Zakam ki Patti aur Takhti par Masah karne ke Sharai Masail

سوال : زخم یا پٹی پر مسح کرنا کیسا ہے ؟

جواب :

         اگر ہاتھ یا پاؤں وغیرہ میں کوئی پھوڑا ہے یا اور کوئی ایسی بیماری ہے کہ اس پر پانی ڈالنے سے نقصان ہوتا ہے تو پانی نہ ڈالے وضو کرتے وقت صرف بھیگا ہاتھ پھیرلیوے اس کو مسح کہتے ہیں اوراگر یہ بھی نقصان کرے تو ہاتھ بھی نہ پھیرے اُتنی جگہ چھوڑ دے۔

        اگر زخم پر پٹی بندھی ہو اور پٹی کھول کر زخم پر مسح کرنے سے نقصان ہو یا پٹی کھولنے باندھنے میں بڑی دقت اور تکلیف ہو تو پٹی کے اوپر مسح کرلینا درست ہے، اور اگر ایسا نہ ہو تو پٹی پر مسح کرنا درست نہیں، پٹی کھول کر زخم پر مسح کرنا چاہئے۔

        اگر پوری پٹی کے نیچے زخم نہیں ہے تو اگر پٹی کھول کر زخم کو چھوڑ کر اور سب جگہ دھوسکے تو دھونا چاہئے ، اور اگر پٹی نہ کھول نہ سکے تو ساری پٹی پر مسح کرلیوے جہاں زخم ہے وہاں بھی اور جہاں زخم نہیں ہے وہاں بھی۔




سوال : ٹکھٹی اور فصد کی پٹی پر مسح کرنے کیا حکم ہے؟

جواب: 

         ہڈی کے ٹوٹ جانے کے وقت جو بانس کی کھپچیاں رکھ کر ٹکھٹی بناکر باندھتے ہیں اس کا بھی یہی حکم ہے کہ جب تک ٹکھٹی نہ کھول سکے ٹکھٹی کے اوپر ہاتھ پھیر لیا کرے، اور فصد کی پٹی کا بھی یہی حکم ہے کہ اگر زخم کے اوپر مسح نہ کرسکے تو پٹی کھول کر کپڑے کی گدی پر مسح کرے اور اگر کوئی کھولنے باندھنے والا نہ ملے تو پٹی ہی پر مسح کرلے۔

· ٹکھٹی اور پٹی وغیرہ میں بہتر تو یہ ہے کہ ساری ٹکھٹی پر مسح کرے اور اگر ساری پر نہ کرے آدھی سے زائد پر کرے تو بھی جائز ہے اگر فقط آدھی یا آدھی سے کم پر کرے تو جائز نہیں ۔

· اگر ٹکھٹی یا پٹی کُھل کر گرپڑے اور زخم ابھی اچھا نہیں ہوا تو پھر باندھ لیوے اور وہی پہلامسح باقی ہے پھر مسح کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور اگر زخم اچھا ہوگیا کہ اب باندھنے کی ضرورت نہیں تو مسح ٹوٹ گیا،اب اتنی جگہ دھوکر نماز پڑھے، سارا وضو دُہرانا ضروری نہیں ہے۔


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic