خراسان کی مہمات
بصرہ کے پہلے گورنر عبد اللہ بن عامرؓ اور دوسرے گورنر زیاد بن ابی سفیان نے خراسان سے شورش پسندی کے خاتمے اور نئی فتوحات کا بیڑا اٹھائے رکھا۔ بصرہ کے ہیڈ کوارٹر سے شمالی اور وسطی و جنوبی افغانستان کے لیے الگ الگ جرنیل مقرر کیے گئے۔ شمالی افغانستان کی مہم حضرت قیس بن ہثیم اور حضرت عبد اللہ بن خازم کے سپرد کی گئی۔ حضرت قیس نے بلخ کے باغیوں کی گوشمالی کی اور ان کا آتش کدہ مسمار کر دیا۔ عبد اللہ بن خازم نے ہرات اور بادغیس کے شورش پسندوں پر قابو پایا۔
عبدالرحمن بن سمرہؓ کی قیادت میں جہادِ کابل:
وسطی اور جنوبی افغانستان کے لیے مشہور صحابی عبدالرحمن بن سمرہؓ کو تعینات کیا گیا جو حضرت عثمانؓ کے دور میں اس خطے کی فتح میں پیش پیش رہے تھے۔ تب انہوں نے کابل کو ایک معاہدے کے تحت فتح کیا تھا مگر اب کابل سے لے کر رُخَّج (قندھار) تک تمام علاقہ پھر آزاد ہو چکا تھا۔
حضرت عبدالرحمن بن سمرہؓ فوج لے کر کابل تک بڑھتے چلے گئے۔ ان کے ہمراہ کئی صحابہ کرام، درجنوں امورِ تابعین اور عرب کے مشہور شہسوار شامل تھے جن میں حضرت عمر بن عبید اللہ، حضرت عبد اللہ بن خازم، حضرت مُہَلَّب بن ابی صفرہ، حضرت عباد بن حصین، حضرت ہشام بن عامر، حضرت حسن بصری، حضرت صلہ بن اشیم، حضرت زید العبدی اور قطری بن فجاءہ قابلِ ذکر ہیں۔
صلہ بن اشیمؒ کا مجاہدہ:
حضرت صلہ بن اشیمؒ بہت عبادت گزار انسان تھے۔ ان کے ایک رفیقِ سفر ید العبدی کہتے ہیں:
”ایک رات لشکر نے پڑاؤ ڈالا، نمازِ عشاء پڑھ کر سب لیٹ گئے۔ میں نے سوچا آج رات جاگ کر دیکھوں گا
کہ صلہ بن اشیم کیسی عبادت کرتے ہیں؟ میں نے دیکھا کہ حضرت صلہ بھی سب مجاہدین کی طرح لیٹ گئے، جب لوگ سو گئے تو وہ یکدم اٹھ کر قریبی جنگل کی طرف چلے گئے۔ میں ان کے پیچھے لگ گیا۔ دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا اور نماز میں مشغول ہو گئے۔ ان کی نماز جاری تھی کہ یکایک جنگل سے ایک شیر نکل آیا اور ان کے بالکل پاس پہنچ گیا۔ میں گھبرا کر ایک درخت پر چڑھ گیا۔ حضرت صلہ اطمینان سے نماز پڑھتے رہے۔ میں نے سوچا شیر نے اب تک صلہ کو نہیں دیکھا یا دیکھا ہوگا تو انہیں کوئی درخت سمجھ لیا ہوگا۔ اتنے میں حضرت صلہ سجدے میں چلے گئے۔ میں نے سوچا اب تو شیر انہیں چیر پھاڑ کر ہی چھوڑے گا، مگر کچھ نہ ہوا۔ آخر حضرت صلہ نے سلام پھیرا اور شیر کی طرف پلٹ کر فرمایا: ’اے درندے! اپنا رزق کہیں اور تلاش کر۔‘ شیر یہ سن کر اتنی زور سے دھاڑتا ہوا واپس گیا کہ مجھے لگا پہاڑوں کے پرخچے اڑ جائیں گے۔
حضرت صلہؒ اس طرح نماز پڑھتے رہے یہاں تک کہ صبح کا دھندلکا نمایاں ہو گیا۔ جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، دیر تک دعا کرتے رہے۔ آخر میں فرمایا: ’اے اللہ! میں تجھ سے بس یہ سوال کرتا ہوں کہ مجھے جہنم سے نجات دے دے۔ بھلا مجھ سے گناہ گار کو جنت کے سوال کی جرات کہاں۔
اس کے بعد حضرت صلہؒ لشکر میں واپس لوٹ آئے ۔ صبح میں نے ان کو ایسا ہشاش بشاش پایا جیسے وہ رات بھر نرم بستر پر سوتے رہے ہوں، جب کہ شب بیداری سے میری وہ حالت تھی کہ اللہ ہی جانتا ہے۔“
اس طرح اللہ والوں کا یہ لشکر کابل کی طرف رواں دواں رہا۔ جب محاذ قریب آیا (اور پہاڑی گھاٹیاں شروع ہوئیں) تو امیر لشکر نے کہا: ”لشکر کا کوئی فرد اِدھر اُدھر نہ ہونے پائے۔“
اب لشکر روانہ ہونے لگا تو حضرت صلہؒ کا خچر ان کے سامان سمیت کہیں بھاگ چکا تھا۔ وہ وہیں رک کر نماز کی نیت باندھنے لگے۔ لوگوں نے کہا: ”جناب لشکر روانہ ہو چکا ہے۔“وہ چند قدم چلے پھر رک کر بولے: ”مجھے دو رکعت تو پڑھنے دو۔“
ساتھیوں نے کہا: ”لشکر نکلا جا رہا ہے۔“
بولے: ”میری سواری اور سامان ہلکے پھلکے ہیں (با آسانی لشکر سے جا ملوں گا)۔“
اب انہوں نے دو رکعت پڑھ کر دعا کی: ”اے اللہ ! تجھے قسم دیتا ہوں کہ میری سواری اور سامان لوٹا دے۔“ چند لمحوں میں ان کا خچر سامان سمیت ان کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
دو عرب مجاہدین نے دشمنوں کا منہ پھیر دیا:
سفر کے دوران ایک جگہ قبائلی جنگجوؤں سے زور دار معرکہ ہوا۔ حضرت صلہ بن اشیمؒ اور ایک دوسرے تابعی حضرت ہشام بن عامرؒ نے جو حضرت ابو ہریرہؓ کے شاگرد تھے، اس دن تنِ تنہا بڑھ کر شمشیر زنی اور نیزہ بازی کے جوہر دکھائے اور دشمن کا منہ پھیر دیا۔ کفار پر اتنی دہشت طاری ہوئی کہ وہ کہنے لگے:
”دو عرب سپاہیوں نے ہمارا یہ حشر کیا، اگر وہ سب ہم پر حملہ آور ہوتے تو ہمارا کیا حال ہوتا؟“
چنانچہ انہوں نے مسلمانوں سے صلح کر لی۔
کسی نے حضرت ابو ہریرہؓ کو اس معرکے کی خبر دیتے ہوئے ان کے شاگرد کی شکایت بھی لگائی اور کہا: ”ہشام نے اس دن خود کو ہلاک کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔“
حضرت ابو ہریرہؓ نے ڈانٹ کر فرمایا: ”ہرگز نہیں، وہ تو اس آیت کا مصداق بننا چاہتے تھے:
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْرِيْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ
”اور لوگوں میں سے بعض وہ ہیں جو اپنی جان اللہ کو بیچ دیتے ہیں، اللہ کی رضا چاہنے کے لیے۔“
سبحان اللہ! یہ تھا صحابہ کرام اور تابعینِ عظام کا جذبۂ جہاد۔
کابل کی وادی میں:
اس طرح کے ایمان افروز واقعات کے ساتھ یہ مبارک لشکر کابل پہنچا۔ کابل قدرتی طور پر پہاڑوں میں گھرا ہوا محفوظ ترین شہر تھا۔ شہر والے لڑنے مرنے پر تیار تھے، اس لیے فتح بہت مشکل تھی مگر حضرت عبدالرحمن بن سمرہؓ نے سختی سے محاصرہ کر لیا، جو کئی ماہ تک جاری رہا۔ آخر شدید سردی اور برف باری کا موسم شروع ہو گیا جو عربوں کے لیے نہایت دشوار گزار تھا مگر مسلمان ڈٹے رہے۔ سردی اور برف باری۔۔۔ وہ بھی کابل کی۔۔۔ اللہ اکبر!۔۔۔ پورا موسمِ سرما اس حالت میں گزرا، محاصرہ طویل سے طویل تر ہوتا گیا۔ بہار اور موسمِ گرما گزر کر پھر سردی کے دن آ گئے۔ پھر بھی مسلمان نمازیں قصر میں پڑھتے رہے کیوں کہ مستقل قیام کی نیت نہ تھی۔
محاذِ جنگ پر فقہ اور حدیث کی تعلیم:
محاصرے کے دوران حضرت عبدالرحمن بن سمرہؓ حدیث اور فقہ کی تعلیم دیتے رہے۔ اس محاذ پر ان کے ساتھ حضرت حسن بصری، حضرت ابن حبیب اور حضرت ابن عبید جیسے تابعین شاگردوں کے طور پر موجود تھے۔ یہ سب بیک وقت عالم بھی تھے اور مجاہد بھی۔ حضرت عبدالرحمن بن سمرہؓ نے انہیں جنگ کے دوران صلوٰۃِ خوف پڑھا کر اس کی عملی مشق کرائی۔ درسِ حدیث میں حضرت عبدالرحمن بن سمرہؓ نے ایک حدیث سنائی جو بہت مشہور ہوئی:
”عہدہ طلب نہ کیا کرو۔ اگر تمہیں مانگ کر ملے گا تو وبال بن جائے گا اور اگر بن مانگے ملے گا تو اس بارے میں (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) تمہاری مدد کی جائے گی۔“
موسمِ بہار آیا تو کابل کے گردونواح میں باغ پھلوں کے لد جاتے، مجاہدینِ اسلام کو اجازت تھی کہ ضرورت کے مطابق پھل کھا سکتے ہیں مگر اُٹھا کر ساتھ لے جانے یا پھل دار پیڑ کو نقصان پہنچانے کی سختی سے ممانعت تھی۔
منجنیق کا استعمال:
جب کابل کسی طرح فتح ہونے میں نہ آیا تو عبدالرحمن بن سمرہؓ نے منجنیق استعمال کر کے شہر کی فصیل گرانے کا فیصلہ کیا۔ مسلمان عموماً قلعہ شکن آلات استعمال کرنے میں احتیاط کرتے تھے، کیوں کہ اس میں عام لوگوں کے زد میں آ جانے کا امکان بھی ہوتا تھا مگر غزوۂ طائف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منجنیق کام میں لا چکے تھے، اس لیے اس کا جواز موجود تھا۔
منجنیق کی آزمائش نتیجہ خیز ثابت ہوئی۔ بھاری پتھروں کی بارش نے کابل کی ناقابل تسخیر فصیل میں ایک بڑا شگاف ڈال دیا۔ رات کو کابل کے جنگجو اس شگاف کو پُر کرنے کے لیے موقع کی تاک میں رہے مگر اسلامی لشکر کے افسر حضرت عباد بن حصینؒ نے ساری رات مسلسل تیر اندازی کر کے انہیں شگاف سے دور رکھا۔ حضرت حسن بصریؒ ان کی اس دلیری پر فرمایا کرتے تھے: ”میں نے عباد بن حصین کو دیکھنے سے پہلے بھی یہ تصور نہیں کیا تھا کہ کوئی اکیلا آدمی ہزاروں کے برابر ہو سکتا ہے۔“
فیصلہ کن جنگ:
صبح ہوئی تو شہر کا پھاٹک کھل گیا۔ شکست سامنے دیکھ کر کابل کے مشرک ایک سیلاب کی طرح باہر اُمند نے لگے۔ ان کے ساتھ ایک خوفناک جنگلی ہاتھی بھی تھا جو سامنے آنے والے ہر شخص کو روندنے پر تلا ہوا تھا۔ حضرت عبد اللہ بن خازم یہ دیکھ کر بجلی کی طرح جھپٹے۔ ہاتھی ابھی دروازے سے ذرا باہر آیا تھا کہ انہوں نے اسے وہیں مار گرایا۔ ہاتھی پھاٹک کے ایک پٹ کے ساتھ اس طرح ڈھیر ہو گیا کہ مشرکین پھاٹک بند کرنے کے قابل نہ رہے۔ مسلمان انہیں دھکیلتے ہوئے شہر میں داخل ہو گئے اور یوں کابل جیسا مستحکم اور محفوظ ترین شہر بزورِ شمشیر فتح ہوا جس کی مثالیں تاریخ میں کم یاب ہیں۔ حضرت عبدالرحمن بن سمرہؓ نے حضرت عمر بن عبید اللہ اور حضرت مُہَلَّب بن ابی صفرہؓ کو فتح کی خوشخبری کے ساتھ مرکز بھیج دیا۔
مجاہدین کی دیانت داری:
کابل کی فتح میں بے شمار مالِ غنیمت ہاتھ آیا، انواع واقسام کے ساز وسامان کے ڈھیر لگ گئے۔ بعض لوگ ان چیزوں کو چھیننے جھپٹنے لگے۔ عبدالرحمن بن سمرہؓ نے فوراً ایک شخص کو کہا کہ وہ اعلان کر دے: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے، جو لوٹ مار کرے وہ ہم میں سے نہیں۔ لہٰذا جو چھینا جھپٹا ہے وہ واپس کر دو۔“ یہ اعلان سنتے ہی مسلمانوں نے سب چیزیں واپس رکھ دیں۔ حضرت عبدالرحمن بن سمرہؓ نے دستور کے مطابق انہیں برابر تقسیم کیا۔
در حقیقت اس دور کے اکثر مسلمان اتنے باضمیر تھے کہ فرمانِ نبوی پر فوراً سر جھکا دیتے تھے، یہی ان کی کامیابیوں کا سب سے بڑا راز تھا۔
کابل کے قیدی بچے اُمّتِ محمدیہ کے نامور محدث بنے:
فتوحات میں قیدی اور غلام بننے والوں کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا جاتا تھا۔ غلام بچوں کی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ دی جاتی تھی۔ کابل کی فتح سے جو غلام ہاتھ لگے ان میں چند لڑکے بہت با صلاحیت تھے۔ یہ لڑکے علمائے امت کے حلقوں میں بیٹھے کر آخر کار نامور محدث، مفسر اور مشائخ بنے۔ ان میں نافع مولیٰ ابن عمر، سالم بن عجلان، ابو ایوب سختیانی اور ابو حمید الطویل مہران علم و فضل میں بہت مشہور ہوئے۔ ان میں مَکحول بھی تھے جو نسلاً سندھی تھے مگر شام منتقل ہونے کے بعد مکحول الشامی مشہور ہو گئے اور عظیم محدث بنے۔
قندھار کی فتح:
کابل کی فتح کے بعد حضرت عبدالرحمن بن سمرہؓ نے سجستان (جنوبی افغانستان) کی طرف پیش قدمی کی اور بکثرت شہروں، قلعوں اور قبائل کو مسخر کرتے ہوئے رُخَّج (قندھار) اور بُست تک جا پہنچے۔ اسی یلغار میں انہوں نے زابلستان کے نواح میں زابُل کو بھی فتح کیا۔
عبدالرحمن بن سمرہؓ کی وفات:
سن 46 ہجری میں حضرت عبدالرحمن بن سمرہؓ خراسان سے معزول ہوئے اور واپس بصرہ بلا لیے گئے۔ وہ کابل کے بہت سے غلام اپنے ساتھ لیتے گئے، جنہوں نے بصرہ میں ان کی حویلی کے احاطے میں ایک مسجد تعمیر کی۔ اس کے چند برس بعد سن 50 ہجری میں خراسان و سجستان کے اس عظیم فاتح کا انتقال ہو گیا۔
نئی شورش اور اس کا سدِ باب:
حضرت عبدالرحمن بن سمرہؓ کے بعد خراسان کے مقامی قبائل نے جگہ جگہ پھر بغاوت کر دی۔ کابل سے قندھار تک ایک بار پھر ان کی اجارہ داری ہو گئی۔ آخر نئے گورنر عبید اللہ بن زیاد نے بُست کے مقام پر قبائلیوں کے رہنما کو جس کا لقب ”رُتبیل“ تھا، شکست دی اور آگے بڑھ کر باغیوں کے بڑے مرکز قندھار کو دوبارہ زیر نگیں کیا۔
ربیع بن زیاد کے بعد عبید اللہ بن ابی بکرہ نے آکر خراسانی و سجستانی قبائل کی تسخیر کا ادھورا کام آگے بڑھایا۔ اس دوران حریف سربراہ رتبیل نے دو لاکھ نقد اور دس لاکھ درہم سالانہ پر صلح کی پیش کش کی۔ عبید اللہ بن ابی بکرہ نے مثبت جواب دیا مگر حتمی معاہدے سے قبل عراق آکر زیاد سے ملاقات کی اور اس صلح کے بارے میں مشورہ کیا۔ زیاد نے اجازت دے دی۔ کیوں کہ قبائلیوں کی شورش پسندی ختم ہونے کا نام نہ لیتی تھی۔ یہی مناسب تھا کہ کسی طور ان سے جنگ بندی ہو جائے۔ چنانچہ یہ مصالحت طے پا گئی۔
غور اور اشل کی فتح:
افغانستان کے وسط میں غور کا صوبہ صحرائی بھول بھلیوں اور خوفناک پہاڑی دروں کی وجہ سے ہر فاتح کے لیے مشکل ترین مقام رہا ہے۔ سن ۴۷ ہجری میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے جرنیل حضرت حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ نے پہلی بار اس دشوار گزار علاقے کو فتح کیا۔
سن ۵۰ ہجری میں انہوں نے کوہِ اشل کے علاقے میں پیش قدمی کی۔ یہاں کے لوگ سونے کے برتن استعمال کرتے تھے۔ اسلامی فوج پیچ در پیچ دروں سے گزرتی اور دشمن کو شکست دیتی پہاڑی راستوں میں آگے بڑھتی رہی۔ ایک جگہ مسلمان دشمن کے گھیرے میں آ گئے۔ خوش قسمتی سے اس موقع پر دشمن کا ایک سردار گرفتار ہو گیا جس نے رہائی کے وعدے پر مسلمانوں کو واپسی کا محفوظ راستہ بتا دیا۔ اس طرح مالِ غنیمت کے بے شمار انبار لیے یہ لشکر سلامتی سے واپس آ گیا۔
چونکہ اس فتح میں سونے چاندی کے سکے نہیں ملے تھے اس لیے گورنر مشرقی علاقہ جات زیاد بن ابی سفیان نے حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ کو تاکید کی کہ سونے چاندی کی چیزیں مرکزِ خلافت کو بھیجنے کے لیے عراق روانہ کر دی جائیں۔ اس مہم کے بعد مرو میں حضرت حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کی وفات ہو گئی۔

