تھا، مگر یہ روایات بہت ضعیف ہیں، محققین کے نزدیک حضرت ابو محجنؓ کو نظم و ضبط کی خلاف ورزی کی بنا پر یہ سزا دی گئی تھی کہ انہوں نے حضرت سعدؓ کی نیابت کے لیے خالد بن عرفطہؓ کی تقرری پر اعتراض کیا تھا جیسا کہ پہلے گزر چکا۔

         اس کے علاوہ ایک وجہ اور تھی اور وہ یہ کہ انہوں نے کچھ ایسے اشعار کہے تھے جن میں ذوقِ مے نوشی کا ذکر تھا۔ حضرت سعدؓ کو یہ بات بہت ناگوار گزری تھی۔ ابن اثیر الجزریؒ نے روایت نقل کی ہے کہ ابو محجنؓ سے جب ان کی سزا کی وجہ پوچھی گئی تو وہ بولے: "اللہ کی قسم! میں کوئی حرام چیز کھانے پینے کی وجہ سے قید نہیں ہوا تھا بلکہ میں اسلام لانے سے قبل شاعر بھی تھا اور شرابی بھی۔ تو مے نوشی کے بارے میں کچھ اشعار میری زبان پر آ گئے تھے۔ اس لیے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے مجھے قید کر دیا۔"

دوسرے دن کی یہ لڑائی "یوم اغواث" کے نام سے یاد کی جاتی ہے، اس میں دو ہزار کے لگ بھگ مسلمان شہید اور زخمی ہوئے جبکہ ایرانیوں کا نقصان دس ہزار افراد سے کم نہیں تھا۔

خنساء بنت عمروؓ کا جذبہ جہاد:

        خنساء بنت عمروؓ (جن کا اصل نام "تُماضِر" تھا) عرب کی مشہور شاعرہ تھیں۔ فنِ شعر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ عربوں کی تاریخ میں ایسی بلند پایہ شاعرہ ان سے پہلے گزری نہ ان کے بعد۔ زمانہ جاہلیت کی ایک لڑائی میں ان کا ایک بھائی معاویہ قتل جبکہ دوسرا بھائی صخر شدید زخمی ہو گیا۔ خنساء ایک سال تک صخر کی تیمار داری کرتی رہیں، مگر آخر کار وہ بھی دم توڑ گیا۔ خنساء رنج و غم میں ڈوب گئیں۔ اس سے پہلے وہ اکا دکا اشعار کہا کرتی تھیں مگر اب غم کی آگ مرثیہ گوئی کی صورت میں ظاہر ہوئی اور اس اللہ کی بندی نے ایسے درد انگیز مرثیے کہے کہ بڑے بڑے شعراء سن کر سر دھنتے رہ گئے۔

        پھر اللہ نے انہیں اسلام کی سعادت بخشی۔ وہ اپنے قبیلہ بنو سلیم کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اپنے بیٹوں سمیت مشرف بہ اسلام ہوئیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کو ان کے اشعار بہت پسند تھے۔ فرمائش کر کے ان کا کلام سنتے اور داد سے نوازتے۔

        جنگِ قادسیہ میں خنساء بنت عمروؓ اپنے چاروں بیٹوں کے ساتھ شریک ہوئیں۔ جس رات جنگ چھڑنے والی تھی، انہوں نے بیٹوں کو جمع کیا اور کہا:

        "میرے بیٹو! تم نے اپنی خوشی سے اسلام قبول کیا۔ اپنی خوشی سے ہجرت کی۔ اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! تم ایک ہی باپ کے بیٹے ہو جیسا کہ تمہاری ماں ایک ہے۔ میں نے نہ تو تمہارے باپ سے خیانت کی نہ تمہاری ماموں کو رسوا ہونے دیا۔تمہارے حسب و نسب کو بٹہ نہیں لگایا۔ تم جانتے ہو کہ اللہ نے کفار سے جہاد کے بدلے کتنا عظیم اجر رکھا ہے۔ یاد رکھو! دارِ آخرت باقی رہنے والا ہے جبکہ دنیا کی زندگی فانی ہے۔اللہ کا ارشاد ہے: 

﴿یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اصۡبِرُوۡا وَ صَابِرُوۡا وَ رَابِطُوۡا ۟ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾
(اے ایمان والو! صبر کرو، مقابلے میں جم جاؤ اور مستعد رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔)

         صبح تم بھرپور جذبے کے ساتھ اپنے دشمن سے جہاد کے لیے جانا۔ ان شاء اللہ تم اللہ کی نصرت سے اس کے دشمنوں پر فتح یاب ہو گے۔ جب تم دیکھو کہ میدانِ جنگ تپ گیا ہے تو اس کے مشکل ترین مقامات میں کود جانا۔ ان شاء اللہ تمہیں جنت میں عزت کا مقام نصیب ہو گا۔"

        اگلے دن چاروں بیٹے رجز پڑھتے ہوئے پورے جوش و جذبے کے ساتھ جنگ میں شریک ہوئے۔ ایک کے بعد دوسرا شہید ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ چاروں شہادت سے سرفراز ہوئے۔ وہی خنساءؓ جو اپنے دو بھائیوں کے غم میں مرثیے کہہ کہہ کر پورے عرب کو رلاتی رہی تھیں، چار بیٹوں کی شہادت کی خبر سن کر بولیں: "اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے ان کی شہادت کا اعزاز بخشا، امید ہے وہ مجھے ان کے ساتھ اپنی بارگاہِ رحمت میں جگہ دے گا۔"

یومِ عِماس:

        تیسرے دن کی لڑائی "یوم عماس" کے نام سے مشہور ہے۔ رات ہی کو حضرت قعقاعؓ نے چند دستوں کو میدانِ جنگ سے خاصی دور چھپا دیا تھا اور انہیں ہدایت کی تھی کہ صبح جنگ شروع ہونے سے ذرا پہلے سو سو کی ٹولیوں میں یکے بعد دیگرے میدان میں آتے رہیں۔ چنانچہ صبح جب مسلمان اور ایرانی آمنے سامنے ہوئے تو یہ دستے تکبیر کے نعرے بلند کرتے باری باری آئے جس سے ایرانیوں پر رعب طاری ہو گیا۔آخر میں حضرت ہشام بن ابی وقاصؓ سات سو سواروں کے ساتھ اس طرح ٹولیوں میں تقسیم ہو کر میدان میں اترے۔

        جنگ کا آغاز ہوا تو پہلے ایک دیو  پیکر فارسی پہلوان نے آ کر للکارا۔ ایک پست قد مسلمان شَبرَ بن علقمہؓ اس کی طرف لپکے۔ پہلوان گھوڑے سے کودا، شبر بن علقمہؓ کو بازوؤں میں جکڑ کر نیچے گرا لیا اور سینے پر چڑھ کر انہیں ذبح کرنے کے لیے تلوار سونتے لگا مگر اچانک اس کا گھوڑا بدک کر بھاگا جس کی لگام پہلوان کے کمر بند سے بندھی ہوئی تھی۔ پہلوان بھی الٹ کر گرا اور گھوڑے کے پیچھے گھسٹنے لگا، شبرؓ نے یہ دیکھ کر پیچھے دوڑے اور پہلوان کا کام تمام کر دیا۔

        اس دن ایرانیوں کے ہاتھی پھر میدان میں موجود تھے اور ان کی حفاظت کے لیے  پیادوں اور گھڑ سواروں کا زبردست پہرہ لگا ہوا تھا، لہٰذا مسلمانوں کو حملے میں بڑی دشواری پیش آ رہی تھی، کیونکہ گھوڑے پہلے کی طرح آج بھی ہاتھیوں کے سامنے آنے سے گھبرا رہے تھے۔ حضرت عمرو بن معدی کربؓ نے اپنے سامنے والے ہاتھی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے قبیلے والوں سے کہا: "میں اس ہاتھی اور اس کے پہرے داروں پر حملہ کر رہا ہوں، اگر میں تھوڑی دیر نہ لوٹوں تو تم میرے پیچھے چلے آنا، ورنہ مجھ سے محروم ہو جاؤ گے، پھر مجھ جیسا کہاں ملے گا۔"

        یہ کہہ کر وہ ایرانیوں پر حملہ آور ہوئے اور گرد و غبار میں چھپ گئے، جب کچھ دیر تک وہ نہ لوٹے تو ان کے ساتھی ایرانیوں کی صفیں توڑتے ہوئے ان کے پیچھے گئے، تب تک وہ زخمی ہو چکے تھے مگر برابر لڑ رہے تھے۔ ان کے ساتھی انہیں بمشکل نکال کر لائے۔ ان کا گھوڑا بھی زخمی ہو چکا تھا۔ اتنے میں ایک فارسی ان کے پاس سے گزرا، انہوں نے اس کے گھوڑے کی ٹانگ پکڑ لی۔ ایرانی اپنے گھوڑے کو ایڑ لگاتا رہا مگر بے سود، آخر وہ اتر کر بھاگ نکلا اور یہ اس کے گھوڑے پر سوار ہو گئے۔

        ہاتھیوں کی تباہ کاریاں دیکھ کر حضرت سعد بن وقاصؓ بے چین تھے، وہ جانتے تھے کہ اس مصیبت سے نجات پانا سب سے پہلے ضروری ہے۔ ایرانیوں کا ایک سفید اور ایک خارش زدہ ہاتھی سب سے زیادہ تباہی مچا رہے تھے۔ حضرت سعدؓ نے حضرت قعقاع بن عمروؓ اور حضرت عاصم بن عمروؓ کو  پیغام بھیجا: "سفید ہاتھی کو نمٹادو۔"

        امیر کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے حضرت عاصمؓ اور حضرت قعقاعؓ لمبے نیزے سنبھال کر سفید ہاتھی کی طرف بڑھے اور دونوں نے ایک ساتھ اس کی آنکھوں کو نشانہ بنایا۔ آنکھوں میں زخم کھاتے ہی سفید ہاتھی سر پٹخنے لگا، اس پر بیٹھے سائیس اور تیر انداز نیچے گر پڑے۔ ادھر حضرت قعقاعؓ نے ہاتھی کی سونڈ پر وار کر کے اسے کاٹ ڈالا، خارش زدہ ہاتھی کو بھی اسی طرح آنکھیں پھوڑ کر ناکارہ کیا گیا۔ یہ ہاتھی زخمی ہو کر بھاگے تو دوسرے ہاتھیوں نے بھی ان کا ساتھ دیا اور میدان ان سے خالی ہو گیا۔ اب مسلمان گھڑ سواروں اور  پیادوں کو جم کر لڑنے کا موقع میسر آگیا۔ اس وقت تک سورج ڈھلنے لگا تھا۔ مسلمان سر ہتھیلی پر رکھ کر شام تک لڑتے رہے۔ مقابلے میں ایرانی بھی غیر معمولی جوش و خروش سے نبرد آزما رہے۔

لیلۃ الہَریر:

        یہ دونوں کے درمیان ایک فیصلہ کن جنگ تھی، اس لیے سورج ڈوب جانے کے بعد بھی تلواروں کی بجلیاں کوندتی رہیں، لڑنے والے تھکن سے بے حال ہوئے جا رہے تھے، مگر جنگ کا رکنا اب کسی ایک کی مکمل شکست کے بغیر ناممکن تھا۔ لوگ ہوش و حواس سے  بیگانہ ہو کر لڑے جا رہے تھے۔ پوری رات کسی کو کھانے پینے کا موقع ملا، نہ آرام یا بات چیت کرنے کا۔ سب کے ہاتھوں میں اسلحہ تھا اور زبانوں پر نعرے، اس لیے اس شب کو "لیلۃ الہریر" (شبِ اہ و فغاں) کہا جاتا ہے، جس میں بہادروں کی للکار اور زخمیوں کی چیخ و پکار سے قیامت کا سماں رہا۔

        حضرت قعقاع بن عمروؓ نے حضرت عاصم بن عمروؓ اور حضرت قیس بن ہبیرہؓ جیسے حضرات کو ساتھ لے کر رات بھر  پینترے بدل بدل کر حملے کیے جن کی ترتیب خود ہی بنائی تھی۔ حضرت سعدؓ نے اس پر فرمایا: "اے اللہ! ان کی مغفرت فرما، ان کی مدد فرما، میری طرف سے انہیں اجازت ہے، اگرچہ وہ مجھ سے اجازت نہیں لے سکے۔"

ان حملوں نے ایرانیوں کو شدید نقصان پہنچایا مگر پھر بھی ہار جیت کا فیصلہ نہ ہو سکا۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic