Jang e Qadisiyah aur Madaen Ki Fatah: Tareekh e Islam

یومِ قادسیہ

        صبح کو دونوں فوجیں لڑتے لڑتے بے حال ہو چکی تھیں۔ یہ آخری دن کی لڑائی "یومِ قادسیہ" کہلاتی ہے جو دو پہر تک برابر جاری رہی۔ حضرت قعقاعؓ سمجھ گئے تھے کہ اب دشمن کی قیادت کو ٹھکانے لگا کر ہی جنگ کو اختتام تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے بہادروں کو حوصلہ دلاتے ہوئے فرمایا:


        "اب جو بھی آگے بڑھ کر حملہ کرے گا، وہ فتح پائے گا، تم کچھ دیر مزید ثابت قدم رہو اور حملہ کرو، نصرتِ خداوندی صبر کے ساتھ مشروط ہے۔"

        یہ کہہ کر انہوں نے حضرت عمرو بن معدی کربؓ اور طلیحہ بن خویلد ( یہ وہی  ہے جنہوں نے  نبی ہونے کا دعوہ کیا تھا اور مسلمانوں سے جنگ کی تھی لیکن پھر بعد میں ایمان لے آئے تھے)   جیسے کئی نامور شمشیر زنوں کے ساتھ ایرانیوں پر حملہ بول دیا۔ایرانی افسران فیروزان اور ہرمز ان نے حائل ہونے کی سر توڑ کوشش کی مگر مسلمانوں کا یہ ریلا ان کی صفوں کو درہم برہم کرتے ہوئے رستم کے قریب جا پہنچا جو فوج کے آخر میں اپنے شاندار تخت پر بیٹھا تھا۔مسلمانوں کو آتا دیکھ کر رستم دریا میں کود گیا مگر ہلال بن علقمہ نامی ایک مسلمان اس کے پیچھے پانی میں اتر گئے اور اسے ٹانگوں سے پکڑ کر کنارے کھینچ لائے، پھر تلوار سے اس کا سر قلم کر دیا اور اس کے تخت پر چڑھ کر آواز لگائی کہ "میں نے رستم کو قتل کر دیا ہے۔"

        یہ سن کر ایرانیوں کے رہے سہے ہوش بھی اڑ گئے اور وہ میدان سے فرار ہونے لگے۔ مسلمانوں نے تعاقب کرتے ہوئے دور تک ان کی لاشوں کے ڈھیر لگا دیے۔

        زنجیروں سے متصل نامور ایرانی سورما بھی جو تیس ہزار تھے، جان بچانے کے لیے دریا میں کود گئے تھے، مسلمانوں نے نیزے اور تیر مار مار کر ان سب کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ غرض ایرانی لشکر کا اکثر حصہ قادسیہ میں بے نام و نشان ہو گیا۔ مسلمانوں کے مجموعی طور پر ساڑھے چھ ہزار افراد نے جامِ شہادت نوش کیا۔

        اسلامی لشکر میں بچے بھی تھے اور خواتین بھی۔ ان کے ذمے مجاہدین کی خدمت کے کام تھے، شہداء کی قبریں کھودنے اور زخمیوں کا خیال رکھنے کی ذمہ داری بھی انہی پر تھی۔ جنگ ختم ہوئی تو دشمنوں کے مقتولین سے قیمتی کپڑے اتارنے کا کام بچوں کے سپرد کر دیا گیا تاکہ بالغوں کے سامنے لاشوں کی پردہ دری نہ ہو۔

        جنگِ قادسیہ کی تاریخ کے بارے میں اختلاف ہے، ایک قول محرم ۱۴ ھ کا ہے جو یقینی طور پر غلط ہے، ایک قول شوال ۱۶ ھ اور ایک شوال ۱۵ ھ کا ہے۔ قرائن سے اندازہ ہوتا ہے کہ آخری قول درست ہے۔

میں کوئی بادشاہ نہیں:

        حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ قادسیہ کے معرکے کے بارے میں اتنے بے تاب تھے کہ روزانہ صبح سویرے مدینہ منورہ سے باہر عراق جانے والی شاہراہ پر کھڑے ہو جاتے اور دوپہر تک ہر آنے والے سوار سے عراقی مجاہدین کی خیر خبر پوچھتے۔ ادھر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا قاصد فتح کی خوشخبری  لے  کر مدینہ طیبہ روانہ ہو چکے تھے جو مدینہ کے پاس پہنچا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ باہر ہی منتظر کھڑے تھے۔ اسے دیکھتے ہی پوچھا:

        "کہاں سے آئے ہو؟" قاصد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پہچانتا نہیں تھا اور اسے خلیفہ تک پہنچنے کی جلدی تھی، لہٰذا اس نے رکے بغیر کہا: "قادسیہ سے۔" آپ بے چینی سے بولے "اللہ کے بندے! مجھے بتاؤ وہاں کیا ہوا؟"

        قاصد نے کہا: "اللہ نے مشرکوں کو شکست دے دی۔"

        حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ ساتھ دوڑتے ہوئے سوال پوچھتے رہے اور وہ جواب دیتا رہا۔ یہاں تک کہ سوار شہر میں داخل ہو گیا۔ جب اس نے دیکھا کہ لوگ ان کے ساتھ دوڑنے والے کو امیر المؤمنین کہہ کر سلام کر رہے ہیں تو کانپ اٹھا اور بولا: "حضرت! اللہ آپ پر رحم کرے، آپ نے مجھے کیوں نہ بتایا کہ آپ امیر المؤمنین ہیں۔"

        آپ نے بے ساختہ فرمایا: "میرے بھائی! اس میں حرج ہی کیا ہے۔"

        اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو جمع کر کے ایک پراثر تقریر کی اور فرمایا:

        "مسلمانو! میں کوئی بادشاہ نہیں کہ تمہیں غلام بنا کر رکھوں۔ میں خود اللہ کا غلام ہوں۔ ہاں،خلافت کی ذمہ داری میرے سر پر رکھی گئی ہے۔ اگر میں اپنی ذمہ داریوں کو اس طرح انجام دوں کہ تم اپنے گھروں میں چین کی نیند سو سکو تو یہ میری سعادت ہے۔ اگر میری خواہش یہ ہو کہ تم میرے دروازے پر کھڑے رہا کرو، تو یہ میری بدبختی ہوگی۔ میں تم کو اچھی تعلیم دینا چاہتا ہوں مگر گفتار سے نہیں کردار سے۔"

بابِل سے مدائن تک:

        رستم سمیت ایرانیوں کے کئی بڑے سالار قادسیہ میں مارے گئے تھے، لیکن ہرمزان، قارِن اور کئی سردار بچ کر نکل گئے تھے، ان کے علاوہ اور بھی کہنہ مشق ایرانی جرنیل ابھی مختلف قلعوں اور شہروں میں مقابلے کے لیے تیار تھے۔

        حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی ہدایت پر ان کا قصہ پاک کرنے کے لیے قادسیہ کی جنگ کے دو ماہ بعد ذوالحجہ ۱۵ ہجری میں آگے  پیش قدمی کی اور تاریخی شہر "بابل" کو فتح کیا۔ پھر "کوفہ" کے لیے حضرت زُہرہ کو امیر بنا کر روانہ کیا، یہ شہر تاریخی روایات کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جائے  پیدائش ہے۔ یہاں کے نواب شہریار نے مقابلے کے لیے صف بندی کی اور خود آگے آکر للکارا۔ حضرت زہرہ رضی اللہ عنہ نے اس کے غرور کا سر نیچا کرنے کے لیے ایک جنگجو عربی غلام نائل بن خشم کو مقابلے کے لیے بھیج دیا۔ دونوں گھوڑوں کو ایڑ لگا کر ایک دوسرے کے مقابل آئے۔ شہریار نے نائل کو کمزور سمجھ کر اپنا نیزہ پھینک دیا اور ان کی گردن میں دونوں بازو ڈال کر انہیں دبانے کی کوشش کی، نائل نے بھی خالی ہاتھ زور آزمائی شروع کی اور دونوں گھوڑوں سے نیچے آگرے۔ شہریار نے ایک ہاتھ سے نائل کے چہرے کو دبایا اور دوسرے سے خنجر نکالنا چاہا تاکہ ان کے حلق پر پھیر دے کہ نائل نے یکدم اس کا انگوٹھا اس زور سے چبایا کہ ہڈی تک کچ گئی ۔ شہریار درد سے دوہرا ہو کر پیچھے ہٹا اور نائل اسے گرا کر اس کے سینے پر چڑھ گئے اور آناً فاناً اس کا خنجر چھین کر اس کا  پیٹ چاک کر ڈالا۔ شہریار کے مرتے ہی اس کی فوج کا حوصلہ ٹوٹ گیا اور وہ معمولی مزاحمت کے بعد تتر بتر ہوگئی۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ بعد میں یہاں پہنچے۔ حضرت نائل کا کارنامہ سنا تو بہت خوش ہوئے اور شہریار کی پوشاک، اسلحہ اور سواری انعام میں انہی کو عطا کر دی۔ نائل جب شہریار کا قیمتی لباس اور اسلحہ زیب تن کر کے مسلمانوں کے مجمعے میں آئے تو ایک غلام کی یہ سجاوٹ دیکھ کر سب دنگ رہ گئے۔

        ایرانی پایہ تخت مدائن دریائے دجلہ کے مشرقی کنارے پر واقع تھا۔ دریا کے مغربی کنارے پر اس کی حفاظت کے لیے ایک قلعہ موجود تھا جہاں کسریٰ کا پالا ہوا ایک شیر رکھا گیا تھا، اسی مناسبت سے اس مقام کو "بَہْرُ شیر" کہا جاتا تھا۔ یہاں جنگ شروع ہوئی تو ایرانیوں نے یہ شیر بھی مسلمانوں پر چھوڑ دیا۔ ادھر سے حضرت ہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور تلوار کا ایسا وار کیا کہ شیر نے وہیں دم توڑ دیا۔ اس بہادری پر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے حضرت ہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ کی  پیشانی چوم لی۔ "بہر شیر" کا قلعہ کچھ مدت کے محاصرے کے بعد صفر ۱۶  ہجری میں فتح ہو گیا۔

اسلامی لشکر دجلہ کی موجوں میں:

        'بہر شیر'ــ کے قلعے کا عقبی دروازہ دریائے دجلہ کے ساحل پر کھلتا تھا جس کے پار ایرانیوں کا پایہ تخت مدائن دکھائی دیتا تھا۔ مسلمان اس طرف بڑھے مگر راستے میں دریا حائل تھا۔ ایرانیوں نے تمام پل توڑ دیے تھے اور کشتیاں غائب کر دی تھیں۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو اطلاع مل چکی تھی کہ یزدگرد سارے مال و اسباب کے ساتھ مدائن سے فرار ہونے کی تیاری کر رہا ہے اور اگر دریا عبور کرنے میں تاخیر ہوئی تو وہ سب کچھ سمیٹ کر صاف نکل جائے گا اور کسی محفوظ علاقے میں پہنچ کر ازسرنو افواج مرتب کر لے گا، اس لیے دریائے دجلہ کو فوراً عبور کرنا ناگزیر تھا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ان تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر مسلمانوں سے کہا:

        "بھائیو! دشمن نے ہر طرف سے بھاگ کر دریا کے پار پناہ لی ہے۔ مگر یہ ایک قطرہ تمہیں نہیں روک سکتا۔ میری رائے تو یہ ہے کہ دشمن کو سنبھلنے سے پہلے گھیر لو۔ پس اب میں تو گھوڑا دریا میں ڈالنے کا عزم کر چکا ہوں۔"

        سب نے کہا: "ہم آپ کے پیچھے ہیں، آپ قدم بڑھائیے۔"

        لشکر کی پہلی صف میں موجود عاصم بن عمرو رضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے پکار کر کہا: "مسلمانو! تمہارے سامنے اس قطرے کی کیا حیثیت! اسے چیر کر دشمن تک پہنچو۔ ارشادِ باری ہے:

 وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ كِتَابًا مُؤَجَّلًا
 (اور کسی بھی جان کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ مر جائے مگر اللہ کے حکم سے یہ ایک لکھا ہوا وقت ہے)۔"

        یہ کہہ کر وہ گھوڑے سمیت دریائے دجلہ میں کود گئے۔

        ادھر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے حضرت عاصم بن عمرو رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ دریا کے پار پہنچ کر گھاٹ پر متعین ایرانیوں سے نبرد آزما ہوں تاکہ دریا عبور کرنے کے درمیان دشمن کی تیر اندازی کا خطرہ نہ رہے۔ عاصم رضی اللہ عنہ ساٹھ گھڑ سواروں کے ساتھ دریا میں اتر کر دوسرے کنارے کے پاس پہنچے تو ادھر سے فارسی پہرے دار بھی دریا میں گھس کر راستہ روکنے لگے۔ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ کی ہدایت پر مسلمانوں نے نیزے سنبھال کر ان کی آنکھوں کو نشانہ بنایا اور درجنوں کو مار گرایا۔ ادھر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں سے کہا: "سب یہ دعا پڑھیں:

"نَسْتَعِيْنُ بِاللّٰهِ وَ نَتَوَكَّلُ عَلَيْهِ. حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ. وَلَا نَصْرَ إِلَّا بِاللّٰهِ وَ لَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ وَلِيَّهٗ وَ لَيُظْهِرَنَّ دِيْنَهٗ وَلَيَهْزِمَنَّ عَدُوَّهٗ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ۔"
(ہم اللہ سے مدد چاہتے ہیں، اس پر بھروسہ کرتے ہیں، اللہ ہمیں کافی ہے اور بہترین کارساز ہے، اللہ ضرور اپنے دوست کی مدد کرے گا، ضرور اپنے دین کو غالب کرے گا اور ضرور اپنے دشمن کو شکست دے گا، نہ گناہ سے بچنے کی طاقت اور نہ نیکی کی قوت ہے مگر اللہ عظیم کے حکم سے۔)

        یہ الفاظ کہتے ہوئے سب دریا میں اتر گئے۔ سب سے پہلے حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے گھوڑا دریا میں ڈالا۔ یہ حضرات آپس میں یوں باتیں کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے جیسے کسی پختہ شاہراہ پر چلے جا رہے ہوں۔

        حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے کہہ رہے تھے: "اسلامی روح ابھی تازہ ہے، اس لیے خشکی کی طرح پانی بھی مسلمانوں کے لیے مسخر کر دیا گیا ہے، فوج جس طرح دریا میں اتری ہے، اسی طرح باہر نکلے گی۔"

        حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرما رہے تھے: "حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ۔ اگر لشکر میں سرکشی نہ ہو، اور ایسے گناہ نہ ہوں جو نیکیوں پر غالب آ جائیں تو ایسا ہی ہو گا۔"

        مسلمانوں کو اس طرح بے خوف و خطر  پانی میں چلتا دیکھ کر ایرانیوں پر اتنا خوف طاری ہوا کہ ان میں سے زیادہ تر "دیواں آمدند، دیواں آمدند" (جن بھوت آ گئے) کہتے ہوئے بھاگ کھڑے ہوئے۔

مجاہد کا پیالہ اور دریا کی امانت داری:

        جو دشمن مقابلے کے لیے رکے، مسلمان انہیں مارتے کاٹتے ساحل پر اتر گئے۔ پوری فوج جوں کی توں پار ہو گئی، صرف ایک سپاہی حضرت مالک بن عامر رضی اللہ عنہ کا پیالہ دریا میں گر گیا تھا، کسی نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا: "تقدیر کی بات تھی کہ وہ ضائع ہو گیا۔" وہ بولے: "واللہ! مجھے تو اس  پیالے کی سخت ضرورت تھی۔"

        پھر دعا کی: "الٰہی! پوری فوج میں سے صرف میری چیز ضائع ہو، مجھے ایسا محروم نہ بنا۔"

        جب سب دریا کے پار اترے تو اچانک پانی کی ایک لہر نے وہ  پیالہ کنارے پر لا ڈالا، کسی سپاہی نے پہچان کر حضرت عامر بن مالک رضی اللہ عنہ کو پہنچا دیا۔

         یزدگرد نے اپنے اہل و عیال اور خزانے کو پہلے ہی 'حلوان' روانہ کر دیا تھا۔ مسلمانوں کے دریا پار کرنے کی اطلاع ملتے ہی وہ خود بھی پایہ تخت سے بھاگ کھڑا ہوا، اگرچہ ایرانی مال و دولت کا خاصا ذخیرہ ساتھ لے گئے تھے مگر اکثر ساز و سامان پیچھے رہ گیا تھا۔ مسلمان جب ساسانیوں کے اس قدیم عشرت کدے میں داخل ہوئے تو چار سو خاموشی طاری تھی۔

کسریٰ کے خزانے قدموں میں:

        سامنے آلِ ساسان کا عظیم الشان قصرِ ابیض تھا جس کی فتح کی بشارت نطقِ رسالت سے دی گئی تھی۔ یہ وہ شاہکار تھا جس کی ہیبت اور وسعت دیکھ کر انسان دم بخود رہ جاتا تھا۔ جس کی دیواروں، محرابوں اور ستونوں کی رعنائی نگاہوں کو خیرہ کر دیتی تھی۔ مگر آج قصرِ ابیض کے فلک بوس برج اپنی تمام تر رفعتوں کے باوجود آج سرنگوں معلوم ہوتے تھے۔

        حضرت سعد رضی اللہ عنہ کسریٰ کے قصر میں داخل ہوئے تو زبان پر بے ساختہ یہ آیات آگئیں:

كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ o وَزُرُوعٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ o وَنَعْمَةٍ كَانُوا فِيهَا فَاكِهِينَ o كَذٰلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا قَوْمًا آخَرِينَ o
(وہ لوگ چھوڑ گئے کتنے ہی باغ اور چشمے، اور کھیتیاں اور عمدہ مکانات، اور آرام کے سامان 
جن میں وہ خوش رہا کرتے تھے اسی طرح ہوا اور ہم نے ایک دوسری قوم کو اس کا وارث بنا دیا۔)

        صدیوں سے نصف ایشیا پر راج کرنے والی خسروی سلطنت کے خزانے آج مسلمانوں کے قدموں میں تھے، مگر اس بے مثال فتح کا کوئی جشن نہیں منایا گیا۔ مسلمانوں نے کسریٰ کے دربار میں جا کر نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائے کہ اس کی توفیق سے کفر و شرک کے مرکز میں اسلام کا پرچم نصب کرنے کی سعادت ملی۔

        مدائن سے اس قدر مال و دولت ہاتھ آیا کہ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ جو اپنے والد کے ساتھ اس فتح میں شریک تھے، فرماتے تھے کہ جب شریعت کے مطابق چار حصے مجاہدین میں تقسیم کیے گئے تو ہر ایک کے حصے میں بارہ، بارہ ہزار درہم آئے۔ (جو آج کل کے لحاظ سے پچیس تیس لاکھ روپے سے کم نہیں)

        سونا چاندی اتنا زیادہ تھا کہ بعض بوریوں کو اناج سمجھ کر اٹھایا گیا مگر جب کھولا گیا تو سونا چاندی برآمد ہوا۔ کچھ سپاہی یزدگرد اور اس کے ساتھیوں کے تعاقب میں نکلے تھے۔ انہیں نہروان کی نہر کے پل پر کسریٰ کے خادموں کی ایک ٹولی مل گئی جو ایک خچر کو اپنے پہرے میں لے جا رہی تھی۔ خچر کو ان سے چھینا گیا تو اس پر لدے سامان میں سے کسریٰ کے کپڑے، زیور، جوتیاں اور زرہ برآمد ہوئے جو ہیروں اور جواہرات سے جڑے ہوئے تھے۔

امانت و دیانت کی اعلیٰ مثالیں:

        مسلمانوں کی امانت داری اور خدا خوفی کا یہ حال تھا کہ جو چیز ملی اس نے لاکر امیرِ لشکر کی خدمت میں پیش کر دی، بعض چیزوں کی مالیت آج کل کے حساب سے کروڑوں روپے تھی، مگر مجاہدین نے ذرا بھی ہیرا پھیری نہ کی۔ ایک اللہ کے بندے کے ہاتھ ایسا ڈبہ لگا جس میں کسریٰ کا تاج تھا، اس نے جوں کا توں پیش کر دیا۔ یہ طلائی تاج جو نایاب ہیروں اور موتیوں سے مرصع تھا، اتنا وزنی تھا کہ آدمی سر پر اس کا وزن برداشت نہیں کر سکتا تھا، اسے تختِ شاہی کے دائیں بائیں لگے دوستونوں کے درمیان زنجیروں کے ذریعے لٹکایا جاتا تھا۔ بادشاہ تخت پر بیٹھ کر اپنا سر تاج میں لگا لیتا تھا۔ بعض مجاہدین کو خوبصورت ڈبوں میں کسریٰ کے ملبوسات ملے جن میں لگے ایک، ایک موتی کی قیمت لاکھوں روپے تھی۔ حضرت قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ کو ایسے صندوق ملے جن میں کسریٰ، ہرقل، خاقانِ چین اور ہندوستان کے مہاراجوں کی نہایت نفیس اور نادر تلواریں، زرہیں اور خود تھے جن میں سے ہر چیز اپنی ایک تاریخی حیثیت رکھتی تھی۔

        یہ سب چیزیں حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے قدموں میں لاکر رکھی گئیں تو ان کے منہ سے نکلا:

        "بے شک یہ امانت دار لوگوں کا لشکر ہے۔"

        سب سے عجیب واقعہ یہ ہے کہ ایک مسلمان ایک صندوقچہ لیے ہوئے ان افسران کے پاس آیا جو حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے حکم سےغنیمت کا سامان جمع کر رہے تھے۔ صندوقچہ کھولا گیا تو وہ ایسے نایاب موتیوں اور جواہرات سے بھرا ہوا تھا جن کی قیمت اب تک جمع کیے گئے سارے مال واسباب سے کہیں زیادہ تھی۔ وصول کرنے والے افسران حیران ہو کر بولے: "تم نے ان میں سے خود کچھ نہیں لیا؟"

        جواب ملا: "واللہ! اگر اللہ کے ساتھ ہونے کا احساس نہ ہوتا تو میں یہ صندوقچہ تمہارے پاس لے کر ہی نہ آتا۔"

        پوچھا گیا "تم کون ہو؟" جواب دیا: "میں نے یہ عمل اس لیے کیا ہی نہیں کہ تم میری تعریف کرو۔ میں اللہ تعالیٰ کی حمد کرتا ہوں اس توفیق پر اور اس کے ثواب پر خوش ہوں۔"

        یہ کہہ کر وہ اپنے قبیلے کی بھیڑ میں غائب ہو گیا۔ بعد میں تحقیق کی گئی تو پتا چلا کہ وہ حضرت عامر بن عبدقیس رضی اللہ عنہ ہیں۔

        یہ چیزیں مالِ غنیمت کے پانچویں حصے میں شامل کر کے خلیفۃ المسلمین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیج دی گئیں۔ انہوں نے دیکھ کر بے ساختہ فرمایا: "جن لوگوں نے اتنی قیمتی چیزیں جوں کی توں بھیج دیں، وہ یقیناً دیانت دار ہیں۔" حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: "امیر المؤمنین! آپ پاکباز ہیں، اس لیے آپ کی رعایا بھی باکردار ہے۔"

قالینِ نو بہار:

        اس ساز وسامان میں ایرانی بادشاہوں کا شہرہ آفاق قالین نو بہار بھی تھا جسے نوشیروان کے حکم سے اس کے وزیر برزجمہر نے اس لیے تیار کرایا تھا کہ موسمِ سرما میں بھی بہار کا لطف لیا جا سکے۔ اس کا طول و عرض ۹۰ فٹ تھا۔ قالین کو سونے کے تاروں سے بنایا گیا تھا، موتیوں اور ہیروں سے سجایا گیا تھا، ریشم اور سونے کے پانی سے پھول پتیوں کی ایسی حیران کن کشیدہ کاری کی گئی تھی کہ آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتیں۔ اس میں سڑکوں اور نہروں کی عکاسی بھی تھی۔

    ایرانی بادشاہ اکثر گرمی کے موسم میں اپنے خاص مصاحبین کے ساتھ اس قالین پر محفل جماتے، شراب کا دور چلاتے اور خود کو موسمِ بہار میں محسوس کرتے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے جب یہ قالین مدینہ منورہ بھیجا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام و تابعین کو جمع کر کے اس کا نظارہ کرایا، سب اس کی دلکشی سے حیران ہوئے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مشورہ طلب کیا کہ اس کا کیا کیا جائے؟ بعض حضرات اس عجوبے کو باقی رکھنا چاہتے تھے مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے زور دے کر اسے مسلمانوں میں تقسیم کرنے کا مشورہ دیا، چنانچہ اسے کاٹ کر سب میں بانٹ دیا گیا۔ اس کا معمولی حصہ جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ملا، بیس ہزار میں فروخت ہوا۔

کسریٰ کا تاج اور کنگن۔ معجزہ نبوی:

        مالِ غنیمت میں آنے والے خزانے میں کسریٰ کا تاج اور کنگن دیکھ کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک  پیش گوئی یاد آ گئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے سفر کے دوران اپنے تعاقب میں آنے والے سراقہ بن مالک کو خوشخبری دیتے ہوئے فرمایا تھا:

        "تمہاری کیا کیفیت ہوگی جب کسریٰ کے کنگن، کمر بند اور تاج تمہیں پہنائے جائیں گے۔"

        جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پیش گوئی فرمائی تھی، اس وقت مسلمانوں کی کسمپرسی کا یہ عالم تھا کہ ان کے رسول اور آقا کو اپنے وطن میں سر چھپانے کی جگہ میسر نہیں تھی، وہ اپنا گھر بار چھوڑ کر اجنبی سرزمین میں  پناہ لینے جا رہے تھے اور جانی دشمن ان کی تلاش میں ہر طرف پھر رہے تھے۔ ایسی حالت میں یہ پیش گوئی وہی کرسکتا تھا جس کی نگاہوں میں مکہ والے ہی نہیں، فارس و روم کی عظیم سلطنتوں کے مالک بھی اللہ کی معمولی مخلوق سے زیادہ حیثیت نہ رکھتے ہوں اور اس کا پورا اعتماد صرف اپنے اللہ پر ہو، جس نے اسے دنیا میں آنے والے اس انقلاب کی پیشگی خبر دے دی ہو۔

        صرف پندرہ برس بعد یہ کایا پلٹ چکی تھی اور کسریٰ کے خزانے مسلمانوں کے قدموں میں تھے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دنیا کو ارشادِ نبوی کی صداقت کا مشاہدہ کرانے کے لیے حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کو بلوا کر عام مجمعے میں انہیں وہ کنگن، تاج اور کمر بند  پہنائے جن کی حسرت بڑے بڑے بادشاہ کرتے تھے، اس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تلقین پر حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور کہا: "سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے یہ چیزیں خدائی کا دعویٰ کرنے والے کسریٰ سے چھین کر ایک عرب دیہاتی کو پہنا دیں۔"

جنگِ جَلُولاء:

        مدائن سے بھاگنے کے بعد یزدگرد حلوان میں ڈیرے ڈال کر ایک بار پھر افواج جمع کر رہا تھا۔ ادھر سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فتوحاتِ عراق کی تکمیل کے لیے پورا منصوبہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا جس کے مطابق حضرت ہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں بارہ ہزار کا لشکر پیش قدمی کرتے ہوئے جلولاء پہنچا، یہاں ایرانی سپہ سالار مہران مورچہ زن تھا جسے یزدگرد کی طرف سے مسلسل کمک پہنچ رہی تھی۔ مسلمانوں نے شہر کا محاصرہ کر لیا۔ اسی دن تک ایرانی قلعہ بند ہو کر لڑتے رہے۔ آخر ایک دن وہ شہر سے باہر نکل کر صف آراء ہوئے، مسلمانوں کو زخمی کرنے کے لیے انہوں نے میدان کے خاص حصوں میں کانٹے دار گولے بچھا دیے تھے، جنہیں 'حَسک' (گوکھرو) کہا جاتا تھا۔ اپنے دفاع کے لیے انہوں نے خندقیں بھی کھودی ہوئی تھیں۔

        بہر حال جب جنگ انتہا کو پہنچی تو اچانک سیاہ آندھی چل پڑی جس سے ایرانی حواس باختہ ہو کر شہر کی طرف پسپا ہونے لگے مگر اس بھگدڑ میں ہزاروں خندق میں گر کر مرے اور ہزاروں اپنے ہی بچھائے ہوئے کانٹے دار گولوں میں پھنس گئے، اس طرح ایک لاکھ کے لگ بھگ ایرانی ہلاک ہوئے، ان کا سالار مہران فرار ہوتے ہوئے مارا گیا اور یہ شہر بھی مسلمانوں کے قبضے آ گیا۔

        یہ ذوالقعدہ سنہ ۱۶ھ  ہجری کا واقعہ ہے۔ یزدگرد اس شکست کی خبر سنتے ہی حلوان سے بھی نکل بھاگا۔ مسلمانوں نے حُلوان، موصِل اور تَکرِیت پر بھی فتح کے پرچم لہرا دیے، اس طرح پورا عراق اسلام کے سائے تلے آ گیا۔

        مسلم فاتحین نے مقامی عوام کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا، سب کے لیے عام معافی کا اعلان کر دیا، ایرانی رئیسوں اور زمینداروں نے کسریٰ کے جابرانہ نظام سے نجات پانے پر چین کا سانس لیا اور خود آ کراطاعت کا اظہار اور جزیہ دینے کا وعدہ کیا۔ یوں ہر طرف امن و امان قائم ہو گیا۔

عراق کی  پیداوار کا انتظام:

        کسریٰ کی طاقت بکھر جانے کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اب فتوحات سے زیادہ نظامِ حکومت کو منظم کرنے اور مفتوحہ علاقوں کی آبادکاری و ترقی کے لیے فکر مند تھے۔ آپ نے عراق کی زمین کی زرخیزی کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے بڑے اہتمام سے زمین کے ایک، ایک چپے کی  پیمائش کروائی، یہ کام کئی ماہ میں مکمل ہوا۔

         پھر آپ نے ایرانی شاہی خاندان کے لوگوں، باغیوں اور مفروروں کی جائیدادوں، نیز آتش کدوں اور جنگلوں کی زمینوں کو الگ کر کے ان کی آمدنی سرکاری نگرانی میں عوام کی خدمت کے لیے مخصوص کر دی، باقی تمام زمینوں کو مقامی زمینداروں کے پاس رہنے دیا اور ان پر مناسب لگان مقرر کر دیا، جس کی وجہ سے لوگوں نے بھر پور انداز میں کاشت کاری میں دلچسپی لی اور بڑے بڑے خالی رقبے فصلوں اور باغوں سے ہرے بھرے ہو گئے ایک سال میں صرف عراق کی زرعی  پیداوار کا محصول آٹھ کروڑ سے بڑھ کر دس کروڑ درہم تک پہنچ گیا۔ (آج کل کے لحاظ سے یہ رقم پچیس ارب روپے کے لگ بھگ ہے)

        حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو الگ آباد کرنے اور فوجی چھاؤنیاں قائم کرنے کے لیے عراق میں بہترین آب و ہوا والی زمین تلاش کرا کے باقاعدہ نقشے کے ساتھ بصرہ اور کوفہ جیسے شہر تعمیر کرائے اور اکابر صحابہ کرام کو وہاں بسایا تاکہ ایمان و معرفت اور علم و حکمت کی شمعیں روشن ہوں۔

        اگلے سال اسلامی فوجوں نے شمال کی طرف بڑھتے ہوئے الجزیرہ، نصیبین، الرہا اور آرمینیا تک یلغار کی۔ حضرت عیاض بن غنم، حضرت ولید بن عقبہ، حضرت ابوموسیٰ اشعری اور حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہم ان مہمات میں پیش پیش تھے۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic