Ma'arka-e-Yarmouk aur Fatah-e-Sham: Khalid bin Walid aur Abu Ubaidah RA ki Hikmat-e-Amli

معرکۂ یرموک اول

        فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی خلافت میں  پیش آنے والا پہلا بڑا معرکہ یرموک کا تھا، جس نے رومیوں کے مزاحمتی حصار میں دراڑیں ڈال دیں اور ان کے پایہ تخت حمص تک فتوحات کا راستہ آسان ہو گیا۔یرموک کا یہ پہلا معرکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے صرف چھ دن بعد  پیش آیا تھا۔ اس وقت تک سانحہ وفات کی خبر مسلمانوں تک نہیں پہنچی تھی۔


        یرموک کے میدان میں شام کے تمام مسلمان جمع ہو گئے تھے، جن کی مجموعی تعداد چھتیس ہزار تھی۔ ان میں حضرت عمرو بن العاص، حضرت یزید بن ابی سفیان اور حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہم کے پاس سات، سات ہزار سپاہی تھے۔ حضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ بھی جو چھ ہزار افراد کے ساتھ شام کی ان شاہراہوں پر متعین تھے جن سے فی الحال رومیوں کے حملے کا خطرہ تھا، یہیں چلے آئے تھے۔ ان ستائیس ہزار افراد کے ساتھ حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے نو ہزار مجاہدین کے مل جانے سے چھتیس ہزار کا لشکر بن گیا تھا۔ دوسری طرف رومی دو لاکھ چالیس ہزار کا لشکر جرار لے کر مقابلے پر آ چکے تھے۔ انھوں نے اپنی خیمہ گاہ کو گہری خندقوں کے ذریعے محفوظ بنا لیا تھا۔

        اب تک مسلمانوں کے تمام امراءِ لشکر اپنے اپنے سپاہیوں کے ساتھ الگ الگ دستوں کی شکل میں تھے اور ان کا خیال بھی تھا کہ اسی طرح اپنی اپنی فوجوں کی امتیازی شکل باقی رکھتے ہوئے لڑیں گے، مگر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی دور رس نگاہوں نے موجودہ صورتحال میں اس ترتیب کے خطرناک عواقب کا اندازہ لگا لیا اور مجلس مشاورت میں صحابہ کرام کو مخاطب کر کے کہا:

        "رومیوں کے منظم اور متحد لشکر کے مقابلے میں اس طرح الگ فوجوں کی شکل برقرار رکھتے ہوئے لڑنا درست نہیں۔ خلیفۃ الرسول حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ ترتیب فقط اس لیے بنائی تھی کہ ہم سہولت سے مختلف محاذوں پر برسر  پیکار رہیں، اگر انھیں ہماری موجودہ صورتحال کا علم ہوتا تو وہ ہمیں ایک فوج کی شکل میں ڈھال دیتے۔ ہماری یہ ترتیب تو دشمن کا کام آسان کر دے گی اور ہمیں سخت ہلاکت میں ڈال دے گی۔"

        صحابہ کرام نے پوچھا: "اچھا، آپ ہی بتائیے کیا، کیا جائے؟"

        حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
        "ہم ایک فوج بن کر ایک ہی امیر کی کمان میں لڑیں، ہاں قیادت کا موقع سب کو دیا جائے، ایک دن ایک شخص امیر ہو اگلے دن دوسرا اور اگر آپ حضرات اجازت دیں تو پہلے دن مجھے امیر بننے دیجیے۔"

        حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے یہ درخواست اس لیے کی تھی کہ آپ رومیوں کی جنگی ترتیب کو سمجھ کر اس کا جوابی منصوبہ سوچ چکے تھے۔ سب نے خوشی سے آپ کو قیادت کی اجازت دے دی۔

        اگلے دن دونوں لشکر میدان میں نکلے تو رومیوں کی صف بندی اس شان وشوکت کی تھی جو دیکھتا دنگ رہ جاتا، مگر دوسری طرف جب مسلمانوں کی صفوں پر نگاہ جاتی تو آنکھوں پر یقین نہ آتا کہ یہ جزیرۃ العرب کی فوج ہے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عسکری منصوبہ بندی کی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اسلامی فوج کو چھتیس حصوں میں بانٹ کر ان کی علیحدہ علیحدہ صفیں قائم کر دی تھیں۔ اس سے پہلے عربوں کا کوئی لشکر اس نظم و ضبط سے میدان میں نہیں اترا تھا۔

         درمیان میں سو دستے رکھے اور وہاں حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا۔ دس دستے دائیں طرف حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں اور دس دستے بائیں جانب حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی کمان میں دیے۔ پھر لشکر کے دلیر اور تجربہ کار افراد کو منتخب کر کے ہر راستے پر الگ الگ افسر مقرر کیے۔ حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ قرآن مجید کی آیات سنا سنا کر مسلمانوں کی روح کو گرمائیں۔ حضرت ابوسفیان بن حرب اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کو سیرت و احادیث کے واقعات سنانے کے لیے مقرر کیا تاکہ مسلمانوں کے حوصلے بلند ہوں۔

        لڑائی سے پہلے کسی مسلمان کے منہ سے نکل گیا: "رومی کتنے زیادہ اور ہم کتنے کم!"

        حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے سنا تو بڑی بے فکری سے بولے:

        "نہیں ان رومیوں کے لیے یہ مسلمان بہت زیادہ ہیں اور اتنے مسلمانوں کے لیے یہ رومی بہت کم ہیں۔ جس لشکر کو نصرت الٰہی نصیب ہو حقیقت میں وہی زیادہ ہوتا ہے۔ اور جسے یہ نصیب نہ ہو وہ بہرحال کم ثابت ہوتا ہے۔ اللہ کی قسم اگر آج میرا گھوڑا  تندرست ہوتا تو مجھے پروا نہ تھی کہ رومی اس سے بھی دوگنے ہو جاتے۔"

        جنگ کے نقارے پر چوٹ پڑنے ہی والی تھی کہ ایک عجیب بات ہوئی، رومیوں کا سپہ سالار جارج (جرجہ) گھوڑا دوڑا کر سامنے آیا اور حضرت خالد رضی اللہ عنہ سے گفتگو کرنا چاہی۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ بھی آگے بڑھے۔

        جارج نے پوچھا: "خالد! سچ سچ بتاؤ کہ کیا اللہ نے تمہارے نبی پر آسمان سے کوئی تلوار اتاری تھی جو انہوں نے تمہیں دی ہے، جس کی وجہ سے تم ہر جنگ میں فتح یاب ہوتے ہو؟"

        حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے نفی میں جواب دیا تو جارج نے پوچھا:

        "پھر تمہیں اللہ کی تلوار کیوں کہا جاتا ہے؟"

        حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے بڑے اطمینان سے کہا:

        "دیکھو، ایک زمانے میں، میں بھی بنی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مخالف تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلاتا تھا، مگر پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت دی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی  پیروی کی، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا کہ 'تم اللہ کی تلوار ہو، جو اللہ نے کافروں پر سونت رکھی ہے'۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے نصرت الٰہی کی دعا بھی فرمائی تھی۔"

        جارج جو مبہوت ہو کر یہ باتیں سن رہا تھا، بولا: "مجھے بتاؤ وہ تمہیں کس بات کی طرف بلاتے تھے؟"

        حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: "وہ فرماتے تھے اسلام قبول کر لو، یا جزیہ دو، یا جنگ کے لیے تیار رہو۔"

        یہ سن کر جارج نے پوچھا: "جو اس  پیغام کو قبول کر کے تمہارے حلقے میں شامل ہو جائے، اس کی کیا حیثیت ہوتی ہے؟"

        حضرت خالد رضی اللہ عنہ بولے: "وہ ہمارے جیسا اور ہم رتبہ ہوتا ہے بلکہ ایک لحاظ سے افضل ہوتا ہے، کیوں کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے معجزات اور پیش گوئیوں کو دیکھ کر اسلام قبول کیا ہے جب کہ تم اس کے بغیر ہی اسلام لا رہے ہو پس تمہارا مقام ہم سے بلند ہو گا۔" یہ سن کر جارج نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا اور ان کے ساتھ اپنی قوم کے خلاف تلوار سونت کر کھڑا ہو گیا۔

        آخر کار لڑائی کا آغاز ہوا اور دونوں طرف کے سپاہی نہایت جوش و خروش سے ایک دوسرے پر پل پڑے۔ دن بھر لڑائی ہوتی رہی۔ اس دوران مدینہ منورہ سے ایک تیز رفتار قاصد آیا اور آتے ہی اطلاع دی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ہے، ان کی جگہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ امیر المومنین مقرر ہوئے ہیں اور انہوں نے حکم دیا ہے کہ حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تمام مسلمانوں کے سپہ سالار ہوں گے۔
حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے یہ خبر نہایت ہی تحمل کے ساتھ سنی اور اسے جنگ کے اختتام تک خفیہ رکھنے کا اہتمام کیا، کیوں کہ خلیفہ کی وفات سے مسلمانوں میں بددلی پھیل سکتی تھی اور امیر لشکر کی تبدیلی سے پورا نقشہ جنگ تلپٹ ہو سکتا تھا۔

        لڑائی کے دوران ایک موقع ایسا بھی آیا کہ رومی مسلمانوں کو دھکیلتے دھکیلتے ان کی خیمہ گاہ تک جا پہنچے، اس موقع  پر حضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ نے پکار کر کہا: "میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کئی بار لڑا ہوں، آج آزمائش کا موقع ہے، اسلام لانے کے بعد آج قربانی دینے کا دن آیا تو کیا میں بھاگ جاؤں گا۔"

        پھر گرج کر بولے: "کون ہے، جو موت پر بیعت کر کے میرے ساتھ چلے گا؟"

        چار سو مجاہدین ان کے گرد جمع ہو گئے۔ حضرت عکرمہ اور ان کے چچا حضرت حارث بن ہشام رضی اللہ عنہما (ابوجہل کے بھائی) ان مجاہدین کو لے کر دشمن پر پل پڑے اور انہیں اپنے خیموں سے پیچھے دھکیل دیا۔ اس لڑائی میں حضرت زبیر بن عوام اور ان کے تیرہ سالہ بیٹے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بھی شریک تھے۔

 حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

        "کم عمری کی وجہ سے میں لڑنے والوں میں تو شامل نہ تھا مگر اپنے ابا کے ساتھ میدان میں چلا گیا تھا، میں دیکھتا تھا کہ ابوسفیان بن حرب سمیت قریش کے کئی بوڑھے ایک ٹیلے پر چڑھے مسلمانوں کو غیرت دلا رہے ہیں، جب مسلمان پیچھے ہٹنے لگتے تو ان کی آوازیں سن کر پھر قدم جما لیتے۔"

        حضرت خالد رضی اللہ عنہ اور نو مسلم جارج بھی بڑی پامردی سے لڑے۔ لڑائی کی شدت کی وجہ سے مسلمانوں نے ظہر اور عصر کی نمازیں اشاروں سے ادا کیں اور جنگ جاری رکھی۔ آخر کار شام کے وقت رومیوں کی ہمت کمزور پڑنے لگی اور وہ پیچھے ہٹنے لگے، تب حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے دشمن کے قلب لشکر پر ایک زوردار حملہ کر کے ان کے  پیادوں اور سواروں کی صفیں الٹ دیں۔ رومی بھاگتے ہوئے اپنی خندقوں میں گرنے لگے۔ مسلمانوں نے ان کی لاشوں کے ڈھیر لگا دیے۔

        بیس ہزار رومی میدان میں مارے گئے۔ مسلمانوں کا بھی نقصان ہوا۔ حضرت ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ جو جنگ کے دوران مسلمانوں کو حوصلہ دلانے کی ذمہ داری انجام دے رہے تھے، تیر لگنے سے اپنی ایک آنکھ سے محروم ہو گئے یہ جنگ کے آخری مرحلے میں نو مسلم جارج نے بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ عکرمہ رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے عمر کو شدید زخم آئے تھے۔ فتح کے اگلے دن صبح سویرے ان کا دم بھی لبوں پر تھا۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے دونوں کے سر اپنی گود میں رکھے اور محبت سے ان کے چہروں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔ چند ہی لمحوں بعد باپ بیٹا دونوں نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی گود میں جان، جان آفرین کے سپرد کر دی۔ رضی اللہ عنہم وارضاہم۔

حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ... اسلام کے پہلے سپہ سالار اعلیٰ:

        جنگ کے آخری دن مخبر نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کی اطلاع پہنچائی۔ انہوں نے فوج کا حوصلہ برقرار رکھنے کے لیے اسے راز میں رکھا۔ اسی شام ہنگامہ کارزار تھما تو حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے صحابہ کو اس سانحے کی خبر دی اور ساتھ ہی بتایا کہ نئے خلیفہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے شام کی تمام افواج کا سپہ سالار اعظم حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا ہے۔ مطلب یہ تھا کہ اگلی تمام مہمات میں افسر اعلیٰ حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ہوں گے اور حضرت خالد، حضرت عمرو بن العاص، حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہم اور دوسرے سالار ان کی ہدایات کے تحت چلیں گے۔

        حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خود ایسی کوئی ترتیب طے نہیں کی تھی کہ جب افواج ایک جگہ ہوں تو سپہ سالار اعلیٰ کون ہوگا۔ یہی وجہ تھی کہ یرموک کی اس پہلی جنگ میں مسلمانوں نے ازخود مشورہ کر کے وقتی طور پر مرکزی کمان حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو دی تھی، مگر چونکہ ہر نئی مہم اور ہر نئے معرکے سے پہلے ازسرنو مرکزی کمانڈر کا انتخاب الجھن کا باعث ہو سکتا تھا اس لیے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے منصب خلافت سنبھالتے ہی اس کی کمی محسوس کرتے ہوئے صحابہ کرام میں سے تجربہ کار ترین فرد حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کر دیا۔

         رہی یہ بات کہ جب عسکری امور میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سب سے کامیاب ثابت ہو رہےتھے تو انہیں مستقل طور پر کمانڈر ان چیف کیوں نہ بنایا گیا۔ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ مکمل طور پر ایک عسکری شخصیت رکھتے تھے، انہیں سیاسی امور اور ملکی انتظامات کا تجربہ نہیں تھا جبکہ حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ عسکری اور سیاسی دونوں قسم کے معاملات کے ماہر تھے۔اب چونکہ مہمات کی نوعیت بدل گئی تھی، لشکر کشی کے ساتھ ساتھ مفتوحہ شہروں کے انتظامات کی ذمہ داریاں بھی سامنے آگئی تھیں، اس لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کا انتخاب کیا، جو بالکل درست ثابت ہوا۔

        یہاں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے اخلاص اور نظم و ضبط کی داد دینا پڑتی ہے کہ اپنی بے مثال عسکری قابلیت کے باوجود انہوں نے دربار خلافت کے حکم پر بلا تامل سر جھکا دیا اور حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی ماتحتی قبول کر لی۔

اہم وضاحت:

        بعض مؤرخین نے سن ۱۳ ہجری میں عہدوں کی تشکیل نو کے اس حکم نامے کو حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی معزولی سے تعبیر کیا ہے جو درست نہیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ فیصلہ حضرت خالد رضی اللہ عنہ سمیت تمام سالاروں کو حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے ماتحت کرنے سے متعلق تھا۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو معزول نہیں کیا گیا تھا بلکہ وہ بدستور اپنی فوج کے سالار تھے۔ان کی معزولی کا واقعہ سن ۱۵ ہجری کا ہے جو آگے آئے گا۔

        چونکہ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ خالدؓ  کی تلوار کی حیثیت اور مقام سے خوب واقف تھے، اس لیے انہوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی صلاحیتوں سے بہترین انداز میں فائدہ اٹھایا اور انہیں اکثر معرکوں میں نمایاں عہدہ دیا۔

دمشق کی فتح:

        یرموک کے معرکے سے فارغ ہو کر حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ہدایات کے مطابق اسلامی لشکر لے کر آگے بڑھے اور شام کے اہم ترین شہر دمشق تک جا پہنچے۔ ایک طرف سے خود محاصرہ کیا، دوسری سمت کی ناکہ بندی پر حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا اور تیسری طرف حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا۔ اس تاریخی شہر کی فصیل بہت مضبوط تھی، مسلمان کئی دنوں تک باہر پڑاؤ ڈالے رہے۔ دونوں طرف سے تیروں اور پتھروں کا تبادلہ ہوتا رہا۔ ہرقل نے دمشق والوں کی مدد کے لیے شاہی پایۂ تخت حمص سے کمک روانہ کی، مگر حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے راستے کی ناکہ بندی کر دی تھی ، اس لیے دمشق تک کوئی امداد نہ پہنچ پائی۔

        ایک دن شہر والے کوئی جشن منانے میں منہمک تھے کہ حضرت خالد رضی اللہ عنہ موقع پا کر چند جانثاروں کے ساتھ کمند کے ذریعے فصیل پر چڑھ گئے اور فصیل کا دروازہ کھول کر فوج کو اندر داخل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ شہر والوں نے یہ صورتحال دیکھی تو فوراً دوسری سمت کا دروازہ کھول کر حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے ملے اور صلح کی چند شرائط  پیش کر دیں، حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی کارروائی سے لاعلم تھے، اس لیے شرائط قبول کر لیں۔ اب وہ اس طور پر شہر میں داخل ہو گئے، چوک میں پہنچے تو دیکھا کہ دوسری طرف سے حضرت خالد رضی اللہ عنہ مزاحمت کرنے والے رومیوں کو مارتے کاٹتے چلے آ رہے ہیں۔ تب یہ ماجرا کھلا کہ شہر کی ایک سمت بزور شمشیر فتح ہوئی ہے اور دوسری مصالحت کے ساتھ۔ صحابہ کرام میں سے بعض نے کہا کہ چونکہ پہلے حضرت خالد قوت کے بل بوتے پر لڑ کر شہر میں داخل ہوئے ہیں،اس لیے ہم شہر والوں کی کسی شرط کے پابند نہیں ہوں گے۔ دوسرے حضرات کا کہنا تھا کہ امیر ابوعبیدہ ہیں ، انہوں  نے شرائط منظور کر کے شہر میں قدم رکھا ہے، اس لیے مصالحتی شرائط ملحوظ رہیں گی۔ آخر فیصلہ یہ ہوا کہ آدھے شہر کا انتظام حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے طے کردہ شرائط کے مطابق ہوگا اور آدھے کو بزور شمشیر فتح کیا گیا تصور کیا جائے گا۔

        علامہ بلاذری کے بقول دمشق کا محاصرہ محرم سن ۱۴  ہجری میں شروع ہوا تھا اور فتح رجب میں ہوئی تھی۔
دمشق کی فتح کے بعد حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ اپنی فوج کو لے کر بحیرہ روم کے ساحلی شہروں کو فتح کرنے نکل کھڑے ہوئے۔ اسی فوج کے ہراول دستے کے سالاران کے بھائی حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ تھے، جنہوں نے فتوحات میں اہم کردار ادا کیا۔ "عِرقہ" کا شہر انہوں نے بذات خود فتح کیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ ان کی قیادت کے جوہر کھلے۔ صیدا، جُبَیل اور بیروت بھی اس مہم کے دوران فتح ہوئے۔

فِحل کی جنگ:

        دمشق کی فتح سے رومیوں کو سخت زک پہنچی تھی۔ بدلہ لینے کے لیے انہوں نے بکھری ہوئی فوجیں جمع کیں، جن کی تعداد تیس ہزار تھی اور اردن کے علاقے "بَیسان" میں کیمپ لگا لیا۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے ان کی روک تھام کے لیے  پیش قدمی کی اور ان کے سامنے فحل کے میدانی علاقے میں پڑاؤ ڈال دیا۔ رومیوں نے مرعوب ہو کر مذاکرات کی پیش کش کی تو حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ رومی انہیں بڑے احترام سے اپنے سالار کے خیمے میں لے گئے، جہاں قیمتی قالین بچھے تھے، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ قالین سے ہٹ کر زمین پر تشریف فرما ہوئے۔ رومیوں نے وجہ پوچھی تو فرمایا: "میں اس قالین پر بیٹھنا گوارا نہیں کرتا جو غریبوں کا حق مار کر تیار ہوا ہے۔"

        وہ بولے: "ہم تو آپ کی عزت کرنا چاہتے ہیں۔"

        فرمایا: "جسے تم عزت سمجھتے ہو مجھے اس کی ضرورت نہیں اور اگر زمین پر بیٹھنا غلاموں کا کام ہے تو بلاشبہ میں اللہ کا غلام ہوں۔ اگر تمہیں کچھ کہنا ہے تو کہو ورنہ میں واپس جاتا ہوں۔"

        انہوں نے کہا: "ہم وجہ جاننا چاہتے ہیں کہ تم لوگ حبشہ اور فارس کو چھوڑ کر ہم سے لڑنے کیوں آئے ہو، جبکہ ہماری بادشاہت سب سے بڑی ہے، ہماری افواج کی تعداد آسمان کے ستاروں اور ریت کے ذروں کی طرح ہے۔"

        حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: "ہماری آمد کا سبب یہ ہے کہ اللہ نے ہمیں اپنی سرحدوں سے متصل ممالک سے جہاد کا حکم دیا ہے۔ ہماری پیش کش ہے کہ تم مسلمان ہو جاؤ، ہمارے بھائی بن جاؤ گے۔ یہ منظور نہیں تو جزیہ دے کر ہماری حفاظت میں آجاؤ۔ یہ بھی قبول نہیں تو تلوار سے فیصلہ ہوگا۔ رہی یہ بات کہ تمہارا بادشاہ بڑا اور افواج بکثرت ہیں تو سن لو کہ ہمارا بادشاہ اللہ ہے اور ہمارا حکمران ہم میں سے ایک آدمی ہے جو کسی بات میں بالاتر نہیں۔اگر وہ قرآن و سنت کو نافذ کرے گا تو عہدے پر برقرار رہے گا ورنہ معزول کر دیا جائے گا۔ بدکاری کرے گا تو اس پر بھی حد جاری ہوگی۔ چوری کرے گا تو اس کے بھی ہاتھ کاٹے جائیں گے۔ وہ کسی حفاظتی حصار میں نہیں رہتا۔ خود کو ہم سے بڑا نہیں سمجھتا۔"

        رومی یہ سن کر حیران رہ گئے اور حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے بات چیت کے لیے اپنا سفیر بھیج دیا۔ وہ اسلامی لشکر گاہ میں پہنچا تو حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اس وقت زمین پر بیٹھے تیروں کو چھانٹ کر دیکھ رہے تھے، سفیر ادھر ادھر دیکھتا رہا کہ سپہ سالار کون ہے۔ کچھ سمجھ نہ آیا، کیوں کہ سب ایک ہی جیسے معلوم ہوتے تھے، آخر تنگ آ کر پوچھا:

        "تمہارا امیر کہاں ہے؟"

        بتایا گیا کہ یہ ہمارا امیر ِلشکر ہیں، تو وہ ہکا بکا رہ گیا۔ آخر اس نے اپنی آمد کا مقصد بتاتے ہوئے کہا:

        "ہماری حکومت آپ کو فی کس دو دو اشرفیاں دے گی، آپ واپس چلے جائیں۔"        

        حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے صاف انکار کر دیا کیوں کہ ان کا مقصد اللہ کے دین کو غالب کرنا تھا نہ کہ مال گیری۔

        آخر کار رومیوں نے مقابلے کے لیے صف بندی کی اور ذوالقعدہ سن ۱۳ ہجری (۶۳۵ء) میں فِحل کے میدان میں گھمسان کا رن پڑا۔ مسلمانوں کے دائیں بازو کی فوج حضرت ابوعبیدہ اور بائیں بازو کی حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کی کمان میں تھی۔  پیادہ فوج کے امیر حضرت عیاض بن غنم اور گھڑ سواروں کے حضرت ضرار بن اَزوَر رضی اللہ عنہما تھے۔ ایک سخت ترین جنگ کے بعد یہاں بھی رومیوں کو شکست ہوئی اور مسلمان اس علاقے پر قابض ہو گئے۔

        حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو فتح کی اطلاع ارسال کی اور دریافت کیا کہ مقامی لوگوں سے کیا برتاؤ کیا جائے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہدایت بھیجی کہ رعایا کو ذمی قرار دیا جائے اور زمین پہلے کی طرح زمینداروں کے پاس رہنے دی جائے۔

        فحل کی جنگ کے بعد اردن کے تمام علاقے آسانی سے فتح ہو گئے، ہر جگہ صلح کی شرائط میں یہ طے کر دیا گیا کہ مقامی لوگوں کی جان، مال، گھر، جائیدادیں اور عبادت گاہیں سب محفوظ رہیں گی، صرف مساجد تعمیر کرنے کے لیے مسلمان ضرورت کے مطابق زمین لیا کریں گے۔

بازنطینی پایۂ تخت حمص کا محاصرہ:

        شام میں اب صرف تین بڑے شہر رہ گئے تھے، سب سے پہلے حمص پڑتا تھا جو قیصر کا ایشیائی دارالسلطنت تھا، پھر بیت المقدس تھا جو مذہبی لحاظ سے سب سے با عظمت شہر تھا، شمال میں انطاکیہ تھا جہاں قیصر ان دنوں قیام پذیر تھا۔

        اسلامی لشکر راستے میں بَعلبَک کے تاریخی شہر کو فتح کرتا ہوا "حمص" کے سامنے جا رُکا۔ یہ سخت سردیوں کے دن تھے مگر مسلمان محاصرے سے نہ اُکٹائے۔ سردی کا یہ عالم تھا کہ عام لوگوں کے ہاتھ پاؤں شل ہو جاتے تھے۔ رومیوں میں سے کتنے ہی لوگ تھے جو موزے اور گرم جوتے پہننے کے باوجود چلنے پھرنے کے قابل نہ رہے تھے، کسی کی انگلیاں جواب دے جاتیں، کسی کے ہاتھ پاؤں۔ مگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم معمولی لباس اور عام سے جوتوں میں موسم کی سختیاں سہتے رہے اور ان میں سے کسی کو گزند نہ پہنچی۔

        جب محاصرہ بہت طویل ہو گیا تو ایک دن صحابہ کرام نے جمع ہو کر نعرہ تکبیر بلند کیا، اللہ اکبر کی صدا سے فضا گونج اٹھی، ساتھ ہی حمص کی بلند و بالا عمارتوں میں ایسا زلزلہ آیا کہ کئی دیواروں میں دراڑیں پڑ گئیں، شہر والے یہ دیکھ کر کانپ گئے اور فوراً شہر مسلمانوں کے حوالے کر دیا۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic