وسطیٰ ایشیا میں فتوحات کا آغاز
سیدنا حضرت معاویہؓ نے سن 51 ہجری میں حضرت عمر فاروقؓ کی اس حد بندی سے باہر اقدامی جہاد شروع کیا جس سے آگے اب تک کوئی اسلامی لشکر نہیں گیا تھا۔ یہ دریائے آمو تھا جس کے پار وسطیٰ ایشیا کا زرخیز اور معدنی وسائل سے مالامال خطہ تھا۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ ڈیڑھ صدی بعد یہ سرزمین اسلامی تہذیب و تمدن کا ایسا گہوارہ بن جائے گی کہ علمائے اسلام کی صف اول میں جگہ پانے والے محدثین یہیں کی خاک سے نمودار ہوں گے۔
دریائے آمو کے اُس پار:
کچھ مدت پہلے حضرت معاویہؓ کے جرنیل حضرت حکم بن عمرو غفاریؓ اسلام کی اس آخری سرحد تک پہنچے تھے۔ آمو دریا کا پانی سامنے تھاٹھیں مار رہا تھا۔ حضرت حکم بن عمرو غفاریؓ نے دریا پار کیا، ان کے اشارے پر ان کے غلام نے دریا کا تازہ اور خوشگوار پانی اپنی ڈھال میں بھر کر انہیں پیش کیا۔ انہوں نے پانی پی کر دریا سے وضو کیا۔ مجاہدین کے قدم یہاں تک پہنچنے پر دو رکعت نمازِ شکرانہ ادا کی اور صورتحال دیکھ کر واپس چلے گئے۔
اب حضرت معاویہؓ کے حکم سے ربیع بن زیاد حارثی لشکر لے کر آئے اور دریا کے پار پہنچ کر کچھ سرحدی علاقوں میں جہاد کیا اور بکثرت مالِ غنیمت لے کر واپس آئے۔ یہ وسطیٰ ایشیا میں امتِ محمدیہ کا پہلا جہاد تھا۔
بخارا کی ملکہ موزے چھوڑ کر فرار:
سن 53 ہجری میں عبیداللہ بن زیاد نے چوبیس ہزار سپاہی لے کر وسطیٰ ایشیا میں یلغار کی۔ اس سرزمین کو اہل عرب "ماوراء النہر" اور اہل فارس ترکستان کہتے تھے۔ یہاں بڑے طاقتور ترک قبائل کی اجارہ داری تھی۔ سمرقند، ترمذ اور قبا یہاں کے مشہور شہر تھے۔ ترکوں کا سب سے بڑا مرکز بخارا تھا، جس کے گرد صحرائی اور کوہستانی علاقہ تھا۔ عبیداللہ بن زیاد نے اونٹوں پر سفر کر کے یہ صحرا عبور کیا۔ ترک مقابلے پر آئے تو زوردار معرکہ ہوا۔ ترکوں کی مدد کے لیے بخارا کا خان اور ملکہ خود میدانِ جنگ میں آئے۔ آخر انہیں شکست ہوئی۔ خان اپنی ملکہ سمیت بھاگ نکلا۔ افراتفری میں فرار ہوتے ہوئے ملکہ اپنا موزہ وہیں چھوڑ گئی جو بعد میں دو سو درہم (تقریباً پچاس ہزار روپے) کا فروخت ہوا۔
ملکہ بہت چالاک تھی۔ اس نے بخارا شہر میں جا کر دم لیا اور عبیداللہ بن زیاد سے ایک خطیر رقم کے عوض صلح کر لی۔ صلح کے تحت بخارا کو مسلمانوں کے لیے کھول دیا گیا۔ عبیداللہ بن زیاد نے خود جا کر اس قدیم تاریخی شہر کو دیکھا بھالا۔ گردونواح کے دوسرے ترکوں سے کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا۔ اس لیے عبیداللہ بن زیاد نے یہاں دو سال مہم جوئی کی اور بخارا کے مضافاتی علاقے: نَسَف اور بیکَند فتح کر لیے۔
حضرت سعید بن عثمان غنیؓ: بخارا اور سمرقند کے فاتح:
اس کے بعد حضرت عثمان غنیؓ کے صاحبزادے سعیدؓ کو وسطیٰ ایشیا کا والی مقرر کیا گیا۔ بخارا کی ملکہ اپنی شرارتوں سے باز نہیں آرہی تھی۔ وہ مسلمانوں کے جاتے ہی بدعہدی کرتی اور ان کے آتے ہی صلح کر لیتی۔ اس کی شہ پا کر ترک قبائل بار بار بغاوت اور شورش میں ملوث ہوتے تھے، اس لیے حضرت سعید بن عثمانؓ کو ان کے خلاف ازسرنو فوج کشی کرنا پڑی۔ وہ مشہور اسلامی جرنیل مہلب بن ابی صفرہ کو ساتھ لے کر دریائے جیحوں (آمو) کے پار اترے۔ اُدھر سے نسف، سُغد اور کِش کے ترک قبائل ایک لاکھ بیس ہزار کا لشکر جرار لے کر آدھمکے، بخارا کی ملکہ ان کی پشت پناہی کر رہی تھی۔ حضرت سعید بن عثمانؓ کسی باطل طاقت سے دبنے والے نہ تھے۔ وہ مجاہدین کو لے کر دریائے آمو سے آگے بڑھتے چلے گئے۔ آخر بخارا کے سامنے ترکوں سے گھمسان کی جنگ ہوئی۔ دونوں فوجوں نے جان کی بازی لگا دی مگر آخر میں ترکوں کے قدم اکھڑ گئے اور وہ جان بچا کر بھاگ نکلے۔ بخارا کی ملکہ اپنی بدعہدی پر سخت پریشان تھی اور اسے امید نہ تھی کہ مسلمان اسے معاف کریں گے، مگر حضرت سعید بن عثمانؓ نے اس کی طرف سے صلح کی پیش کش کو فراخ دلی سے قبول کر کے اسے اس کے تمام حامیوں سمیت امان دے دی۔
بخارا کو اپنی تحویل میں لے کر حضرت سعیدؓ ترکوں کے دوسرے بڑے مرکز سمرقند کی طرف بڑھے تو بخارا کی ملکہ نے اپنے سپاہی ان کے ساتھ کر دیے۔ حضرت سعید بن عثمانؓ نے تیزی سے جا کر سمرقند کے سامنے پڑاؤ ڈالا۔ حریف کی فوج بے شمار اور شہر کی فصیلیں بڑی مضبوط تھیں مگر حضرت سعیدؓ نے مرعوب ہوئے بغیر قسم کھائی کہ وہ شہر فتح کیے بغیر نہ لوٹیں گے۔ تین دن تک خون ریز جنگ ہوتی رہی۔ تیسرے دن سمرقند والوں نے اتنی زور دار تیر اندازی کی کہ حضرت سعید بن عثمان اور مہلب بن ابی صفرہ بھی نہ بچ پائے اور دونوں کی ایک ایک آنکھ شہید ہو گئی۔ اس کے باوجود مسلمان ڈٹے رہے۔ آخر کار ترک بھاگ کر شہر میں محصور ہو گئے۔
اس دوران حضرت سعیدؓ کو خبر ملی کہ ترکوں کے کئی شہزادے اور رئیس ایک اور قلعے میں مورچہ بند ہیں۔ انہوں نے فوراً فوج کا ایک حصہ بھیج کر اس قلعے کو گھیر لیا۔ سمرقند کے ترکوں نے یہ دیکھا تو گھبرا گئے اور صلح کی درخواست کر دی، چونکہ ترکوں کی بدعہدی کا بارہا تجربہ ہو چکا تھا، اس لیے حضرت سعیدؓ نے تین شرائط پیش کیں:
(۱)ترکوں کے پندرہ رئیس اور شہزادے ان کے پاس یرغمال رہیں گے۔
(۲)شہر مسلمانوں کے لیے کھول دیا جائے گا۔
(۳)شہر والے سات لاکھ درہم ادا کریں گے۔
ان شرائط پر سمرقند والوں سے صلح ہو گئی۔
حضرت سعید بن عثمانؓ نے واپسی میں ترمذ کا رخ کیا، یہاں بھی ایک ملکہ راج کر رہی تھی۔ اس نے بھی صلح کی درخواست کی جو حضرت سعیدؓ نے قبول کر لی۔ ملکہ نے شہر ان کے حوالے کر دیا۔ اس طرح وسطیٰ ایشیا کا بڑا حصہ حضرت معاویہؓ کے دور میں سیدنا حضرت عثمان غنیؓ کے صاحبزادے کے ہاتھوں فتح ہوا۔
قُثَم بن عباسؓ کی شہادت:
دلچسپ اور سبق آموز بات یہ ہے کہ اس جہاد میں بنو ہاشم کے بزرگ حضرت قُثَم بن عباسؓ بھی شریک تھے۔ اس واقعے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ بنو ہاشم بھی، حضرت معاویہؓ کی خلافت کو مانتے تھے۔ تبھی ان کے جھنڈے تلے جہاد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔
یہ واقعہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس جہاد کے ایک معرکے کے بعد جب مالِ غنیمت میں سے مجاہدین کو حصہ دیا جانے لگا تو لشکر کے امیر حضرت سعید بن عثمانؓ نے حضرت قُثَم بن عباسؓ کو ان کی بزرگی کی وجہ سے ایک ہزار حصوں کی پیش کش کی (جو آج کل کے لاکھوں روپے بنتے ہیں) مگر حضرت قُثَمؓ نے منع کر دیا اور فرمایا: "ایسا نہ کریں بلکہ دستور کے مطابق مالِ غنیمت کا پانچواں حصہ (بیت المال کے لیے) الگ کر کے باقی مال غازیوں میں ان کے حق کے مطابق تقسیم فرمائیں اور مجھے اور میرے گھوڑے کو (عام لوگوں کی طرح) ایک ایک حصہ ہی دیں۔"
اس سے صحابہ کرامؓ، خصوصاً بنو ہاشم کی بے لوثی کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ صرف اللہ کی رضا کے لیے سر ہتھیلی پر لیے پھرتے تھے۔ انہیں دنیا کے مال و دولت کا کوئی شوق نہ تھا۔ قُثَمؓ اس جہادی سلسلے میں شروع سے آخر تک تمام جنگوں میں شریک رہے اور آخر میں سمرقند کے سخت ترین معرکے میں دادِ شجاعت دیتے ہوئے شہید ہو گئے۔
قُثَمؓ، عبداللہ بن عباسؓ کے چھوٹے بھائی تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد اور ہم شکل تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے بہت محبت تھی۔ بعض اوقات اپنی سواری پر عبداللہ بن عباسؓ کو پیچھے اور قُثَم بن عباسؓ کو آگے بٹھا لیتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسدِ اطہر کو لحد میں رکھنے کی سعادت جن صحابہ کو حاصل ہوئی، یہ ان میں سے ایک تھے۔ حضرت علیؓ کے معاونین میں ان کا خاص مقام تھا۔ حضرت علیؓ مدینہ سے کوفہ روانہ ہوتے وقت انہی کو مدینہ کا حاکم بنا کر گئے تھے۔
حضرت علیؓ کے دورِ خلافت کے بعض سالوں میں انہوں نے امارتِ حج کے فرائض بھی انجام دیے۔

