Wazu ke Mutafarriq Masail aur Quran Chune ke Ahkam

سوال: کیا قہقہہ لگا نے سے وضو ٹوٹن جاتا ہے؟

جواب: 

        اگر نماز میں اتنی زور سے ہنسی نکل گئی کہ اس نے خود نے بھی اپنی آواز سن لی اور اس کے پاس والے نے بھی سن لی اس سے بھی وضوٹوٹ گیا۔ اور نماز بھی ٹوٹ گئی۔

· اور اگر ایسا ہو کہ اپنے کو تو آواز سنائی دے وے مگر سب پاس والےنہ سن سکیں اگرچہ بہت ہی پاس والا سن لے اس سے نماز ٹوٹ جاوے گی وضو نہ ٹوٹے گا۔

اور اگر ہنسی میں فقط دانت کُھل گئے، آواز بالکل نہیں نکلی تو نہ وضو ٹوٹا نہ نماز گئی ۔

البتہ اگر چھوٹی لڑکی جو ابھی جوان نہ ہوئی ہو زور سے نماز میں ہنسے یا سجدۂ تلاوت میں بڑی عورت کو ہنسی آوے تو وضو نہیں جاتا، ہاں وہ سجدہ اور نماز جاتی رہے گی، جس میں ہنسی آئی ہے۔


وضو کے چند متفرق مسائل مسئلہ:

 وضو کے بعد ناخن کٹائے یا زخم کے اوپر کی مردار کھال نوچ ڈالی تو وضو میں کوئی نقصان نہیں آیا نہ تو وضو کے دوہرانے کی ضرورت ہے اور نہ اتنی جگہ کے پھر تر کرنے کا حکم ہے۔

· وضو کے بعد کسی کا ستر دیکھ لیا یا اپنا ستر کُھل گیا یا برہنہ ہوکر نہایا اور برہنہ ہی وضو کیا تو اس کا وضو درست ہے پھر وضو دوہرانے کی ضرورت نہیں ہے، البتہ بدون لاچاری کے کسی کا ستر دیکھنا یا اپنا دکھلانا گناہ کی بات ہے۔

· جس چیز کے لگنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے وہ چیز نجس ہوتی ہے اور جس سے وضو نہیں ٹوٹتا وہ نجس بھی نہیں تو اگر ذرا سا خون نکلا کہ زخم کے منہ سے بہا نہیں یا ذراسی قے ہوئی ،بھر بند نہیں ہوئی اوراس میں کھانا، یا پانی ، یاپت، یا جما ہوا خون نکلا تو یہ خون اوریہ قے نجس نہیں ہے، اگر کپڑے یا بدن میں لگ جاوے اس کا دھونا واجب نہیں۔

· اوراگرمنہ بھرقے ہوئی اور خون زخم سے بہ گیا تو وہ نجس ہے اس کا دھونا واجب ہے اوراگر اتنی قے کرکے کٹورے یا لوٹے کو منھ لگا کرکے کلی کے واسطے پانی لیا تو وہ برتن ناپاک ہوجاوے گا، اس لیے چلّو سے پانی لینا چاہئے۔

· چھوٹا لڑکا جو دودھ  ڈالتا ہے،اس کا بھی یہی حکم ہے کہ اگر بھر منھ نہ ہو تو نجس نہیں ہے ۔

· اوراگرمنہ بھر ہو تو نجس ہے اگر بغیر اس کے دھوئے نماز پڑھے گی تو نماز نہ ہوگی ۔

· اگر وضو کرنا تو یاد ہے اور اس کے بعد وضو ٹوٹنا اچھی طرح یاد نہیں کہ ٹوٹا ہے یا نہیں ٹوٹا تو اس کا وضو باقی سمجھا جائے گا ، اس سے نماز درست ہے لیکن پھر بھی وضو کرلینا بہتر ہے۔

جس کو وضو کرنے میں شک ہوا ہو کہ فلاں عضو دھویا یا نہیں تو وہ عضو پھر دھولینا چاہئے اور اگر وضو کرچکنے کے بعد شک ہوا تو کچھ پرواہ نہ کرے وضو ہوگیا ، البتہ اگر یقین ہوجاوے کہ فلانی بات رہ گئی ہے تو اس کو کرلیوے۔

· بے وضو قرآن مجید کا چھونا درست نہیں ہے ہاں اگر ایسے کپڑے سے چھو لے جو بدن سے جُدا ہو تو درست ہے، دو پٹہ، یا کُرتے کے دامن سے جبکہ اُس کو پہنے اوڑھے ہوئے ہو چُھونا درست نہیں ، ہاں اگر اترا ہوا ہو تو اس سے چھونا درست ہے، اور زبانی پڑھنا درست ہے، اور اگر کلام مجید کھلا ہوا رکھا ہے اور اس کو دیکھ دیکھ کر پڑھا لیکن ہاتھ نہیں لگایا یہ بھی درست ہے، اسی طرح بے وضو ایسے تعویذ اور ایسی طشتری کا چھونا بھی درست نہیں ہے، جس میں قرآن کی آیت لکھی ہو۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic