سلطنتِ روما اور عالمِ اسلام
کسریٰ کی شان و شوکت خلافتِ اسلامیہ کی سطوت و عروج کے سامنے چند برسوں سے زیادہ نہیں ٹک سکی تھی۔ حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں ساسانیوں کا پایہ تخت فتح ہوا اور حضرت عثمان غنیؓ کے دور میں ان کا آخری کسریٰ بھی مارا گیا تھا۔ تاہم قیصرِ روم ایشیا سے بے دخل ہونے کے باوجود یورپ میں پوری آن بان کے ساتھ موجود تھا۔ قسطنطنیہ اس کا مرکز تھا اور بحیرہ روم کے کئی جزیرے اس کے قبضے میں تھے، جن کی چھاؤنیوں سے رومی افواج عالمِ اسلام کے ساحلوں پر تخت و تاراج کرتی رہتی تھیں۔ حضرت معاویہؓ قیصری سلطنت کا خاتمہ چاہتے تھے۔ رومیوں کے پایہ تخت قسطنطنیہ پر اسلام کا پرچم گاڑنا آپ کی شدید خواہش اور آپ کے منصوبوں کا اہم ترین حصہ تھا۔ تاہم خلافت کے پہلے سال آپ کو اندرونی شورشوں پر قابو پانے اور دوسرے محاذوں پر قدم جمانے کے لیے فرصت درکار تھی، اس لیے آپ نے اس وقت رومیوں سے صلح کر لی تھی۔
عہد شکنی کرنے والوں سے بھی ایفائے عہد:
اس مصالحت کی ابتداء قیصر کی طرف سے ہوئی تھی۔ وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے انعقاد پر خوفزدہ تھا، کیوں کہ برسوں سے وہ شام کے ساحلوں اور بحیرہ روم کی موجوں میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی قوت و شوکت کا مظاہرہ دیکھتا آرہا تھا۔ ایسے جرنیل کے خلیفہ بننے پر وہ جتنا بھی بے چین ہوتا کم تھا۔ اس نے صلح کے لیے سالانہ ایک خطیر رقم ادا کرنے کا وعدہ بھی کیا۔ چونکہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ رومیوں کی دھوکا بازی سے خوب واقف تھے، اس لیے شرط رکھی کہ ضمانت کے لیے رومی اپنے چند سرکردہ افراد یرغمال کے طور پر ان کے پاس رکھوائیں گے۔ قیصر نے کچھ افراد مسلمانوں کے حوالے کر دیے جنہیں بعلبک کے قلعے میں رکھا گیا۔ یہ صلح دو سال تک جاری رہی۔
کچھ مدت بعد رومیوں نے اپنی عادت کے مطابق عہد شکنی کی اور صلح کا معاہدہ یک طرفہ طور پر توڑ دیا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ چاہتے تو کسی دنیا دار بادشاہ کی طرح اس موقع پر ان کے یرغمالیوں کو قتل کراسکتے تھے مگر آپ نے اپنے رفقاء کے ساتھ غور و فکر کر کے یہ فیصلہ صادر کیا کہ قیصر کی غلطی کے بدلے ان یرغمالیوں کا قتل جائز نہیں۔ آپ نے ان یرغمالیوں کو یہ تاریخ ساز فقرہ کہہ کر آزاد فرما دیا:
”وَفَاءٌ بِغَدْرٍ خَيْرٌ مِنْ غَدْرٍ بِغَدْرٍ.“
”عہد شکنی کے بدلے عہد شکنی سے بہتر ہے
کہ عہد توڑنے والوں سے بھی ایفائے عہد کیا جائے۔“
رومیوں کے خلاف اہم مہمات
سن ۴۴ ہجری میں آپ رضی اللہ عنہ نے رومیوں کے خلاف مہمات کا آغاز کر دیا اور پھر عمر بھر جنگ بندی نہ کی۔ اس کے لیے آپ نے ہر سال موسم سرما اور موسم گرما میں الگ الگ افواج کو رومیوں کی سرحدوں پر تعینات کرنے کی حکمت عملی تیار کی۔ یہ خاص افواج شام کے شمال میں ایشیائے کوچک (موجودہ ترکی) میں پڑاؤ ڈالے رہتی تھیں، اس سرزمین کا کچھ حصہ مسلمانوں اور کچھ رومیوں کے قبضے میں تھا۔ یہ خاص افواج ان بحری فوجوں کے علاوہ تھیں جو شام اور افریقہ کے ساحلوں پر رومی بحریہ سے نبرد آزما رہتی تھیں۔ چونکہ ایشیائے کوچک کے محاذ پر موسم سرما نہایت سخت ہوتا ہے اس لیے مؤرخین نے زیادہ تر انہی افواج کا ذکر کیا ہے جو موسم سرما کے لیے خصوصی طور پر بھیجی گئی تھیں۔
موسم سرما کی مہمات:
اس سلسلے کی پہلی مہم سن ۴۴ ہجری میں بُسْر بن أرطاۃ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں روانہ ہوئی اور خلیج قُسطنطینِیہ تک گئی۔ اس فوج نے پورا موسم سرما محاذ پر گزارا۔
سن ۴۴ اور ۴۵ ہجری کے سرما میں سیف اللہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ مجاہدین کے قائد بن کر رومیوں کے مد مقابل رہے۔
ان کے بعد حضرت مالک بن ہُبَیرہ اور حضرت عبدالرحمٰن الثقفی سن ۴۷ ہجری سے سن ۴۹ ہجری تک مختلف سالوں کے موسم سرما میں ایشیائے کوچک اور انطاکیہ کے محاذوں پر سینہ سپر رہے۔
ایک موسم سرما میں یزید بن شجرہ الرہاوی نے بھی قیادت کی۔
جہاد کے لیے نکلنے والے یہ بڑے لشکر سرحد پر جا کر چھوٹے چھوٹے تیز رفتار گھڑ سوار دستوں میں تقسیم ہو جاتے تھے۔ چالیس پچاس گھڑ سواروں کا ایک ایسا دستہ حضرت عبیدہ بن قیس کلابی رضی اللہ عنہ کی قیادت میں تھا جس نے ”شماسہ“ نامی قلعہ فتح کیا۔ یہاں سے ہر سوار کو غنیمت میں دو سو دو سو دینار ملے۔
انہی بزرگ کی قیادت میں خلیج قسطنطینیہ کے ساحل پر ایک اور قلعہ بھی سرنگوں ہوا جسے ”مدن“ کہا جاتا تھا۔
موسم گرما کی کارروائیاں:
اس دوران موسم گرما میں بھی رومیوں کے خلاف لشکر کشی ہوتی رہی جن کی قیادت حضرت عبداللہ بن قیس الفزاری اور حضرت مالک بن ہبیرہ الیشکریؒ کرتے رہے۔
تاہم گرمی کی مہمات میں سب سے بڑا کردار حضرت مالک بن عبداللہ خثعمی رضی اللہ عنہ کا تھا جو اپنے کارناموں کی وجہ سے ”مالک الصوائف“ (مہماتِ گرما والے مالک) کے لقب سے مشہور ہو گئے تھے۔
حضرت جَریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی سرمائی مہم اور واپسی:
رومیوں کے خلاف ایک سرمائی مہم کے امیر حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ تھے۔ وہ ناقابل برداشت سردی، مجاہدین کے لیے نقصان دہ دیکھ کر جلد واپس آگئے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے باز پرس کی تو فرمایا:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پیش نظر تھا کہ جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اللہ اس پر رحم نہیں کرتا۔“
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”یہ ارشاد آپ نے خود سنا ہے؟“ فرمایا: ”جی ہاں، میں نے خود سنا ہے۔“
غرض اس مہم پر جانا اور وہاں قیام کرنا بہت مشکل اور بعض حالات میں جان لیوا امتحان تھا۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے رومیوں کی سرزمین پر سولہ مہمات روانہ کیں۔ ایک ایک لشکر باری باری سردی اور گرمی میں وہاں جاتا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی اپنے بیٹے یزید کو آخری وصیت یہ تھی کہ رومیوں کا گلا گھونٹ دو۔“
ان تمام مہمات کا مقصد اپنی سرحدوں کا دفاع کرنا، دشمن پر دباؤ ڈالنا، اسے اقتصادی نقصان پہنچانا اور اس کی طاقت کا اندازہ لگاتے رہنا تھا۔
قسطنطینیہ پر بڑا حملہ:
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے آٹھ سال تک چھاپہ مار حملوں کی حکمت عملی آزمانے کے بعد آخر ۵۰ ھ میں رومی پایہ تخت قُسطنطینِیہ پر بڑے حملے کی تیاری کی۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے چوبیس سالہ فرزند یزید کو لشکر کا سپہ سالارِ اعلیٰ مقرر کیا۔ عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہ رضا کاروں، عُقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ مصری فوج اور فَضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ شامی دستوں کے قائد تھے۔
یزید نے ماضی کی کسی چھوٹی موٹی جنگی مہم میں بھی کوئی فتح حاصل نہیں کی تھی، اس لیے اتنی عظیم الشان مہم کی قیادت اس کے سپرد ہونا اور نامور جرنیلوں اور عمر رسیدہ صحابہ کو اس کے ماتحتوں کی حیثیت ملنا بعض اکابرِ اُمت کو ناگوار گزرا، خصوصاً اس لیے کہ علم و فضل اور صلاح و تقویٰ کے لحاظ سے بھی یزید بہت پیچھے تھا مگر صحابہ کرام کے اخلاص، انکسار اور طاعت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر قطعاً کوئی احتجاج نہ کیا۔ اگر کسی کے دل میں خفگی آئی تو اس نے پروانہ لی بلکہ اس خفگی پر توبہ استغفار کرتے ہوئے جہاد میں شرکت کی۔
امام سرخسی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ یزید بن معاویہ کو لشکر کا امیر بنایا گیا تو ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو اس کے ساتھ جہاد پر نکلنا ناگوار گزرا۔ مگر پھر وہ اس پر سخت نادم ہوئے اور بعد میں اس کے ساتھ جہاد میں شریک ہو گئے۔“
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ عمر رسیدہ ہو چکے تھے۔ اس کے باوجود وہ جہاد کے لیے نکلنے کی وجہ بیان فرماتے ہوئے کہتے تھے: ”اللہ کا ارشاد ہے: اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا (جہاد کے لیے نکلو، سہولت سے ہو یا مشقت سے) میں انہی دو حالتوں میں سے ایک میں ہوں۔“
بڑے بڑے صحابہ کرام اور نامور تابعین اس حملے میں شرکت کے لیے تیار ہوئے جن میں حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم کے نام قابل ذکر ہیں۔
اس لشکر کی روانگی سے قبل ۵۰ ھ ہی میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے سفیان بن عوف رضی اللہ عنہ کو بلادِ روم یعنی ایشیائے کوچک میں رومیوں کے خلاف ایک لشکر دے کر بھیج دیا اور تاکید کی وہ ”طوانہ“ کے مقام تک پیش قدمی کرتے چلے جائیں۔ غالباً اس لشکر کشی کا مقصد رومیوں کو مصروف رکھنا تھا تاکہ وہ قسطنطینیہ جانے والے لشکر کا راستہ نہ روک سکیں۔ سفیان بن عوف رضی اللہ عنہ کا لشکر ایشیائے کوچک میں ”فرقدونہ“ تک گیا، اس مقام پر موسم شدید اور آب و ہوا ناموزوں تھی، اس لیے مجاہدین قحط، بخار، خارش اور دوسرے مصائب میں مبتلا ہو گئے۔
سفیان بن عوف رضی اللہ عنہ قسطنطینیہ والے لشکر کی واپسی تک اور اس کے بعد بھی یہیں جمے رہے اور محاذ پر ہی وفات پائی۔ ان کی جگہ عبداللہ بن مَسعدہ الفزاری رضی اللہ عنہ نے کمان سنبھالی۔
لشکر قسطنطینیہ کی کارگزاری:
قسطنطینیہ کے لیے جانے والا لشکر کئی ماہ کی مسافت طے کر کے ایشیائے کوچک سے ہوتا ہوا خلیج قسطنطینیہ تک جا پہنچا۔ راستے میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے۔ یزید بن معاویہ نے آکر مزاج پرسی کی اور کہا: ”کوئی ضرورت ہے تو بیان کیجئے؟“ فرمایا: ”میں مر جاؤں تو مجھے غسل دے کر کفن پہنا کر دشمن کے ملک میں جتنا ممکن ہو اندر لے جانا۔ پھر لوگوں کو حکم دینا کہ وہ مجھے دفن کر دیں۔“
امام سرخسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے یہ وصیت اس لیے کی تھی تاکہ وہ دشمن کے زیادہ سے زیادہ قریب جا کر جہاد کا زیادہ سے زیادہ ثواب لے سکیں۔
آخر کار مسلمان آبنائے قسطنطینیہ عبور کر کے رومیوں کے اس ناقابل تسخیر پایہ تخت پر حملہ آور ہوئے۔ یہاں شدید جھڑپیں ہوئیں۔ حضرت عبدالعزیز بن زُرارۃ رضی اللہ عنہ روزانہ شہادت کی تمنا لے کر میدان جنگ میں جاتے تھے اور زندہ واپس آنے پر المیہ اشعار کہتے تھے۔ ایک دن لڑائی کے دوران وہ رومیوں کی صفوں میں گھس گئے اور لاشوں کے ڈھیر لگا دیے، آخر میں رومیوں نے انہیں گھیر لیا اور نیزوں کے وار کر کے شہید کر ڈالا۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو اطلاع ملی تو رنج کے مارے فرمایا: ”اللہ کی قسم! عربوں کا جوان مرد چل بسا۔“
حضرت عبدالعزیزؒ کے والد نے حیران ہو کر کہا: ”کون؟ میرا فرزند یا آپ کا؟“
فرمایا: ”تمہارا“۔
باپ نے کہا: ”ہر جوان مرد نے موت کا پیالہ پینا ہے، چاہے جوانی میں پیے چاہے بڑھاپے میں۔“
قسطنطینیہ کے سامنے کھلے میدان میں بھی معرکے ہوئے۔ ایک دن رومیوں کی ایک فوج بہت بڑی صف بنائے ہوئے مقابلے پر نکلی۔ مسلمانوں کی قیادت یہاں عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کر رہے تھے۔ مصری دستوں پر عُقبہ بن عامر الجہنی رضی اللہ عنہ امیر تھے اور شامی دستوں پر حضرت فَضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ۔
رومیوں کی اس صف سے لڑنے کے لیے مسلمانوں کی بھی ایک بڑی صف تیار ہوئی۔ آمنا سامنا ہوتے ہی ایک مجاہد اکیلا رومیوں کی صف میں گھس گیا۔ اس کے ساتھی اسے روکنے کے لیے چلائے: ”نہ، نہ! لا الہ الا اللہ“
مگر اس نے کوئی پروا نہ کی، اور دادِ شجاعت دے کر کچھ دیر میں واپس آگیا۔ لوگوں نے حیران ہو کر کہا:
”سبحان اللہ! یہ تو خود کو ہلاکت میں ڈالنا تھا۔“ پھر اس اقدام کی ممانعت کی دلیل میں انہوں نے آیت پڑھی:
﴿وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ﴾
”اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں مت ڈالو۔“
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے یہ بحث سنی تو آیت کا درست مطلب سمجھاتے ہوئے فرمایا:
”بھائیو! یہ آیت ہم انصاریوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ جب اللہ نے اپنے دین کی مدد فرمائی اور اسلام کو غالب فرما دیا تو ہم نے چپکے چپکے آپس میں کہا: ہمارے کاروبار ضائع ہو گئے ہیں۔ چلو اب ہم اپنی جائیدادوں کی خبر لیں، ان کو ترقی دیں، امید ہے کہ اللہ ہماری مراد عطا فرما دے گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی یعنی خود کو ہلاکت میں ڈالنے کا مطلب یہ تھا کہ ہم دنیا داری میں لگ جائیں اور جہاد چھوڑ دیں۔“
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا اسی محاذ پر کچھ دنوں بعد انتقال ہو گیا۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی سند سے نقل کیا ہے کہ جب حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ آخری سانسیں لے رہے تھے تو لشکر کے امیر یزید بن معاویہ نے ان کی عیادت کی۔ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے اس وقت فرمایا: ”اُمت کے لوگوں کو میرا سلام کہنا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث ایسی سنی ہے کہ اگر میری یہ حالت نہ ہوتی تو کبھی نہ بتاتا۔ وہ ارشاد یہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اس حالت میں مرا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔“
ایک روایت میں ہے کہ فرمایا: ”میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات سنی ہے جو اب تک تم سے چھپاتا رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے اگر تم گناہ نہ کرو گے تو اللہ ایسی مخلوق پیدا کر دے گا جو گناہ کرے گی اور اللہ اس کی مغفرت فرمائے گا۔“
اس کے بعد حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی وفات ہو گئی۔ یزید بن معاویہ نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔
مسلمان حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی وصیت کے مطابق رات کی تاریکی میں ان کا جسد خاکی لے کر آگے بڑھتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ قسطنطینیہ کی فصیل کے پاس پہنچ گئے۔ انہیں خاموشی سے وہاں دفنا دیا۔ تدفین کے بعد ان کی قبر سے ایک روشنی کی لہر نکلی اور آسمان تک چلی گئی۔ یہ عجیب منظر رومی سپاہیوں نے بھی دیکھا اور حیرت زدہ رہ گئے۔ اگلے دن ان کے سفیر نے آ کر پوچھا: ”یہ کون شخص ہے جسے تم نے دفنایا ہے؟“
جواب ملا: ”ہمارے رسول کے صحابی ہیں۔“ شہید کی یہ کرامت دیکھ کر بہت سے رومی مسلمان ہو گئے۔
رومیوں کو حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے ایسی عقیدت ہو گئی کہ وہ صدیوں تک نہ صرف ان کی قبر کی تعظیم وتکریم کرتے رہے بلکہ قحط سالی کے موقع پر وہ یہاں آ کر دعائیں بھی کرتے تھے۔
مسلمان ایک مدت تک قسطنطینیہ کا محاصرہ کیے رہے مگر کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ آخر یزید بن معاویہ نے لشکر سمیت کر واپسی اختیار کی۔
ایشیائے کوچک کی اہم فتوحات:
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی جانب سے اس کے بعد بھی موسم سرما اور گرما میں روم کی سرحدوں پر لشکروں کی روانگی کا سلسلہ جاری رہا۔ سن ۵۳ ہجری میں حضرت عبدالرحمٰن بن ام الحکم، سن ۵۴ ہجری میں حضرت محمد بن مالک، سن ۵۶ ہجری میں حضرت مسعود بن ابی مسعود، سن ۵۷ ہجری میں حضرت عبداللہ بن قیس، سن ۵۸ ہجری میں حضرت مالک بن عبداللہ خثعمی اور سن ۵۹ ہجری میں حضرت عمرو بن مُرّہ المہریؒ نے ان مہمات کی قیادت کی۔
ان مہمات میں ایشیائے کوچک کے بعض قلعے باقاعدہ فتح کر کے وہاں مسلمانوں کی سرحدی چوکیاں بھی قائم کی گئیں۔ ان میں ایشیائے کوچک کے ایک قدیم رومی قلعے ”قیساریہ“ (یہ شام والا قیساریہ نہیں) کا محاصرہ سات سال تک جاری رہا۔ یہاں ایک لاکھ رومی، ایک لاکھ یہودی اور تیس ہزار سامری قوم کے لوگ تھے، حضرت عمر بن تمیم اس محاذ پر تعینات تھے۔ سات سال گزر گئے اور مسلمان اس کی فتح سے مایوس ہو چکے تھے کہ امیر لشکر کو ایک خفیہ سرنگ کا سراغ مل گیا جس سے اونٹ سوار بھی گزر جاتا تھا۔
اس سرنگ سے اسلامی فوج اندر داخل ہو گئی۔ حضرت عمرو بن تمیم قلعے کے مینار پر چڑھ گئے اور اعلان کیا:
”سن لو! قیساریہ فتح ہو گیا ہے۔“ لوگوں نے یہ سن کر نے ہتھیار ڈال دیے اور یہاں اسلامی پرچم لہرا دیا گیا۔
روما کی سرحدوں کا ایک اہم قلعہ ”کَمخ“ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات سے ایک برس پہلے سن ۵۹ ہجری میں زیرِ نگین کیا گیا۔ اس کی فتح میں حضرت عمیر بن خباب نامی ایک مجاہد کا جانثارانہ کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ وہ تیروں اور پتھروں کی بارش میں تنہا قلعے کی فصیل پر چڑھ گئے اور اکیلے رومیوں کو مار مار کے فصیل سے ہٹا دیا۔ اس کے بعد باقی فوج قلعے میں داخل ہو گئی۔ ان لشکروں میں بڑے بڑے عالم اور قاری شرکت کرتے تھے اور جہاد کے دوران قرآن و حدیث پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ برابر جاری رہتا تھا۔
بحیرہ روم کے جزیروں پر قبضے کی مہمات:
قسطنطینیہ پر حملے کی ناکامی سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ اسے فتح کرنے کے لیے ارد گرد کے سمندری راستوں اور اہم جزیروں پر تسلط ضروری ہے چنانچہ سن ۵۴ ہجری میں قسطنطینیہ سے لشکر کی واپسی کے اگلے ہی سال سیدنا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بحیرہ روم میں یورپی جزیروں پر قبضے کی تگ و دو شروع کر دی۔ اس کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ شام کے ساحل کو ان بیرونی حملوں سے محفوظ رکھا جائے جو ان جزائر سے مسلسل کیے جاتے تھے۔
یہ اسلامی بحری فوج جُنادہ بن اُمَیَّہ رضی اللہ عنہ جیسے بے مثال جہاز راں کے ماتحت تھی۔ انہوں نے حسبِ منصوبہ سب سے پہلے رومیوں کے مضبوط عسکری مرکز جزیرہ روڈس پر حملہ کیا۔ ساٹھ مر بع میل (۹۶ کلومیٹر) کا یہ سرسبز و شاداب جزیرہ ایشیائے کوچک (ترکی) کے جنوبِ مغرب میں ہے۔ یہاں انگور، زیتون اور دوسرے پھل کثرت سے پیدا ہوتے ہیں۔
حضرت جُنادہ بن امیہ رضی اللہ عنہ سن ۵۳ ہجری میں یہاں حملہ آور ہوئے اور اسے فتح کر کے یہاں مسلمانوں کی چھاؤنی قائم کی جو ایک بہت مستحکم قلعے میں تھی۔ مسلمان یہاں سے بحیرہ روم میں یورپی بحری بیڑوں پر نگاہ رکھتے۔ ان کے جاسوس پورے علاقے میں پھیلے ہوئے تھے جو انہیں دشمن کی نقل و حرکت سے آگاہ کرتے رہتے تھے۔ جوں ہی دشمن کا کوئی جہاز سمندر سے گزرتا مسلمان اس پر ٹوٹ پڑتے اور کمک اور رسد لوٹ لیتے۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ کے بقول:
”كَانُوْا اَشَدَّ شَيْءٍ عَلَى الْكُفَّارِ.“
”یہ سپاہی کفار کے لیے سخت ترین لوگ تھے۔“
اگلے سال جُنادہ بن امیہ رضی اللہ عنہ نے ایک اور جزیرے ”ارواڈ“ کو بھی فتح کر لیا۔ یہاں جہاد کرنے والوں میں مشہور قاری حضرت مجاہد بن جَبر المقری بھی شامل تھے۔ انہوں نے یہاں قرآن مجید کی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا۔ ان کے نامور شاگرد قاری تُبَیع بن عامر (کعب احبارؒ کے سوتیلے بیٹے) نے یہیں ان سے تعلیم حاصل کی۔
سن ۵۵ ہجری میں حضرت جُنادہ بن امیہ رضی اللہ عنہ نے جزیرہ اقریطش (کریٹ) پر حملہ کیا تاہم یہاں قبضہ نہ کر سکے۔
ان مہمات کے دوران قُوصِرہ نامی جزیرہ فتح ہوا جو سسلی اور مہدیہ کے درمیان واقع ہے۔ یزید بن شجرہ رضی اللہ عنہ اس کی ایک بحری فوج کی قیادت کرتے ہوئے ۵۸ھ کے ایک خون ریز معرکے میں شہید ہوئے۔
حضرت عمرو بن یزید جہنی بھی ایسی بعض مہمات میں قیادت کرتے رہے۔
حضرت عمر فاروق اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما نے چین اور حبشہ پر حملہ کیوں نہ کیا؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ حضرت عمر فاروق اور معاویہ رضی اللہ عنہما نے خراسان، ہندوستان، وسط ایشیا، افریقہ، بحیرہ روم اور ایشیائے کوچک میں تو جہادی سرگرمیوں کا دائرہ خوب پھیلایا مگر مشرق میں ترکوں کے اصل وطن چین اور مغرب میں افریقہ کے جنوبی علاقے حبشہ وغیرہ پر فوج کشی نہ کی۔ اس کی ایک وجہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد تھا:
”اُتْرُكُوا التُّرْكَ مَا تَرَكُوْكُمْ.“
”ترکوں کو نہ چھیڑنا جب تک وہ تمہیں نہ چھیڑیں۔“
اس طرح ایک روایت میں ہے:
”اُتْرُكُوا الْحَبَشَةَ مَا تَرَكُوْكُمْ.“
”حبشہ والوں کو نہ چھیڑنا جب تک وہ تمہیں نہ چھیڑیں۔“
دراصل حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتا دیا گیا تھا کہ قیامت سے پہلے ان قوموں کے ہاتھوں مسلمانوں پر سخت مصائب ٹوٹیں گے اس لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احتیاط اور شفقت کے طور پر بلاضرورت ان قوموں سے جنگ مول لینے سے بچنے کی وصیت فرمائی تھی۔ یہی وجہ تھی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان سمتوں میں فوج کشی نہ کی۔
ان دونوں قوموں پر فوج کشی نہ کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ اس زمانے میں خود روم سے جنگیں جاری تھیں، لہٰذا چین میں داخل ہونے یا وسطی وجنوبی افریقہ میں گھسنے کا مطلب یہ تھا کہ شمالی افریقہ اور بحیرہ روم سے افواج کم کی جائیں جو یقیناً خطرناک ہوتا۔ اسی لیے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: ”ان دو اونگھتی ہوئی قوموں کو مت جگانا۔“
اس سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ بلاوجہ ایسے حریف سے جنگ چھیڑنا خلاف حکمت ہے جس پر قابو پانا مشکل ہو۔
اہل شام کے جہاد کا ذکر حدیث میں
اہل شام کے جہاد اور فتوحات کی طرف احادیث میں بھی اشارہ ملتا ہے۔ ایک دن حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ یہ حدیث سنا رہے تھے: ”میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ اللہ کے حکم پر ثابت قدم رہے گی۔ ان کا ساتھ چھوڑنے والے یا مخالفت کرنے والے ان کا کچھ نہیں بگاڑ پائیں گے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آن پہنچے گا اور وہ اس وقت لوگوں پر فتح یاب ہوں گے۔“
یہ سن کر ایک صاحب حضرت مالک بن مُخامر نے فوراً کہا: ”حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے میں نے سنا کہ وہ لوگ شام والے ہوں گے۔“ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ یہ سن کر بہت مسرور ہوئے۔
کیا یہ لڑائیاں ڈاکہ زنی تھیں؟
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات تک مسلمانوں نے ہندوستان، افریقہ اور بحیرہ روم میں جو جنگیں لڑی تھیں، ان میں سے اکثر کا مقصد شہروں اور علاقوں کو باقاعدہ فتح کرنا نہیں تھا بلکہ ان میں سے زیادہ تر چھاپہ مار کارروائیاں تھیں جن کا مقصد حریف طاقتوں پر رعب قائم رکھنا، ان کی طاقت کا اندازہ لگاتے رہنا، ان کی سرزمین کے نشیب وفراز سے آگاہی حاصل کرنا اور مال غنیمت حاصل کرنا تھا۔ ایسی مہمات کا ثمرہ بعد میں مستقل اور کامل فتح کی شکل میں نصیب ہوتا تھا۔
مستشرقین ان کارروائیوں کو ڈاکہ زنی قرار دیتے ہیں، حالاں کہ یہ بالکل غلط تعبیر ہے۔ یہ دو قوموں کے درمیان باقاعدہ سیاسی، نظریاتی وتہذیبی اختلاف کی بناء پر برپا ہونے والی عسکری کشمکش تھی، جس میں ہر فریق (جب تک اس کا دوسرے سے کوئی معاہدہ نہ ہو) مدمقابل قوم کو زک پہنچانے کی پوری کوشش کرتا ہے، اگر مسلمان رومیوں،افریقیوں اور ہندوستانیوں کے علاقوں میں مداخلت کرتے تھے تو یہ قومیں بھی مسلسل اسلامی سرحدوں پر حملے کرتی رہتی تھیں۔
بعض عجیب واقعات
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور کے عجیب واقعات میں سے ایک یہ ہے کہ یمن میں ایک صحابی حضرت عبداللہ بن قِلابہ رضی اللہ عنہ کا اونٹ کھو گیا۔ وہ اس کی تلاش میں کسی صحرا میں گھوم رہے تھے کہ اچانک سامنے ایک شہر کے آثار دکھائی دیے جو درحقیقت عادِ ارم کی بنائی ہوئی مصنوعی جنت تھی۔ حضرت عبداللہ بن قلابہ نے وہاں سے کچھ مشک، زعفران اور موتی اٹھالیے، جب وہ واپس چلے تو وہ شہر اوجھل ہو گیا۔
حضرت عبداللہ بن قلابہ رضی اللہ عنہ نے اس کا ذکر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے کیا۔ انہوں نے حضرت کعب احبار رضی اللہ عنہ کو بلا کر ان سے اس عجوبے کے بارے میں دریافت کیا تو وہ بولے: ”یہ ستونوں والے بادشاہ (شداد) کی بنائی ہوئی جنت ’ارم‘ تھی۔ آپ کے دور کا ایک پست قد سرخ رنگت والا آدمی جس کے گال اور ابرو پر تل ہوگا، اسے دیکھ پائے گا۔ وہ اپنے اونٹ کی تلاش میں نکلا ہوگا۔“
یہ کہہ کر وہ پلٹے تو حضرت عبداللہ بن قلابہ پر نظر پڑ گئی۔ فوراً بولے: ”اللہ کی قسم! یہ وہی شخص ہے۔“
قیصر نے ایک بار اپنی سلطنت کے دو خاص افراد بھیجے: ان میں سے ایک روم کا سب سے قوی الہیکل پہلوان تھا اور دوسرا سب سے دراز قامت انسان۔ قیصر نے پیش کش کی اگر آپ ان سے زیادہ طاقتور اور زیادہ دراز قد آدمی اپنی مملکت سے پیش کر سکتے ہیں تو ٹھیک۔ ورنہ آپ کو ہم سے تین سالہ جنگ بندی کرنا ہو گی۔
جب دونوں افراد دمشق آئے تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے مقابلے کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فوج کے سابق سالار قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کو بلوالیا۔ حضرت محمد بن حنفیہ عربوں میں طاقتور ترین انسان شمار ہوتے تھے اور حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ قد وقامت میں یکتا تھے۔
پہلے رومی پہلوان اور حضرت محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ کے درمیان زور آزمائی ہوئی۔ طے شدہ طریقے کے مطابق حضرت محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ فرش پر بیٹھ گئے۔ رومی پہلوان نے ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں کھڑا کرنے کے لیے زور لگایا، مگر پوری طاقت آزما کر بھی وہ انہیں نہ ہلا سکا۔ اب حضرت محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ کھڑے ہوئے۔ رومی بیٹھ گیا۔ محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر ایک جھٹکے سے کھینچا تو وہ اچھل کر دور جا گرا۔
اس کے بعد رومی لمبے آدمی اور حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کے قد وقامت کی پیمائش کی گئی۔ حضرت قیس رضی اللہ عنہ کا قد اُس سے زیادہ نکلا۔ اس طرح قیصر کی جنگ بندی کی پیش کش مسترد ہو گئی۔

