سوال: آنکھ، کان کے دانہ سے نکلنے والے خون اور پیپ کا حکم کیا ہے؟
جواب :
کسی کی آنکھ کے اندر کوئی دانہ وغیرہ تھاوہ ٹوٹ گیا، یا خود اس نے توڑ دیا اوراس کا پانی بہہ کرآنکھ میں تو پھیل گیا لیکن آنکھ کے باہر نہیں نکلا، تواس کا وضو نہیں ٹوٹا،
· اور اگر آنکھ کے باہر پانی نکل پڑا تو وضوٹوٹ گیا۔
· اسی طرح اگر کان کے اندر دانہ ہو اور ٹوٹ جائے، تو جب تک خون پیپ سوراخ کے اندر اس جگہ تک رہے جہاں پانی پہنچانا غسل کرتے وقت فرض نہیں ہے ، تب تک وضو نہیں جاتا،
· اور جب ایسی جگہ پر آجاوے جہاں پانی پہنچانا فرض ہے تو وضو ٹوٹ جاوے گا۔
سوال: زخم سے نکلنے والا خون اور پیپ کا کیا حکم ہے؟
جواب:
کسی نے اپنے پھوڑے یا چھالے کے اُوپر کا چھلکا نوچ ڈالا اور اس کے نیچے خون یا پیپ دکھائی دینے لگا لیکن وہ خون پیپ اپنی جگہ پر ٹھیرا ہے کسی طرف نکل کے بہا نہیں تو وضو نہیں ٹوٹا۔
· اور جو بہ پڑا تو وضو ٹوٹ گیا۔
· کسی کے پھوڑے میں بہت بڑا گھاؤ ہوگیا ، تو جب تک خون پیپ اس گھاؤ کے سوراخ کے اندر ہی اندر ہے، باہر نکل کر بدن پر نہ آوے اس وقت تک وضو نہیں ٹوٹتا۔
· اگر پھوڑے پھنسی کا خون اپنے آپ سے نہیں نکالا بلکہ اس نے دبا کے نکالا ہے تب بھی وضوٹوٹ جاوے گا ، جبکہ وہ خون بہہ جائے ۔
سوال: کیا مچھر، مکھی اورکھٹمل کے خون پینے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ؟
جواب :
مچھر بکھی کھٹمل نے خون پیا تو وضو نہیں ٹوٹا۔
سوال: کیا تھوک میں خون نکل آیا تو وضو ٹوٹ جاتا ہے ؟
جواب:
کسی کے تھوک میں خون معلوم ہوا تو اگر تھوک میں خون بہت کم ہے، اور تھوک کا رنگ سفیدی یا زردی مائل ہے تو وضو نہیں گیا، اور اگر خون زیادہ یا برابر ہے اور رنگ سرخی مائل ہے تو وضو ٹوٹ گیا۔
· اگر دانت سے کوئی چیز کاٹی اور اس چیز پر خون کا دھبہ معلوم ہوا، یا دانت میں خلال کیا،اور خلال میں خون کی سرخی دکھائی دی لیکن تھوک میں بالکل خون کا رنگ معلوم نہیں ہوتا تو وضو نہیں ٹوٹا ۔
سوال : کیا خون کپڑے سے پونچھ لینے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
جواب :
کسی کے زخم سے ذرا ذرا خون نکلنے لگا اس نے اس پر مٹی ڈال دی یا کپڑے سے پونچھ لیا پھر ذرا سا نکلا ، پھر اس نے پونچھ ڈالا ، اسی طرح کئی دفعہ کیا کہ خون بہنے نہ پایا تو دل میں سوچے اگر ایسا معلوم ہوکہ اگر پونچھا نہ جاتا تو بہ پڑتا تو وضو ٹوٹ جائے گا اور اگر ایسا ہو کہ پونچھا نہ جاتا تب بھی نہ بہتا تو وضو نہ ٹوٹے گا۔

