Hazrat Ali ka Safar-e-Kufa aur Islah-e-Ummat ki Koshishain: Ek Tareekhi Jaiza

حضرت علیؓ کوفہ کی سمت گامزن:

        جیسا کہ ہم واضح کر چکے ہیں کہ حضرت علی المرتضیٰؓ پہلے ہی کوفہ کو اپنا مرکز بنانے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ اس لیے آپ کا عراق جانا ناگزیر تھا۔ اس کے علاوہ آپ کو اس بات کا شدید خطرہ تھا کہ کہیں قصاص کی عوامی تحریک کے ہاتھوں ایسے لوگ بھی سزا کی زد میں نہ آ جائیں جو شرعاً مامون ہیں۔ یہ لوگ چاہے سابق دور میں بغاوت میں شامل تھے مگر بیعت کے بعد انہیں اسلامی حکومت کے شہری ہونے کی حیثیت سے تمام حقوق حاصل تھے۔ اگر وہ غیر مسلم بھی ہوتے، تب بھی ان کی جان ومال کی حفاظت حضرت علیؓ کا فرض منصبی تھا۔ نیز اس طرح کی کارروائیوں کے ردِعمل میں پورا عالمِ اسلام ایک بڑی خانہ جنگی میں مبتلا ہوسکتا تھا۔ اس لیے حضرت علیؓ نے کوفہ مدینہ سے نکل کر عراق جانے کا فوری فیصلہ کرنا پڑا، تا کہ وہاں کے تمام امور آئینی دائرے میں لائے جائیں۔ عام خیال یہی تھا کہ آپ حضرت طلحہ اور حضرت زبیرؓ سے لڑنے جا رہے ہیں مگر آپ اپنے خاص ساتھیوں کو بتارہے تھے کہ مقصد جنگ ہرگز نہیں ہے، رفاعہ بن رافعؓ نے جب سفر کا مقصد پوچھا تو فرمایا: "ہماری نیت وارادہ بس اصلاح کا ہے۔"

        پوچھا "اگر وہ نہ مانیں تو؟"

        فرمایا: "ہم ان کو معذور سمجھ کر چھوڑ دیں گے، ان کے حقوق انہیں دیں گے، خود صبر کریں گے۔"

        دریافت کیا: "اگر وہ اس پر بھی راضی نہ ہوں تو؟"

        فرمایا: "ہم اس وقت تک انہیں کچھ نہیں کہیں گے جب تک وہ ہمیں نہیں چھیڑیں گے۔"

        پوچھا: "اگر وہ ہمیں نہ چھوڑیں تو؟" فرمایا: "ہم ان سے صرف دفاع کریں گے۔"

        اس سے عیاں ہے کہ حضرت علیؓ حتی الامکان جنگ سے گریزاں اور افہام و تفہیم کے خواہاں تھے۔


اہل کوفہ کے نام حضرت علیؓ کا مکتوب:

        حضرت علیؓ نے کوفہ کو دار الخلافہ بنانے کا ارادہ اب پہلی بار ظاہر فرمایا اور کہا: "کوفہ والے مجھ سے بے حد محبت کرتے ہیں، وہاں عربوں کے رؤسا اور اکابر ہیں۔" پھر آپؓ نے اہل کوفہ کو مکتوب روانہ کیا:

        "میں نے تمہارے درمیان قیام کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، کیوں کہ میں تمہاری محبت خداوندی اور عشق رسول سے آگاہ ہوں۔ جو میرے پاس آکر تعاون کرے گا وہ اپنا فرض پورا کر دے گا۔ تم اللہ تعالیٰ کے دین کے معاون و مددگار بن جاؤ۔ ہمارے ہاتھ مضبوط کرو۔ ہمارا مقصد صرف اصلاح ہے تاکہ امت دوبارہ بھائی بھائی بن جائے۔"

حضرت علیؓ کا تاریخی خطاب:

        حضرت علیؓ کو اس بات کا بہت خیال تھا کہ ان کے ہمراہیوں میں جو لوگ محض سادات کی محبت میں تشدد کی وجہ سے غیر متوازن ہو رہے ہیں، انہیں قرآن مجید و سنت رسول کی تجویز کردہ راہ اعتدال پر واپس لایا جائے اور مسلمانوں کو ایک امت اور ایک خاندان ہونے کا بھولا ہوا سبق یاد دلایا جائے۔ سفر کے آغاز سے قبل آپؓ نے ایک تاریخی خطبہ دیا جو آج بھی فرقہ بندیوں سے نجات کا راستہ دکھاتا ہے۔ آپؓ نے فرمایا:

        "بے شک اللہ بزرگ وبرتر نے ہمیں اسلام کے ذریعے عزت عطا کی اور اس کی بدولت ہمیں بلند کیا اور ہمیں ذلت، عددی کمی، باہمی حسد اور دشمنی کے دور سے نکال کر بھائی بھائی  بنا دیا۔ جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا لوگ اس حالت پر قائم رہے۔ اسلام ہی ان کا دین اور کتاب اللہ ان کی رہنما رہی ، مگر پھر حضرت عثمانؓ کو ایسے لوگوں کے ہاتھوں سانحہ پیش آیا جنہیں شیطان نے ورغلایا تھا تاکہ اس امت میں پھوٹ ڈلوا دے۔ یاد رکھنا، یہ امت فرقوں میں بٹ کر رہے گی جیسا کہ گزشتہ امتیں منتشر ہوئی تھیں۔ جو ہونے والا ہے اس کے شر سے ہم اللہ کی  پناہ مانگتے ہیں۔ بے شک جو ہونے والا ہے وہ ہو کر رہے گا۔

         سن لو! یہ امت عنقریب تہتر (۷۳) فرقوں میں بٹ جائے گی اور ان میں بدترین فرقہ وہ ہو گا جو خود کو میری طرف منسوب کرے گا، مگر میرے عمل کی  پیروی نہیں کرے گا۔ میں بلاشبہ ایسے لوگوں کو دیکھ چکا ہوں، جان چکا ہوں۔ پس تم اپنے دین کو لازم پکڑو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی سیرت مبارکہ پر چلو، ان کی سنت کو اپناؤ، قرآن مجید میں جو بات سمجھ نہ آئے اسے چھوڑ دو، جس چیز کا قرآن ساتھ دے اسے اختیار کرو، جسے وہ مسترد کر دے اسے ترک کردو۔ اللہ کو رب، محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کو رسول، اسلام کو دین اور قرآن مجید کو رہنما اور قائد مان کر راضی رہو۔"

        اس یادگار خطاب کے بعد ۳۰ ربیع الآخر سن ۳۶ ہجری کو حضرت علیؓ نے مدینہ منورہ سے کوفہ کا سفر شروع کیا۔

انفرادی قوت میں کمی کی وجہ:

        مدینہ سے حضرت علیؓ کے ساتھ کوئی لشکر تیار نہیں ہوا تھا۔ فقط سات سو ساٹھ (۷۶۰) افراد تھے۔ وجہ یہ تھی کہ اس سفر میں خانہ جنگی کا امکان تھا جبکہ اہل حجاز کی اکثریت کسی سیاسی تنازع کا حصہ بننے کے لیے تیار نہ تھی اور حضرت علیؓ سے  بیعت کے باوجود غیر جانبداری کو ترجیح دے رہی تھی۔ اسی لیے اسامہ بن زیدؓ نے حضرت علیؓ کو کہلوایا تھا: "آپ شیر کے جبڑوں میں ہوتے تو بھی مجھے آپ کا ساتھ پسند ہوتا مگر اس قضیے میں میری  یہ رائے نہیں۔"

حضرت زبیرؓ کی صلح پسندی:

        حضرت علیؓ کوفہ کی طرف گامزن تھے کہ بصرہ میں حضرت زبیرؓ کو کسی سردار نے یہ رائے دی کہ ابھی حضرت علیؓ کو راستے میں صرف ایک ہزار گھڑ سواروں کے ذریعے روکا جا سکتا ہے، کیوں نہ ایسا کر لیا جائے؟

        حضرت زبیرؓ نے اس رائے کو مسترد کرتے ہوئے جواب دیا:

        "جنگ کے داؤ  پیچ ہم خوب جانتے ہیں، لیکن یہاں ہم داعی بن کر آئے ہیں۔ یہ ایسا قضیہ ہے جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں۔ ہمیں امید ہے صلح ہو جائے گی تم صبر کرو۔"

        اس واقعے سے اکابر صحابہ کی احتیاط اور صلح جوئی کا جذبہ بالکل ظاہر ہے۔

فقہائے کوفہ نے استقبال کیا:

            حضرت علیؓ جب کوفہ پہنچے تو چار ہزار فقہاء، جو حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے تلامذہ تھے، آپ کا استقبال کیا۔ حضرت علیؓ نے اس پر خوش ہو کر فرمایا:

رَحِمَ اللّٰہُ ابْنَ اُمِّ عَبْدٍ، قَدْ مَلَأَ ھٰذِہِ الْقَرْیَۃَ عِلْمًا وَّفِقْھًا
"اللہ ابن ام عبد (عبداللہ بن مسعودؓ ) پر رحمت کرے، وہ اس بستی کو علم اور فقہ سے پر کر گئے۔"

سیاسی کش مکش سے گریزاں صحابہ:

        امیر المومنین علی المرتضیٰؓ نے کوفہ کے قریب "ذی قار" کے مقام پر قیام فرما کر کوفہ کے عمائد، امراء اور سالارانِ فوج کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ وہ اس مشکل گھڑی میں جبکہ پورے عالم اسلام میں ایک تشویش اور انتشار کی فضا پیدا ہوچکی ہے، حکومت پر پورا اعتماد کریں اور حالات سے نبرد آزمائی کے لیے سرکاری لائحہ عمل کا ساتھ دیں۔ حضرت علیؓ نے کوفہ کا نیا گورنر حضرت قَرظہ بن کعب انصاریؓ کو مقرر فرمایا اور ساتھ ہی اپنے کچھ نمائندوں کو بھی کوفہ بھیجا تاکہ وہ شہریوں کو تعاون پر آمادہ کریں۔ ان میں حضرت عمار بن یاسر، حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت حسن بن علیؓ نمایاں تھے۔

        حضرت علیؓ کے وفد کو اس کوشش میں مشکل ضرور پیش آئی: کیوں کہ کچھ بزرگ جو حضرت علیؓ کی حمایت میں بڑے پُرجوش تھے، دوسرے گروہ کے اکابر کے خلاف بدگوئی سے باز نہیں آ رہے تھے، جس سے عوام بدظن ہو رہے تھے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ کوفہ کے اکابر ڈر رہے تھے کہ مسلمانوں کے دونوں گروہوں میں جنگ نہ چھڑ جائے۔ عراق میں متعدد ایسے تھے جو عوام کو اس قضیے سے بالکل کنارہ کش رہنے کا کہہ رہے تھے۔

        حضرت عمران بن حصینؓ اور احنف بن قیسؓ کو حضرت علیؓ سے بیعت کرنے کے باوجود، اس معاملے میں سخت تردد لاحق تھا۔ عمران بن حصینؓ بصرہ کی جامع مسجد میں اعلان کراتے رہے کہ کسی پہاڑ پر جا کر بکریاں اور دنبے چرانا، دونوں گروہوں میں سے کسی پر ہاتھ اٹھانے سے بہتر ہے۔

        یہ حضرات ان احادیث کی روشنی میں کنارہ کشی اختیار کر رہے تھے جن میں مسلمان کے قتل پر سخت وعیدیں وارد ہیں۔ نیز بہت سی ایسی احادیث جن میں فتنے کے وقت گوشہ نشینی کا حکم بھی ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ یہاں یہ بھی ذہن نشین رکھا جائے کہ حضرت علیؓ کے سامنے بھی یہ احادیث یقیناً تھیں، مگر ان کی نظر احادیث پر زیادہ گہری تھی، ان کے سامنے وہ احادیث بھی تھیں جن میں فتنے کے موقع پر کوشش کی گئی کہ اگر اس وقت مسلمانوں کا کوئی امام نہ ہو، جیسا کہ حضرت حذیفہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان کے سامنے فتنے کے دور کا ذکر کیا تو انہوں نے پوچھا کہ ایسے موقع کے لیے آپ کی ہدایت کیا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِیْنَ وَاِمَامَهُم
 (مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کو لازم پکڑو)۔

 حضرت حذیفہؓ نے پوچھا کہ "اگر مسلمانوں کی نہ جمیعت ہو نہ امام تو پھر کیا کیا جائے؟" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: 

"فَاعْتَزِل تِلْکَ الْفِرَق کُلَّهَا وَلَوْ اَنْ تَعُضَّ بِاَصْلِ شَجَرَةٍ حَتّٰی یُدْرِکَکَ الْمَوْت وَاَنْتَ عَلٰی ذٰلِک"
 (تو پھر ان سب گروہوں سے الگ ہو جاؤ، چاہے تمہیں کسی درخت کی جڑ کو دانتوں سے نوچنا پڑے۔ یہاں تک کہ تمہیں موت آجائے اور تم اسی حال پر ہو)۔

        اس طرح کی روایات کی بناء پر حضرت علیؓ سمجھتے تھے کہ چونکہ اس وقت مسلمانوں کا خلیفہ موجود ہے، لہٰذا انہیں چاہیے کہ خلافت کے ادارے کو مضبوط کریں اور اس کے دست بازو بنیں۔ بعض فقہائے کرام نے جو لکھا ہے کہ فتنے کے مو قع پر گوشہ نشین ہو جانا چاہیے اس سے بھی یہی مراد ہے۔ علامہ کاسانیؒ فرماتے ہیں:

"وماروى عن ابى حنيفة رضى الله عنه انه اذا وقعت الفتنة بين المسلمين فينبغي ان يعتزل الفتنة ويلزم بيته ومحمول على وقت خاص وهو ان لا يكون امام يدعو الى القتال ، واما اذا كان فدعاه يفترض عليه الاجابة لما ذكرنا۔"

"امام ابو حنیفہ سے جو مروی ہے کہ جب مسلمانوں کے درمیان فتنہ کھڑا ہو جائے تو آدمی کو چاہیے کہ اس فتنے سے کنارہ کش ہو جائے اور اپنے گھر میں بند ہو جائے تو یہ ایک خاص وقت پر محمول ہے، وہ یہ کہ جب کوئی ایسا امام نہ ہو جو قتال کی طرف دعوت دے رہا ہو۔ رہی وہ صورت جب امام پکار رہا ہو تو پھر آدمی پر فرض ہو جاتا ہے کہ وہ اس کی پکار کا جواب دے جس کے دلائل ہم ذکر کر چکے ہیں۔" 

        عمران بن حُصینؓ نے اپنے ایک عقیدت مند حُجیر بن ربیع کو کہا: "جا کر اپنی قوم کے لوگوں کو منع کر دو کہ اس آزمائش میں نہ پڑیں۔" وہ بولے: "میں قوم کا عام آدمی ہوں کوئی سردار نہیں۔"

        فرمایا: "جاؤ میری طرف سے  پیغام دے کر منع کر دو۔"

        عمران بن حُصینؓ یہ بھی فرماتے تھے:

        "اگر میں ایک لنگڑا حبشی غلام بن کر کسی پہاڑی چشمے کے کنارے گلہ بانی کروں اور اسی حال میں مر جاؤں تو یہ اس سے بہتر ہے کہ میں دونوں صفوں میں سے کسی پر تیر چلاؤں چاہے وہ نشانے پر لگیں یا نہ لگیں۔"

        اسی طرح حضرت احنف بن قیسؓ بھی جو چھ ہزار جنگجوؤں کے سردار تھے، اپنے جتھے کے ساتھ بصرہ سے دو میل (ساڑھے 3 کلومیٹر) دور جا کر دونوں جماعتوں سے الگ قیام پذیر ہو گئے کیونکہ دو مسلح جماعتوں کا آمنا سامنا ہونے کے بعد اکابر کی احتیاط اور صلح جوئی کی کوششوں کے باوجود جنگ چھڑ جانے کا امکان موجود تھا۔

        اہل بصرہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کے حکم پر جانیں لٹانے کے لیے تیار تھے۔ حضرت عمران بن حُصینؓ نے جب انہیں دونوں گروہوں سے الگ ہو جانے کی دعوت دی تو اہل بصرہ نے ان کی بات ماننے سے معذوری ظاہر کی۔
ان کے بزرگوں نے کہا: "ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی عزت کو کسی حال میں بھی بے سہارا نہیں چھوڑ سکتے۔"

        بہرکیف حضرت علیؓ افرادی قوت جمع کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ اس سلسلے میں ان کی طرف سے کوفہ جانے والے وفد کی کارگزاری کا حال صحیح بخاری اور کتب تاریخ کی روشنی میں پیش کیا جا رہا ہے۔

حضرت علیؓ کا وفد کوفہ میں:

        حضرت علیؓ نے حضرت عمار بن یاسرؓ کو کوفہ والوں کے پاس بھیجا تا کہ وہ عوام کو خلافت کا ساتھ دینے پر آمادہ کریں۔ حضرت عمار بن یاسرؓ بالکل شروع میں اسلام قبول کرنے والے بزرگ صحابی تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان کے بارے میں آگاہ فرمایا تھا کہ  یہ شیطان کے اثر سے محفوظ رہیں گے۔
یہ بھی فرمایا کہ: "عمار کو جب بھی دو امور میں سے ایک کا اختیار ملے گا تو وہ زیادہ ہدایت یافتہ کو اختیار کریں گے۔"

        حضرت عمار بن یاسرؓ وہاں  پہنچے۔ حضرت ابومسعود اور حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ جو اہل کوفہ کے اکابر میں سے تھے، ان کے پاس آئے۔ باہم بات چیت شروع ہوئی تو حضرت ابومسعودؓ نے حضرت عمار بن یاسرؓ کو کہا:
"میں آپ کے ساتھیوں میں سے کسی کے بارے میں بھی کلام کر سکتا ہوں مگر آپ کے متعلق نہیں۔ جب سے آپ نے اسلام قبول کیا ہے، میں نے آپ کو کوئی ایسا کام کرتے نہیں دیکھا جو میرے نزدیک اس معاملے میں آپ کے جلدی مچانے سے زیادہ ناگوار ہو۔"

        حضرت عمارؓ نے جواباً فرمایا: "جب سے آپ نے اور آپ کے ان ساتھی (ابوموسیٰ اشعریؓ) نے اسلام قبول کیا ہے مجھے بھی آپ کا کوئی کام اس معاملے میں سستی سے زیادہ ناگوار محسوس نہیں ہوا۔"

        بات چیت کا اختتام خوش گوار ماحول میں اس طرح ہوا کہ حضرت ابومسعودؓ نے جو صاحب ثروت انسان تھے، ان دونوں دوستوں کو عمدہ جوڑے پہنائے۔ نماز جمعہ کے اجتماع میں یہ حضرات جامع مسجد تشریف لے گئے۔

جامع مسجد کوفہ میں مجلس مشاورت:

        جامع مسجد پہنچ کر حسن بن علیؓ منبر کے سب سے اونچے درجے پر بیٹھے اور عمار بن یاسرؓ ان سے نیچے۔ لوگ ان کے گرد جمع ہو گئے۔

        حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے پہلے کوفہ کے سابق گورنر ابوموسیٰ اشعریؓ سے کہا کہ وہ عوام کو حضرت علیؓ کا ساتھ دینے پر آمادہ کریں۔ مگر ابوموسیٰ اشعریؓ تذبذب کی حالت میں تھے۔ وہ یہ کہے بغیر نہ رہ سکے:

        "لوگو! یہ فتنہ ایسا ہے جس میں کچھ سنائی نہیں دیتا۔ پس اس میں سویا ہوا جاگنے والے سے بہتر ہے۔"
حضرت علیؓ کے حامی ایک بزرگ زید بن صوحانؒ نے ام المؤمنین کے خروج پر اعتراض کیا تو جواب میں شَبَب بن ربعی نامی ایک کوفی رئیس نے کہا: "وہ تو اللہ کے حکم پر چل کر اصلاحِ امت کا کام کر رہی ہیں۔"

        مجلس میں اختلاف رائے  پیدا ہو گیا اور مختلف آوازیں بلند ہونے لگیں۔

        شور و غل تھما تو حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ فرمانے لگے:

        "لوگو! فتنہ جب آتا ہے تو شکوک و شبہات میں ڈال دیتا ہے، ہاں! جب گزر جاتا ہے تب اس کی حقیقت واضح ہوتی ہے۔ یہ فتنہ ایسا ہی ہے کہ اچھا خاصا سمجھ دار آدمی بھی اس میں کل کے بچے کی طرح ہے۔ اللہ نے ہم پر ہمارے بھائیوں کا خون اور اموال حرام کر دیے ہیں۔ لہٰذا تم تلواروں کو نیام میں رکھو اور اپنے گھروں میں بیٹھ جاؤ، میری نصیحت مانو گے تو دین و دنیا دونوں میں سلامت رہو گے۔"

        زید بن صوحانؒ نے پھر زور و شور سے حضرت علیؓ کی حمایت کی اور حضرت طلحہ و زبیرؓ کی مخالفت کو تلافی قرار دیتے ہوئے حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کو کہا:

        "جس طرح آپ دریائے فرات کا رخ نہیں موڑ سکتے، ویسے ہی جو آپ چاہتے ہیں، وہ کر نہیں سکتے۔"

        پھر مجمع سے مخاطب ہو کر کہا: "لوگو! سب جمع ہو کر امیر المؤمنین کے پاس چلو۔"

        اس سے پہلے کہ بات بگڑتی، کوفہ کے سپہ سالار قعقاع بن عمروؓ کھڑے ہوئے اور مدبرانہ انداز میں فرمایا:

        "بات تو وہی ہے جو ابوموسیٰ اشعری نے فرمائی، کاش! ویسا ہی کرنے کی کوئی راہ ملتی۔ باقی زید بن صوحانؒ کی باتوں کی کوئی حیثیت نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایک حکومت کا ہونا ضروری ہے جو لوگوں کو منظم کرے، ظالم کو روکے اور مظلوم کی مدد کرے۔ اس کے لیے حضرت علیؓ حکمران مقرر ہو چکے ہیں۔ ان کی پکار انصاف کی پکار ہے۔ وہ اصلاح کی دعوت دے رہے ہیں، لہٰذا اس معاملے میں پوری بصیرت کے ساتھ قدم بڑھائیے۔"
زید بن صوحان کی سخت کلامی کے برعکس حضرت قعقاع بن عمروؓ کی شائستہ باتوں کا مجمع پر مثبت اثر ہوا اور کسی نے اس سے اختلاف نہ کیا۔

         بات کو مزید واضح کرنے کے لیے حضرت حسنؓ کھڑے ہوئے اور فرمایا:

        "امیر المؤمنین کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اپنے بھائیوں کے پاس چلو۔ اس کام کے لیے لوگ تو مل ہی جائیں گے لیکن اہل عقل و دانش ساتھ دینے میں پہل کریں گے تو نتیجہ بہتر نکلے گا۔"

        اس دوران اشتر نخعی نے ایک بار پھر لوگوں کے جذبات کو منفی انداز میں بھڑکانے کی کوشش کی اور حضرت عثمانؓ پر الزام تراشی شروع کی جسے برداشت نہ کرتے ہوئے ایک بزرگ حضرت مقطع بن ہثیم عامری کھڑے ہو گئے اور بولے: "اللہ کی قسم! ہم یہ برداشت نہیں کریں گے کہ ہمارے بزرگوں کا ذکر برائی کے ساتھ کیا جائے۔"

        اس پر حضرت حسنؓ نے فوراً تائید کرتے ہوئے فرمایا: "بزرگ نے سچ فرمایا۔"

        یہ سن کر سب لوگ مطمئن ہو گئے۔ اس کے بعد فجر بن عدیؓ اور عمار بن یاسرؓ نے بھی تقریریں کیں۔

عمار بن یاسرؓ کی تقریر:

        عمار بن یاسرؓ نے اپنے خطاب میں موجودہ صورتحال اور ام المؤمنین کے فضائل پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا:

        "بے شک ہماری ماں عائشہؓ بصرہ چلی گئی ہیں۔ واللہ! وہ دنیا و آخرت میں تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی اہلیہ ہیں، لیکن اللہ نے تمہیں آزمایا ہے کہ اس صورت حال میں تم (شرعی خلیفہ حضرت) علی کی اطاعت کرتے ہو یا ان کی۔"

        اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عمار بن یاسرؓ حضرت عائشہ صدیقہؓ کے ادب و احترام کو پوری طرح ملحوظ رکھتے ہوئے کوفہ والوں کو حضرت علیؓ کی تائید پر آمادہ کر رہے تھے اور اس ایک اجتہادی مسئلہ اور اللہ کی طرف سے آزمائش قرار دے رہے تھے کہ آیا لوگ ان حالات میں اپنے جذبات کو دیکھ کر چلیں گے یا شرعی ضابطے کو۔

        انہی عمار بن یاسرؓ کے سامنے کسی نے ام المؤمنینؓ کے خلاف کچھ کہا تو غصے سے فرمایا:

        "دفع ہو جا! بدکردار، بھونکنے والے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی چہیتی زوجہ محترمہ کو اذیت دے رہا ہے۔"

اہل کوفہ امیر المؤمنین کی خدمت میں:

        حسن بن علیؓ اور عمار بن یاسرؓ اہل کوفہ کو حضرت علیؓ کی حمایت پر آمادہ کرنے میں کامیاب رہے اور نو ہزار افراد کے ساتھ حضرت علیؓ کے پاس پہنچے۔

        اس لشکر میں آٹھ سو انصاری اور چار سو بیعت رضوان سے مشرف صحابہ شامل تھے۔

        حضرت علیؓ نے مسلمانوں کے اس جم غفیر کے سامنے اپنے مقاصد کو واضح کرتے ہوئے ایک تقریر کی جس میں فرمایا: "کوفہ والو! میں نے تمہیں اس لیے بلایا ہے تا کہ تم ہمارے ساتھ ہمارے بصرہ والے بھائیوں کے پاس چلو۔ اگر وہ اپنی رائے سے رجوع کر لیں تو یہی ہم چاہتے ہیں۔ اگر وہ نہ مانیں تب بھی ہم ان سے نرمی کا معاملہ کریں گے ہم شر کی  جگہ ہر اس چیز کو اختیار کریں گے جس میں صلح اور خیر ہو۔"

حضرت علیؓ اہل بصرہ کو ساتھ ملانے کے لیے کوشاں:

        حضرت علیؓ چاہتے تھے کہ اب اپنی تدبیر کے مطابق ان لوگوں کو ساتھ لے کر اہل بصرہ کے لشکر کو ساتھ ملا لیں، اور مسلمانوں کی یہ افرادی و فکری طاقت مل کر تمام مسائل کو حل کر لے۔ مگر پہلے حضرت طلحہ اور حضرت زبیرؓ کی طرف سے خلیفہ کی تدبیر پر مکمل اعتماد کا اظہار ضروری تھا۔ ورنہ بات وہیں رہتی اور چند قدم ساتھ چلنے کے بعد ایک ہی منزل کی یہ دو جماعتیں پھر الگ الگ راستوں پر ہو جاتیں۔

حضرت طلحہ اور حضرت زبیرؓ کا تردد:

        اس دوران حضرت طلحہ اور حضرت زبیرؓ کو بھی کچھ اندازہ ہو چکا تھا کہ ان کی حکمت عملی کامیاب نہیں رہی، حضرت زبیرؓ ان دنوں فرمایا کرتے تھے: "یہ وہی فتنہ ہے جس کے بارے میں ہمیں بتایا جاتا تھا۔"

        کسی نے کہا: "آپ اسے فتنہ بھی کہتے ہیں اور اس میں لڑتے بھی ہیں۔"

        فرمایا: "در اصل ہم بہت غور کرتے ہیں لیکن حل سمجھ نہیں آتا۔ اب تک کوئی ایسا قضیہ  پیش نہیں آیا تھا۔ پہلے ہر مہم میں ہمیں پہلے سے معلوم ہوتا تھا کہ اب اگلا قدم کہاں رکھنا ہے، مگر اس مسئلے میں اب تک سمجھ نہیں آ رہا کہ ہم آگے جا رہے ہیں یا پیچھے؟"

        یہ تردد اس لیے تھا کہ یہ حضرات فقاہت اور اجتہاد میں حضرت علیؓ کے ہم پلہ نہیں تھے۔ یہ قضا اور سیاست کے نازک مسائل تھے جن میں سب سے زیادہ ادراک حضرت علیؓ کو تھا۔اسی لیے حضرت علیؓ کسی تذبذب کے بغیر شرعی دلائل ، اپنے اجتہاد اور سیاسی بصیرت کے ساتھ قدم اٹھا رہے تھے۔ جبکہ دیگر حضرات بار بار تذبذب کا شکار ہو رہے تھے۔

حضرت قعقاع بن عمروؓ کی کامیاب سفارت:

        حضرت علیؓ نے حضرت قعقاع بن عمروؓ کی سفارتکارانہ صلاحیتوں کو بھانپتے ہوئے انہیں امت کے حق میں خیر خواہی کا درست اندازہ لگاتے ہوئے انہیں حضرت طلحہ اور حضرت زبیرؓ کی طرف سفیر بنا کر بھیجا اور فرمایا:

        "انہیں محبت اور اتحاد کی دعوت دینا اور انتشار کے نقصانات سے ڈرانا۔"

        حضرت قعقاع بن عمروؓ پہلے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے ملے اور عرض کیا:

        "امی جان! آپ کس مقصد سے یہاں تشریف لائی ہیں؟"

        انہوں نے فرمایا: "بیٹا! لوگوں کی اصلاح اور رہنمائی کے لیے۔"

        حضرت قعقاعؓ نے اس مقصد سے اتفاق کرتے ہوئے حضرت طلحہ اور زبیرؓ کو بھی مجلس میں تشریف لانے کی دعوت دی اور ان سے کہا: "ام المؤمنین اپنی آمد کا مقصد لوگوں کی اصلاح بتاتی ہیں۔ آپ اس بارے میں ان سے متفق ہیں یا مخالف؟"

        دونوں نے فرمایا: "ہم متفق ہیں۔"

        حضرت قعقاعؓ نے کہا: "تو اس اصلاح کی عملی صورت کیا ہو سکتی ہے؟"

        دونوں نے فرمایا: "حضرت عثمانؓ کے قاتلوں کو پکڑنا۔ اس قضیے کو پس پشت ڈالنا قرآن مجید کو ترک کرنے کے مترادف ہے، اس کو حل کرنا حکم قرآنی کو زندہ کرنا ہے۔"

        حضرت قعقاعؓ نے برجستہ کہا: "آپ نے بصرہ کے قاتلین عثمان کو قتل کر دیا ہے مگر آپ نے ان میں سے چھ سو کو مارا تو چھ ہزار آدمی آپ کا ساتھ چھوڑ گئے۔ بچ نکلنے والے واحد آدمی حرقوص بن زُہیر کی حمایت میں چھ ہزار افراد کھڑے ہو گئے۔ اب اگر آپ اس شخص کو نظر انداز کرتے ہیں تو آپ خود قصاص کے مسئلے کو پس پشت ڈالنے والے بنیں گے۔ اگر اس کی حمایت کرنے والوں سے بھی آپ جنگ کریں گے تو جس خانہ جنگی سے امت کو بچانے کے لیے آپ نکلے ہیں، آپ خود اس میں ملوث ہو جائیں گے۔"

        یہ وہ تلخ حقائق تھے، جن کا احساس خود حضرت طلحہ، حضرت زبیر اور ام المؤمنین عائشہ صدیقہؓ کو بھی تھا۔ اس لیے حضرت قعقاع بن عمروؓ کے اس حقیقت کشا تبصرے پر کون کلام کرتا،

         ام المؤمنین نے دریافت کیا:

"آپ ہی بتائیے، آپ کیا کہتے ہیں؟"

        فرمایا: "میں سمجھتا ہوں کہ اس قضیے کا حل یہ ہے کہ حالات کو پُرسکون ہونے دیا جائے۔ حالات معمول پر آئیں گے تو فتنہ پروروں میں پھوٹ پڑ جائے گی۔ اگر آپ  بیعت کر لیں تو یہ خیر کی علامت اور رحمت کی بشارت ہو گی، حضرت عثمانؓ کا قصاص لیا جا سکے گا۔ اگر آپ متفق نہ ہوئے تو حضرت عثمانؓ کا خون ضائع ہو جائے گا۔ یہ معاملہ کوئی عام مقدمہ نہیں، یہ کسی ایک فرد کا قتل نہیں، جسے کسی ایک شخص، ایک گروہ یا ایک قبیلے نے قتل کر دیا ہو۔"

        ام المؤمنین اور حضرت طلحہ و حضرت زبیرؓ نے بات کے وزن کو مانتے ہوئے اس سے پوری طرح اتفاق کیا اور کہا: "اگر حضرت علیؓ تشریف لے آئیں اور وہ بھی یہی رائے رکھتے ہوں تو بات بن جائے گی۔"

        قعقاع بن عمروؓ نے واپس آ کر حضرت علیؓ کو آگاہ کیا تو وہ بے حد خوش ہوئے۔

حضرت علیؓ کا سبائیوں سے لاتعلقی کا اعلان:

        اہل بصرہ سے صلح کا امکان روشن ہو چکا تھا۔ لگتا تھا کہ اب معاملات سلجھنے والے ہیں۔ حضرت علیؓ نے محسوس کیا کہ اب مخلص لوگوں کو کسی غلط فہمی اور اوباشوں کو کسی خوش فہمی میں مبتلا رکھنا درست نہیں۔ اس دوران بصرہ سے لوگ آ کر کوفہ والوں سے مل رہے تھے اور اتحاد و اتفاق کی ایک خوش گوار فضا قائم ہو گئی تھی۔

        اس روح پرور ماحول میں حضرت علیؓ نے مجمع عام سے بے لاگ خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

        "جو سانحہ  پیش آیا تھا، اس کے ذمہ دار وہ لوگ تھے جو دنیا پرست تھے اور اللہ کی طرف سے کچھ بندوں کو ملنے والی فضیلت پر حسد کرتے تھے۔ وہ نظام اور معاملات کو الٹ پلٹ کر دینا چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اپنے فیصلے کو پورا کرنے والا ہے۔ وہ جو چاہتا ہے وہ مصیبت آکر رہتی ہے۔ بہر حال میں کل (بصرہ والوں کے پاس) جا رہا ہوں۔ تم سب چلنا، ہاں! مگر جو لوگ حضرت عثمانؓ کے خلاف کسی بھی قسم کی سرگرمی میں ملوث رہے ہوں، وہ ہرگز میرے ساتھ نہ چلیں، ایسے بے وقوف لوگ خود کو مجھ سے الگ تصور کریں۔"

        حضرت علیؓ کے اس اعلان سے جہاں مخلص مسلمانوں میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی وہیں سازشی عناصر ہکا بکا رہ گئے۔

ابن سبا کی خفیہ مشاورت اور نئی سازش:

        عبداللہ بن سبا جو لشکر میں موجود تھا، اپنی جماعت کے دوسرے سرغنوں کے ساتھ فوراً سر جوڑ کر بیٹھا۔ یہ سب اپنے بچاؤ کی تدابیر سوچنے لگے۔ ایک نے کہا: "یہ علی کیا کہہ رہے ہیں؟ اللہ کی قسم! عثمان کے قصاص کا مطالبہ کرنے والوں میں وہ قرآن مجید کے سب سے بڑے عالم اور با عمل انسان ہیں، ہم سن چکے ہیں  کہ وہ کیا کہہ گئے ہیں۔ وہی لوگ اب ان کے ساتھ جائیں گے جو عثمان کے قصاص کا مطالبہ کرنے والے ہیں۔ جب سب لوگ ہمیں نشانہ بنائیں گے تو ہم تھوڑے سے لوگوں کا کیا حشر ہو گا؟"

        دوسرا جھلا کر بولا: "طلحہ اور زبیر ہمارے بارے میں جو سوچتے ہیں وہ ہم پہلے سے جانتے تھے، مگر علی کی رائے کا ہمیں  پتا ہی نہیں چلا۔ اللہ کی قسم! ان سب کی رائے ہمارے بارے میں ایک ہی ہے، اگر علی نے ان کے ساتھ صلح کی تو یہ صلح ہمارا خون بہانے کی شرط پر ہو گی۔ تو اب ایسا کرتے ہیں علی کو عثمان کے پاس پہنچا دیتے ہیں۔"

        عبداللہ بن سبا نے تردید کرتے ہوئے کہا: "بالکل غلط! علی کو قتل کیا تو بدلے میں ہم سب مارے جائیں گے۔ تم یہاں صرف پچیس یا چھبیس سو ہو۔ اُدھر طلحہ اور زبیر  پانچ ہزار کے ساتھ موجود ہیں۔ ان کا مقصد ہی تمہیں قتل کرنا ہے۔ ہم ان سے لڑنے کی طاقت نہیں رکھتے۔"

    علباء بن ہیثم کہنے لگا: "کسی دور سرزمین کی طرف بھاگ چلو جہاں ہم دوسروں کے ساتھ مل کر اپنا دفاع کر سکیں۔"

        عبداللہ بن سبا نے فوراً کہا: "بالکل فضول رائے ہے۔ ایسا کرو گے تو لوگ تمہیں نوچ نوچ کر ختم کر دیں گے۔"

        شُریح بن اوفی نے مشورہ دیتے ہوئے کہا: "جس کام کو جلد کرنا ہے اس میں دیر نہ کرو، ہم لوگوں کی نظر میں بدترین حیثیت کے ہیں۔ معلوم نہیں یہ لوگ کل باہم متحد ہونے کے بعد ہمارے ساتھ کیا کریں گے۔"

        سالم بن ثعلبہ نے کہا: "اب تو وہی کرنا ہو گا کہ لوگوں میں بکھر کر ان پر تلواریں چلا دیں تا کہ ان کے سارے معاملات تلوار کی دھار پر حل کیے جائیں۔" ابن سبا خوش ہو کر بولا "یہ ہوئی نا بات۔"

        پھر اس نے فیصلہ سنایا: "لوگوں سے گھل مل کر رہنے ہی میں سلامتی ہے۔ جب لوگ آپس میں مل جل رہ رہے ہوں تو، اچانک جنگ چھیڑ دو۔ انہیں غور و فکر کے لیے آرام سے مل بیٹھنے کا موقع ہی نہ دینا، پھر لوگوں کے لیے جنگ سے بچنا ممکن نہیں رہے گا۔ نتیجہ یہ ہو گا کہ علی، زبیر، طلحہ اور ان کے ہم خیال لوگوں کو ایسے اقدامات کرنے کی نوبت ہی نہیں آسکے گی جن سے ہمیں تشویش ہو۔" اس تجویز پر سب متفق ہو گئے اور منصوبہ بندی کر کے بکھر گئے۔

بصرہ کے لشکر میں جذباتی اور مفاد پرست لوگ:

        کچھ جذباتی اور مفاد پرست لوگ حضرت طلحہ و زبیرؓ کے گرد بھی جمع تھے جن کا مقصد ہنگامہ آرائی کرنا، جنگ کو بھڑکانا اور اپنے مفادات سمیٹنا تھا۔ ایک دن حضرت طلحہؓ ایسے لوگوں کی  ہلڑبازی  سے تنگ آئے تو خاموش ہونے کا حکم دیا۔ جب لوگ رکنے میں نہ آئے تو رنج و حسرت سے بے قرار ہو کر فرمایا:

        "افسوس صد افسوس! یہ لوگ تو لالچی مکھیوں اور آگ میں گرنے والے پتنگوں جیسے ہیں۔"

        اسی قسم کے لوگ دونوں جماعتوں میں جنگ برپا ہونے کی وجہ بنے۔

ایک شبہ اور اس کا جواب:

        حضرت علیؓ کے سبائیوں سے بے زاری کے اعلان کے ردِعمل میں ابن سبا اور اس کے گماشتوں کی اگلی سازش کو دیکھ کر آج یہ خیال ضرور آتا ہے کہ اگر امیر المؤمنین اپنے دلی تاثرات کو مزید چند دن چھپائے رکھتے تو کیا حرج تھا، اس اعلان سے تو سبائی چوکنا ہو گئے۔ اگر حضرت طلحہ و حضرت زبیرؓ اور ان کے حامیوں کے ساتھ مکمل ملاپ کے بعد یہ اعلان ہوتا تو کیا نقصان تھا؟

        اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت علیؓ کی طرف سے مجمع عام میں ایسا اعلان کیے بغیر اتحاد و اتفاق کی عمومی فضا بننا بہت ہی مشکل تھا۔ بصرہ والے ایسے اعلانِ برأت کے بغیر حضرت علیؓ پر اعتماد نہیں کر سکتے تھے۔ مسئلہ حضرت علیؓ اور حضرت طلحہ و حضرت زبیرؓ کے اختلاف کا نہیں رہا تھا، بلکہ مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے اختلاف رائے تک جا پہنچا تھا۔ اگر اب حضرت علیؓ ایسا اعلان نہ کرتے تو رائے عامہ کا دباؤ حضرت طلحہ و حضرت زبیرؓ کو حضرت علی سے صلح پر آمادہ نہ ہونے دیتا۔

حضرت علیؓ کوفہ سے بصرہ تک:

        قعقاع بن عمروؓ کی سفارت سے مفاہمت کی امید پختہ ہو گئی تھی، مگر باقاعدہ صلح یا اتحاد نہیں ہوا تھا۔ معاملات کی تکمیل کے لیے حضرت علیؓ کوفہ سے روانہ ہوئے اور جمادی الآخرہ میں بصرہ کے سامنے پہنچ گئے۔

        صحیح قول کے مطابق حضرت علیؓ کے ساتھ نو ہزار سات سو (9700) افراد تھے۔ ان کے صاحبزادے محمد بن حنفیہؒ کہتے ہیں: "ہم مدینہ سے سات سو افراد چلے تھے، کوفہ سے سات ہزار افراد ہمارے ساتھ ہو لیے۔ راستے میں ارد گرد سے مزید دو ہزار افراد شامل ہوئے، جن کی اکثریت قبیلہ بکر بن وائل سے تعلق رکھتی تھی۔"

        دونوں جماعتیں آمنے سامنے آئیں تو حضرت علیؓ نے حضرت زبیرؓ کو بلا کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کا ایک ارشاد یاد دلایا کہ وہ ایک دن ناحق حضرت علیؓ کے مقابل آئیں گے۔ حضرت زبیرؓ کو حدیث یاد آگئی، چنانچہ یہ مہم چھوڑ دینے کی قسم کھائی اور وہاں سے جانے لگے۔

        ان کے صاحبزادے عبداللہ بن زبیرؓ کو معلوم ہوا تو عرض کیا: "آپ علی سے لڑنے تو آئے ہی نہیں۔ آپ کا مقصد اصلاح ہے۔ اس لیے یہیں ٹھہریے۔ اللہ آپ کے ذریعے دونوں جماعتوں کو متحد فرمادے گا۔"

        وہ بولے: "میں قسم کھا چکا ہوں کہ ان کا مقابلہ نہیں کروں گا۔"

        صاحبزادے نے اصلاح امت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مشورہ دیا: "قسم کے کفارے میں ایک غلام آزاد کر دیں اور اس وقت تک رکے رہیں جب تک مسلمانوں میں (عملی طور پر) اتحاد (وانضمام) نہیں ہو جاتا۔"

        حضرت زبیرؓ کو یہ مشورہ پسند آیا اور وہیں ٹھہر گئے۔ دونوں جماعتوں نے آمنے سامنے پڑاؤ ڈال دیا۔ دونوں طرف سے مسلمان ایک دوسرے کے خیموں میں آ کر ملنے ملنے لگے۔

اکابر کی باہمی ملاقات اور صلح کا اعلان:

        حضرت علیؓ نے فوراً عبداللہ بن عباسؓ کو بھیج کر طلحہ و زبیرؓ سے دریافت کیا: "کوئی ایسی بات ہے جو میری خلافت سے ناراضی کا باعث ہو، مثلاً کسی فیصلے میں نا انصافی یا وظائف میں حق تلفی کا اعتراض یا اور کچھ؟"

        انہوں نے بڑی صفائی سے جواب دیا: "ان میں سے کوئی ایک بات بھی نہیں۔"

        اب دونوں کیمپوں کے بیچ ایک بڑا خیمہ لگایا گیا جس میں حضرت طلحہ و حضرت زبیر اور حضرت علیؓ نے باہم ملاقات کی، تین دن تک یہ حضرات اس خیمے میں ملتے اور مشاورت کرتے رہے۔ انہوں نے طے کر لیا کہ باہمی کوئی جنگ نہیں ہوگی اور صلح و صفائی سے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرتے ہوئے اپنی شرعی ذمہ داریاں پوری کی جائیں گی۔

        صلح اور اتفاق کا اعلان ہو جانے سے دونوں جماعتوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، مگر اس دوران فسادی گروہ شر انگیزی کی تیاری مکمل کر چکا تھا۔ ان لوگوں کو یقین تھا کہ اگر امن و امان کی فضا مزید برقرار رہی تو وہ کہیں کے نہ رہیں گے۔

        چنانچہ ان میں سے کچھ لوگ خفیہ طور پر رات کے اندھیرے میں حضرت علیؓ کے لشکر سے نکل کر حضرت طلحہ اور حضرت زبیرؓ کے پڑاؤ میں چلے گئے، چونکہ دونوں طرف سے اب کسی کی آمد و رفت پر کوئی روک ٹوک نہیں تھی، اس لیے ان کا دوسرے پڑاؤ میں گھس جانا ذرا بھی مشکل ثابت نہ ہوا۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic