Hurmuzán, Ma'raka-e-Tustar aur Jabala bin Ayham ka Ibratnaak Anjam

ہُرْمُزان...... معرکہ تُسْتَر

        اب مشرق میں غازیانِ اسلام عراق کی حدود سے نکل کر فارس کے میدانوں میں شہسواری کر رہے تھے۔ ایرانیوں کا صرف ایک شہزادہ تھا جو شروع سے لے کر اب تک مسلمانوں سے نبرد آزما تھا۔ اس کا نام ہُرْمُزان تھا جس کی عیاری، جنگجوئی اور سفاکی کا مسلمانوں کو بارہا تجربہ ہو چکا تھا۔ وہ یَزْدَ گَرْد کے پاس جو ’’رے‘‘ میں ٹھہرا ہوا تھا، حاضر ہوا اور درخواست کی: ’’اگر آپ خوزستان اور فارس کی حکومت میرے سپرد کر دیں تو میں مسلمانوں کے طوفان کو روک لوں گا۔‘‘ یَزْدَ گَرْد نے فوراً حامی بھر لی، جس کے بعد ہرمزان نے خوزستان میں قلعہ بندی کر کے زبردست فوج جمع کر لی۔


        حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی طرف سے اس کے مقابلے کے لیے حضرت عُتبہ بن غَزوانؓ  مقرر تھے، جن کی کمک کے لیے بعد میں حضرت نُعیم بن مسعود، حضرت نُعیم بن مُقرِّن اور حضرت حَرْمَلَہ بن مُرَیْطَہؓ جیسے صحابہ کرام بھی پہنچ گئے۔ ان حضرات نے نہر ’’تِیْرٰی‘‘ کے کنارے ہرمزان کو جالیا اور ایک خونریز جنگ کے بعد اسے شکست دے دی۔ ہرمزان جان بچا کر ’’اہواز‘‘ جا پہنچا مگر اسے خطرہ تھا مسلمان اس سے یہ علاقہ بھی چھین سکتے ہیں چنانچہ اس نے امیر لشکر عتبہ بن غزوانؓ سے اس شرط پر صلح کر لی کہ ’’اہواز‘‘ کا علاقہ اس کے پاس رہنے دیا جائے گا۔ حضرت عمر فاروقؓ نے اس صلح کی منظوری دے دی۔ یوں چند ماہ تک کے لیے ہرمزان مسلمانوں کے حملے سے بے فکر ہو گیا۔ اس دوران وہ اپنی طاقت بڑھاتا رہا اور آخر مسلمانوں سے کچھ انتظامی معاملات میں اختلاف کو بہانہ بنا کر اس نے اعلان جنگ کر دیا، کسریٰ کے ہزاروں منتشر سپاہی اور ہزاروں پرجوش مجوسی اس کے گرد جمع ہو گئے۔

        حضرت عمر فاروقؓ کو اس کی سرگرمیوں کا پتا چلا تو آپ نے فوری طور پر اس کے تدارک کی طرف توجہ دی کہ کہیں دوسرے مفتوحہ علاقوں میں بھی اس کے منفی اثرات نہ پھیل جائیں۔ آپ نے اس مہم میں عتبہ بن غزوانؓ کی کمک کے لیے حُرقوص بن زُہیر کی کمان میں تازہ دم فوج روانہ کی جس نے ’’بازارِ اہواز‘‘ کے پل کے پار اتر کر ہرمزان سے ٹکر لی۔ ہرمزان شکست کھا کر بھاگا اور ’’رام‘‘ میں جا کر پناہ لی، اب اس نے ایک بار پھر صلح کی درخواست کی۔ حضرت عمر فاروقؓ سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے ایک بار پھر فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہرمزان کی درخواست قبول کر لی۔

        کچھ ہی مدت گزری تھی کہ یزدگرد کی ترغیب پر ہرمزان ازسرنو مسلمانوں کے خلاف صف بندی میں مصروف ہو گیا۔ حضرت عمر فاروقؓ نے حضرت سعدؓ اور بصرہ کے گورنر حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کو اس کی روک تھام کرنے اور لشکر کا امیر حضرت نعمان بن مقرنؓ کو بنانے کا حکم بھیجا، ساتھ ہی نام لے کر جلیل القدر صحابہ کو ان کا ساتھ دینے کی تاکید کی، اس طرح اس لشکر میں حضرت نعمان بن مقرن اور حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کی کمان میں حضرت جریر بن عبداللہ بجلی، حضرت براہ بن عازب، حضرت انس بن مالک اور ان کے چھوٹے بھائی حضرت براء بن مالکؓ جیسے حضرات جمع ہو گئے۔ اہواز کے قریب ’’اَرْبُک‘‘ کے مقام پر کھلے میدان میں زبردست جنگ ہوئی اور ہرمزان پسپا ہو کر تُسْتَر میں قلعہ بند ہو گیا۔

        اسلامی فوج ایک ماہ تک ’’تُسْتَر‘‘ کی فلک بوس فصیل کا محاصرہ کیے رہی، دونوں طرف سے پتھروں اور تیروں کی بارش ہوتی رہی، ہرمزان وقفے وقفے سے تھوڑی تھوڑی فوج کے ذریعے مسلمانوں پر تند و تیز حملے کرتا رہا تھا اور انہیں شدید زک پہنچاتا تھا، مگر ہار جیت کا فیصلہ نہ ہو سکا۔ دونوں طرف سے کئی کئی ایکا ایکی مقابلے بھی ہوئے۔ حضرت براء بن مالک، مُجْزَاۃ بن ثَوْر، حضرت رِبْعی بن عامرؓ اور حضرت کعب بن سورؒ جیسے بہادروں نے ایسے مقابلوں میں ایک سو ایرانی سورماؤں کو موت کے گھاٹ اتارا۔

        ایک شب ایرانی فصیل سے نکل کر اچانک مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے۔ مسلمان ان کے دباؤ کی وجہ سے درہم برہم ہونے لگے۔ اچانک کسی کو حضرت براء بن مالکؓ کا خیال آیا جو بہادری اور طاقت کے علاوہ دعا کی قبولیت کے لیے بھی مشہور تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ’’بعض خستہ حال گرد آلود ایسے ہوتے ہے کہ اللہ کی قسم کھا کر کوئی بات کہہ دیں تو اللہ تعالیٰ اسے کر دکھاتا ہے۔ براء بن مالک بھی ایسے ہی ہیں۔‘‘

        انہی کی جانبازی کی بدولت مسلمانوں نے جنگِ یمامہ میں مسیلمہ کذاب کے حصار میں گھس کر اس کا قصہ پاک کیا تھا۔ مسلمانوں نے انہیں پکار کر کہا: ’’براء! آج تو اللہ کی قسم کھالو کہ اللہ دشمنوں کو شکست دے۔‘‘

        حضرت براءؓ بولے: ’’یا اللہ! آج تجھے قسم ہے ہمیں دشمنوں پر غالب کر دے اور مجھے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا دے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ آندھی کی طرح ایرانیوں پر حملہ آور ہوئے، دوسرے مسلمانوں نے بھی ان کے پیچھے زور دار حملہ کیا اور انہیں دھکیلتے ہوئے خندق پار کر کے فصیل تک پہنچا گئے۔

        اس دوران شہر والوں میں سے کسی نے مسلمانوں کو شہر میں داخل ہونے کا ایک خفیہ راستہ بتا دیا۔ یہ ایک چھوٹی سی نہر تھی جس سے شہر میں پانی داخل ہوتا تھا، کچھ مسلمان تیر کر اس کے ذریعے فصیل کے اندر چلے گئے اور پہرے داروں پر قابو پا کر دروازے کھول ڈالے۔ یہ فجر کا وقت تھا، سورج طلوع ہونے تک شہر فتح ہو چکا تھا، اس دوران ہرمزان قلعہ میں گھس گیا اور وہاں سے مسلمانوں کو تیروں کا نشانہ بنا رہا تھا۔

        حضرت براء بن مالکؓ قلعہ پر حملہ آور ہوئے تو ہرمزان نے انہیں شہید کر ڈالا۔ حضرت مجْزَاۃ بن ثَوْرؓ بھی اسی طرح قلعہ میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران ہرمزان کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔

        آخر میں ہرمزان نے پکار کر کہا: ’’میرے ترکش میں سو تیر باقی ہیں۔ مجھ تک پہنچنے سے پہلے تمہاری سو لاشیں گریں گی۔ ہاں اگر تم مجھے عمر فاروقؓ کے پاس زندہ سلامت لے جانے کا وعدہ کر دو تو میرے بارے میں وہ جو فیصلہ کریں گے مجھے منظور ہوگا۔‘‘

        مسلمانوں نے وعدہ کر لیا اور ہرمزان نے ہتھیار ڈال دیے۔ راجح قول کے مطابق یہ واقعہ ۲۰ھ کا ہے۔ اسے مدینہ منورہ لے جا کر حضرت عمر فاروقؓ کی خدمت میں پیش کر دیا گیا۔

        امیر المؤمنین اس وقت مسجد میں زمین پر سورہے تھے۔ کوئی دربان تھا نہ پہرہ۔ ہرمزان پوچھنے لگا: ’’تمہارے امیر کہاں ہیں؟‘‘ اسے بتایا گیا: ’’یہی تو ہیں۔‘‘

        حیران ہو کر بولا: ’’ان کے دربان اور محافظ کہاں گئے؟‘‘ بتایا گیا: ’’وہ دربان یا محافظ نہیں رکھتے۔‘‘

        اس دوران حضرت عمرؓ  بیدار ہو گئے۔ ہرمزان شہزادہ تھا، اپنا ریشمی لباس اور تاج پہنے ہوئے تھا۔ حضرت عمر فاروقؓ کے حکم سے اسے عام کپڑے پہنا کر سامنے لایا گیا۔ حضرت عمرؓ نے اسے عار دلاتے ہوئے کہا: ’’ہرمزان! بد عہدی کا انجام اور اللہ کا فیصلہ دیکھ لیا۔‘‘

        وہ خوشامدانہ انداز میں بولا: ’’زمانہ جاہلیت میں خدا نے ہمیں موقع دیا تھا، ہم غالب رہے، اب خدا آپ کے ساتھ ہو گیا، آپ غالب آگئے۔‘‘

        حضرت عمرؓ نے فرمایا: ’’دراصل اس زمانے میں تم اس لیے ہم پر مسلط رہے کہ تم متحد تھے اور ہم منتشر۔‘‘

        حضرت عمرؓ نے اس کے متعلق انس بن مالکؓ سے پوچھا: آپ کیا کہتے ہیں؟ (قتل کیا جائے یا نہیں) ہرمزان اگرچہ انسؓ کے بھائی براء بن مالکؓ کا قاتل تھا مگر انسؓ نے انتہائی وسعت ظرفی کا ثبوت دیتے ہوئے کہا: ’’امیر المؤمنین! آپ اسے قتل کر دیں گے تو اس کی قوم کے لوگ زندگی سے مایوس ہو جائیں گے۔‘‘ حضرت عمرؓ نے کہا: ’’انس! میں براء اور مجزاہؓ کے قاتل کو کیسے چھوڑ دوں!‘‘

        اس دوران ہرمزان نے پانی مانگا۔ پانی لایا گیا تو وہ بولا: ’’ڈرتا ہوں کہ پانی پینے لگوں تو آپ اس دوران مجھے قتل کروا دیں۔ـ''آپؓ نے فرمایا: ’’لاَ بَاْسَ عَلَیْکَ حَتّٰی تَشْرَبَہٗ۔‘‘ (جب تک تم پانی نہ پی لو مأمون ہو۔)

        یہ سنتے ہی اس نے  پیالہ گرا دیا اور بولا: ’’اب تو آپ نے جان بخشی کر دی۔‘‘

        حضرت عمر فاروقؓ نے انکار کیا کہ میرا یہ مطلب نہ تھا مگر خود حضرت انس بن مالکؓ نے عرض کیا: ’’اب اس کے قتل کی کوئی گنجائش نہیں، آپ نے اسے لا باس کہہ دیا ہے۔‘‘

        حضرت عمرؓ نے فرمایا: ’’اس مسئلے پر کوئی اور بھی تمہارے ساتھ گواہی دینے والا ہے۔‘‘

        حضرت انسؓ جا کر حضرت زبیرؓ کو لے آئے۔ انہوں نے تائید کی کہ لا بأس کہنے سے جان بخشی ثابت ہو جاتی ہے۔ ذاتی طور پر حضرت عمر فاروقؓ ہرمزان کو جو حضرت براء بن مالکؓ جیسے صحابی کا قاتل تھا اس طرح چھوڑنے  پر آمادہ نہ تھے، مگر جب دیگر حضرات نے بھی حضرت انسؓ کی تائید کی تو آپؓ نے ہرمزان سے فرمایا: ’’دیکھو! میں دھوکے میں آنے والا آدمی نہیں ہوں، ہاں، تم اسلام لے آؤ تو اور بات ہے۔‘‘

        ہرمزان نے فوراً اسلام لانے پر آمادگی ظاہر کر دی۔ حضرت عمرؓ خوش ہوئے اور اسے انعام کے طور پر دو ہزار درہم اور مدینہ میں ایک مکان بھی دے دیا۔

غسانی شہزادہ...... جَبَلَہ بن اَیْہَم:


        انہی دنوں ایک یمنی شہزادہ جَبَلَہ بن اَیْہَم بھی مشرف بہ اسلام ہوا تھا، یہ شام میں بسنے والے عرب عیسائیوں کے قبیلے بنو غسان کا سرکردہ فرد اور شاہی خانوادے کا آخری شہزادہ تھا۔ یرموک کی جنگ میں رومیوں کا سالار بھی رہا تھا۔ ایک مدت تک مسلمانوں سے برسرِ  پیکار رہنے کے بعد آخر اس نے اسلام قبول کرلیا اور اپنے ساتھیوں، محافظوں اور غلاموں کے ساتھ مدینہ منورہ آیا۔اس کی شان و شوکت دیکھ کر لوگوں کو تعجب ہو رہاتھا۔ یہ سنہ ۱۶ ہجری کا واقعہ ہے۔

        امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقؓ نے اس کی حوصلہ افزائی کی اور وہ مسلم معاشرے کا ایک حصہ بن گیا۔ مگر جاہلیت کا فخر و غرور اب تک اس کی رگوں میں رچا بسا تھا چنانچہ وہ حج کے لیے مکہ گیا تو وہاں طواف کے دوران بنو فزارہ کے ایک شخص کا پاؤں اس کے احرام کی چادر پر اس طرح پڑا کہ بدن کھل گیا۔ جبلہ نے غصے سے بے قابو ہو کر اسے ایسا طمانچہ رسید کیا کہ اس کی ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی، مظلوم نے حضرت عمرؓ سے فریاد کی، آپ نے جبلہ کو بلوا کر معاملہ دریافت کیا۔اس نے جواب دیا: ’’ہاں، امیر المؤمنین! میں نے ایسا کیا ہے اور اگر کعبہ کی حرمت کا پاس نہ ہوتا تو میں اپنی تلوار سے اس کا سر  اتار دیتا۔‘‘ حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا:

        ’’تم نے اپنے جرم کا اقرار کر لیا ہے، اب یا تو اس فریادی کو کسی طرح راضی کرو، ورنہ مجھے تم سے بدلہ لینا ہو گا۔‘‘

        جبلہ اپنی خاندانی وجاہت اور مرتبے کی وجہ سے یہ تصور کیے بیٹھا تھا کہ وہ قانون سے بالاتر شمار ہو گا، اس لیے یہ سن کر ششدر رہ گیا اور بولا: ’’یہ کیسے ہو سکتا ہے!! میں شہزادہ ہوں اور وہ عام آدمی!

         آپؓ نے فرمایا: ’’اسلامی شرع کے لحاظ سے تم دونوں یکساں ہو۔

        وہ بھنا کر بولا: ’’میں تو سمجھتا تھا کہ مسلمان ہو کر میں زیادہ معزز بن جاؤں گا۔

         حضرت عمر فاروقؓ نے جواب دیا: ’’جو تم دیکھ رہے ہو وہی عزت ہے۔ اب تم اس  کا قصاص دو یا فریادی کو راضی کر لو۔

        جبلہ نے کہا: ’’اگر یہ بات ہے تو میں دوبارہ عیسائی ہو جاؤں گا۔

        حضرت عمرؓ نے فرمایا: ’’اگر ایسا کرو گے تو اسلام سے برگشتہ ہونے کی پاداش میں قتل کر دیے جاؤ گے۔

        جبلہ سمجھ گیا کہ حضرت عمر فاروقؓ قانون اور انصاف کے تقاضے پورے کیے بغیر اسے نہیں چھوڑیں گے تو اس نے حیلہ جوئی کا راستہ اپناتے ہوئے سوچ بچار کے لیے ایک دن کی مہلت مانگی، جو حضرت عمرؓ نے عنایت کر دی۔ جبلہ اسی رات اپنے ساتھیوں سمیت کوچ کر گیا۔

        جبلہ نے وہاں سے سیدھا ہرقل کے پاس قسطنطنیہ جاکر دم لیا اور عیسائی ہونے کا اعلان کر دیا۔ ہرقل نے اسے جاگیریں دے کر فکرِ معاش سے بے فکر کر دیا۔ جبلہ نے باقی زندگی وہیں عیش و عشرت میں گزاری۔ اسے حضرت حسان بن ثابتؓ کے وہ اشعار بہت پسند تھے جو انہوں نے زمانۂ جاہلیت میں آل غسان کے عروج کے متعلق کہے تھے۔ اپنا غم بھلانے کے لیے وہ یہ اشعار سنتا رہتا تھا۔ ساتھ ہی کبھی وہ حسانؓ کے وہ اشعار بھی یاد کرتا جس میں اس خاندان کے زوال کا نقشہ کھینچا گیا تھا۔


        اپنی ریاست اجڑ جانے کا غم اسے دکھی کر دیتا تھا۔ مگر اس سے کہیں بڑھ کر اللہ کے سچے دین کو ترک کرنے کی خلش کانٹے کی طرح اس کے دل میں چبھتی رہی۔ وہ خود بھی بڑا شاعر تھا۔جب اسے مسلمانوں کےمعاشرے میں گزارے گئے دن یاد آتے تو رنج و غم میں ڈوب کر بڑے الم انگیز اشعار کہتا۔ حضرت عمرؓ نے ایک بار جثّامہ  بن مُساحِق کو قیصرِ ہرقل کے پاس اپنا سفیر  بناکر بھیجا، ہرقل نے ملاقات اور ضروری گفتگو کے بعد انہیں کہا کہ تم جبلہ سے بھی مل لو۔

         جثّامہ  بن مُساحِق  جب جبلہ کے قصر پر پہنچے تو دیکھا اس کی شان و شوکت قیصر سے کم نہیں۔ جبلہ نے ان کی اچھی طرح خاطر تواضع کی۔ پھر محفل آراستہ کر کے انہیں حسان بن ثابتؓ کے بہت سے اشعار سنوائے۔ اس کے بعد حسانؓ کا حال احوال پوچھا: جثّامہ  بن مُساحِق  نے کہا: ’’وہ بہت بوڑھے ہو چکے ہیں۔ بینائی بھی جواب دے چکی ہے۔‘‘

جبلہ خاموش ہو گیا اور پھر اپنی حالت پر یہ اشعار پڑھے:

تَنَصَّرَتِ الْاَشْرَافُ مِنْ اَجْلِ لُطْمَةٍ
وَمَا کَانَ فِیْہَا لَوْ صَبَرْتُ لَھا ضَرَر
شرفاء صرف ایک تھپڑ سے بچنے کی خاطر نصرانی بن گئے،
حالانکہ اگر میں اسے برداشت کر لیتا تو اس میں کچھ نقصان نہ ہوتا۔

تَکَنَّفَنِی فِیْھا لَجَاجٌ وَّ نَخْوَةٌ
وَبِعْتُ لَھا الْعَیْنَ الصَّحِیْحَةَ بِالْعَوَر
مجھے اس معاملے میں ضد اور تکبر نے جکڑ لیا،
اور میں نے صحیح و سالم آنکھ (اسلام) کو بے نور آنکھ (عیسائیت) کے بدلے بیچ ڈالا۔

فَیَا لَیْتَ اُمِّی لَمْ تَلِدْنِی وَ لَیْتَنِی
رَجَعْتُ اِلَی الْقَوْلِ الَّذِی قَالَہ عُمَرُ
اے کاش! کہ میری ماں مجھے نہ جنتی،
اور اے کاش! میں اس بات کی طرف لوٹ سکتا جو عمر ؓنے کہی تھی۔

وَیَا لَیْتَنِی اَرْعَی الْمَخَاضَ بِقَفْرَةٍ
وَکُنْتُ اَسِیْرًا فِی رَبِیْعَةَ اَوْ مُضَر
اے کاش! کہ میں کسی جنگل میں اونٹنیاں چراتا رہتا
اور ربیعہ یا مُضر (کی کسی جنگ) میں قیدی بن جاتا۔

وَیَا لَیْتَنِی بِالشَّامِ اَدْنٰی مَعِیْشَةٍ
اُجَالِسُ قَوْمِی ذَاھِبَ السَّمَّةِ وَالْبَصَرِ
اے کاش! کہ شام میں میرے پاس معمولی گزر بسر کا سامان ہوتا
اور میں اندھا بہرا ہو کر ہی سہی، اپنی قوم کی ہم نشینی کر سکتا۔

        پھر جبلہ پر رقت طاری ہو گئی اور وہ منہ پر ہاتھ رکھ کر زار و قطار رونے لگا۔ جب کچھ سنبھلا تو حسان بن ثابتؓ کے لیے ایک ہزار اشرفیاں اور گندم سے لدی بہت سی اونٹنیاں تیار کرنے کا حکم دیا اور سفیر کو کہا: ’’حسان کو میرا سلام کہہ کر یہ انہیں دے دینا۔ اگر وہ فوت ہو چکے ہوں تو رقم ان کے ورثاء کے سپرد کر دینا اور اونٹنیاں ان کی قبر پر قربان کر دینا۔‘‘

        دورانِ گفتگو سفیر نے جبلہ کو اسلام لانے کی ترغیب دی مگر وجاہت اور منصب کی حرص اس سعادت میں آڑے آئی۔ واپس آ کر سفیر نے حضرت عمرؓ کو جبلہ سے ملاقات کا حال سنایا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا:

’’اس نے جلد بازی کی۔ فانی دنیا کو ابدی آخرت پر ترجیح دی۔ پس اس کی تجارت نفع بخش نہ ہوئی۔‘‘

        پھر حضرت عمرؓ نے حسان بن ثابتؓ کو بلوایا۔ انہوں نے آتے ہی فرمایا: ’’امیر المؤمنین! آل جفنہ کی بُو آرہی ہے۔‘‘ حضرت عمرؓ نے فرمایا: ’’ہاں یہ صاحب ان کے ہاں سے ہو کر آئے ہیں۔‘‘

        حسان بن ثابتؓ نے فوراً کہا: ’’لا وَان کا ہدیہ۔ میں نے زمانہ جاہلیت میں ان کی مدح سرائی کی تھی جس پر انہوں نے قسم کھائی تھی کہ انہیں جب کبھی میرا کوئی واقف کار ملے گا تو اس کے ہاتھ مجھے ہدیہ ضروربھیجیں گے۔‘‘

        جبلہ حضرت معاویہؓ کے دورِ خلافت تک زندہ رہا۔ ۳۳ھ میں اس نے حضرت معاویہؓ کو  پیغام بھیجا کہ اگر دمشق کے نواحی قصبے غوطہ میں واقع آل غسان کا آبائی محل اور زمینیں اس کے نام کر دیے جائیں تو وہ واپس شام آجائے گا۔ حضرت معاویہؓ نے (اس کے اسلام لانے کی امید پر) یہ وعدہ کرلیا۔ مگر حضرت معاویہؓ کے سفیر عبداللہ بن مسعدہؓ جب یہ  پیغام لے کر قسطنطنیہ  پہنچے تو آل غسان کے اس آخری شہزادے کی آخری رسومات ادا کی جارہی تھیں۔

        نہایت عبرت کا مقام ہے کہ ایک شخص حق کو پہچان کر اس سے برگشتہ ہو گیا۔ اسلام میں داخل ہو کر پھر اس نعمتِ عظمیٰ سے محروم ہو گیا۔نخوت اور تکبر نے اسے اس حال تک پہنچایا۔اسی لیے تکبر کو ’’اُمّالامراض‘‘ کہا جاتا ہے۔

        یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اہلِ حق کا ساتھ چھوڑ کر اس نے ہر قسم کا اسباب عیش و آرام جمع کرلیا مگر پھر بھی عمر بھر اسے دلی سکون نصیب نہ ہوا۔ جان بوجھ کر اہل حق کا ساتھ چھوڑنے والوں کا یہی حشر ہوتا ہے۔ یہ بھی دیکھیے کہ اسے رجوع اور توبہ کے لیے طویل مدت ملی مگر وہ افسوس ہی کرتا رہا اور توبہ نہ کی۔ یہ شیطان کا بہت بڑا دھوکہ ہے۔ فقط افسوس کچھ کام نہیں آتا۔ جب انسان پر اپنی غلطی ظاہر ہو جائے تو اسے رجوع، انابت اور توبہ میں بالکل دیر نہیں کرنی چاہیے۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic