Shamail-e-Mustafa (S.W) : Nabi Kareem ka Huliya Mubarak aur Be-Misal Akhlaq

شمائل مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم


        حضورِ سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے شمائل، خصائل اور کمالات کا احاطہ کرنا کسی بڑے سے بڑے سیرت نگار، سخن ور اورنکتہ دان کے لیے بھی ممکن نہیں۔ اس باب میں چودہ صدیوں سے لکھا جارہا ہے اور تا قیامت یہ سلسلہ جاری رہے گا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی خوبیوں کا شمار نہیں ہوسکے گا۔ یہاں ہم اس بارے میں اپنی عاجزی اور تہی دامنی کا اعتراف کرتے ہوئے، انتہائی اختصار کے ساتھ کتبِ حدیث وسیرت کی سیپیوں سے چند سچے موتی پیش کررہے ہیں۔



حلیہ مبارکہ:

        حضرت ہند بن ابی ہالہؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے حلیہ مبارک کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا:

        "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا چہرہ مبارک ماہِ بدر کی طرح چمکتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا قد مبارک بالکل متوسط قد والے آدمی سے کسی قدر طویل تھا، لیکن زیادہ لمبے قد والے سے پست تھا، سرمبارک اعتدال کے ساتھ بڑا تھا، بال مبارک کسی قدر لہرائے ہوئے تھے۔ اگر سہولت مانگ نکل آتی تو نکال لیتے تھے اور اگر کسی وجہ سے بسہولت نہ نکلتی تو اس وقت نہ نکالتے (کسی دوسرے وقت جب کنگھی وغیرہ موجود ہوتی تو نکال لیتے) جس زمانے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے بال مبارک زیادہ ہوتے تو کان کی لو سے متجاوز ہوجاتے تھے۔

        رنگ مبارک چمک دار تھا اور پیشانی مبارک کشادہ تھی۔ ابرو خم دار باریک اور گنجان تھے، دونوں ابرو جدا جدا تھے۔ ملے ہوئے نہیں تھے، ان دونوں کے درمیان ایک رگ تھی جو غصہ کے وقت ابھر جاتی تھی۔

        ناک مبارک بلندی مائل تھی اور اس پرایک چمک اور نور تھا، ابتدا میں دیکھنے والا آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو بڑی ناک والا سمجھتا (لیکن غور سے دیکھنے سے معلوم ہوتا کہ حسن اور چمک کی وجہ سے بلندی لگتی ہے ورنہ زیادہ بلند نہیں ہے)۔

        داڑھی مبارک بھرپور اور گنجان بالوں کی تھی اور آنکھ مبارک کی پتلی نہایت سیاہ تھی،رخسار مبارک ہموار ہلکے تھے۔ دہن مبارک اعتدال کے ساتھ فراخ تھا (یعنی تنگ منہ نہ تھا)آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے دندان مبارک باریک آبدار تھےاوران میں سے سامنے کے دانتوں میں ذرا سا فصل بھی تھا۔ گردن مبارک ایسی خوبصورت اور باریک تھی،جیسا کہ مورتی کی گردن صاف اورتراشی ہوئی ہوتی ہے اوررنگ میں چاندی جیسی صاف اور خوبصورت تھی۔"


        رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب اعضاء نہایت معتدل اور پُرگوشت تھے اوربدن گٹھا ہواتھا۔ پیٹ اورسینہ مبارک ہموار تھا، لیکن سینہ فراخ اورچوڑا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں کاندھوں کے درمیان قدرے زیادہ فاصلہ تھا، جوڑوں کی ہڈیاں قوی اور کلاں تھیں (جو قوت کی دلیل ہوتی ہے)۔ کپڑا اتارنے کی حالت میں آپ کا بدن مبارک روشن چمک دار نظرآتا تھا، ناف اورسینہ کے درمیان ایک لکیر کی طرح سے بالوں کی باریک دھاری تھی۔ اس لکیر کے علاوہ دونوں چھاتیاں اورشکم مبارک بالوں سے خالی تھا، البتہ دونوں بازوؤں اور کندھوں اور سینہ مبارک کے بالائی حصہ پر بال تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کلائیاں دراز تھیں اور ہتھیلیاں فراخ،نیز ہتھیلیاں اوردونوں قدم گداز اور پُرگوشت تھے۔ ہاتھ پاؤں کی انگلیاں تناسب کے ساتھ لمبی تھیں۔

        رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تلوے قدرے گہرے تھے اور قدم ہموار تھے کہ پانی ان کے صاف ستھرا ہونے اور ان کی ملائمت کی وجہ سے ان پر ٹھہرتا نہیں تھا، فوراً ڈھلک جاتا تھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے تو قوت سے قدم اٹھاتے اورآگے جھک کر تشریف لے جاتے، قدم زمین پر آہستہ پڑتا،زور سے نہیں پڑتا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تیزرفتار تھےاور ذرا کشادہ قدم رکھتے تھے، چھوٹے چھوٹے قدم نہیں رکھتے تھے۔ جب چلتے تو ایسا معلوم ہوتا گویا پستی میں اتررہے ہیں۔ جب کسی طرف توجہ فرماتے تو پورے بدن سے پھرکر توجہ فرماتے۔

        رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی نظر نیچی رہتی تھی۔ نگاہ بہ نسبت آسمان کے زمین کی طرف زیادہ رہتی تھی۔عادت شریفہ عموماً گوشہ چشم سے دیکھنے کی تھی (یعنی حیاء کی وجہ سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہیں دیکھتے تھے۔) چلنے میں صحابہ کو اپنے آگے کر دیتے تھے اورخود پیچھے رہ جاتے تھے،جس سے ملتے سلام کرنے میں خود ابتدا فرماتے۔

حضرت علیؓ فرماتے ہیں:

        "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ فراخ دل، کشادہ قلب، راست گفتار، نرم طبیعت اور معاشرت و معاملات میں نہایت درجہ کریم تھے۔ جو پہلی بار آپ کو دیکھتا وہ مرعوب ہوجاتا اورجو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہتا اورجان پہچان حاصل ہوتی تو آپصلی اللہ علیہ وسلم کا فریفتہ اور دلدادہ ہوجاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکرِ خیر کرنے والا کہتا ہے کہ نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کوئی شخص دیکھا نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد۔ صلی اللہ علیہ وسلم"

       ہند بن ابی ہالہؓ فرماتے ہیں:"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی بہت باوقاراورشان وشوکت کے حامل تھے اوردوسروں کی نگاہ میں بھی نہایت پُرشکوہ ۔ آپ کا روئے انور چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتا تھا۔

براء بن عازبؓ فرماتے ہیں:

        "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میانہ قامت تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ سرخ قبا میں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ حسین کوئی شخصیت میں نے کبھی نہیں دیکھی۔"

حضرت انسؓ فرماتے ہیں:

        "میں نے کوئی ایسا حریر یا ریشم نہیں چھوا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک سے زیادہ نرم ہو۔ میں نے عنبر اور مشک یا کوئی بھی ایسی چیز نہیں سونگھی جس کی خوشبو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینے کی مہک سے بہتر ہو۔"

اخلاق عالیہ:

ہند بن ابی ہالہؓ فرماتے ہیں:

        "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہروقت آخرت کی فکر میں اور امورِ آخرت کی سوچ میں رہتے، اس کا ایک تسلسل قائم تھا کہ کسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چین نہیں ہوتا تھا،اکثر طویل سکوت اختیار فرماتے، بلا ضرورت کلام نہ فرماتے، گفتگو کا آغاز فرماتے تو دہنِ مبارک سے اچھی طرح الفاظ ادا فرماتے، (یعنی متکبروں کی طرح بے توجہی و نیازی کے ساتھ ادھ کٹے الفاظ استعمال نہ فرماتے) اور اسی طرح اختتام فرماتے۔ آپ کی گفتگو اور بیان بہت صاف، واضح اور دو ٹوک ہوتا، نہ اس میں غیرضروری طوالت ہوتی نہ زیادہ اختصار۔

        رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ دُرشت خُو (بد مزاج) تھے اورنہ کسی کی اہانت پسند کرتے تھے، نعمت کی بڑی قدرکرتے اور اس کو بہت زیادہ جانتے، خواہ کتنی ہی قلیل ہو (کہ آسانی سے نظر بھی نہ آئے)اور اس کی برائی نہ فرماتے،کھانے پینے کی چیزوں کی برائی کرتے نہ تعریف۔ دنیا اور دنیا سے متعلق جو بھی چیز ہوتی اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی غصہ نہ آتا، لیکن جب اللہ کے کسی حق کو پامال کیا جاتا تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جلال کے سامنے کوئی چیز ٹھہر نہ سکتی تھی،یہاں تک کہ آپصلی اللہ علیہ وسلم اس کا بدلہ لےلیتے۔ آپ کو اپنی ذات کے لیے نہ غصہ آتا نہ اس کے لیے انتقام لیتے۔ جب اشارہ فرماتے تو پورے ہاتھ کے ساتھ اشارہ فرماتے،جب کسی امر پر تعجب فرماتے تواسکو پلٹ دیتے، گفتگو کرتے وقت داہنے ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کے انگوٹھے سے ملاتے، غصہ اور ناگواری کی بات ہوتی تو روئے انور اس طرف سے بالکل پھیر لیتے اوراعراض فرما لیتے،خوش ہوتے تو نظریں جھکا لیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہنسنا زیادہ تر تبسم تھا جس سے صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دندانِ مبارک جو بارش کے اولوں کی طرح پاک و شفاف تھے ظاہر ہوتے۔"

اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں:

        "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدکلامی اور بے حیائی و بے شرمی سے دور تھے۔ بازاروں میں کبھی آواز بلند نہ فرماتے۔ برائی کا بدلہ برائی سے نہ دیتے،بلکہ عفوودرگزر کا معاملہ فرماتے۔"

اُم المؤمنین حضرت عائشہؓ ہی کا بیان ہے:

        "آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی پر کبھی دست درازی نہ فرمائی سوائے اس کے کہ جہاد فی سبیل اللہ کا موقع ہو۔ کسی خادم یا عورت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ہاتھ نہیں اٹھایا۔"

اُم المؤمنین حضرت عائشہؓ ہی فرمایا کرتی تھیں:

        "میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو کسی ظلم و زیادتی کا انتقام لیتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا، جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کی خلاف ورزی نہ ہو۔ ہاں اگر اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کو پامال کیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے سب سے زیادہ غضب ناک ہوتے۔"

حضرت انسؓ فرماتے ہیں:

        "میں نے دس سال تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت کی۔ آپ نے مجھے کبھی "اُف" نہیں کہا۔ نہ کسی کام کے کرنے پر یہ کہا کہ تم نے ایسا کیوں کیا۔ نہ ہی کسی کام کے چھوڑ دینے پر یہ فرمایا کہ تم نے یہ کیوں نہیں کیا۔"

انتظامی خوبیاں:

اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں:

        "دو چیزیں سامنے ہوتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  ہمیشہ آسان صورت کا انتخاب فرماتے، بشرطیکہ وہ ناجائز نہ ہو۔"

حضرت علیؓ فرماتے ہیں:

        "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زبانِ مبارک محفوظ رکھتے اور صرف اسی چیز کے لیے کھولتے جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ سروکار ہوتا، لوگوں کی دل داری فرماتے اور ان کو متنفر نہ کرتے، کسی قوم کا کوئی معزز شخص آتا تو اس کے ساتھ اکرام و اعزاز کا معاملہ فرماتے اور اسی کو اس کی قوم کا ذمہ دار بناتے۔ لوگوں کے بارے میں محتاط رہتے،بغیر اس کے کہ اپنی بشاشت اوراخلاق سے ان کو محروم فرمائیں،اپنےاصحاب کے حالات کی برابر خبر رکھتے، لوگوں سے لوگوں کے معاملات کے بارے میں دریافت کرتے رہتے۔ اچھی بات کی اچھائی بیان کرتے اور اس کو قوت پہنچاتے، بری بات کی برائی کرتے اور اس کو کمزور کرتے۔


        آپ کا معاملہ معتدل اور یکساں تھا،اس میں تغیروتبدل نہیں ہوتا تھا،آپ کسی بات سے غفلت نہ فرماتے اس خدشے سے کہ کہیں دوسرے لوگ بھی غافل نہ ہونے لگیں اور اکتا جائیں۔

        رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہرحال کے مطابق ضروری بندوبست ہوتا تھا۔ نہ حق کے معاملہ میں کوتاہی فرماتے نہ حد سے آگے بڑھتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب جو لوگ رہتے تھے وہ سب سے اچھے اور منتخب ہوتے تھے، آپ کی نگاہ میں سب سے زیادہ افضل وہ تھا جس کی خیر خواہی اور اخلاق عام ہو، سب سے زیادہ قدرومنزلت اس کی تھی جو غم خواری اور ہمدردی اور دوسروں کی مدد اور معاونت میں سب سے آگے ہو۔"

مجلس کا حسن و جمال:

        حضرت علیؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی مجلس کا حسن و جمال اپنی فصیح و بلیغ عبارت میں یوں بیان فرماتے ہیں:

        رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا ذکر کرتے ہوئے کھڑے ہوتے اور اللہ کا ذکر کرتے ہوئے بیٹھتے۔ کہیں تشریف لے جاتے تو جہاں مجلس ختم ہوتی وہیں تشریف رکھتے اور اس کا حکم بھی فرماتے۔ اپنے حاضرینِ مجلس اور ہم نشینوں میں ہرشخص کو (اپنی توجہ اور التفات میں) پورا حصہ دیتے۔ آپ کا ہرشریکِ مجلس یہ سمجھتا کہ اس سے بڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی نگاہ میں کوئی اور نہیں ہے۔

        اگر کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو کسی غرض سے بٹھا لیتا یا کسی ضرورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سے گفتگو کرتا تو نہایت صبروسکون سے اس کی پوری بات سنتے یہاں تک کہ وہ خود ہی اپنی بات پوری کرکے رخصت ہوتا۔اگر کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سوال کرتا اور کچھ مدد چاہتا تو بلا اس کی ضرورت پوری کیے واپس نہ فرماتے، یا کم از کم نرم و شیریں لہجہ میں جواب دیتے۔

        آپ کا حسنِ اخلاق تمام لوگوں کے لیے وسیع اور عام تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  ان کے حق میں باپ ہوگئے تھے۔ تمام لوگ حق کے معاملہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی نظر میں برابر تھے۔ آپ کی مجلس علم ومعرفت،حیا و شرم اورصبروامانت داری کی مجلس تھی، نہ اس میں آوازیں بلند ہوتی تھیں،نہ کسی کے عیوب بیان کیے جاتے تھے، نہ کسی کی عزت و ناموس پر حملہ ہوتا، نہ کمزوریوں کی تشہیر کی جاتی تھی، سب ایک دوسرے کے مساوی تھے اور صرف تقویٰ کے لحاظ سے ان کو ایک دوسرے پر فضیلت حاصل ہوتی تھی، اس میں لوگ انکساری کے ساتھ رہتے تھے۔ بڑوں کا احترام اور چھوٹوں کے ساتھ رحم دلی اور شفقت کا معاملہ کرتے تھے، حاجت مند کو اپنے اوپر ترجیح دیتے تھے، مسافر اور نو وارد کا خیال رکھتے تھے۔"

انبساط اور کشادہ روئی:

حضرت علیؓ فرماتے ہیں:

        "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمہ وقت کشادہ اور انبساط و بشاشت کے ساتھ رہتے تھے۔ بہت نرم اخلاق اور نرم پہلو تھے (یعنی جلد مہربان ہوجانے والے اور بہت آسانی سے درگزر کرنے والے تھے) نہ سخت طبیعت کے مالک تھے، نہ سخت بات کہنے کے عادی، نہ چلا کر بولنے والے، نہ عامیانہ اور مبتذل (گھٹیا) بات کرنے والے، نہ کسی کو عیب لگانے والے، نہ تنگ دل بخیل۔ جو چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو ناپسند ہوتی اس سے تغافل فرماتے (یعنی اس کو نظر انداز کردیتے اور گرفت نہ فرماتے) اور صاف صاف اس چیز سے مایوس بھی نہ فرماتے اور اس کا جواب بھی نہ دیتے۔

        تین باتوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کو بالکل بچا رکھا تھا،ایک جھگڑا،دوسرے تکبراورتیسرے غیرضروری اور لایعنی کام۔ لوگوں کو بھی تین باتوں سے آپ نے بچا رکھا تھا، نہ کسی کی برائی کرتے تھے،نہ کسی کو عیب لگاتے تھے اور نہ کسی کی کمزوریوں اور پوشیدہ باتوں کے پیچھے پڑتے تھے۔ صرف وہ کلام فرماتے تھے جس پر ثواب کی امید ہوتی تھی۔

        جب گفتگو کرتے تھے تو شرکاء مجلس ادب سے اس طرح سر جھکا لیتے تھے کہ معلوم ہوتا تھا کہ ان سب کے سروں پر چڑیاں بیٹھی ہوئی ہیں (یعنی بے حس و حرکت کہ کہیں جنبش سے چڑیاں اڑ نہ جائیں) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوتے تب یہ لوگ بات کرتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کبھی نزاع نہ کرتے۔اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی مجلس میں کوئی شخص گفتگو کرتا تو بقیہ سب لوگ خاموشی سے سنتے یہاں تک کہ وہ اپنی بات ختم کرلیتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہر شخص کی گفتگو کا وہی درجہ ہوتا جو ان کے پہلے آدمی کا ہوتا۔ (کہ پورے اطمینان کے ساتھ اپنی بات کہنے کا موقع ملتا اوراسی قدر دانی اور اطمینان کے ساتھ اسے سنا جاتا) جس بات سے سب لوگ ہنستے اس پرآپ بھی ہنستے، جس سے سب تعجب کا اظہار کرتے آپ بھی تعجب فرماتے، مسافر اور پردیسی کی بے تمیزی اور ہرطرح کے سوال کو صبروتحمل کے ساتھ سنتے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحابِ کرامؓ ایسے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرلیتے۔ (تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرکوئی بار نہ ہو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ "تم کسی حاجت مند کو پاؤ تو اس کی مدد کرو"۔

        رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  مدح وتعریف اسی شخص کی قبول فرماتے جوحدِ اعتدال میں رہتا۔ کسی کی گفتگو کے دوران کلام نہ فرماتے اور اس کی بات کبھی نہ کاٹتے، ہاں اگر وہ حد سے بڑھنے لگتا تو اس کو منع فرما دیتے یا مجلس سے اٹھ کر اس کی بات قطع فرما دیتے۔"

بیماروں کی عیادت:

        نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی عادت مبارکہ تھی کہ جب صحابہ کرام میں کوئی بیمار ہوجاتا تو اس کی عیادت کے لیے تشریف لے جاتے تھے۔ ایک یہودی خادم اوراپنے مشرک چچا کی عیادت کے لیے بھی تشریف لے گئے اوران دونوں کواسلام کی دعوت دی۔ چنانچہ یہودی نے اسلام کو قبول کرلیا۔

ذکر وعبادت:

       نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  اپنے معمول (تلاوت) کی پابندی کرتے تھے۔آپ قرآن پاک ترتیل سے (ایک ایک حرف واضح کرکے) پڑھا کرتے تھے،ایک ایک آیت پر وقفہ کرتے،مدکے حروف کو کھینچ کرپڑھتے مثلاً الرحمن الرحیم کو مد سے پڑھتے تھے اورتلاوت کے آغاز میں "اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم" پڑھتے۔

        آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کبھی کبھی آواز کو کھینچ کر بہترین انداز میں قرآن پاک کی تلاوتفرماتے تھے۔ دوسروں کی زبان سے قرآن سننا بھی پسند فرماتے تھے۔ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کو حکم فرمایا تو انہوں نے آپ کے سامنے تلاوت کی، آپ کو سنتے وقت اس قدر خشوع طاری ہوا کہ آنکھیں ڈبڈبا گئیں اور آنسو جاری ہوگئے۔

اللہ کا ذکر اور خشیت:

        نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  اللہ تعالیٰ کا ذکر سب سے زیادہ کرتے تھے بلکہ آپ کا ہرکلام اللہ کے ذکر اوراس کی فکر میں ہوتا تھا۔آپ کا اُمت کو حکم کرنا، روکنا اور اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات اوراس کے احکام اور وعد و وعید کی تفصیلات سب کی سب ذکرِالہیٰ کے قبیل سے ہیں۔ اسی طرح اُس کی بے حساب نعمتوں پر حمد وثنا اور تسبیح وتمجید بھی ذکر اللہ تھا۔

       اللہ تعالیٰ سے سوال ودعا اورخوف وخشیت بھی ذکر ہی تھا بلکہ آپ کی خاموشی تک بھی قلبی طورپر ذکرِالہیٰ پر مشتمل تھی۔جس طرح ذکر اللہ سے رطب اللسان تھے اسی طرح قلب وجگر بھی اس سے سرشار تھا۔

        قصہ مختصر یہ کہ آپ ہرآن، ہرحالت میں ذاکروشاغل رہتے تھے اور ذکر اللہ آپ کی سانس کے ساتھ جاری و ساری رہتا، اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے، سوار ہوتے اترتے، سفروحضر ہروقت اور ہرحال میں آپ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے تھے اور اس کے ذکروفکر میں رہتے تھے۔ جب آپ نیند سے بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے:

اَلْحَمْدُ لِلهِ الَّذِیْ اَحْیَانَا بَعْدَ مَا اَمَاتَنَا وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ

        "تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم کو مارنے کے بعد زندہ کیا 
اور اس کے پاس اٹھ کر جانا ہے۔"

        اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہرموقع کی دعائیں مذکور ہیں مثلاً:جب نیند سے بیدار ہوں،جب نماز شروع کرے،جب گھر سے نکلے،جب مسجد میں داخل ہو،صبح و شام کی دعا،جب کپڑے تبدیل کرے،جب گھر میں داخل ہو،جب بیت الخلا میں داخل ہو، وضو کی دعا،اذان کی دعا،رویتِ ہلال کی دعا،کھانے کی دعا اورچھینکنے کی دعا۔

گھریلو زندگی:

        نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی گھریلو زندگی نہایت سادہ تھی۔ جب اپنے دولت خانہ پر تشریف لے جاتے تو عام انسانوں کی طرح نظر آتے، اپنے کپڑوں کو صاف کرتے، بکری کا دودھ دوہتے اور اپنی سب ضرورتیں خود انجام دیتے۔

        حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کا بستر بوسیدہ وکھردرا تھا، میں نے چاہا کہ اس کی جگہ دوسرا بستر رکھوں جو آپ کے لیے آرام دہ ہو،چنانچہ میں نے نرم بستر بچھا دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو پوچھا:

        "اے عائشہ! یہ کیا ہے؟"

        میں نے کہا: "میں آپ کا بستر سخت کھردرا دیکھتی تھی تو میں نے اس نرم بستر کو پسند کیا۔"

        نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اسے اٹھا دو، اللہ کی قسم! میں نہیں بیٹھوں گا جب تک اسے نہ اٹھالو۔"

        چنانچہ میں نے وہ بستر اٹھا دیا۔

        حضرت عائشہؓ سے پوچھا گیا:"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  گھر میں کیا کرتے تھے؟"

        حضرت عائشہؓ نے فرمایا:"وہ انسانوں میں سے ایک انسان تھے۔ اپنا سر صاف فرماتے، بکری کا دودھ دوہتے، کپڑے سیتے، اپنے کام خود انجام دیتے، اپنا جوتا ٹانکے، عام لوگ اپنے گھروں میں جو کرتے ہیں وہ کرتے اور اپنے گھر والوں کی خدمت کرتے، لیکن جب مؤذن کی آواز سنتے تو نماز کے لیے نکل کھڑے ہوتے۔"

        نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  ازواجِ مطہرات کے درمیان برابری فرماتے تھے اور دعا کرتے تھے: "یا اللہ! یہ میری برابری ہے جو میرے اختیار میں ہے، تو اس بات (یعنی قلبی محبت) پر مواخذہ نہ کر جو تیرے اختیار میں ہے، میرے نہیں۔"

        اُمت کو بھی اہل وعیال کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی تاکید فرماتے تھے۔ آپ کا ارشاد ہے:

        "تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے اہل وعیال کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا ہو اور میں تم میں سب سے بڑھ کر اپنے اہل وعیال کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا ہوں۔"

        حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں (جب میری شادی کا ابتدائی دور تھا تو) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں گڑیوں سے کھیلا کرتی تھی اور میری سہیلیاں بھی میرے ساتھ کھیلتی تھیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے تو میری سہیلیاں (شرم کی وجہ سے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چھپ جاتی تھیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو میرے پاس بھیج دیا کرتے تھے اور وہ میرے ساتھ کھیلنے لگتی تھیں۔

        حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے فرمانے لگے: "جس وقت تم مجھ سے خوش ہوتی ہو میں جان جاتا ہوں اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو بھی مجھے معلوم ہو جاتا ہے۔"

        میں نے عرض کیا کہ آپ کس طرح پہچان لیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

        "جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو تو اس طرح کہتی ہو: یہ بات نہیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رب کی قسم! اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو: یہ بات نہیں، ابراہیم (علیہ السلام) کے رب کی قسم!" (یعنی میرا نام نہیں لیتیں)

        حضرت عائشہؓ نے فرمایا: "ہاں ہاں یا رسول اللہ! یہ بات ٹھیک ہے لیکن میں صرف آپ کا نام (زبان سے) ہی چھوڑتی ہوں۔" (نہ کہ دل سے)

        حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: مجھے یاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے حجرے کے دروازے پر کھڑے تھے اور حبشی لوگ مسجد میں اپنے نیزوں سے کرتب دکھا رہے تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر سے میرے لیے پردہ کر رکھا تھا تاکہ میں بھی آپ کے کان اور کندھوں کے درمیان سے ان حبشیوں کا کھیل دیکھتی رہوں۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک (پردہ کیے) کھڑے رہے جب تک میں خود وہاں سے نہ ہٹ گئی۔ اور اب تم خود اندازہ کرلو کہ ایک کم عمرلڑکی جو کھیل تماشے کی شوقین ہو، کتنی دیر تک کھڑی رہی ہوگی۔"

اندازِ گفتگو

        حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی گفتگو تم لوگوں کی طرح مسلسل اور تیز نہیں ہوتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دھیرے دھیرے بولتے تھے، مضمون اس قدر سادہ اور واضح کہ سننے والے اچھی طرح ذہن نشین کرلیتے۔ ایک دوسری روایت کے مطابق: "اگر کوئی شخص چاہتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بولے ہوئے الفاظ گن سکتا تھا۔"

بچوں سے پیار:

        رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں سے نہایت پیار محبت سے پیش آتے تھے، ان کی تربیت کے لیے بڑے پیارے انداز سے کوشش فرماتے تھے،اس شفقت سے ہدایات دیتے تھے کہ بچوں کے دلوں میں اترجاتی تھیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بے پناہ مصروفیات کےباوجود بچوں کو کبھی نظرانداز نہیں فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کی پیدائش کے وقت کان میں اذان دلوانے کا اہتمام فرماتے تھے، حضرت ابورافعؓ فرماتے ہیں: "جب حضرت فاطمہؓ کے ہاں حسن بن علیؓ کی پیدائش ہوئی تو میں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کان میں اذان کہی۔"


        اس میں حکمت یہ ہے کہ بچہ شروع سے دین کی پکار سن لے اور اسلام و توحید اس کے لاشعور میں جاگزیں ہوجائے۔

        رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کو زندگی کے آداب سمجھاتے، کوئی ساتھ کھانا کھانے بیٹھتا تو اسے کھانے کا سلیقہ بھی بتاتے تھے۔ اپنے سوتیلے بیٹے عمر بن ابی سلمہ کو آداب کے خلاف کھاتے دیکھا تو فرمایا: "اے بچے! جب کھانا شروع کرو تو بسم اللہ کہہ کر شروع کرو اور داہنے ہاتھ سے کھانا کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔"

        رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کی ولادت کے موقع پر گھٹی دیا کرتے تھے۔ حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: "میرے یہاں لڑکا پیدا ہوا۔ میں اسےلے کر خدمت اقدس میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور کھجور چبا کر اس کے منہ میں ڈالی۔ اس کے لیے برکت کی دعا فرمائی۔ پھر اسے میرے حوالے کر دیا۔"

        بچوں کا اتنا لحاظ فرماتے کہ اگر عبادت میں حرج ہوتا تب بھی ناراض نہ ہوتے۔ ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے۔ جب آپ سجدہ میں جاتے تو حضرت حسن اور حسینؓ آپ کی پشت پر بیٹھ جاتے تھے۔صحابہ کرامؓ انہیں ہٹانا چاہتے تو آپ اشارے سے فرماتے کہ رہنے دو، نماز سے فارغ ہوکر آپ انہیں اپنی گود میں بٹھا لیتے اور فرماتے: "جو مجھ سے محبت کرتا ہے، اسے چاہیے کہ ان دونوں سے محبت کرے۔"

        نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کا نام اچھا رکھنے کا حکم فرماتے تھے، اسے والدین کی اہم ذمہ داری شمار کرتے تھے، اس سلسلے میں کثرتِ احادیث موجود ہیں، ایک جگہ ارشاد ہے: "اللہ کو سب سے زیادہ پیارے نام عبداللہ اور عبدالرحمن ہیں۔"

        حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں: میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا۔ راستے میں نہ آپ کی مجھ سے بات ہوئی نہ میری آپ سے۔ حتیٰ کہ بنو قینقاع کا بازار آگیا۔ پھر وہاں سے واپس لوٹے اور حضرت فاطمہؓ کے گھر تک آئے۔ آپ فرما رہے تھے: "کیا یہاں منّا (حسین) ہے؟ کیا یہاں منّا ہے؟"

        تو ہم سمجھ گئے کہ حضرت فاطمہؓ انہیں تیار کررہی ہیں۔ تھوڑی دیر میں حسینؓ آگئے، اور حسینؓ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسرے کی گردن میں ہاتھ ڈالا (گلےملے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

        "اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اسے محبوب رکھ اور جو اس سے محبت کرے اسے بھی محبوب رکھ۔"

        حضرت عبداللہ بن عباسؓ بچپن میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:

        "اے بچے! میں تجھے چند باتوں کی تعلیم دیتا ہوں: اللہ کو یاد رکھنا، وہ تجھے یاد رکھے گا۔اللہ کو یاد رکھنا،تو اسے اپنے سامنے پائے گا۔ جب مانگنا،اللہ سے مانگنا۔ جب مدد طلب کرنا،اللہ سے کرنا۔خوب اچھی طرح سمجھ لو کہ ساری دنیا اگراتفاق کر لے کہ تجھے کوئی نفع پہنچائے،تب بھی تجھے کوئی نفع نہیں پہنچاسکے گی سوائے اس کے جو اللہ نے تیرے لیے لکھ دیا ہے۔اگرساری دنیا اتفاق کر لے کہ تجھے مل جل کر کوئی نقصان پہنچائے تو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گی، لیکن اتنا ہی جتنا اللہ نے لکھ دیا ہے۔ قلم خشک ہوگئے اور دفتر تہہ کردیے گئے۔"

        حضور صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کو ہنساتے اور بہلاتے بھی تھے۔ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لایا کرتے تھے۔ میرا ایک چھوٹا بھائی ابوعمیر تھا، اس کے پاس ایک نُغر (سرخ چونچ والی چھوٹی سی چڑیا) تھی جس سے وہ کھیلتا تھا۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو دیکھا کہ ابوعمیر غمگین بیٹھا ہے۔ دریافت فرمایا: "کیا ہوا؟ ابو عمیر غم زدہ کیوں ہے؟"

        گھر والوں نے عرض کیا:"یا رسول اللہ! اس کی وہ چڑیا مرگئی ہے جس سےوہ کھیلتا تھا۔"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کو بہلاتے ہوئے فرمایا: "اے ابوعمیر! کیاہوا نُغیر؟"

دلکش اندازِ مزاح:

        حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا:

        "یا رسول اللہ! آپ ہم سے مذاق بھی فرما لیتے ہیں؟"

        نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہاں! مگر میں کبھی غلط بات نہیں کہتا۔"

        ایک دن مجلس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

        "جنت میں ایک شخص اللہ تعالیٰ سے کھیتی کرنے کی خواہش بیان کرے گا،اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: کیا تمہاری ہرخواہش پوری نہیں ہوگئی ہے؟ وہ کہے گا: جی ہاں! لیکن میں چاہتا ہوں کہ فوراً بودوں اور ساتھ ہی تیار ہوجائے۔ چنانچہ وہ بیج ڈالے گا، فوراً اگے گا، بڑھے گا اور کاٹنے کے قابل ہوجائے گا۔"

        ایک بدو بیٹھا ہوا یہ باتیں سن رہا تھا۔ اس نے کہا: "یہ سعادت تو صرف کسی قریشی یا انصاری کو نصیب ہوگی؛ کیوں کہ وہی زراعت پیشہ ہیں، ہم نہیں۔"یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے۔

        ایک بارکسی بوڑھی عورت نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: "یا رسول اللہ! دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل کردے۔"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جنت میں کوئی بوڑھی عورت نہیں جائے گی۔"وہ عورت روتے ہوئے واپس جانے لگی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

        "اسے بتا دو کہ وہ جنت میں بڑھاپے کی حالت میں داخل نہ ہوگی (جوان بن کر جنت میں جائے گی)۔" کیوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

 اِنَّا اَنْشَاْنٰہُنَّ اِنْشَآءً فَجَعَلْنٰہُنَّ اَبْکَارًا
        (ہم نے ان عورتوں کو خاص طور پر بنایا ہے، پس بنایا ہے ان کو کنواریاں)۔

      حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں آیا اور اپنے لیے سواری مانگی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: "ہم تمہیں اونٹنی کا بچہ دیں گے۔"

        اس نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! میں اونٹنی کے بچے کا کیا کروں گا۔"

        حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہر اونٹ اونٹنی کا بچہ ہی تو ہوتا ہے۔"

        ایک بار حضرت سودہؓ حضرت عائشہؓ سے ملاقات کے لیے آئیں۔وہاں حضرت حفصہؓ بھی تھیں۔ حضرت سودہؓ بن سنورکر اچھی حالت میں آئی تھیں۔ان پرخوبصورت یمنی منقش چادر تھی۔ حضرت حفصہؓ نے حضرت عائشہؓ سے فرمایا: "حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے ہیں اور یہ (سودہ) ہمارے درمیان چمکتی ہیں۔ میں آج ضرور ان کی زینت خراب کروں گی۔"ان دونوں کی سرگوشیاں سن کر حضرت سودہؓ نے پوچھا: "تم کیا کہہ رہی ہو؟" حضرت حفصہؓ نے فرمایا: "کانا (دجال) نکل آیا ہے۔"

        حضرت سودہؓ بہت گھبرائیں اور ان پر کپکپی طاری ہوگئی۔ کہا: "ہاں! میں کہاں چھپوں؟"حضرت حفصہؓ نے فرمایا: "خیمے میں چلی جاؤ۔"

        وہ وہاں چلی گئیں۔ وہ خیمہ سامانِ خانہ تھا جس میں کچرا اور مکڑی کے جالے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو حضرت عائشہ اورحفصہؓ ہنس رہی تھیں، ہنسی کے مارے بات بھی نہیں کی جارہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:

        "کیوں ہنس رہی ہو؟" ان دونوں نے خیمے کی طرف اشارہ کیا۔

        نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیمے کے پاس گئے۔ وہاں سودہؓ کپکپا رہی تھیں۔ فرمایا: "سودہ! کیا ہوا؟"

        حضرت سودہؓ نے فرمایا: "کانا (دجال) نکل آیا ہے۔"

        آپ نے فرمایا: "ابھی نہیں نکلا۔ البتہ نکلے گا۔ ابھی نہیں نکلا۔ البتہ ضرور نکلے گا۔"

        یہ کہہ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سودہؓ کے کپڑوں سے غبار اور مکڑی کے جالے جھاڑنے لگے۔

        حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حریرہ(ایک قسم کا حلوہ) لے کرآئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے اور حضرت سودہؓ کے درمیان تھے۔ میں نے سودہؓ سے کہا: کھاؤ۔ انہوں نے (کسی وجہ سے) انکارکیا۔ میں نے کہا: کھا لو ورنہ یہ تمہارے چہرے پرمل دوں گی۔ پھربھی انہوں نے انکارکیا تومیں نے حریرہ ہاتھ میں  ڈالا اور ان کے چہرے پر مل دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس رہے تھے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سودہؓ سے فرمایا: تم اس کے چہرے پر مل دو۔ انہوں نے میرے چہرے پر مل دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس رہے تھے۔

        اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ میں ایک مرتبہ سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھی۔میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دوڑ لگائی اور آپ سے آگے نکل گئی۔ پھر جب (کچھ مدت بعد) میں فربہ ہوگئی تو پھر ہماری دوڑ ہوئی اور اس مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے آگے نکل گئے۔ چنانچہ آپ نے فرمایا:

        "یہ اس کے بدلے میں ہے۔" (یعنی پہلے تم جیتی تھیں اب میں جیت گیا لہٰذا اب دونوں برابر رہے)۔


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic