افریقہ کی مہمات
عالم اسلام کے مغرب میں افریقہ کا وسیع براعظم تھا، جس کی شمالی پٹی جو بحیرہ روم کے ساتھ ساتھ جاتی ہے، کئی مملکتوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھی۔ حضرت عثمانؓ کے دور میں یہاں کچھ فتوحات ہوئی تھیں مگر مسلمانوں کو یہاں ابھی تک استحکام نصیب نہیں ہوا تھا۔ یورپی بادشاہ اور قیصرِ روم یہاں کے کفار کی مدد کرتے تھے تاکہ وہ مسلمانوں کے آگے ڈٹے رہیں۔ قیصر کا افریقی سرداروں کی مسلمانوں سے مصالحت کا بڑا رنج تھا۔ اس لیے وہ بار بار انہیں مسلمانوں کے خلاف بھڑکاتا تھا۔ ان حالات کے پیش نظر مصر میں حضرت معاویہؓ کے گورنر حضرت عمرو بن العاصؓ نے افریقہ کی فتوحات کے لیے اپنے خالہ زاد بھائی حضرت عقبہ بن نافعؓ کو ذمہ دار بنایا۔
عقبہ بن نافعؓ کی فتوحات:
حضرت عقبہؓ ایک بلند پایہ عسکری قائد، دلیر اور عابد وزاہد انسان تھے۔ انہوں نے حضرت معاویہؓ کی خلافت کے پہلے ہی سال افریقہ میں فوج کشی کی اور صحرائے اعظم کو عبور کرتے ہوئے لوبیا (لیبیا) تک جا پہنچے۔ لوبیا اور مراقیا کو فتح کر کے وہ لوٹے ہی تھے کہ پیچھے شکست خوردہ افریقیوں نے بغاوت کر دی، حضرت عقبہؓ پھر پلٹے، دشمنوں کی بڑی تعداد کو قتل اور گرفتار کر کے بغاوت کی آگ ٹھنڈی کی گے۔
اگلے سال انہوں نے مزید پیش قدمی کی اور شدید لڑائی کے بعد "غُدامِس" کو فتح کر ڈالا۔
سن 43 ہجری میں وہ باقی فوج کو روک کر صرف چار سو گھڑ سواروں، چار سو شتر سواروں اور پانی کے آٹھ سو مشکیزوں کا زادِ سفر لے کر جنوب میں سوڈان کے صحراؤں کی طرف نکل گئے اور "برقہ " کے نواح میں "ودّان" کو فتح کر کے مقامی سردار کو گرفتار کر لیا۔
عمرو بن العاصؓ کی وفات:
مصر کے گورنر حضرت عمرو بن العاصؓ سن ۴۳ ہجری میں عیدالفطر کے دن وفات پا گئے تھے۔
مشاجرات میں شرکت کے باعث حضرت عمرو بن العاصؓ کے کردار و شخصیت پر بھی سوالیہ نشان لگ جاتے ہیں اور اہلِ باطل ان کے جواب محض اپنی عقل یا ضعیف روایات لے کر انہیں ظالم اور منافق سمجھنے لگتے ہیں۔ حالاں کہ وہ عظیم صحابی تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "العاص کے دونوں بیٹے :عمر واور ہشام مومن ہیں۔"
حافظ ذہبیؓ لکھتے ہیں: "وہ قریش کے ہوشیار شخص اور دنیا کے مانے ہوئے مرد تھے۔ ذہانت، ہوشیاری اور دور اندیشی میں ضرب المثل تھے۔ پستہ قد تھے اور سیاہ خضاب لگاتے تھے۔"
جب ان کی وفات کا وقت ہوا تو شدید گھبراہٹ کے عالم میں رونے لگے۔ ان کے بیٹے عبداللہ (بن عمرو)ؓ نے کہا: "کیوں رو رہے ہیں، کیا موت سے گھبراتے ہیں؟"
فرمایا: "اللہ کی قسم! موت سے نہیں بلکہ موت کے بعد والی زندگی سے۔"
صاحبزادے نے کہا: "آپ نے تو خیر کی زندگی گزاری ہے؟" یہ کہہ کر صاحبزادے انہیں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور شام کی فتوحات میں شرکت کی باتیں یاد دلانے لگے۔ حضرت عمرو بن العاصؓ کہنے لگے:
"تم نے ان سب سے بڑھ کر فضیلت والی بات چھوڑ دی۔ وہ ہے لا الہ الا اللہ کی گواہی دینا۔ دیکھو! میری زندگی کے تین دور گزرے ہیں۔ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ میں کس دور میں کیا تھا۔
پہلے میں کافر تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین میں سب لوگوں سے بڑھ کر تھا۔ اگر میں اس وقت مر جاتا تو یقیناً جہنمی ہوتا۔
پھر جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تو میں ان سے حیا کرنے میں سب لوگوں سے بڑھ کر تھا۔ میں کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نگاہ بھر کر نہ دیکھ سکا۔ میں جو کچھ ان سے کہنا چاہتا تھا، اس کا کھل کر اظہار نہ کر سکا۔ آخر وہ اللہ سے جا ملے۔ اگر میں بھی اسی دور میں مر جاتا تو لوگ کہتے: "عمرو کو مبارک ہو۔ وہ اسلام لایا، خیر پر جیا اور مر گیا، اس کے لیے جنت کی امید ہے۔
" مگر اس کے بعد میں اقتدار اور اس قسم کی چیزوں میں الجھ گیا۔ معلوم نہیں اب وہ میرے لیے فائدہ مند ہوں گی یا نقصان دہ۔ پس میں مر جاؤں تو مجھ پر کوئی نہ روئے۔"
ایک روایت میں ہے کہ صاحبزادے نے کہا: "گھبرائیے نہیں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو قریب کرتے اور امیر بناتے تھے۔" فرمایا: "بیٹا! ایسا تو تھا مگر میں تمہیں اس بارے میں بتاؤں کہ اللہ کی قسم! مجھے نہیں معلوم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ محبت کی وجہ سے یہ معاملہ کرتے تھے یا دل جوئی کی خاطر۔ مگر میں دو آدمیوں کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوتے دم تک ان سے محبت تھی۔ ایک ابنِ سمیہ (عمار بن یاسر) اور ایک ابنِ اُمِ عبد (عبداللہ بن مسعود)۔" یہ کہہ کر انہوں نے اپنا ہاتھ تھوڑی کے نیچے رکھ لیا اور دعا کی:
"یا اللہ ! تو نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے چھوڑ دیا۔ تو نے منع کیا اور ہم نے اس کا ارتکاب کیا۔ تیری مغفرت کے سوا ہمارے لیے کوئی ٹھکانہ نہیں۔" یہی کہتے کہتے ان کی روحِ خالقِ حقیقی سے جا ملی۔
"انا للہ وانا الیہ راجعون"
یہ تھے صحابہ کرام جو باہمی اختلافات میں بھی مخلص اور نیک نیت تھے، بلکہ آخرت ان کا اوڑھنا بچھونا تھی اور کوئی غلطی ہو جاتی تو وہ اس کا اعتراف کرنے اور نادم ہو کر توبہ واستغفار کرنے میں بھی سب سے بڑھ کر تھے۔
معاویہ بن حُدَیجؓ کا جہاد:
حضرت عمرو بن العاصؓ کی جگہ مُسلمہ بن مُخلّدؓ مصر اور شمالی افریقہ کے گورنر بنے۔ اس دوران 45ھ میں قیصر نے ولیم نامی ایک امیر کو افریقہ بھیج کر لوگوں کو اپنی ماتحتی میں آنے کی دعوت دی۔ ایک افریقی سردار حبابہ نے آکر حضرت معاویہؓ کو یہ بتایا تو انہوں نے معاویہ بن حُدَیجؓ کو افریقہ میں مزید فتوحات کی ذمہ داری دی۔
وہ افریقہ کے جنگلات میں بڑھتے چلے گئے۔ اس دوران انہوں نے ایک پہاڑ پر کیمپ لگایا جہاں ایسی شدید بارشوں کا سامنا کرنا پڑا کہ اس جگہ کو "جبل المَطر" (بارشوں کا پہاڑ) کہا جانے لگا۔
سن 47 ھ میں افریقہ کی مہم کے لیے حضرت رُوَیْفِع بن ثابتؓ کو سپہ سالار بنا کر بھیجا گیا۔ وہ طرابُلس المغرب (ٹریپولی، لیبیا کے موجودہ دارالحکومت) تک پہنچے اور اسے فتح کر کے لوٹے۔
بہار اور گرمی میں جب سمندر معتدل ہوتا تو طرابلس کے ساحل پر رومیوں کے حملوں کا خطرہ بڑھ جاتا، البتہ سرما میں سمندر کی طغیانی کے سبب یہ خطرہ نہیں رہتا تھا۔ حضرت معاویہؓ ہر سال موسمِ بہار میں اضافی تازہ دم افواج طرابلس کے ساحل پر تعینات کر دیتے۔ جب موسمِ سرما آتا اور سمندر میں طغیانی ہوتی تو امیر لشکر تھوڑی فوج کے ساتھ وہیں رہ جاتا۔ باقی فوج واپس چلی جاتی۔
سُوس کی فتح:
سن 50 ہجری میں حاکمِ مصر حضرت مُسلمہ بن مُخلّدؓ کی طرف سے معاویہ بن حُدَیجؓ کو پھر جہاد کے لیے افریقہ بھیجا گیا۔ ان کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمرؓ، عبداللہ بن زبیرؓ اور عبدالملک بن مروان جیسے نامور قریشی حضرات تھے۔ رومی بادشاہ افریقہ پر اپنی بالا دستی برقرار رکھنے کا خواہاں تھا۔ اس نے نَجْفور نامی ایک نواب کو تیس ہزار جنگجو دے کر مسلمانوں کی یلغار روکنے کے لیے بھیج دیا۔ جونہی رومی فوج افریقہ کے ساحل پر اتری حضرت معاویہ بن حُدَیج اور حضرت عبداللہ بن زبیرؓ گھڑ سواروں کا ایک بڑا دستہ لے کر ان کی طرف روانہ ہو گئے۔
ساحلی شہر سُوس سے بارہ میل (ساڑھے 19 کلومیٹر) دور ایک اونچے ٹیلے پر پہنچ کر وہ رک گئے۔ یہاں سے ساحل پر رومی فوج دکھائی دے رہی تھی۔ رومی سالار نَجْفور کو ان حضرات کے قریب آنے کی اطلاع مل گئی۔ وہ اتنا گھبرایا کہ اسی وقت جہاز میں چڑھ کر واپس بھاگ نکلا۔ فوج پیچھے رہ گئی۔
اب حضرت عبداللہ بن زبیرؓ گھڑ سواروں کو لے کر سیدھے سُوس شہر کے سامنے ساحل پر جا پہنچے۔ ایک طرف رومی فوج کھڑی تھی، دوسری طرف شہر کا دروازہ تھا۔ عصر کا وقت تھا۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے وہیں صفیں درست کرا کے نمازِ عصر شروع کرا دی۔
رومی حیرت سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ آخر انہوں نے اسے حملے کا بہترین موقع خیال کر کے گھڑ سواروں کو آگے بڑھایا۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ اطمینان سے نماز ادا کرتے رہے اور حریف کی اس بزدلانہ حرکت کی ذرا بھی پروا نہ کی۔ دشمن کے قریب آنے سے ذرا پہلے وہ سلام پھیر کر گھوڑے پر سوار ہوئے اور تکبیر کہتے ہوئے رومیوں پر پل پڑے۔ کچھ ہی دیر میں رومی سر پر پاؤں رکھ کر فرار ہو گئے۔
ادھر حضرت معاویہ بن حُدَیجؓ نے عبدالملک بن مروان کو ایک ہزار گھڑ سواروں کا دستہ دے کر "جلولاء" نامی شہر کی جانب بھیجا جو قیروان سے چوبیس میل (ساڑھے 38 کلومیٹر) دور ہے۔
عبدالملک نے محاصرہ کر کے منجنیقوں سے شدید سنگ باری کی مگر شہر فتح نہ ہو سکا۔ فصیل کمزور ہونے کے باوجود کہیں سے ٹوٹی نہ تھی لہٰذا فتح میں تاخیر ہوتی جا رہی تھی۔ ادھر سپہ سالارِ اعلیٰ معاویہ بن حُدَیجؓ کا بھیجا ہوا بڑا لشکر بھی عبدالملک کے پاس پہنچ گیا تا ہم کامیابی نہ ہوئی۔
عبدالملک بن مروان نے ایک دن جلولاء پر زور دار حملہ کیا۔ شہر والے کامیاب مزاحمت کرتے رہے۔ اسی دوران عبدالملک کو معاویہ بن حُدَیجؓ کا حکم موصول ہوا کہ مہم کو چھوڑ کر واپس آجاؤ۔ عبدالملک کے پاس حکم کی تعمیل کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ سپاہیوں کو پڑاؤ کی طرف واپسی کا اشارہ دے کر عبدالملک نے خود اپنے خیمے کا رخ کیا، کچھ دور پہنچ کر یاد آیا کہ کمان وہیں کسی درخت سے لٹکی رہ گئی ہے۔ واپس جا کر کمان اٹھائی، اس دوران اچانک شہر کی فصیل پر نگاہ پڑی تو حیرت کا جھٹکا لگا: کیوں کہ فصیل ایک جگہ سے منہدم ہو چکی تھی۔
عبدالملک نے فوراً آواز دے کر سپاہیوں کو واپس بلایا اور شہر پر پوری قوت سے حملہ کر دیا۔ مسلمان زبردست لڑائی کے بعد شہر میں داخل ہو گئے اور اسے فتح کر لیا۔
اس فتح میں اتنا مالِ غنیمت ہاتھ لگا کہ ہر مجاہد کو دو سو اور ہر گھڑ سوار کو چار سو درہم ملے۔
ان فتوحات کے دوران حضرت معاویہ بن حُدَیجؓ نے عبدالملک بن مروان کو ساتھ لے کر تیونس سے 32 میل (51 کلومیٹر) مغرب میں ساحل پر واقع "بنَزِرت" کا مشہور شہر بھی فتح کر لیا۔
حضرت معاویہ بن حُدَیجؓ اس مہم سے ایک سال بعد واپس لوٹے۔
افریقہ میں اولین اسلامی چھاؤنی، قیروان شہر کی تعمیر:
اب تک افریقہ میں مسلمانوں کے حملے حریف ریاستوں پر دباؤ بڑھانے اور ان کی شر پسندی کا زور توڑنے کے لیے تھے۔ مسلمانوں کی افواج یہاں آکر مستقل قیام نہیں کرتی تھیں اس لیے اب تک کئی جہادی مہمات کے باوجود افریقہ میں مسلمانوں کا کوئی شہر آباد نہیں ہوا تھا۔ اس کا نقصان یہ ہو رہا تھا کہ اسلامی افواج کے جاتے ہی کوئی نہ کوئی شر پسند سردار لوگوں کو جمع کر کے بغاوت کر دیتا اور کچھ مدت بعد مسلم فوج کو دوبارہ آکر علاقہ فتح کرنا پڑتا۔
مسلمانوں کے یہاں آباد نہ ہو سکنے کی کئی وجوہات تھیں: ان علاقوں میں سینکڑوں میلوں تک مسلسل صحرا اور جنگلات پھیلے ہوئے تھے۔ آبادی کہیں کہیں تھی اور وہ بھی بہت کم۔ پھر ان میں ضروریاتِ زندگی کی فراہمی بہت مشکل تھی اس لیے مہذب انسانوں کا آباد ہونا بہت دشوار تھا۔ اس کے برعکس شام، مصر اور عراق و فارس کے علاقے پہلے سے آباد اور ضروریاتِ زندگی سے بھر پور تھے، اس لیے مسلمان وہاں آسانی سے شہر، قلعے اور چھاؤنیاں بنا چکے تھے۔
بہر حال افریقہ میں بغاوتوں کا سلسلہ ختم کرنے کے لیے ایک اسلامی شہر بسانا ضروری تھا۔ اس عظیم کام کا بیڑا سن 50 ہجری میں حضرت معاویہؓ کے سپہ سالار حضرت عقبہ بن نافعؓ نے اٹھایا۔ حضرت عقبہ کا تعلق قریش کے خاندان بنو فہر سے تھا۔ سن 10 ہجرت میں ولادت ہوئی تھی، اب وہ چالیس برس کے تجربہ کار انسان تھے۔ وہ دس ہزار سپاہیوں کے ساتھ برقہ کے نواح میں کیمپ لگائے ہوئے تھے اور حکام بالا کی ہدایات کے مطابق مہمات میں جاتے رہے تھے۔ انہوں نے افریقہ کے کئی شہر فتح کر لیے تھے اور اسلامی سرحدوں کو سوڈان تک پہنچا دیا تھا۔
انہوں نے امرائے لشکر کے اجلاس میں کہا:
"افریقہ میں جب بھی کوئی ہمارا سپہ سالار فوج لے کر آتا ہے، یہ لوگ اسلام کے پرچم تلے آجاتے ہیں، مگر اسلامی فوج کے جاتے ہی بغاوت کر دیتے ہیں؛ اس لیے آپ حضرات یہاں ایک ایسا شہر آباد کریں جو ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کا مرکز بن جائے۔"
سب نے اس رائے سے اتفاق کیا۔ بعض حضرات نے رائے دی کہ یہ شہر ساحل پر تعمیر کیا جائے تاکہ سمندری سرحد کی حفاظت بھی ہوتی رہے مگر حضرت عقبہ بن نافعؓ نے فرمایا:
"اس صورت میں ممکن ہے کہ قیصر اچانک چڑھائی کر کے اس پر قبضہ کر لے۔ بہتر یہ ہے کہ اسے ساحلِ سمندر سے تین دن کی مسافت پر بنایا جائے تاکہ دشمن کی بحری فوج آئے تو ایکدم اس تک نہ پہنچ سکے۔"
سب نے اس رائے سے اتفاق کیا۔
عقبہ بن نافعؓ نے اس منصوبے کے لیے "السبخۃ" جھیل کے قریب کا علاقہ پسند کیا۔ سن 51ھ میں مسلمان کام کا آغاز کرنے لگے تو مشکل یہ آن پڑی کہ وہاں کا گھنا جنگل درندوں، سانپوں اور بچھوؤں سے پٹا پڑا تھا، اندر قدم رکھنا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔
درندوں نے جنگل خالی کر دیا:
حضرت عقبہؓ نے لشکر کے چنیدہ افراد کو جمع کیا جن میں اٹھارہ صحابہ کرام شامل تھے۔ سب نے مل کر اس کام کی آسانی کے لیے دعا کی۔ عقبہ بن نافعؓ نے سیدھا جھیل کی وادی میں پہنچے جہاں شہر آباد کرنا تھا۔ وہاں بلند آواز سے اعلان کیا:
"اے جنگل کے درند و! سانپو! اور بچھوؤ! ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں۔ یہاں سے چلے جاؤ۔ ہم یہاں قیام کریں گے۔ آئندہ تم میں جو دکھائی دیا اسے مار دیں گے۔"
دیکھتے ہی دیکھتے درختوں کے جھنڈوں سے درندے اور بلوں سے سانپوں اور بچھوؤں کے غول نکلنے لگے۔ جنگل خالی ہو رہا تھا۔ جانوروں نے اصحابِ رسول کی پکار پر لبیک کہا تھا۔ وہ اپنے بچوں کو بھی ساتھ لیے جا رہے تھے جو خود چل نہیں سکتے تھے۔ بھیڑیے اپنے بچوں کو منہ میں دبا کر بھاگ رہے تھے۔ سانپ اپنے بچوں کو ساتھ لپٹائے بلوں سے نکل رہے تھے۔ حضرت عقبہؓ نے آواز لگائی: "کوئی ان جانوروں کو ہاتھ نہ لگائے، انہیں جانے دو۔"
جنگل خالی ہو گیا تو ساتھیوں سے فرمایا: "اب اللہ تعالیٰ کا نام لے کر داخل ہو جاؤ۔"
مسلمان جنگل میں گئے تو وہاں کسی جانور کا نام و نشان تک نہ تھا۔ یہ منظر دیکھ کر بربر قبائل کے ان گنت لوگ مشرف بہ اسلام ہو گئے۔ چالیس برس تک پھر اس علاقے کے اردگرد کوئی موذی جانور نظر نہیں آیا۔
حضرت عقبہؓ کے حکم پر درختوں اور جھاڑیوں کو کاٹ کر ایک وسیع رقبہ صاف کر دیا گیا۔ پہلے ایک بڑی مسجد تعمیر کی گئی۔ پھر اس کے اردگرد مجاہدین کے مکانات بنائے گئے۔ ہر محلے میں ایک چھوٹی مسجد تعمیر کی گئی۔ شہر کی فصیل کا دائرہ ساڑھے چار میل (سوا سات کلومیٹر) رکھا گیا۔
شہر کی بنیاد پڑی تو لوگ ادھر کھنچے آنے لگے۔ کچھ ہی عرصے میں یہ آبادی سے بھر گیا۔ اسے "قیروان" کا نام دیا گیا۔ یہ افریقہ میں مسلمانوں کی پہلی چھاؤنی اور پہلا شہر تھا۔
حضرت عقبہ بن نافعؓ مفتوحہ علاقوں میں تبلیغ کا کام بھی کرتے رہے جس سے اس براعظم میں تیزی سے اسلام پھیلا اور بے شمار بربر اور دیگر قبائل اسلام میں داخل ہوئے گے۔
ابو مہاجر دینار اور حسان بن نعمان کی فتوحات:
چند سال بعد حضرت عقبہ بن نافعؓ واپس بلا لیے گئے تو 53ھ میں خالد بن ثابت فہمی اور ان کے بعد ابو مہاجر دینارؓ نے یکے بعد دیگرے افریقہ کے محاذ پر جہادی خدمات انجام دیں اور حضرت عقبہ بن نافعؓ کی فتوحات کے سلسلے کو آگے بڑھایا۔
سن 55 ہجری میں یہاں حضرت حسان بن نعمانؓ کا تقرر ہوا، اسی سال عابس بن سعد نے شمالی افریقہ کے شہر اَصطاذنہ پر حملہ کیا۔ بربر قبائل نے جو الجزائر سے مراکش تک پھیلے ہوئے تھے، ان سے صلح کر لی اور خراج ادا کرنے لگے۔
حضرت حسان بن نعمانؓ حضرت معاویہؓ کی وفات تک یہاں تعینات رہے۔
سن 59 ہجری میں ابو مہاجر دینارؓ نے شمالی افریقہ کے ساحل پر رومیوں کے قدیم تاریخی شہر "قرطاجنہ" پر یلغار کی۔ یہاں دن بھر گھمسان کی لڑائی ہوئی۔ مسلمانوں نے پیچھے ہٹ کر رات کو اپنے زیرِ قبضہ افریقی شہر تونس (موجودہ تیونس) کے قریب ایک پہاڑ پر اپنی دفاعی لائن کو مضبوط کیا اور صبح سویرے کفار پر فیصلہ کن حملہ کر دیا۔ مقامی لوگوں نے ہتھیار ڈال کر شہر ان کے حوالے کر دیا۔ قرطاجنہ کے بعد ابو مہاجر نے ایک اور اہم مقام "میلہ" کو بھی فتح کیا۔
اس طرح سیدنا معاویہؓ کے دور میں تقریباً پورے شمالی افریقہ میں مسلمانوں کے قدم مضبوطی سے جم گئے۔

