یزدگرد ، آخری کسریٰ
بُویب کی شکست نے ایرانیوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ انہیں یقین ہو گیا کہ عورتوں کی حکومت کے تحت وہ عربوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے، ایرانی دربار میں یہ بحث چلی کہ مسلمانوں سے ٹکر لینے کے لیے کسریٰ کی اولاد میں سے کسی مرد کا تخت نشین ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ درباریوں نے ملکہ "بوران دُخت" کو معزول کر دیا اور خاصی تلاش کے بعد ساسانی خاندان کے ایک اکیس سالہ نوجوان یزدگرد کو اپنا بادشاہ مقرر کر کے اس کی قیادت میں مسلمانوں سے لڑنے کے لیے کمر بستہ ہو گئے۔ یہی یزدگرد آخری کسریٰ ثابت ہوا۔
اب رستم کو ایک بار پھر مسلمانوں کے سیلِ رواں کے آگے بند باندھنے کی مہم سونپی گئی اور ساتھ ہی دھمکی دی گئی کہ اگر ناکام رہے تو قتل کر دیے جاؤ گے۔ رستم نے بڑے پیمانے پر جنگی تیاریاں شروع کیں اور ساتھ ہی دور دراز کے دیہاتوں اور بستیوں کو ایک بار پھر مسلمانوں کے خلاف مشتعل کر دیا، یزدگرد کی تخت نشینی سے پست حوصلہ عجمیوں کی امنگیں پھر جوان ہو گئیں اور انہوں نے بغاوت کر کے مسلمانوں کو تمام مفتوحہ اضلاع سے نکال دیا۔ یہ ذوالقعدہ سنہ ۱۴ ہجری کا واقعہ ہے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو یہ تشویش ناک خبریں ملیں تو فوراً حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ کو پیچھے ہٹ کر عرب کی سرحدوں پر ٹھہرنے کی تاکید کی۔ ساتھ ہی نئے سرے سے افواج کی تیاری شروع کی اور فرمایا: "اللہ کی قسم میں عجم کے شہزادوں کے مقابلے میں اب عرب کے شہزادوں کو لاکھڑا کروں گا۔" اب آپ نے قاصد بھیج کر عرب کے تمام بلند مرتبہ رئیسوں، عالی نسب قبائل کے سرداروں، نامور بہادروں، بہترین شاعروں اور شعلہ نوا خطیبوں کو جہاد کے لیے ابھارا اور انہیں مدینہ منورہ آنے کی دعوت دی۔ حج کے ایام قریب تھے، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ خود حج کے لیے تشریف لے گئے، اس دوران آپ کی طرف سے عرب کے تمام گوشوں میں جہاد کی تیاری کا پیغام پہنچ چکا تھا۔
آپ حج سے واپس آئے تو مدینہ میں ہزاروں رضا کار آ چکے تھے، مگر فوج کی تیاری کے علاوہ اس کی قیادت کے حوالے سے بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سر پر بہت کٹھن ذمہ داری آن پڑی تھی۔ عراق کے سپہ سالار حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ بُویب کے زخموں سے اب تک شفایاب نہیں ہوئے تھے بلکہ دن بدن ان کی تکلیف بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ حضرت ابوعبیدہ بن جراح، حضرت خالد بن ولید اور حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ عنہم جیسے سارے تجربہ کار جرنیل شام میں مصروفِ پیکار تھے۔ ان میں سے کسی کو واپس بلانے کی گنجائش نہیں تھی۔ ادھر ایرانیوں کی غیر معمولی عسکری تیاریوں کی اطلاعات سے اندازہ ہو رہا تھا کہ اب جو معرکہ ہو گا اس پر دونوں قوتوں کی مکمل فتح یا شکست کا دارومدار ہو گا۔ آخر بہت غور و فکر کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خود میدانِ جنگ میں قیادت کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ آپ کو یقین تھا کہ اس طرح مسلمانوں کے حوصلوں کو نئی جلا ملے گی اور ایران کے محاذ پر وہ ڈٹ کر لڑیں گے۔
آپ نے محرم سنہ ۱۵ ہجری میں لشکر ترتیب دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنا نائب مقرر کیا اور خود فوج کی قیادت کرتے ہوئے مدینہ سے چند منازل دور تک پہنچے۔ یہ دیکھ کر ہر طرف ایک ولولہ پیدا ہو گیا اور سب نے سر پر کفن باندھ لیے۔ آپ نے مدینہ طیبہ سے تین میل (پونے پانچ کلومیٹر) دور "صِرار" نامی چشمے پر پڑاؤ ڈالا اور یہاں اکابر صحابہ کرام کی مجلسِ مشاورت میں فوج کی کمان خود سنبھالتے ہوئے عراق کے محاذ پر جانے کا عزم ظاہر فرمایا اور اس بارے میں ان کی رائے طلب کی۔ کئی حضرات نے اثبات میں ہی رائے دی مگر حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کسی پس و پیش کے بغیر اس کی مخالفت کی اور فرمایا:
"امیر المومنین!خدا نخواستہ اگر آپ کو شکست ہو گئی تو تمام محاذوں پر ہمارے قدم اکھڑ جائیں گے۔ میری رائے میں بہتر ہے کہ آپ مدینہ منورہ میں قیام پذیر رہیں اور کسی قابل شخص کو فوج کی کمان دے کر بھیج دیں۔"
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس بات کی معقولیت کو محسوس کرتے ہوئے خود محاذ پر جانے کا ارادہ منسوخ کر دیا اور پھر پوچھا: "پھر فوج کی کمان کسے دی جائے؟"
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بولے: "شیر ببر سعد بن ابی وقاص کو۔"حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس رائے سے اتفاق کرتے ہوئے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو فوج کی کمان دے دی اور انہیں رخصت کرتے ہوئے بڑے اہتمام سے یہ نصیحتیں فرمائیں:
"اے سعد! تمہیں یہ بات خود پسندی میں مبتلا نہ کرے کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموں اور ان کے صحابی کہلاتے ہو۔ اللہ تعالیٰ برائی کو برائی کے ذریعے نہیں، نیکی کے ذریعے معاف کرتا ہے۔ اللہ کا کسی سے کوئی رشتہ ناتا نہیں، اس سے تعلق صرف اطاعت اور فرمانبرداری سے پیدا ہوتا ہے۔ اس سے ہٹ کر انسان چاہے اونچے مرتبے کا ہو یا عام طبقے کا، اللہ کے نزدیک سب برابر ہیں۔ ہمیشہ اس طرزِ حیات کو سامنے رکھنا جس پر تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا۔ یہی ہماری بنیاد ہے۔ تم بڑے صبر آزما حالات سے گزرنے والے ہو، پس صبر کا دامن تھامے رکھنا۔ اس سے اللہ کا تعلق پیدا ہو گا۔ یاد رکھنا، اللہ کا تعلق دو چیزوں سے پیدا ہوتا ہے: ایک اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے، دوسرا گناہوں سے بچنے سے۔ اللہ کی اطاعت، آخرت کی محبت اور دنیا سے بے رغبتی کی وجہ سے وجود میں آتی ہے اور گناہ دنیا کی حرص اور آخرت سے بے پروائی کی وجہ سے جنم لیتے ہیں۔
لوگوں میں پسندیدہ بننے کو مت ٹھکرانا۔ انبیائے کرام علیہم السلام نے بھی اسی کی دعائیں کی ہیں، کیوں کہ جب اللہ کسی بندے کو اپنا محبوب بناتا ہے تو لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت ڈال دیتا ہے اور جب کسی بندے سے نفرت کرتا ہے تو لوگوں کے نزدیک اسے قابلِ نفرت بنا دیتا ہے، لہذا تم اللہ تعالیٰ کے نزدیک اپنا مقام جاننے کے لیے یہ دیکھتے رہو کہ لوگ تمہارے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔"
حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ کی وفات:
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس چار ہزار کے لشکر کو دعاؤں کے ساتھ اس طرح رخصت کیا کہ پل پل کی اطلاعات ملنے اور قدم قدم پر احکام بھیجنے کا انتظام کیا جا چکا تھا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ عراق کی سرحدوں پر "دریائے زرود" تک پہنچے تھے کہ عراقی محاذ کے سپہ سالار حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی وفات کی اطلاع ملی۔
حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ بلا شبہ عراق و فارس کے جہاد کے بانی تھے، اس وقت جبکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مرتدین اور منکرینِ ختم نبوت کی سرکوبی میں مصروف تھے، حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ نے محض اپنے بل بوتے پر عرب کی حدود عبور کر کے کسریٰ کے علاقے میں چھاپہ مار کارروائیاں شروع کر دی تھیں۔ بعد میں وہ خود دربارِ خلافت میں آئے اور باقاعدہ جنگ کے لیے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے منظوری اور امدادی فوج لے کر گئے۔ پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے منکرینِ ختم نبوت کا مسئلہ ختم ہوتے ہی حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بھی ان کی امداد کے لیے روانہ کر دیا تھا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے شام جانے کے بعد سے اب تک حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ نے تنہا عراق کا محاذ سنبھالا ہوا تھا۔
ان کی وفات کے بعد حضرت سعد رضی اللہ عنہ عراق کے تمام سالاروں کے عمومی قائد قرار پائے۔ ادھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ عراق کے محاذ پر مجاہدین کے تازہ دم دستے مسلسل روانہ کرتے رہے یہاں تک کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پرچم تلے جمع ہونے والے مجاہدین کی تعداد تیس ہزار تک پہنچ گئی۔ ان میں تین سو سے زائد صحابہ کرام تھے جن میں سے ستر سے زائد حضرات وہ تھے جو جنگِ بدر میں شریک رہ چکے تھے۔ صحابہ کرام کے سات سو نوجوان لڑکے بھی اس محاذ پر پہنچے ہوئے تھے۔ شام کے محاذ سے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کمک لے کر آ چکے تھے۔
اس دوران حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا پیغام آن پہنچا کہ آگے بڑھ کر قادسیہ کے مقام پر خیمے لگاؤ اور اس طرح صف بندی کرو کہ سامنے عراق کا میدان اور پیچھے عرب کے جبل پہاڑ ہوں تا کہ فتح نصیب ہو تو آگے بڑھتے چلے جاؤ اور اگر پسپائی ہو تو عرب کے ان پہاڑوں میں مورچہ بندی کر سکو، جن سے اہل عجم ناواقف ہیں۔
اسلام کے سفیر دربارِ ایران میں:
قادسیہ پہنچ کر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے نعمان بن مقرن، عاصم بن عمر اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہم کو عرب کے شرفاء کی ایک جماعت کے ساتھ ایرانیوں کے پایہ تخت مدائن روانہ کر دیا تا کہ کسریٰ یزدگرد کو اسلام کی دعوت دے کر اس پر اتمام حجت کر دیا جائے۔
جب یہ حضرات مدائن پہنچے تو انہیں دیکھنے کے لیے مقامی لوگوں کا ایک جمِ غفیر اکٹھا ہو گیا، اسلام کے ان جانبازوں کے جسموں پر سادہ چادریں اور پیروں میں معمولی چپل تھے۔ ہاتھوں میں چابک تھا، وہ دبلے پتلے گھوڑوں پر سوار تھے، جن کی زور دار ٹاپوں سے فضا گونج رہی تھی۔ ایرانی حیران تھے کہ یہ معمولی قسم کے لوگ اتنے بڑے لشکروں کو کیسے تہہ و بالا کرتے آ رہے ہیں۔
یزدگرد کے دربار میں پہنچا جو بڑے ناز و نخرے کے ساتھ تیوری چڑھائے ان کا منتظر تھا۔اس نے پہلے مسلمانوں کے لباس اور وضع قطع کی ہنسی اڑاتے ہوئے ایک ایک چیز کا نام پوچھا جیسے ایران کے عشرت کدے میں ایسی معمولی اور گھٹیا چیزوں کا وجود ہی نہ ہو، پھر طنزیہ لہجے میں گویا ہوا: "تم یہاں کیوں آئے ہو؟ کیا ہمارے باہمی انتشار کو دیکھ کر تمہیں غلط فہمی ہو گئی ہے کہ ہم کمزور ہو گئے ہیں؟ اس لیے اتنی جرات کر رہے ہو؟"
وفد کے سربراہ حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ نے جواب میں بڑی متانت اور خوش اسلوبی کے ساتھ اسلام کی دعوت دی، آخر میں یہ بھی وضاحت کر دی کہ اسلام کی تعلیم سمجھ نہ آئی ہو تو جزیہ دے کر مسلمانوں کی ماتحتی قبول کی جا سکتی ہے۔ ورنہ پھر جنگ کے بغیر چارہ نہ ہو گا۔
یزدگرد نے ان کی دعوت کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا: "میرے علم کے مطابق تم سے زیادہ بد بخت، تم سے بڑھ کر کمزور اور تم سے زیادہ منتشر قوم کوئی اور نہیں۔ ہم جب بھی تمہیں سیدھا کرنا چاہتے تھے تو سرحد کے کسی حاکم کو کہہ دیتے تھے، وہ تمہاری گوشمالی کر دیا کرتا تھا۔ تم سلطنتِ فارس سے کبھی ٹکر نہیں لے سکتے۔ اس کے مقابلے میں سر اٹھانے کا سوچنا بھی مت، اور اگر تمہاری تعداد کچھ بڑھ گئی ہے تو اس سے خوش فہمی میں مبتلا نہ ہونا۔ ہاں، اگر تمہیں غربت اور بھوک نے ہمارے علاقوں کا رخ کرنے پر مجبور کیا ہے تو بتاؤ ہم تمہاری غذا کا بھی بندوبست کیے دیتے ہیں اور کپڑے کا بھی۔ ہم تمہارے ممتاز لوگوں کا اکرام کریں گے اور انہیں کپڑے کے جوڑے بھی دیں گے۔ ہم تمہاری ہی مرضی کا کوئی رحم دل حاکم بھی تم پر مقرر کر دیں گے۔ بولو کیا خیال ہے؟"
یزدگرد کی اس طنزیہ تقریر کو سن کر حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے اور درباری تکلفات کو بالائے طاق رکھ کر بڑی جرات سے بولے:
"بادشاہ سلامت! یہ میرے ساتھ آنے والے تمام حضرات عرب کے شریف ترین لوگ ہیں، اس لیے شرافت کا خیال رکھتے ہیں۔ آپ مجھ سے بات کریں۔ میں ہر بات کا جواب دوں گا۔ آپ نے ہمارے جو حالات بتائے ہیں، وہ ہماری سابقہ پستی کا پورا منظر بیان نہیں کرتے۔ آپ نے ہماری بدحالی کا ذکر کیا ہے۔ ہاں، واقعی ہم سے زیادہ بدحال کوئی اور نہ تھا۔ ہم جیسا بھوکا کوئی اور نہ تھا۔ ہم کیڑے مکوڑے، سانپ اور بچھو تک کھا جاتے تھے۔ کھلی زمین ہمارا مکان تھی۔ ہم اونٹ اور بکریوں کے بالوں سے بنے کپڑے پہنتے تھے، ایک دوسرے کو قتل کرنا اور ظلم کرنا ہمارا وطیرہ تھا۔ ہمارے بعض لوگ بیٹی کو کھانا کھلانے کے ڈر سے زندہ قبر میں دفن کر دیا کرتے تھے۔ ہماری یہی حالت تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف ایک مشہور و معروف انسان کو نبی بنا کر بھیجا۔ جو حسب و نسب، گھرانے، قبیلے اور شہر کے علاوہ اپنی ذاتی خوبیوں میں بھی ہم سب سے بہتر، سب سے سچے اور رحم دل تھے۔ انہوں نے ہمیں اسلام کی دعوت دی، مگر وہ سچ کہتے رہے اور ہم انہیں جھٹلاتے رہے۔ ان کے ساتھی بڑھتے گئے اور ہم گھٹتے گئے، آخر اللہ نے ہمارے دل میں ان کی سچائی کا یقین ڈال دیا۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ وہ جو دین لے کر آئے وہ حق ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ جو اس دین کو مانے اسے اپنے جیسے حقوق اور ذمہ داریاں دو، جو نہ مانے مگر جزیہ دے اسے اپنی حفاظت میں لے لو اور جو اس سے انکار کرے، اس سے جنگ کرو۔ تو بادشاہ سلامت! اب آپ چاہیں تو جزیہ دیں، چاہیں تو جنگ کریں۔ چاہیں تو مسلمان ہو کر خود کو محفوظ رکھئیے۔"
یزدگرد یہ سن کر تلملا اٹھا اور بولا: "تمہیں مجھ سے ایسی باتیں کرنے کی ہمت کیسے ہوئی؟"
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ بے ساختہ بولے:
"آپ ہی نے مجھ سے ایسی باتیں کی تھیں، اس لیے میں نے آپ سے ایسی باتیں کیں۔ اگر وہ باتیں کوئی اور کرتا تو میں بھی یہ باتیں آپ سے نہ کرتا۔"
یزد گرد غصے سے لال پیلا ہو گیا اور چلایا:
"اگر سفیروں کو قتل کرنا جائز ہوتا تو میں تمہیں زندہ نہ چھوڑتا۔ جاؤ اپنے سپہ سالار سے کہہ دو کہ میں رستم کو تمہارے مقابلے کے لیے بھیج رہا ہوں۔ وہ تم سب کو قادسیہ کی خندق میں دفن کر دے گا، تمہیں عبرت کا نشان بنا دے گا۔"
اس کے بعد اپنے درباریوں کو حکم دیا کہ مٹی کا ایک ٹوکرا لاؤ اور ان کے سب سے معزز آدمی کے سر پر لاد کر انہیں یہاں سے نکال دو۔ جب مٹی کا ٹوکرا لایا گیا تو صحابہ کے وفد میں سے حضرت عاصم بن عمرو رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر کہا:
"ان میں سے سب سے بڑا میں ہوں۔"
جونہی مٹی کا ٹوکرا ان کے سر پر لاد دیا گیا، وہ تیزی سے باہر نکلے اور ٹو کرا لیے اپنے گھوڑے پر رکھ کر اسے ایڑ لگا دی۔ ادھر رستم کو جب مسلمان سفیروں سے یزد گرد کے اس سلوک کا علم ہوا تو وہ بوکھلا گیا اور بولا:
"خدا کی قسم، وہ ہماری زمین کی چابیاں لے گئے۔"
پھر اپنے ماتحتوں سے گویا ہوا: "اگر ہم یہ مٹی راستے میں روک سکے تو سمجھو ہمارا ملک بچ گیا۔ لیکن اگر ان کے سپہ سالار تک یہ مٹی پہنچ گئی تو پھر ہمارا ملک ان کے قبضے میں جا کر رہے گا۔"
یہ کہہ کر اس نے آدمی دوڑائے کہ کسی طرح مسلمانوں کے وفد کو قادسیہ پہنچنے سے پہلے روک لیا جائے اور مٹی کا ٹوکرا باز یاب کر لیا جائے، مگر تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ حضرت عاصم بن عمرو رضی اللہ عنہ منزلوں پر منزلیں طے کرتے ہوئے قادسیہ پہنچ گئے اور مٹی کا ٹوکرا حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے سامنے رکھ کر سارا ماجرا سنا ڈالا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ خوش ہو کر بولے: "اللہ کی قسم! اللہ نے ہمیں اس مٹی کی شکل میں سلطنتِ ایران کی چابیاں دے دی ہیں۔"
رستم کو پتا چلا کہ وفد ہاتھ سے نکل گیا ہے تو اسے یقین ہو گیا کہ اب ایران کا آفتابِ زوال پذیر ہو کر رہے گا۔
رستم کے دربار میں:
قادسیہ کے فوجی پڑاؤ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ہدایات پر مشتمل مراسلے مسلسل آ رہے تھے۔ اپنے ایک مراسلے میں انہوں نے مسلمانوں کو دشمنوں کی تعداد اور وسائل سے مرعوب نہ ہونے اور کثرت سے "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" کا ورد کرنے کی نصیحت بھی کی۔
حضرت سعد رضی اللہ عنہ ایک ماہ تک قادسیہ میں ٹھہرے رہے۔ اس دوران شاہِ ایران یزد گرد نے اپنے پایہ تخت مدائن سے رستم کی قیادت میں ایک لاکھ بیس ہزار سپاہیوں کا لشکر جرار روانہ کر دیا تھا، جسے مزید اسی ہزار قبائلی جنگجوؤں کی کمک بھی حاصل تھی۔ رستم مسلمانوں کے خلاف جنگ میں کامیابی کے بارے میں زیادہ پُرامید نہیں تھا، اس لیے وہ بادل نخواستہ فوج لے کر نکلا تھا، کوچ کے دوران بھی لڑائی کو ٹالنے کے لیے اس نے رفتار بہت کم رکھی۔ جگہ جگہ قیام کرتے ہوئے آخر وہ "ساباط" میں خیمہ زن ہو۔
اس لشکر کا ہر اول دستہ چالیس ہزار جوانوں پر مشتمل تھا، جس کی قیادت جالینوس کر رہا تھا۔ دائیں بازو میں تیس ہزار سپاہی تھے جن کی کمان ہرمز ان کے ہاتھ میں تھی، جو نہایت شاطر افسر تھا۔ بائیں بازو کے تیس ہزار سپاہیوں کا افسر مہران تھا، جسے مسلمانوں سے لڑنے کا اچھی طرح تجربہ تھا۔ تینتیس جنگی ہاتھی ان کے علاوہ تھے جو مسلمانوں کو روندنے کے لیے تیار کیے گئے تھے۔
ان تمام تیاریوں کے باوجود رستم کی کوشش تھی کہ جنگ کی نوبت نہ آئے، چنانچہ اس نے مذاکرات کی طرف رجحان ظاہر کرتے ہوئے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے کوئی نمائندہ طلب کیا۔ انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا۔ رستم نے کہا: "تم لوگ ہمارے پڑوسی ہو، ہم نے تم سے ہمیشہ اچھا سلوک کیا ہے، تمہیں تکالیف سے بچایا ہے۔ تمہیں چاہیے کہ واپس چلے جاؤ۔ ہم تمہیں تجارت سے منع نہیں کرتے۔"
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:
"ہمارا ہدف دنیا ہے ہی نہیں، ہم تو آخرت کے طلب گار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف اپنا سچا رسول بھیج کر ہمیں اصل دین دیا ہے، جو اس پر عمل کرے گا، کامیاب ہوگا، جو اسے ترک کرے گا، ذلیل و خوار ہوگا۔"
رستم نے دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے اسلام کا تعارف چاہا تو حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے مختصر اً اسلام کی تعلیمات اور خوبیاں بیان کر دیں۔ رستم ہر بات پر کہتا رہا: "یہ بہت اچھی چیز ہے۔"
آخر میں اس نے پوچھا: "اگر ہم یہ دین قبول کر لیں تو تم کیا سلوک کرو گے؟"
فرمایا: "ہم تمہارے ملک کے پاس بھی نہ پھٹکیں گے۔"
رستم نے مسرت ظاہر کی اور انہیں رخصت کرنے کے بعد اپنے سرداروں کے سامنے اسلام قبول کر کے اپنی سلطنت بچانے کی تجویز رکھی مگر سب بگڑ گئے اور اصرار کرنے لگے کہ مسلمانوں کو طاقت کی زبان ہی میں جواب دیا جائے۔
رستم پھر بھی لڑائی میں ٹال مٹول کرتا رہا۔ اس نے ایک بار پھر مسلمانوں کے نمائندے کو طلب کیا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے حضرت ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا۔ اس بار رستم نے بڑا شاندار اور دربار لگا کر مسلمانوں کو مرعوب کرنے کی کوشش کی کہ شاید اس طرح حریف پر کچھ نفسیاتی دباؤ پڑ جائے، مگر دربار کی تمام سج دھج اور رنگینیوں کا حضرت ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ نے ذرا بھی اثر نہیں لیا بلکہ اپنی بے نیازی ظاہر کرنے کے لیے وہ گھوڑے سمیت ان کے قالینوں کو روندتے ہوئے اندر داخل ہوئے اور گھوڑے کو ایک بھاری بھرکم گاؤ تکیے کے ساتھ باندھ دیا۔
ایرانی پہرے داروں نے ان کا اسلحہ اتارنا چاہا تو بولے:
"میں تمہاری درخواست پر آیا ہوں۔اگر ایسے ہی اندر جانے دو گے تو ٹھیک ورنہ میں واپس جا رہا ہوں۔"
پہرے دار دنگ رہ گئے اور یہ اپنے نیزے کی آنی قالینوں پر ٹیکتے ہوئے اس طرح آگے بڑھے کہ رستم کے خیمے کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک بچھا ہوا قیمتی قالین پھٹتا چلا گیا۔
رستم اس بے باکانہ رویے سے خود مرعوب ہو چکا تھا۔ پوچھنے لگا: "یہ بتاؤ تم لوگ یہاں کیوں آئے ہو؟"
حضرت ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ نے اس موقع پر مسلمانوں کی آمد کا مقصد جن فصیح و بلیغ الفاظ میں بیان فرمایا وہ تاریخ کے صفحات پر ان مٹ نقوش بن کر جگمگا رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا:
"اللهُ ابْتَعَثَنَا لِنُخْرِجَ مَنْ شَاءَ مِنْ عِبَادَةِ الْعِبَادِ إِلَى عِبَادَةِ اللهِ وَمِنْ ضِيْقِ الدُّنْيَا إِلَى سَعَتِهَا وَمِنْ جَوْرِ الْأَدْيَانِ إِلَى عَدْلِ الْإِسْلَامِ"
"ہمیں اللہ نے بھیجا ہے تاکہ جن کو وہ چاہے، انہیں بندوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی غلامی میں، دنیا کی تنگی سے نکال کر اس کی خوشحالی میں اور دیگر مذاہب کے جور و ستم سے نکال کر اسلام کی عدل کے دائرے میں لے آئیں۔"
رستم نے ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ کا یہ خطاب سن کر ایک بار پھر غور و فکر کے لیے مہلت مانگی۔
تیسری بار مسلمانوں کی طرف سے حضرت حذیفہ بن محصن رضی اللہ عنہ گفت و شنید کے لیے گئے مگر کچھ بات نہ بنی۔ آخر میں ایک بار پھر حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو حتمی گفتگو کے لیے بھیجا گیا۔ وہ رستم کے دربار میں داخل ہوئے اور بڑی بے تکلفی سے سیدھے اس کے تخت پر ساتھ ہی جا بیٹھے۔
درباری یہ دیکھ کر شور مچانے لگے تو حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
"اس سے میرا مقام بلند ہوا، نہ تمہارے آقا کی عزت کو بٹہ لگا۔"
اس وقت تک رستم سمجھ چکا تھا کہ جنگ ٹل نہیں سکتی اس لیے اس نے مسلمانوں کے نمائندے کو مرعوب کرنے کی پوری کوشش کی۔رستم نے متکبرانہ لہجے میں عربوں کی تحقیر کرتے ہوئے کہا:
"تم لوگ اس مکھی کی طرح ہو جو دوسروں کے سہارے شہد کے برتن تک پہنچے اور پھر اس میں گر کر اس طرح پھنسے کہ نکلنے کے لیے بھی دوسروں کی منت سماجت کرے۔ تم اس لاغر اور لالچی لومڑی کی طرح ہو جو ایک سوراخ سے انگور کے باغ میں گھسے اور کھا کھا کر اتنی موٹی ہو جائے کہ باہر نہ نکل سکے اور باغبان کے ہاتھوں ماری جائے۔"
اس کے الفاظ سے اس نخوت کا اچھی طرح اندازہ ہو جاتا ہے جو عجمیوں کی رگ رگ میں سرایت کر چکی تھی۔ یہی وہ راگ تھا جو انہیں حق بات کو قبول کرنے سے روک رہا تھا۔
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ اس کی من گھڑت کہانیاں سنتے رہے اور جونہی وہ چپ ہوا، جواب بالصلح کے طور پر مزے سے بولے:
"بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ہمیں ہدایت بھی عطا کی اور رزق بھی۔ اس رزق کا ایک حصہ تمہاری سرزمین میں ہے۔ جب سے ہم نے اس کے کچھ دانے اپنے اہل و عیال کو کھلائے ہیں، وہ اصرار کر رہے ہیں کہ اس ملک کو جلد فتح کرو تا کہ ہم یہ پیداوار ہمیشہ کھاتے رہیں۔"
رستم یہ سن کر آپے سے باہر ہو گیا اور چیخا: "اچھا تو پھر ہم تمہیں قتل ہی کر کے دم لیں گے۔"
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اطمینان سے بولے:
"ہم قتل بھی ہوئے تو جنت میں داخل ہوں گے، تم قتل ہو کر جہنم میں جھونکے جاؤ گے۔"
رستم نے غصے کو دباتے اور ایک بار پھر سخاوت جھاڑتے ہوئے کہا: "تمہیں ایک خلعت عطا کی جاتی ہے اور تمہارے سپہ سالار کو ایک ہزار اشرفیاں پوشاک اور گھوڑے سمیت۔ بس اب تم لوگ واپس چلے جاؤ۔"
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے جوابی طنز کرتے ہوئے کہا:
"واہ! تمہاری سلطنت کو شکست دینے اور تمہاری شان کو ملیامیٹ کرنے کے بعد ہم اتنی آسانی سے کیسے چلے جائیں؟ اب تو بس اتنی کسر رہ گئی ہے کہ کل تم ناک رگڑ کر ہماری نوکری پر مجبور ہو جاؤ۔"
رستم کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ وہ دھاڑ کر بولا:
"قسم ہے آفتاب کی ! کل میں تم سب کو موت کے گھاٹ اتار دوں گا۔"
"جو ہوتا ہے وہ تمہیں کل پتا چل جائے گا۔"
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے بے باکی سے کہا اور واپس چلے آئے۔

