نبیؐ نبیؐ نبیؐ
(جناب عبدالستار بلانی)
گلوں میں ہے شگفتگی، بہار میں ہے تازگی،
فضا میں بھی ہے دلکشی، ہوئی ہے دور تشنگی
اندھیرا سارا چھٹ گیا، بتوں کا راج ہٹ گیا، ہے جب سے آگئے نبیؐ
نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ
حیاتِ جاوداں ملی، متاعِ دو جہاں ملی،
مسرتِ زماں ملی، عذاب سے اماں ملی
خدا کی آئیں رحمتیں، گھروں میں چھائیں برکتیں، ملی جو سنتِ نبیؐ
نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ
یہ کس کا انتظار ہے، مدینہ بیقرار ہے،
ہرایک جاں نثار ہے، کہ آمدِ بہار ہے
مدینہ پہنچے جب نبیؐ زمینِ بطحا جھوم اٹھی، خوشی میں نعت یوں پڑھی
نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ
حبش کا ایک بلالؓ تھا، جو پیکرِ جمال تھا،
وفاء میں بے مثال تھا، مگر ستم کی ڈھال تھا
جفا کے ہاتھ تھک گئے، بدن کے زخم پک گئے، مگر یہی صدا رہی
نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ
وہ خوبیوں کے آسماں، وہ غمگسارِ ناتواں،
وہی ہیں لاجِ آشیاں، وہی ہیں سب کے مہرباں
بروزِ حشر امتی، کہیں گے یہ خوشی خوشی وہ دیکھوآگئے نبیؐ
نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ
عمرؓ چلے بہن کے گھر، اُتارنے کو، اُن کا سر،
پڑی کتاب پر نظر، تو کہہ پڑے یہ سر بسر
پڑھاؤ مجھ کو بھی وہی، جو پڑھ رہے تھے تم ابھی صدائے دل ہے اب یہی
نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ
ہے آپؐ کی ہر اک ادا، کمالِ مرضیِ خدا،
علامتِ رہِ ہدیٰ عجب ہے، شانِ مرحبا
کہو بلالی یہ حزیں، نبیؐ کے حق میں بالیقیں، کہ بعدِ رب ہیں آپ ہی
نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ نبیؐ
نعت شریف👇

