جنگِ جمل
اس کے بعد یکایک اگلے دن فریقین میں جنگ چھڑ گئی، حالاں کہ اس کے کوئی آثار نہ تھے۔ اس لڑائی کو جنگِ جمل کہتے ہیں۔ کیوں کہ اس دوران حضرت عائشہ صدیقہؓ اونٹ پر سوار تھیں جس کے گرد لڑائی کا زور تھا۔
صحیح السند احادیث سے ثابت شدہ امور:
لڑائی کی تفصیل سے پہلے اتنا جان لیں کہ اس بارے میں حدیث کی صحیح روایات سے درج ذیل امور ثابت ہیں:
* حضرت علیؓ جنگ سے حتی الامکان توقف کرتے رہے، یہاں تک کہ حضرت طلحہ اور حضرت زبیرؓ کے لشکر کی طرف سے جنگ چھیڑی گئی۔
* حضرت طلحہ اور حضرت زبیرؓ کے حکم سے جنگ چھیڑنا ثابت نہیں بلکہ عینی شاہد کے مطابق صلح کا ماحول قائم تھا کہ اچانک دونوں طرف کے لشکروں کے کچھ نوجوان نکلے اور ایک دوسرے کو برا بھلا کہا، پھر تیر چلنا شروع ہوئے۔ دونوں لشکروں کے غلام بھی ان میں شامل ہوگئے، نا سمجھ لوگ بھی لڑائی میں کود پڑے۔
* اصل لڑائی زوال کے وقت شروع ہوئی تھی اور معاملہ قابو سے باہر ہونے پر حضرت علیؓ نے بھی کارروائی کا حکم دیا جس کے بعد فریقین میں نیزوں اور تلواروں سے گھمسان کی جنگ ہوئی۔
● جنگ مختصر تھی، ظہر تا عصر جاری رہی۔ سورج ڈوبنے سے پہلے ختم ہو گئی۔
تاریخی تفصیلات:
تاریخی تفصیلات کے مطابق لشکرِ بصرہ میں شامل ہونے والے سبائیوں نے منصوبے کے تحت حضرت علیؓ کے پڑاؤ پر ہلہ بول دیا۔ اُدھر حضرت علیؓ کے لشکر میں شامل سبائیوں نے حضرت طلحہ و زبیرؓ کے حامیوں پر حملہ کر دیا اور مسلسل تیروں کی بارش کی۔ ہر شخص یہی سمجھا کہ دوسرے فریق نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اچانک حملہ کر دیا ہے چنانچہ دونوں جماعتوں میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک ہل چل مچ گئی۔
حضرت طلحہ و حضرت زبیرؓ نے ہنگامہ برپا دیکھ کر وجہ دریافت کی تو بتایا گیا: "اہلِ کوفہ نے حملہ کر دیا ہے۔"
دراصل سبائی گروہ غلط اطلاعات پھیلانے کی منصوبہ بندی بھی کر چکا تھا، انہوں نے ایک آدمی کو حضرت علیؓ کے قریب بھی مقرر کیا ہوا تھا تا کہ وہ انہیں غلط خبریں دے، چنانچہ جب ہنگامے کا شور سن کر حضرت علیؓ نے ماجرا پوچھا تو انہیں بھی جواب میں یہی سننے کو ملا: "بصرہ والوں نے اچانک ہم پر شب خون مارا ہے۔"
اس کے باوجود حضرت علیؓ نے احتیاط سے کام لیا اور جنگ کو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے آواز لگائی:
"لوگو! اپنے ہاتھ روک لو۔"
مگر تلواریں جو نیاموں سے نکل چکی تھیں، رکنے میں نہ آئیں۔
سمجھ دار لوگ دونوں طرف سے احتیاط کر رہے تھے۔ حضرت زبیرؓ حضرت عمار بن یاسرؓ کے نیزے کی زد میں آگئے تو پوچھا: "آپ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں؟"
عمار بن یاسرؓ بولے: "نہیں، آپ چلے جائیں۔"
غرض اس طرح بہت سے لوگ ہاتھ روکنے کی کوشش کر رہے تھے مگر سبائی، فسادی، نادان اور جوشیلے لوگ دونوں طرف متحرک ہو چکے تھے اس لیے مجبوراً بہت سے لوگوں کو اپنے دفاع کے لیے لڑنا پڑ رہا تھا۔
حضرت زبیرؓ میدانِ جنگ سے ہٹ گئے:
حضرت زبیرؓ نے لڑائی کو بڑھتے دیکھا تو میدانِ جنگ سے نکل جانے کا فیصلہ کر لیا۔ کیوں کہ انہوں نے یہ محسوس کر لیا تھا کہ مزاحمت کی صورت میں ان کے ہاتھوں کسی مسلمان کا خون ہونا بعید نہیں۔ انہوں نے اپنے بیٹے حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کو بلا کر فرمایا: "بیٹا! آج قتل ہونے والا ہر آدمی یا تو ظالم ہو گا یا مظلوم، مجھے یہ یقین ہے کہ میں مظلوم قتل کر دیا جاؤں گا۔" یہ کہہ کر وہ میدانِ جنگ سے باہر تشریف لے گئے۔
حضرت طلحہ بن عبید اللہؓ کی شہادت:
جنگ کی ابتداء ہی میں حضرت طلحہؓ کو ایک تیر آ لگا جس کے زخم سے وہ جامِ شہادت نوش کر گئے۔ اس وقت ان کی عمر پچپن یا اٹھاون سال تھی۔
امام بیہقیؒ نے "الاعتقاد" میں نقل کیا ہے کہ حضرت طلحہؓ کو جب تیر لگا تو جان کنی سے پہلے انہوں نے علوی لشکر کے ایک شخص کے ہاتھ پر حضرت علیؓ سے تجدیدِ بیعت کر لی۔ حضرت علیؓ کو جب یہ اطلاع دی گئی تو انہوں نے تکبیر بلند کی اور فرمایا: "اللہ کو اس کے سوا کچھ منظور نہ تھا کہ وہ میری بیعت کے ساتھ جنت میں داخل ہوں۔"
اسی طرح جب انہیں خبر ملی کہ حضرت زبیرؓ میدانِ جنگ سے نکل گئے ہیں تو فرمایا:
"اللہ کی قسم! وہ بزدلی کی وجہ سے واپس نہیں گئے، بلکہ تائب ہو کر واپس ہوئے ہیں۔"
حضرت عائشہ صدیقہؓ نرغے میں:
اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ میدانِ جنگ سے دور، بصرہ کی آبادی میں رہائش پذیر تھیں، بصرہ کے قاضی کعب بن سورؒ نے آ کر انہیں اس المیے کی اطلاع دی اور کہا:
"آپ خود تشریف لے جا کر مسلمانوں کو تلواریں نیام کرنے کا حکم دیں شاید اللہ آپ کی بدولت صلح کی توفیق دے۔"
ام المومنینؓ نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اونٹ پر سوار میدانِ جنگ میں آئیں اور حضرت کعب کو قرآن مجید کا نسخہ دیتے ہوئے فرمایا: "آپ اللہ کی کتاب لے کر آگے بڑھیں اور لوگوں کو اس کی طرف دعوت دیجئے۔"
کعب بن سورؓ قرآن کریم کے اوراق کھول کر آگے بڑھے۔ وہ قرآن مجید کے حکم پر صلح کرنے کی دعوت دے رہے تھے کہ سبائیوں نے بے دریغ تیر برسا کر انہیں قتل کر دیا۔ اس کے بعد ام المومنین پر تیروں کی بوچھاڑ شروع کر دی۔ آپ اونٹ پر ہودج میں تشریف فرما تھیں۔ ہودج کے گرد احتیاطاً زرہیں لٹکا دی گئی تھیں پھر بھی خطرہ شدید تھا۔
ام المومنین اپنی جان کو فراموش کر کے اب بھی جنگ بندی کی تلقین کرتے ہوئے پکار رہی تھیں:
"اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو! میرے بیٹو! حسابِ کتاب کے دن کو یاد کرو۔"
مگر لوگ حملے سے باز نہ آئے، تب ام المومنین نے ہاتھ بلند کر کے قاتلینِ عثمان اور ان کے حامیوں کے لیے بددعائیں کرنا شروع کیں۔ آپ کے حامی اس پکار پر زور زور سے آمین کہہ رہے تھے۔
حضرت علیؓ کو یہ آوازیں سنائی دیں تو پوچھا "یہ گونج کیسی ہے؟"
لوگوں نے بتایا کہ ام المومنین اور ان کے ساتھی قاتلینِ عثمان اوران کے ساتھیوں پر لعنت بھیج رہے ہیں۔ حضرت علیؓ نے یہ سن کر خود بھی آواز لگائی: "الٰہی! عثمان کے قاتلوں اور قاتلوں کے حامیوں پر لعنت کر۔"
اس دوران لڑائی کا دائرہ ہر طرف پھیل گیا تھا مگر سب سے شدید جنگ میدانِ جنگ کے اس حصے میں جاری تھی جہاں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ موجود تھیں۔حملہ آور محافظوں سے اونٹ کی لگام چھین کر ام المومنین کو اپنے چنگل میں لے جانا چاہتے تھے مگر ام المومنین کے گرد پروانہ وار مزاحمت کرنے والے کم نہ تھے۔
ام المومنین اب بھی جنگ سے گریز چاہتی تھیں۔ حضرت طلحہؓ کے جوان سال صاحبزادے محمد اونٹ کی لگام تھامے پوچھنے لگے: "امی جان! کیا حکم ہے؟" فرمایا: "آدم کے دو بیٹوں میں سے نیک بیٹے کی طرح بن جاؤ۔"
مگر حضرت محمد بن طلحہ لوگوں کو ام المومنین پر براہِ راست حملہ آور دیکھ کر کہاں ہٹ سکتے تھے، وہ چٹان کی طرح جم گئے اور "حم لَا یُنْصَرُوْنَ" کا نعرہ لگا کر لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔
ان کے بعد حضرت عبد الرحمن بن عتاب اور پھر حضرت اسود بن ابو البختری نے لگام تھامی اور زخمی ہو کر گرے۔ تب زخموں سے چور حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ دوڑ کر آئے اور لگام تھام لی۔ جب تک انہیں سینتیس زخم لگ چکے تھے۔
اتنے میں مالک بن اشتر نخعی سے ان کا سامنا ہوا۔ دونوں ایک دوسرے پر پل پڑے اور لڑتے لڑتے شدید زخمی ہو کر زمین پر گر گئے۔ دونوں کے حامیوں نے آگے آ کر انہیں کھینچا۔ مروان بن الحکم نے بھی اس لڑائی میں ام المومنین کی حفاظت کرتے ہوئے حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ کے شانہ بشانہ زخم کھائے تھے۔
قبیلہ بنو بکر بن وائل، بنو ناجیہ اور بنو ضَبّہ کے دلیر لپک لپک کر اونٹ کی لگام تھامتے رہے۔ جو بھی یہ ذمہ داری لیتا، حملہ آور اس کے ہاتھ پر وار کر کے کلائی کو کہنی سے الگ کر دیتے، پھر اسے قتل کر دیتے، اس طرح یکے بعد دیگرے ستر افراد نے ام المومنینؓ کی حفاظت کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔
ام المومنینؓ کے دفاع میں بنو ضبہ کے قائد بصرہ کے سابق قاضی ابن یثربی نے زبردست دلیری کا ثبوت دیا۔ وہ ام المومنین کے اونٹ کے آگے گھوڑے پر سوار تھے۔ ان پر ہند بن عمرو مرادی اور پھر علباء بن ہیثم حملہ آور ہوئے، قاضی ابن یثربی نے دونوں کو آگے پیچھے مار گرایا۔
حضرت علیؓ نے لڑائی کی شدت دیکھی کہ سر کندھوں سے لڑھک رہے تھے، تو بے چین ہو کر حضرت حسنؓ سے فرمایا: "آج کے بعد بھلا کس خیر کی توقع کی جا سکتی ہے۔"
وہ بولے: "میں نے آپ کو شروع ہی میں اس سے منع کیا تھا۔"
جنگ کا اختتام:
اس دوران حضرت قعقاع بن عمروؓ نے حضرت علیؓ کو رائے دی کہ کسی طرح ام المومنین کے اونٹ کو گرا دیا جائے کیوں کہ اہل بصرہ اب فقط ام المومنین کے دفاع کے لیے لڑ رہے ہیں۔ حضرت علیؓ نے تجویز کو پسند فرمایا، حضرت قعقاع بن عمروؓ، بُجیر بن دلجہ نامی ایک شخص کو لے کر آگے بڑھے جس نے حضرت عائشہؓ کی جماعت میں شامل اپنے بھائی عمرو بن دلجہ کو پکارا۔ وہ پاس آئے تو یہ حضرات اپنے لیے امان حاصل کرنے کے بعد اونٹ تک گئے، حضرت قعقاعؓ یہ اعلان کرتے ہوئے آگے بڑھے کہ تم سب کو امن دیا جاتا ہے، چنانچہ اہل بصرہ نے بھی ہاتھ روک لیے۔ حضرت قعقاعؓ کے ساتھ عبداللہ بن بد یل بھی تھے۔ انہوں نے ہودج کے پاس جا کر پکارا: "ام المومنین! آپ نے حضرت عثمانؓ کے قتل کے دن خود مجھے کہا تھا کہ حضرت علیؓ کا دامن تھامو۔ اللہ کی قسم! ان میں کوئی تغیر نہیں ہوا ہے نہ تبدیلی۔" ام المومنین خاموش رہیں۔
تب عبداللہ بن بدیل نے کہا: "اونٹ کے پاؤں کاٹ ڈالو۔" ان کے ساتھیوں نے حکم کی تعمیل کی۔محمد بن ابی بکر اور عبداللہ بن بد یل نے ہودج کو گرنے سے قبل سنبھال لیا اور اسے اٹھا کر حضرت علیؓ کے پاس لے آئے۔ انہوں نے ام المومنین کو پوری عزت و تکریم کے ساتھ ہودج سے نکال کر ایک خیمے میں منتقل کرایا۔ پھر خود تشریف لائے اور ام المومنینؓ کی خیریت معلوم کی۔ ساتھ ہی عرض کیا: "امی جان! اللہ ہمیں بھی معاف فرمائے اور آپ کو بھی۔" ام المومنین نے بھی جوابا کہا: "اللہ ہماری اور آپ کی مغفرت فرمائے۔"
یہ جنگ جو حادثاتی طور پر شروع ہوئی تھی... ایک ناگہانی آگ تھی جو یکدم بھڑکی اور بجھ گئی۔
حضرت علیؓ کا اہل جمل سے برتاؤ:
حضرت علیؓ نے جنگ کے اختتام پر ایک مہربان اور خداترس حکمران کا کردار پیش کیا اور حکم دیا کہ کسی زخمی کو قتل نہ کیا جائے، کسی بھاگنے والے کا تعاقب نہ کیا جائے، جو ہتھیار رکھ دے اسے امن دیا جاتا ہے۔
مروان بن الحکم کا بیان ہے کہ میں نے حضرت علیؓ سے زیادہ مہربان فاتح کوئی نہیں دیکھا۔ جنگ جمل میں جب ہمیں شکست ہوئی تو ان کی طرف سے منادی نے پکارا: "بھاگنے والے کو قتل نہ کیا جائے، زخمی کو نہ مارا جائے"۔
آپؓ نے تمام مقتولین کو یکساں مرتبہ دیا اور ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ حریف کے سامان کو مالِ غنیمت قرار نہیں دیا، بلکہ گم شدہ اموال کی حیثیت دے کر کہا کہ جس کسی کی جو چیز ہو، وہ نشانی بتا کر لے جائے۔
تشدد پسند لوگوں کے اصرار کے باوجود حضرت علیؓ نے اہل بصرہ کے اموال لوٹنے کی اجازت نہ دی۔ کسی نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا: "جن کا خون حلال ان کا مال ہمارے لیے حرام کیوں؟"
اس پر حضرت علیؓ نے طیش میں آ کر کہا: "کون ہے جو اپنی ماں ام المومنین کو اپنے حصے میں لینا چاہتا ہے؟"
سب کے رنگ فق ہو گئے، آوازیں بلند ہوئیں: "سبحان اللہ ! وہ تو ہماری ماں ہیں۔"
پھر کسی کو یہ مطالبہ دہرانے کی جرأت نہیں ہوئی۔
لڑائی کی تاریخ، دورانیہ اور مقتولین کی محتاط تعداد:
صحیح روایت کے مطابق لڑائی ظہر تا عصر تک نمٹ گئی تھی۔ غروبِ آفتاب تک تمام ہنگامہ ختم ہو چکا تھا۔
جنگ کی تاریخ ۱۰ جمادی الآخرہ سن ۳۶ ہجری بتائی جاتی ہے۔
مقتولین کی تعداد میں راویوں نے نہایت مبالغے سے کام لیا ہے۔ اس بارے میں درج ذیل اقوال مشہور ہیں:
1۔ بعض نے بیس سے پچیس ہزار تک تعداد بتائی ہے، یہ تعداد صحیح روایات میں مذکور دونوں افواج کے مجموعے سے بھی متجاوز ہے۔ کیوں کہ محتاط روایات کے مطابق دونوں طرف کے لوگ مل کر بھی پندرہ ہزار سے کم تھے۔
حضرت محمد بن حنفیہ کی روایت کے مطابق حضرت علیؓ کے اصحاب کی تعداد نو ہزار سات سو تھی۔
حضرت زبیرؓ کے اصحاب کی تعداد پانچ ہزار تھی۔ اس طرح دونوں افواج کا مجموعہ پندرہ ہزار سے کم بنتا ہے۔ اس لیے مقتولین بھلا بیس پچیس ہزار کیسے ہو سکتے تھے؟
صحیح قول یہ ہے کہ فریقین کے تمام مقتولین تین ہزار کے لگ بھگ تھے۔ اہل کوفہ کے مقتولین پانچ سو تھے اور اہل بصرہ کے ڈھائی ہزار۔
مقتولین کی تعداد بیس پچیس ہزار تک نہ ہونے کا احتمال چند وجوہ سے مزید مضبوط ہوتا ہے:
1۔ یہ شدید سردی کا موسم تھا، شمسی تاریخ ۵ دسمبر تھی، دن چھوٹا تھا۔ اصل لڑائی زوال کے بعد شروع ہوئی تھی اور سورج غروب ہونے سے قبل یعنی تقریباً پانچ بجے تک ختم ہو گئی تھی۔ گویا جنگ کا دورانیہ تقریباً تین گھنٹے بنتا تھا۔
2۔ اکثر لوگ کسی جوش و جذبے سے نہیں، خود کو بچانے کے لیے لڑ رہے تھے۔
3۔ لڑائی کے بعد کسی زخمی کو قتل نہیں کیا گیا نہ کسی کا تعاقب کیا گیا۔
4۔ روم و فارس سے بڑی بڑی لڑائیوں میں بھی بیس پچیس ہزار مسلمان شہید نہیں ہوئے، حالانکہ وہ پورے جوش و خروش سے لڑی جانے والی جنگیں تھیں۔
5۔ جنگ غیر منظم انداز میں لڑی گئی تھی کیوں کہ اہل بصرہ کے قائد حضرت طلحہؓ ابتدا ہی میں شہید ہو گئے تھے اور حضرت زبیرؓ بھی جلد ہی میدان سے ہٹ گئے تھے، لہٰذا ایک بے قاعدہ جنگ میں اتنی خونریزی ہونا بعید از قیاس ہے کہ اتنی زیادہ لاشیں گر جائیں اور وہ بھی تین گھنٹے میں۔
جنگ کے بعد اکابرِ اُمّت کا رنج و غم:
جنگ کے بعد اُم المومنین عائشہ صدیقہؓ مقتولین کا خون ریزی پر افسوس کرتی رہیں۔ ان کا کہنا تھا:
"کاش! میں بیس سال پہلے مرگئی ہوتی۔"
اِدھر حضرت علیؓ کو بھی شدید دکھ تھا۔ کعب بن سورؒ کی لاش کے پاس سے گزرے تو ٹھہر گئے اور فرمایا:
"اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ تم حق پر قائم تھے، انصاف کا فیصلہ کرتے تھے۔"
حضرت علیؓ کی زبانی حضرت طلحہؓ اور ان کے صاحبزادے محمد کی تعریف:
حضرت طلحہؓ کی لاش میدانِ جنگ میں دیکھی تو رہا نہ گیا، سواری سے اتر پڑے، انہیں اپنی آغوش میں لیا، داڑھی اور چہرے سے مٹی صاف کی اور فرمایا:
"ابو محمد! اللہ تم پر رحم کرے۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت دکھ ہو رہا ہے کہ تم کھلے آسمان تلے یوں پڑے ہو۔ الہی! اپنی ناتوانی اور لٹ جانے کی فریاد تجھی سے کرتا ہوں۔ اللہ کی قسم! مجھے پسند ہے کہ میں بیس سال پہلے ہی مر گیا ہوتا۔"
آپ نے اس موقعے پر یہ المناک اشعار پڑھے:
فَتَیً کَانَ یُدْنِیْہِ الْغِنٰی مِنْ صَدِیْقِہِ إِذَا مَاہُوَ اسْتَغْنٰی وَ یُبْعِدُہُ الْفَقْرُ
کَانَ الثُّرَیَّا عُلِّقَتْ مِنْ جَبِیْنِہِ وَفِیْ خَدِّہِ الشِّعْرٰی وَ فِی الْاٰخَرِ الْبَدْرُ
"یہ ایسا جوان تھا کہ خوشحالی اسے اپنے دوست کے قریب لے جاتی تھی جبکہ وہ دوست لا تعلق رہتا اور مفلسی کی وجہ سے کنارہ کشی اختیار کرتا۔ یہ ایسا شخص تھا کہ کہکشاں اس کی پیشانی میں ہے۔ اس کا ایک رخسار مری ستارے کی طرح اور دوسرا چودھویں کے چاند کی مانند ہے۔"
لڑائی میں حضرت طلحہؓ کے صاحبزادے حضرت محمد بن طلحہ عرف سجادؓ بھی شہید ہوئے۔ حضرت علیؓ نے ان کی لاش دیکھی تو بے اختیار "انا للہ وانا الیہ راجعون" پڑھی۔ پھر فرمایا: "اللہ کی قسم! تم ایک نیک و صالح نوجوان تھے۔"
یہ کہہ کر ان کی لاش کے پاس ہی بیٹھ گئے اور رنج و غم آپؓ کے چہرے سے ظاہر تھا۔
حضرت طلحہؓ بصرہ میں بڑی جاگیروں کے مالک تھے۔ حضرت علیؓ نے انہیں حفاظتی نقطۂ نگاہ سے اپنی تحویل میں لے لیا۔ کچھ مدت بعد ان کے بیٹے عمران بن طلحہؓ سے ملاقات ہوئی تو یہ ساری جائیداد ان کے حوالے کر دی اور فرمایا: "ہمارا ارادہ ان پر قبضے کا نہیں تھا، اس ڈر سے انہیں سنبھال لیا تھا کہ لوگ قابض نہ ہو جائیں۔"
یہ بھی فرمایا: "امید ہے کہ میں، طلحہ اور زبیر ان لوگوں میں شامل ہوں گے جن کے بارے میں اللہ کا ارشاد ہے:
وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَىٰ سُرُرٍ مُّتَقَابِلِينَ
(ہم ان کے دلوں سے کدورت کو دور کر دیں گے
اور وہ تختوں پر آمنے سامنے بھائی بھائی بن کر بیٹھے ہوں گے)"
حضرت عائشہ صدیقہؓ کی زبانی عمار بن یاسرؓ کی مدح و ستائش:
حضرت عائشہ صدیقہؓ نے بھی حضرت علیؓ کے اصحاب کے بارے میں پوری وسعتِ ظرفی سے کام لیا۔ عمار بن یاسرؓ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اُم المومنین نے فرمایا:
"اللہ کی قسم! میں جانتی ہوں کہ تم ہمیشہ حق بات کہنے والے ہو۔"
وہ بولے: "اللہ کی حمد ہے جس نے آپ کی زبان سے میرے حق میں گواہی دلوائی۔"
زید بن صوحان کون؟
حضرت علیؓ کے ہم رکاب لوگوں میں حضرت عمار بن یاسر اور حضرت عبد اللہ بن عباسؓ جیسے صحابہ کرام کے علاوہ بڑے بڑے تابعین بھی تھے، ان میں سے کئی افراد اس معرکے میں جاں بحق ہوئے۔ زید بن صوحان اور سلمان بن صوحان دو بھائی جو حضرت علیؓ کے خاص مقرب تھے، معرکے کے شدید ترین مرحلے میں حضرت عائشہ صدیقہؓ کے محافظوں کے ہاتھوں قتل ہوئے۔
جنگ جمل میں لڑنے اور شہید ہونے والے اکثر صالحین تھے جو خود کو حق پر تصور کرتے ہوئے صرف اللہ کے دین کی خاطر لڑ رہے تھے۔ ہاں، سبائی جن کی نیت باطل اور ناپاک تھی، بری موت مرے اور کیفرِ کردار تک پہنچے۔
حضرت زبیر بن العوامؓ کی شہادت:
حضرت زبیرؓ میدانِ جنگ سے نکل کر مدینہ جانے والے راستے پر روانہ ہو گئے تھے۔ ایک بد بخت سبائی عمرو بن جُرموز کو پتا چلا تو وہ اپنی ٹولی سمیت تعاقب کرنے لگا اور گھوڑا دوڑاتے ہوئے قریب پہنچ کر نیزے کا وار کیا۔ جس سے زبیرؓ کے گھوڑے کو زخم آگیا۔ زبیرؓ فوراً سنبھل گئے اور جوابی حملہ کیا۔ اتنے میں عمرو بن جرموز کے باقی ساتھی پہنچ گئے۔ سب نے مل کر حواریِ رسول کو شہید کر ڈالا۔
عمرو بن جرموز اپنی مزید سنگ دلی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے حضرت زبیرؓ کا کٹا ہوا سر، حضرت علیؓ کی خدمت میں لے آیا۔ حضرت علیؓ نے اسے دھتکارتے ہوئے فرمایا: "صفیہؓ کے بیٹے کے قاتل کو جہنم کی بشارت ہو۔" پھر فرمایا: "ہر نبی کا ایک حواری (خاص جانثار) ہوتا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری زبیر تھے۔"
عمرو بن جرموز حضرت زبیرؓ کی تلوار ساتھ لایا تھا۔ اسے دیکھ کر فرمایا:
"اللہ کی قسم! اس تلوار نے کتنی ہی بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے رنج و تکلیف کے آثار مٹا ڈالے تھے۔"
حضرت علیؓ کی جانب سے حضرت عائشہؓ کا اعزاز و اکرام:
جنگ کے بعد حضرت علی المرتضیٰؓ نے اُم المومنینؓ اور ان کے قافلے والوں کو جن میں زخمی لوگ بھی تھے، بصرہ میں ٹھہرایا اور ان کی دیکھ بھال کراتے رہے۔ ام المومنین کو شہر کی سب سے شاندار حویلی میں رہائش دی جو عبداللہ بن خلف کی تھی۔ اس دوران امیر المومنینؓ کو پتا چلا کہ دو آدمی حضرت عائشہ صدیقہؓ کی شان میں نازیبا الفاظ کہہ رہے ہیں۔ آپ نے انہیں گرفتار کرالیا اور کپڑے اتروا کر ننگے بدن پر سو سو کوڑے لگوائے۔
ام المومنین کی واپسی اور حضرت علیؓ کا حسنِ سلوک:
حضرت علیؓ نے ام المومنینؓ کے اعزاز واکرام میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ان کی روانگی سے پہلے ان کی سواری، سامانِ سفر اور دیگر ضروریات کا بہترین انتظام کیا۔ بصرہ کے معزز گھرانوں کی چالیس خواتین کو تعظیم کے طور پر ام المومنین کے ہم رکاب کیا۔
حضرت علیؓ کا یہ طرزِ عمل دراصل حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خاص ہدایت کی بناء پر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مخاطب کر کے پیش گوئی فرمائی تھی: "عن قریب تمہارے اور عائشہ صدیقہ کے درمیان کچھ کش مکش ہوگی۔"
حضرت علیؓ نے پریشان ہو کر عرض کیا تھا: "یا رسول اللہ ! یہ تو میری بدقسمتی ہو گی۔"
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب تھا: "نہیں، مگر جب ایسا ہو تو تم عائشہ کو ان کے محفوظ مقام تک پہنچا دینا۔"
حضرت علیؓ نے اس وصیت پر پوری طرح عمل کیا۔ روانگی سے پہلے خود ام المومنین کی خدمت میں آئے۔
ام المومنینؓ نے اس موقع پر حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
"میرے بیٹو! میرے اور علی کے درمیان ماضی میں بھی اس سے زیادہ کوئی مسئلہ نہیں ہوا، جو عورت اور اس کے دیور کے درمیان ہو جایا کرتا ہے۔ میرے نزدیک حضرت علی بہترین لوگوں میں سے ہیں۔"
حضرت علیؓ نے بھی اس مو قع پر فرمایا: "لوگو! ام المومنین نے سچ فرمایا اور خوب کہا، میرے اور ان کے درمیان ایسی چھوٹی موٹی بات کے سوا کوئی رنجش نہیں رہی۔ یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔"
اس کے بعد ام المومنین کا قافلہ روانہ ہوا تو حضرت علیؓ کئی میل تک پیدل ساتھ گئے۔ پھر صاحبزادوں حسن و حسینؓ کو اعزاز کے لیے ایک منزل (سولہ میل، پونے ۲۶ کلومیٹر) تک ساتھ جانے کا حکم دیا۔
ام المومنین کا قافلہ پہلے مکہ پہنچا، آپ سن ۳۶ ہجری کے حج تک وہیں مقیم رہیں۔ اس کے بعد مدینہ منورہ اپنے گھر تشریف لے گئیں۔ اس سانحے کا اثر آپ پر آخر تک رہا۔ جب بھی جنگ جمل میں مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا کشت و خون یاد آتا تو اتنا روتیں کہ دوپٹہ بھیگ جاتا اور فرماتیں: "کاش! میں بھولی بسری ہو جاتی۔"
جنگ جمل کے مقتولین کا جب ذکر آتا تو آپ سب کے لیے رحمت کی دعا کرتیں، حضرت طلحہ اور حضرت زبیرؓ کے ساتھ زید بن صوحان کے لیے بھی دعائے خیر فرماتیں جبکہ وہ حضرت علیؓ کے ساتھ تھے۔ کسی نے حیران ہو کر کہا: "وہ آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرتے رہے مگر آپ ان سب کے لیے دعائے رحمت فرماتی ہیں؟ اللہ ان سب کو جنت میں کبھی اکٹھا داخل نہیں فرمائے گا۔" ام المومنینؓ نے فوراً ارشاد فرمایا: "کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کتنی وسیع ہے۔ وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ کی شہادت اور ام المومنین کی گوشہ نشینی کے ساتھ یہ تحریک بھی اختتام پذیر ہوئی جس کا اصل مقصد اصلاح امت تھا مگر سازشی عناصر نے اسے خونریزی تک پہنچا کر چھوڑا۔ اس تحریک کے اکثر سرکردہ لوگوں نے ام المومنین کی طرح سیاست سے علیحدگی اختیار کرلی۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ، حضرت ولید بن عقبہ، حضرت سعید بن العاص، حضرت یعلیٰ بن امیہ، حضرت عبداللہ بن عامرؓ نے اس کے بعد ان سیاسی مناقشات میں جو حضرت علیؓ کے دور میں پیش آئے، کوئی حصہ نہیں لیا۔
اجتہادی اختلاف:
یہاں یہ ذہن نشین رکھا جائے کہ یہ تمام تر اختلاف ایک فقہی و اجتہادی نزاع تھا، نہ کہ اقتدار اور حکومت کی جنگ۔ بلاشبہ حضرت علیؓ اپنے اقدامات میں برحق تھے مگر دیگر حضرات بھی اپنی اپنی آراء میں مجتہد تھے۔ اس دور میں اسلامی قانون اس طرح مدوّن نہ تھا جیسا ایک ڈیڑھ صدی بعد ہوا۔ عموماً اصحاب اپنے حافظے میں موجود احادیث سے مطلب اخذ کر کے عمل کرتے تھے۔ ایسے میں بعض نئے سیاسی و قضائی مسائل کا صحابہؓ پر مشتبہ ہو جانا بعید نہ تھا۔ پھر یہ معاملہ ایسا تھا جس کی پہلے کوئی نظیر موجود نہ تھی۔ کوئی سابقہ فتویٰ یا عدالتی فیصلہ سامنے نہ تھا۔ ایسے میں صحابہ کرام کے دو گروہوں نے اپنے اپنے زاویہ نگاہ سے اس قضیے کو دیکھا اور حل کرنے کی کوشش کی، جو یقیناً اجتہاد تھا۔ لہٰذا طلحہؓ وزبیرؓ کی غلطی بھی فسق یا گناہ نہیں بلکہ خطائے اجتہادی مانی جائے گی جس پر کوئی اخروی مواخذہ نہیں بلکہ اجر و ثواب ہے۔
یہ کہنا درست نہیں کہ ان حضرات کے پاس اجتہاد کی کوئی دلیل نہ تھی۔ ایسی بہت سی روایات ان کی دلیل بن سکتی تھیں جن میں ظالم کو ظلم سے روکنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اسی لیے حضرت علیؓ بھی ان حضرات کی اجتہادی رائے کا پہلو نظر انداز نہیں فرماتے تھے اور یہی وجہ تھی کہ آپ نے ان حضرات کے خلاف کسی کو تشدہ آمیز باتیں کرتے سنا تو منع کردیا اور فرمایا: "ایسا مت کہو، وہ لوگ سمجھے کہ ہم نے ان سے بغاوت کی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ہم سے بغاوت کی ہے، پس ہم نے باہم قتال کیا۔"
حضرت مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ العالی اس بات پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
"حضرت علیؓ کے ان ارشادات سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ خود ان کے نزدیک بھی حضرت معاویہؓ اور حضرت عائشہؓ کا اختلاف اجتہادی اختلاف تھا اور وہ نہ صرف یہ کہ انہیں اس بناء پر فاسق نہیں سمجھتے تھے بلکہ ان کے حق میں کلمات خیر کے سوا کسی بات کے روادار نہ تھے۔"
جنگ جمل اور صفین کے متعلق حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ العالی کی درج ذیل عبارت بھی بار بار پڑھنے کے قابل ہے:
"حقیقت یہ ہے کہ ان حضرات صحابہؓ کی یہ باہمی لڑائیاں اقتدار کی خاطر نہیں تھیں اور نہ ان کا اختلاف آج کی سیاسی پارٹیوں کا سا اختلاف تھا، دونوں فریق دین کی سربلندی چاہتے تھے۔ ہر ایک کا دوسرے سے نزاع دین ہی کے تحفظ کے لیے تھا، اور یہ خود ایک دوسرے کے بارے میں بھی یہی جانتے اور سمجھتے تھے کہ ان کا موقف دیانت دارانہ اجتہاد پر مبنی ہے چنانچہ ہر فریق دوسرے کو رائے اور اجتہاد میں غلطی پر سمجھتا تھا لیکن کسی کو فاسق قرار نہیں دیتا تھا۔"
حضرت علیؓ کے انتظامی فیصلے اور نئی ترتیبیں:
حضرت علیؓ کچھ دنوں تک بصرہ اور گردونواح کے انتظامی معاملات ازسرنو مستحکم کرنے میں مصروف رہے۔ لوگوں سے بیعت لی کہ وہ جنگ اور صلح میں خلافت اسلامیہ کے وفادار رہیں گے اور حکمرانوں کے خلاف دست درازی اور بدگوئی سے احتراز کریں گے۔ بیعت میں بصرہ کے تمام لوگ شریک تھے، حضرت طلحہؓ اور زبیرؓ کے پرچم تلے لڑنے والے لوگوں نے جن میں زخمی تک شامل تھے، بلا توقف بیعت میں حصہ لیا۔
حضرت علیؓ نے مشورے کے بعد حضرت عبداللہ بن عباسؓ کو بصرہ کا امیر اور زیاد بن ابی سفیان کو (جو حضرت امیر معاویہؓ کے باپ شریک بھائی تھے) بیت المال کا خازن مقرر کیا۔
آپؓ نے جنگ میں شریک فریقین کے ہر فرد کو پانچ پانچ سو درہم تقسیم کر کے سب کے دل جیت لیے، اگرچہ سبائی گروہ نے اس پر بڑی ناراضی ظاہر کی اور حضرت علیؓ کو طعنے دیے مگر آپؓ نے پروا نہ کی۔
سبائیوں کا فرار:
سبائی ناراضی ظاہر کر کے حضرت علیؓ سے پہلے ہی بصرہ سے کوچ کر گئے۔ حضرت علیؓ اس خدشے سے کہ کہیں یہ لوگ دیگر مقامات پر بھی شر انگیزی نہ کریں، انہیں واپس لانے کے لیے ان کے پیچھے نکلے مگر یہ لوگ بڑی تیزی سے غائب ہو گئے اور دوبارہ منظر عام پر آنے کے لیے مناسب وقت کا انتظار کرنے لگے۔
ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے ناراضی کا تو بس ایک بہانہ تراشا تھا، اصل مقصد حضرت علیؓ سے دور رہنا تھا تاکہ اگر ان کی طرف سے کوئی فوری پکڑ دھکڑ ہو تو پیش بندی کر کے خود کو بچایا جا سکے، مگر حضرت علیؓ کسی عجلت پسندانہ کارروائی کی فکر میں نہ تھے بلکہ ہر قدم بڑی احتیاط سے اٹھا رہے تھے۔
جنگ جمل کے مابعد اثرات:
جنگ جمل اگرچہ ایک وقتی حادثہ تھا مگر اس کے اثرات مستقبل پر بڑے گہرے مرتب ہوئے۔ حضرت علیؓ جو کسی نہ کسی طرح خلافت راشدہ کی آن بان بچانا چاہتے تھے، اس سانحے سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ اس جنگ میں بصرہ کے سینکڑوں لوگ حضرت علیؓ کی زیر قیادت کوفی فوج کے ہاتھوں قتل اور زخمی ہوئے تھے۔ ان لوگوں کے خاندان حضرت علیؓ کو اس قتل و غارت کا براہ راست ذمہ دار نہ بھی سمجھتے ہوں اور بظاہر ان کے سامنے سر تسلیم خم کر چکے ہوں، تب بھی یہ بہت مشکل تھا کہ اب وہ حضرت علیؓ کا ساتھ اسی دل جمعی اور ثابت قدمی سے دیتے جس طرح قصاص عثمان کی تحریک کے پرجوش کارکن اپنے رہنماؤں کا ساتھ دے رہے تھے۔
حضرت علیؓ کو دستیاب اکثر فوج کوفہ و بصرہ ہی کی چھاؤنیوں سے تعلق رکھتی تھی۔ آئندہ ایام میں بعض فیصلہ کن مواقع پر اس فوج کی بددلی اور فریق مخالف کی صفوں میں یک جہتی کی ایک بڑی وجہ یہی جنگ جمل کے زخم تھے جو سپاہِ عراق کی خاصی تعداد کو خلافت کے پرچم تلے لڑنے سے روکتے اور اہل شام کو ان کے خلاف اکساتے رہے۔
جنگ جمل کے بعد بھی سبائیوں کو الگ کیوں نہ کیا گیا؟
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت علیؓ نے جو کہ جنگ جمل سے پہلے سبائیوں کو الگ ہو جانے کا حکم دے چکے تھے، جنگ کے بعد ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ آخر کیوں؟
اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ اس اقدام کے لیے جس امن و سکون کی ضرورت تھی، جنگ جمل کے بعد وہ نصیب نہیں ہو سکا بلکہ اس کے فوراً بعد حضرت علیؓ کو شام کی طرف متوجہ ہونا پڑا تھا۔
دوسری وجہ یہ تھی کہ حضرت عثمانؓ کے اصل قاتل تو چند گنے چنے لوگ تھے جن کی تحقیق و تفتیش کی آپ کو یقیناً فکر تھی مگر آپ کے گرد جمع ہونے والے سابقہ باغی زیادہ تر نادان عوام تھے جو حضرت عثمانؓ کی مخالفت اور سادات کی مبالغہ آمیز حمایت کرنے والے ایک سیاسی گروہ کی شکل اختیار کر چکے تھے۔ حضرت علیؓ کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرنا چاہتے تھے جس کی وجہ سے ان میں سے شرعاً مامون لوگ بھی زد میں آ جائیں۔
مسئلے کی دو شکلیں اور حضرت علیؓ کا توقف:
یہ بات تو واضح تھی کہ کسی گروہ کے مسلح خروج کی صورت میں حکمران اس سے جنگ کر سکتا ہے مگر جو لوگ خروج ترک کر کے حکمران سے وفاداری کا عہد کر لیں، ان کا کیا حکم ہو گا؟
اس بارے میں مسئلے کی دو شکلیں تھیں:
1۔ ایک یہ کہ ہتھیار ڈالنے والا گروہ اہل عدل و تقویٰ اور مجتہدین کا ہو اور اس نے کسی تاویل کی بناء پر مسلح قوت جمع کی ہو۔ یہاں حضرت علیؓ کے سامنے مسئلہ بالکل واضح تھا کہ ہتھیار ڈالنے کے بعد وہ سب مامون ہوں گے۔ اسی لیے انہوں نے جنگ جمل کے بعد متحارب فریق سے بیعت لے کر انہیں مکمل امن فراہم کیا۔
2۔ مسئلے کی دوسری شکل یہ تھی کہ خروج کے مرتکب لوگ مجتہد نہیں بلکہ مفسد ہوں جیسا کہ حضرت عثمانؓ سے بغاوت کرنے والے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں حضرت علیؓ کے سامنے کوئی ایسی شرعی دلیل نہیں تھی جس سے ثابت ہوتا کہ ان کا حکم مختلف ہو گا اور ہتھیار ڈالنے کے بعد بھی ان پر سزا جاری ہو گی۔ اس لیے حضرت علیؓ کی رائے میں ہتھیار ڈالنے کے بعد ایسے لوگ بھی مامون تھے۔ (بعد میں اسی مسئلے پر تمام صحابہؓ اور ائمہ مجتہدین کا اجماع ہو گیا۔)
غالباً اسی لیے آپ سبائیوں کے مسئلے میں تاخیر کر رہے تھے اور چاہتے تھے کہ اگر آپ کی رائے کے خلاف واقعی کوئی شرعی دلیل ہے تو وہ سامنے آ جائے۔ جب تک ایسی دلیل شرعی سامنے نہ آئے تب تک اس گروہ کو جو ہر وقت بنو ہاشم پر جان و مال فدا کرنے کا عزم ظاہر کرتا ہے، اپنے ساتھ پابند رکھ کر باقی عالم اسلام کو اس کی شر انگیزی سے بچایا جائے۔
بہرحال حضرت علیؓ قصاص لینے کی ذمہ داری نہیں بھولے تھے مگر آپؓ چاہتے تھے کہ اگر شرعاً ان پر سزا عائد ہوتی ہے تو اس کے اجراء سے قبل اس بات کو اجتماعی طور پر طے کر لیا جائے۔ آپؓ کی حکمت عملی عجلت کی نہیں، مسئلے کی تحقیق، دور اندیشی اور احتیاط کی تھی، اس لیے آپؓ نے جنگ جمل کے بعد بھی سبائیوں کے خلاف کارروائی نہیں کی۔

