Hazrat Muawiyah Ka Nizam e Adl Aur Islami Saltanat Ke Intizam e Nau

(۴) امن وامان کا قیام اور عدل وانصاف کی فراہمی

        پائیدار امن وامان کا قیام حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا چوتھا بڑا ہدف تھا، جسے پورا کرنے کے لیے رعایا کو عدل و انصاف فراہم کرنا سب سے زیادہ ضروری تھا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اس معاملے میں اتنے حساس تھے کہ وہ اپنی اور اپنے امراء کی مصلحتوں، ضرورتوں اور بعض اوقات عزت و مرتبے کو بھی نظر انداز کر کے عدل کے تقاضے پورے کرتے رہے۔


        حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی مدینہ منورہ میں کچھ زمین تھی اس پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بھتیجے حضرت عبدالرحمن نے اپنے استحقاق کا دعویٰ کر دیا۔ اس سلسلے میں وہ دمشق جا کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے ملے۔ آپ نے ان کا دعویٰ سن کر بڑی خوش دلی سے فرمایا: ”اس بارے میں فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ (قاضی شہر) جو فیصلہ کریں وہ ہمیں منظور ہوگا۔“

        فضالہ رضی اللہ عنہ نے فریقین کے  بیانات سن کر حضرت عبدالرحمن کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے خوشی سے قبول کیا اور اپنی زمین سے دستبردار ہو گئے۔

        مدینہ طیبہ کے گورنر مروان بن حکم نے حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ کے بیٹے کی تنخواہ اس لیے بند کر دی کہ وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مخالف تحریک سے متاثر رہے تھے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو مروان کو لکھا:

        ”تم نے صہیب رضی اللہ عنہ کے بیٹے کا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے معاملہ تو یاد رکھا مگر اس کے باپ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  سے تعلق بھول گئے۔ صہیب کے فرزند کی تنخواہ جاری کرو۔ اس کی عزت کرو اور اچھا سلوک برتو۔“

        عدل و انصاف کا سایہ ہر شہری کے لیے عام تھا، چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم۔ دمشق میں عیسائیوں کا ایک گرجا مسجد سے ملا ہوا تھا۔حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ مسجد کی توسیع کے لیے گرجا لینا چاہتے تھے مگر نصرانیوں نے اسے دینے سے انکار کر دیا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان پر کوئی سختی نہ کی اور ان کی مرضی کے خلاف مسجد کی توسیع نہ کرائی۔

        عدل و انصاف کی بالادستی کے لیے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بڑے بڑے نامور صحابہ کرام کو جو علم و فقاہت، زہد و تقویٰ اور حکمت و تدبر میں ممتاز ہونے کے ساتھ ساتھ حق گوئی میں بھی نمایاں تھے، مختلف شہروں میں قاضی مقرر کیا۔ دارالخلافہ دمشق میں حضرت فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ قاضی القضاۃ کے منصب پر فائز تھے۔

        حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں اور حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بصرہ میں قاضی مقرر تھے۔

        کوفہ میں قاضی حضرت شریح رحمہ اللہ تھے جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور سے اس منصب پر چلے آ رہے تھے۔

افسران کا محاسبہ

        حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں گورنروں اور قاضیوں سمیت اعلیٰ عہدیداروں کی کارکردگی کی جانچ پڑتال کا جو نظام قائم کیا گیا تھا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے اسی طرح برقرار رکھا، آپ بڑی باریک بینی سے اپنے ماتحتوں کا احتساب کیا کرتے تھے۔

        اکثر عہدیدار بذات خود نیک اور متقی تھے، لہٰذا انہیں آخرت میں جوابدہی کا دھڑکا لگا رہتا تھا۔ ایک بار فلسطین کے ایک افسر حضرت ابو راشد الازدیؒ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئے۔ آپ ان کا محاسبہ کرنے لگے اور بعض معاملات کی پوچھ گچھ کی۔ ابو راشد رو پڑے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے وجہ پوچھی تو عرض کیا: ”مجھے قیامت کی باز پرس یاد آ گئی ہے۔“ ایسے عادل خلیفہ اور ایسے خدا ترس افسران کے ہوتے ہوئے مملکت میں عدل و انصاف اور امن وامان کا دور دورہ بھلا کیوں نہ ہوتا۔

محکمہ شرطہ (پولیس)

        امن وامان کو یقینی بنانے کے لیے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے محکمہ شرطہ (پولیس) کو جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور سے شروع ہوا تھا، مزید بہتر بنایا، چنانچہ خراسان سے مصر تک چور چکاری، ڈاکے اور بدامنی کا کہیں نام و نشان نہ تھا۔ محکمہ پولیس کی نگرانی پہلے حضرت یزید بن حرہ، پھر حضرت قیس بن حمزہ اور پھر حضرت ذہل بن عمرو کے سپرد رہی۔

ضمیر کی آزادی

        عدل و انصاف کی اس بہار کے باعث ہر طرف امن و امان تھا۔ لوگوں پر کوئی جبر و تشدد نہ تھا بلکہ انہیں خوشگوار اور محفوظ ماحول دیا گیا تھا جس میں ہر شخص کو اپنے مسائل بتانے، ضمیر کی آواز بلند کرنے اور رائے دینے کی اجازت تھی۔

        ایک بار حاکمِ مدینہ مروان بن حکم نے مسجد نبوی میں حاضرین کو بتایا کہ اس بار آپ کی تنخواہوں اور عطیات کی رقم کچھ کم ہے مگر حضرت معاویہ کا حکم ہے کہ ہر صورت میں سب کو پوری پوری ادائیگی کی جائے۔ اس لیے یمن کے محصولات کی رقم سے یہ کمی پوری کر دی جائے گی۔ یہ سن کر لوگوں نے صاف انکار کر دیا اور کہا: ”وہ رقم یمن والوں ہی کا حق ہے۔ حضرت معاویہ سے کہیں کہ وہ ہمیں جزیے کی رقم سے یہ کمی پوری کر کے دیں۔“

        مروان نے یہ رائے مان لی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو پہنچا دی۔ انہوں نے بقیہ رقم کا انتظام کر دیا۔

(۵) ملکی انتظامات کو بہتر اور جدید شکل دینا

        حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا پانچواں بڑا ہدف ملکی انتظامات کو بہتر اور جدید شکل دینا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کا ذہن نہایت زرخیز تھا۔ آپ انتظامی امور میں ضروریات کے مطابق مفید اور بہتر اضافے کرتے اور جدتیں پیدا کرتے رہتے تھے۔ ان نئے انتظامات کی ایک جھلک ملاحظہ ہو۔

دیوان الخاتم: سرکاری تحریروں کی حفاظت کا محکمہ

        اس سے پہلے سرکاری خطوط اور حکم نامے کھلے ورق کی شکل میں روانہ کیے جاتے تھے۔ ان میں تحریر کے نیچے خلیفہ یا امیر کی مہر کا ہونا کافی سمجھا جاتا تھا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کسی شخص کو ایک لاکھ درہم یا دینار وصول کرنے کا رقعہ لکھ کر دیا۔ اس نے رقعے کی تحریر بدل کر سرکاری دفتر سے دو لاکھ وصول کر لیے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے جب حساب آیا تو آپ نے تحقیق کرائی۔ معلوم ہوا کہ اصل تحریر میں تبدیلی کر کے ایک کی جگہ دو لاکھ وصول کر لیے گئے۔ تب آپ نے آئندہ ایسی جعل سازی کے سدباب کے لیے ایک نیا طریقہ کار وضع کیا، جس کے تحت ہر سرکاری تحریر یا حکم نامے کو مہر بند لفافے میں (سیل کر کے) بھیجا جانے لگا۔ جس دفتر میں سرکاری حکم ناموں کو سیل کیا جاتا تھا اسے ”دیوان الخاتم“ کا نام دیا گیا۔ اس دفتر کے انچارج حضرت عبداللہ بن عَمرو حمیری تھے۔

حراسہ : سیکیورٹی کا محکمہ

        اس سے پہلے خلفاء کی حفاظت کے لیے کوئی خاص انتظام نہیں ہوا کرتا تھا۔ دشمنوں نے اس سے فائدہ اٹھا کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ بھی پہرہ نہ ہونے کی وجہ سے حملے میں زخمی ہوئے تھے۔ خود حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر بھی قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔ اس قسم کی وارداتوں سے پورے عالم اسلام کی چولیں ہل جایا کرتی تھیں۔ اس لیے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مزید نقصانات سے بچنے کے لیے نجی محافظ دستے (سیکیورٹی، باڈی گارڈز) کا شعبہ قائم کیا، جس کا سربراہ حضرت ابو مخارق کو مقرر کیا۔ بعد میں ہر خلیفہ اور بادشاہ نے اس شعبے کو اپنے نظام کا حصہ بنایا۔

        امیر اور قائد کی حفاظت کا انتظام خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم  سے ثابت ہے۔ جنگ بدر میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور بعض موقعوں پر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حفاظتی سپاہیوں کے طور پر موجود رہے تھے۔ اس لیے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ انتظام سنت کے عین مطابق تھا۔

حجابہ ..... خلیفہ سے ملاقات کا وقت دینے کی ذمہ داری

        گزشتہ ادوار میں ہر شخص جب مو قع پاتا خلیفہ سے مل لیا کرتا تھا۔ ان میں معمولی ضرورتوں والے لوگ بھی آتے تھے اور وقت ضا ئع کرنے والے بھی۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے وقت کی حفاظت اور نظام کی بہتری کے لیے ایک نئی ترتیب بنائی جس کے تحت لوگوں کو خلیفہ سے خصوصی ملاقات کے لیے اجازت اور وقت لینا ضروری قرار دیا گیا۔ اس کام کے ذمہ دار افسر کو حاجب اور اس انتظام کو ”حجابہ“ کہا جاتا تھا۔

ترقیاتی و تعمیراتی کارنامے

        حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرح حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی ملک کے استحکام و دفاع کے لیے ترقیاتی کام کرائے، فوجی چھاؤنیاں قائم کیں اور کئی نئے قلعے بنوائے۔ شام کے ساحل پر خاص توجہ دی۔ ساحلِ شام پر رومیوں کے ایک تباہ شدہ قلعے ”جبلہ“ کو آپ نے از سر نو تعمیر کرا کے فوج کا بڑا مرکز بنا دیا گیا۔ ”لاذقیہ“ اور ”انطرطوس“ کو شہروں کی شکل میں آباد کرایا۔ آپ کے دور میں مرعش کا قلعہ تعمیر ہوا جو مضبوطی میں ضرب المثل تھا۔ ”مرقیہ“ اور ”بُلنیاس“ کی آبادی بھی آپ کا کارنامہ ہے۔ آپ کی منظوری سے افریقہ میں قیروان کا مرکزی عسکری شہر بسایا گیا۔

        آپ سے پہلے جہاز سازی کے کارخانے صرف مصر میں تھے،آپ نے سن ۴۹ ہجری میں شام میں نئے کارخانے قائم کرنے کا حکم دیا، چنانچہ دور دراز سے انجینئر، کاری گر اور بڑھئی جمع کیے گئے اور اردن کے ساحل عکا پر جہاز سازی کا کام زور و شور سے شروع ہوا۔

        مصر میں آپ کے گورنر حضرت مسلمہ بن مخلد انصاری رضی اللہ عنہ نے (جو سن ۵۳ ہجری میں اس عہدے پر فائز ہوئے) بھر پور ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا اور فسطاطِ مصر کو ایک نہایت بارونق اور خوبصورت خطہ بنا دیا جس میں مساجد اور مؤذنوں کی کثرت کی وجہ سے اذانوں کی گونج دور دور تک سنائی دیتی تھی۔

        حضرت عطاء بن سائب نے خراسان کے قدیم شہر بلخ کی نہروں پر تین پل تعمیر کیے جو ”قناطر عطاء“ کے نام سے مشہور ہوئے۔

        عالم اسلام کے بعض شہروں میں کچھ جنگجو قومیں اور جماعتیں ایسی تھیں جو ادھر ادھر بکھری ہوئی تھیں۔ ان کی نشانہ بازی اور حربی صلاحیتوں سے زیادہ فائدہ اٹھانے اور ان کی بہتر خبر گیری کے لیے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کو دوسرے علاقوں میں منتقل کر دیا۔ اس اقدام کا ایک مقصد ان قوموں کے کچھ شرپسندوں پر نظر رکھنا بھی تھا۔ اسی سلسلے میں ”زُط“ (جاٹ) اور ”سیابجہ“ قوموں کے بہت سے لوگوں کو ”انطاکیہ“ اور آس پاس کے دیگر ساحلی شہروں میں لا کر بسایا گیا۔

        بعلبک، حمص اور انطاکیہ میں آباد فارسی النسل لوگوں کو اردن کے ساحلوں: صور اور عکا پر لا کر آباد کر دیا گیا۔ بصرہ اور کوفہ کے عجمی تیر اندازوں اور بعلبک، اور حمص کے فارسیوں کو انطاکیہ شہر میں بھیج دیا گیا۔ کچھ مصری لوگوں کو بھی ان ساحلوں پر منتقل کیا گیا۔ ان میں سے بعض نے ساحلوں پر یورپی افواج کے حملوں کے وقت زبردست کارنامے دکھائے۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic