Rasool Allah ﷺ ke Khatoot Salateen ke Naam: Maqauqis aur Najashi ka Radd-e-Amal

 مکتوبِ اقدس ہرقل کے سامنے اور ہرقل کا اپنی قوم سے خطاب:

        اسی اثناء میں دِحیہ کلبیؓ ہرقل کے نام حضور ﷺ کا مراسلہ لے کر شام کے سرحدی شہر بصریٰ پہنچ چکے تھے۔ حاکمِ بصریٰ نے انہیں ہرقل کے پاس بیت المقدس بھیج دیا۔ مراسلہ پڑھ کر ہرقل سناٹے میں آگیا۔

رسول اللہ ﷺ کے مکتوبِ گرامی میں تحریر تھا:

        "اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ محمد رسول اللہ کی جانب سے روم کے سربراہ ہرقل کے نام۔ ہدایت کی پیروی کرنے والے پر سلامتی ہو۔ میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ اسلام لے آؤ سلامت رہو گے اور اللہ تمہیں دو گنا ثواب دے گا۔ اگر تم نے بے رخی برتی تو دوسرے عیسائی فرقوں کی گمراہی کا وبال بھی تمہارے سر ہوگا۔"

        اس کے بعد سورہ آل عمران کی آیت درج تھی:

قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ ۚ فَإِن تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ

        "اے اہل کتاب! ایسی بات کی طرف آجاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے، وہ یہ کہ اللہ کے سوا ہم کسی کو معبود قرار نہیں دیں گے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے، اور ہم اللہ کو چھوڑ کر آپس میں کسی انسان کو رب کا درجہ نہیں دیں گے، اگر وہ نہ مانیں تو تم کہہ دو کہ گواہ رہنا ہم تو تابع دار ہیں۔"

        ہرقل جو کہ گزشتہ کتابوں اور آخری پیغمبر کی نشانیوں کی اچھی خاصی معلومات رکھتا تھا، جان گیا تھا کہ اس پیغام کا حرف حرف سچ ہے اور اسے قبول کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ مگر اسے خطرہ تھا کہ اسلام قبول کرنے میں اس کی قوم اور خصوصاً پادری اس کا ساتھ نہیں دیں گے۔ وہ اسے معزول کر دیں گےاور یہ بھی بعید نہیں کہ قتل کردیں۔

        خاصے شش و پنج کے بعد (بیت المقدس سے حمص لوٹ کر) اس نے دربار منعقد کیا۔ جب پادری اور امراء جمع ہوگئے تو اس نے دروازوں پر تالے لگوا دیے اور پھر حضور ﷺ کی اتباع کا مشورہ دیتے ہوئے کہا: "روم والو! کیا تم نہیں چاہتے کہ تمہیں کامیابی ملے، ہدایت نصیب ہو اور تمہاری سلطنت بھی قائم رہے۔ پس تم اس نبی کی پیروی کرلو۔"

        یہ سنتے ہی حاضرین بگڑگئے اور شور مچاتے ہوئے باہر دوڑے، جب دروازے بند دیکھے تو پلٹ آئے۔ انہوں نے اس قدرغیظ وغضب کا اظہار کیا کہ ہرقل کو تخت اور جان دونوں سے ہاتھ دھونے کا خطرہ لاحق ہوگیا، تب اس نے ایک سیاسی ادا کے ساتھ کہا: "میں تو تمہیں آزمانے کے لیے یہ پوچھ رہا تھا کہ پتا چلے تم اپنے دین پر کتنے پکے ہو۔"



ہرقل کا جوابی مراسلہ اور تحائف

        ہرقل رسول اللہ ﷺ کی صداقت کا قائل ہوچکا تھا مگر قومی عصبیت اور اقتدار کی چاہت نے اسے اسلام قبول کرنے سے باز رکھا، تاہم اس نے آپ ﷺ کے مکتوب کو نہایت عزت و احترام سے اپنے پاس محفوظ کرلیا اور حضور اکرم ﷺ کے نام جوابی مراسلہ دحیہ کلبیؓ کے سپرد کردیا جس میں ظاہر کیا کہ وہ آپ ﷺ کو نبی مانتا ہے مگر اپنی قوم کے سامنے بے بس ہے۔ اس نے کچھ ہدیہ بھی بھیجا جو آپ ﷺ نے صحابہ کرام میں تقسیم کردیا۔

        ہرقل یہ جان چکا تھا کہ اس کے ملک پر مسلمانوں کا قبضہ اب چند برسوں کی بات ہے، اس لیے اس نے آخری کوشش کے طور پر اپنے امراء کو اس پر راضی کرنا چاہا کہ صرف شام کا علاقہ حضور ﷺ کو دے کر اپنی باقی سلطنت کے بچاؤ کی ضمانت لے لی جائے مگر امراء نے اس تجویز کو بھی سختی سے مسترد کردیا۔ آخر کار ہرقل ذہنی طور پر شام سے دستبردار ہوکر یورپ جانے کے لیے تیار ہوگیا۔

رومیوں کے ہاں مکتوبِ نبوی کی حفاظت:

        ہرقل نے اس کے بعد مزید بارہ، تیرہ سال (641ء) تک حکومت کی، آخر حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں قسطنطنیہ میں فوت ہوا اور وہیں دفن ہوا، تب تک اس کے ایشیائی علاقوں پر اسلام کا پرچم لہرا چکا تھا۔ حضور ﷺ کا مکتوبِ مبارک عمر بھر اس نے بڑی حفاظت سے اپنے خاص خزانے میں رکھا۔ اس کے جانشینوں نے بھی مدتِ دراز تک اس کی حفاظت کی۔ ان کا عقیدہ تھا کہ جب تک یہ مکتوب رہے گا، ان کی بادشاہت محفوظ رہے گی۔

حارث بن ابی شِمر کے نام مراسلۂ نبوی:

        دوسرا مراسلہ سرحداتِ شام کے عرب گورنر حارث بن ابی شمر غسانی کے نام تھا جو شجاع بن وہبؓ لے کرگئے تھے۔ حارث بن ابی شمر نے پیغام کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا اور جواب میں مدینہ پر فوج کشی کی دھمکی دی۔ حضور ﷺ نے اس کا جواب سن کر فرمایا: "اس کی حکومت تباہ ہوگی۔"

شاہِ مصرمُقَوقِس کے نام گرامی نامہ:

        آنحضرت ﷺ نے تیسرا مراسلہ مصر کے حکمران جریج بن میناء کے نام روانہ کیا تھا، جسے عرب "مقوقس" کے لقب سے یاد کرتے تھے، وہ قبطی النسل تھا، مصر میں قیصر کا نائب السلطنت ہونے کے علاوہ بڑے پادری کی حیثیت سے مذہبی پیشوا بھی وہی تھا مگر اندازہ ہوتا ہے کہ جب حضور ﷺ نے اسے مکتوب لکھا تب وہ مقامی قبطیوں کی حمایت سے مصر کا خود مختار حکمران بن چکا تھا یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے "عظیم القبط" (قبطیوں کا سربراہ) کہہ کر مخاطب کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے مکتوب میں لکھا تھا:

        "اللہ رحمن و رحیم کے نام سے محمد رسول اللہ کی جانب سے مقوقس سربراہِ قبط کے نام! ہدایت کی پیروی کرنے والے پر سلامتی ہو، میں تم کو اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ اسلام لے آؤ، سلامت رہو گے، اللہ تمہیں دوگنا ثواب دے گا، اگر انکار کرو گے تو اپنے ہم قوموں کا گناہ بھی تمہارے سر ہوگا۔"

        حضور ﷺ کا یہ گرامی نامہ حضرت حاطب بن ابی بلتعہؓ لے گئے۔ مقوقس عیسائیوں کی مذہبی کتابوں کا گہرا علم رکھنے کی وجہ سے نبی آخر الزماں ﷺ کی نشانیوں سے خوب واقف تھا تاہم اس نے آپ ﷺ کے سفیر کا امتحان لینے کی غرض سے سوال کیا: "کیا تم مانتے ہو کہ تمہارے آقا نبی ہیں؟" حاطبؓ نے جواب دیا: "ہاں بالکل۔"

        وہ بولا: "اگر تمہارے آقا نبی ہیں تو انہیں ان کی قوم نے وطن سے کیسے نکال دیا؟ انہوں نے ان کے خلاف بددعا کیوں نہ کی؟"

        حضرت حاطبؓ فوراً بولے: "کیا تم عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا رسول نہیں مانتے؟"

        مقوقس نے کہا: "کیوں نہیں!"

        حضرت حاطبؓ نے کہا: "تو پھر تمہارے گمان کے مطابق جب ان کی قوم نے انہیں سولی دینے کی کوشش کی تو انہوں نے قوم کی ہلاکت کی بددعا کیوں نہ کی؟"

        مقوقس لاجواب ہوکر بولا: "تم دانا آدمی ہو اور ایک دانا شخصیت کے نمائندے ہو۔"

        اس نے حضور اکرم ﷺ کے گرامی نامے کو چوما اور حضرت حاطبؓ کے ہاتھ ہی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں بطورِ تحائف ایک عمدہ پوشاک، ایک بہترین خچر اور دو باندیاں روانہ کیں۔

کسریٰ پرویز کے نام مکتوبِ گرامی:

        چوتھا مکتوب ایران کے بادشاہ کسریٰ پرویز کے نام تھا جو بڑے رعب و دبدبے کا مالک اور بہت بڑی سلطنت کا مطلق العنان حکمران تھا۔ اس کو حکومت کرتے اڑتیس سال ہونے والے تھے اور اس عرصے میں اس نے ساسانی خاندان کی سطوت و شوکت کو بامِ عروج پر پہنچا دیا تھا۔ اگر ہرقل اس سے رومیوں کے مقبوضہ علاقے واپس نہ لے لیتا تو ایران دنیا کی واحد عالمی طاقت کی حیثیت حاصل کرلیتا۔ تاہم ہرقل سے شکست کھانے کے باوجود ابھی تک کسریٰ کی سلطنت چین کی سرحدوں سے لے کر جزیرۃ العرب کے مشرقی اور جنوبی علاقوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ ادھر یمن بھی تقریباً لگ بھگ نصف صدی سے ایرانی استبداد میں جکڑا ہوا تھا، اس لیے ایرانی حکام عربوں کو اپنا محکوم سمجھتے تھے۔ کسریٰ کے نام مکتوب حضرت عبد اللہ بن حذافہؓ لے کر گئے تھے، جس میں تحریر تھا:

        "بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ محمد رسول اللہ کی طرف سے کسریٰ سربراہِ فارس کے نام! سلامتی ہو اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے، اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس بات کی کہ میں تمام جہان کے لیے اللہ کا رسول ہوں۔ اللہ نے مجھے اس لیے بھیجا ہے کہ میں ہر زندہ انسان کو خبردار کروں۔ اسلام لے آؤ، سلامت رہو گے۔ اگر منہ پھیرو گے تومجوسیوں کی گمراہی کا وبال تمہی پر ہوگا۔"

        کسریٰ پرویز حضور ﷺ کا مکتوب پڑھ کر چراغ پا ہوگیا اور اسے پرزے پرزے کردیا۔ ساتھ ہی اس نے یمن میں اپنے گورنر باذان کو تاکیدی حکم بھیجا کہ وہ نبوت کے اس دعوے دار کو گرفتار کرکے اس کے دربار میں روانہ کردے۔ باذان جانتا تھا کہ حضور ﷺ کس مرتبے کے حامل ہیں مگر اس کا خیال تھا کہ کسریٰ کے حکم کے آگے دنیا کا کوئی بھی حکمران چوں چراں کی جرات نہیں کرسکتا، اس لیے باذان نے فوری طور پر دو نمائندے اور پچیس سپاہی حضور ﷺ کی خدمت میں روانہ کیے۔

        ساتھ ہی حضور ﷺ کے نام یہ پیغام بھی دیا:

        "اگر آپ خوشی خوشی کسریٰ کے پاس چل پڑیں تو میں آپ کو اپنا سفارتی خط لکھ دوں گا جو کام آئے گا اور اگر آپ نے انکار کیا تو کسریٰ آپ کی قوم کو ہلاک اور آپ کے ملک کو تباہ و برباد کردے گا۔"

        یہ گماشتے تیزی سے سفر کرتے ہوئے مدینہ منورہ پہنچے اور حضور ﷺ کو اپنی آمد کا مقصد بتا کر باذان کا پیغام سنایا۔

        حضور اقدس ﷺ نے فرمایا:

        "اگر یہ نبوت کا دعویٰ میں نے اپنی طرف سے کیا ہوتا تو میں ڈر جاتا مگر مجھے تو اللہ تعالیٰ نے اس کام پر لگایا ہے۔"

        حضور ﷺ ایرانی قاصدوں کی لمبی لمبی مونچھیں اور منڈی ہوئی داڑھیوں سے اتنی کراہت محسوس کررہے تھے کہ ان کے چہروں پر نگاہ بھی نہیں ڈال رہے تھے، آخر آپ نے یہ کہہ کر اپنی ناگواری کا اظہار فرمایا:

        "تمہیں کس نے ایسی شکلیں بنانے کا حکم دیا ہے؟" وہ بولے: "ہمارے رب کسریٰ نے۔"

        حضور ﷺ نے پُرجلال انداز میں فرمایا:

    "مگرمجھے میرے رب نے حکم دیا ہے کہ میں مونچھیں کٹاؤں اور داڑھی بڑھاؤں۔"

        حضور اکرم ﷺ نے قاصدوں کو اپنے ہاں ٹھہرایا اور پھر ایک دن انہیں رخصت کرتے ہوئے کہا:

        "جاؤ! اپنے گورنر باذان کو بتا دو کہ گزشتہ شب میرے رب نے تمہارے رب کسریٰ کو ہلاک کردیا ہے۔"

        ایرانیوں نے اس دن کی تاریخ لکھ لی اور بڑی حیرت کے عالم میں واپس روانہ ہوئے۔ اپنے ملک پہنچ کر انہیں پتا چلا کہ سرکارِ مدینہ ﷺ کی بات بالکل درست تھی۔ اسی تاریخ کو کسریٰ پرویز اپنے پایۂ تخت مدائن میں اپنے بیٹے شیرویہ کے ہاتھوں مارا گیا تھا اور ساسانی خاندان کی عظیم سلطنت ہچکولے کھانے لگی۔

نجاشی کے نام مکتوبِ گرامی:

        رحمتِ عالم ﷺ کا پانچواں مراسلہ حبشہ کے نئے بادشاہ نجاشی کے نام تھا جو ربیع الاول 7ھ میں حضرت عمرو بن امیہؓ کے ہاتھ بھیجا گیا۔ گرامی نامہ پڑھ کر نجاشی نے بلا تامل اسلام قبول کرلیا اور کہا:

        "اگر ممکن ہوتا تو میں خود رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضری دیتا۔"

عرب امراء کے نام مراسلے:

        ان بادشاہوں کے علاوہ رحمتِ عالم ﷺ نے جزیرۃ العرب کے کئی خود مختار حکمرانوں کے نام بھی خطوط روانہ کیے جن میں سے بحرین کے حاکم منذر بن ساوٰی، یمامہ کے حاکم حوذہ بن علی، عمان کے امراء عیاذ بن جُلندی اور جیفر بن جلندی قابلِ ذکر ہیں۔ ان میں سے منذر بن ساوی اور عمان کے دونوں حکمران بھائیوں نے اسلام قبول کرلیا۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic